"یهودیت" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک دوسرے صارف 2 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[[فائل: یهودیت.jpg|تصغیر|بائیں|]] | [[فائل: یهودیت.jpg|تصغیر|بائیں|]] | ||
'''یہودیت'''، جسے عبرانی یا یہودی بھی کہا جاتا ہے، عربوں اور آشوریوں کی طرح سامی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان قوموں کی زبان، ادب، ثقافت، رسوم اور عقائد ایک دوسرے سے اس قدر قریب ہیں کہ علماء کا ماننا ہے کہ ان کا اصل منبع ایک ہی ہے۔ | '''یہودیت'''، جسے عبرانی یا یہودی بھی کہا جاتا ہے، عربوں اور آشوریوں کی طرح سامی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان قوموں کی زبان، ادب، ثقافت، رسوم اور عقائد ایک دوسرے سے اس قدر قریب ہیں کہ علماء کا ماننا ہے کہ ان کا اصل منبع ایک ہی ہے۔ | ||
ان میں سے کسی ایک قوم کی ثقافت کا جائزہ لینے اور تحقیق کرنے کے لیے دیگر سامی اقوام کی ثقافت پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم عربی ادب کے جائزے میں مصروف ہیں، تو عبرانی، سریانی اور حبشی زبانوں کا مطالعہ اور تحقیق ہمارے کام میں مزید کامیابی حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ | ان میں سے کسی ایک قوم کی ثقافت کا جائزہ لینے اور تحقیق کرنے کے لیے دیگر سامی اقوام کی ثقافت پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم عربی ادب کے جائزے میں مصروف ہیں، تو عبرانی، سریانی اور حبشی زبانوں کا مطالعہ اور تحقیق ہمارے کام میں مزید کامیابی حاصل کرنے میں مدد دے گی۔ | ||
== عبرانی (یہودی) == | == عبرانی (یہودی) == | ||
عبرانی قوم کی تاریخی تاریخ کے بارے میں صحیح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ کچھ علماء کا خیال ہے کہ "عبرانی" کا نام، جو کنعانیوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کنعان کی سرزمین میں داخل ہونے کے بعد آپ کو دیا تھا اور انہیں عبرانی کہا جاتا تھا، | عبرانی قوم کی تاریخی تاریخ کے بارے میں صحیح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ کچھ علماء کا خیال ہے کہ "عبرانی" کا نام، جو کنعانیوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کنعان کی سرزمین میں داخل ہونے کے بعد آپ کو دیا تھا اور انہیں عبرانی کہا جاتا تھا، | ||
کچھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ عبرانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جدِ امجد "عابر" کی طرف منسوب ہے۔ اسی طرح، کچھ لوگ آزر (آپ کے والد یا چچا) کے نام کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کے خاندان کی اصل آریائی ہے۔ لیکن علماء اس نظریہ کی تائید نہیں کرتے؛ کیونکہ ہمیں قرآن کریم اور اسلامی متون میں لفظ "آزر" کے لغوی معنی کی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ تورات میں ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارح ہے۔ | جو بعد میں ان کے القاب میں شامل ہو گیا اور یہ لقب ان کے خاندان میں باقی رہا؛ کیونکہ عبرانی مادہ "ع ب ر" سے آتا ہے جس کا معنی ہے دریا پار کرنا، اس اعتبار سے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دریائے فرات کو عبور کیا اور کنعان میں داخل ہوئے۔ | ||
کچھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ عبرانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جدِ امجد "عابر" کی طرف منسوب ہے۔ اسی طرح، کچھ لوگ آزر (آپ کے والد یا چچا) کے نام کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں | |||
کہ ان کے خاندان کی اصل آریائی ہے۔ لیکن علماء اس نظریہ کی تائید نہیں کرتے؛ کیونکہ ہمیں قرآن کریم اور اسلامی متون میں لفظ "آزر" کے لغوی معنی کی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ تورات میں ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارح ہے۔ | |||
== حضرت ابراہیم علیہ السلام == | == حضرت ابراہیم علیہ السلام == | ||
حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی عظمت اس حد تک ہے کہ وہ ہمیشہ سے یہودیت، مسیحیت اور [[اسلام]] کے درمیان نزاع کا باعث رہے ہیں اور ہر ایک انہیں اپنے سے مانتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: "مَا کَانَ إِبْرَاهِیمُ یَهُودِیًّا وَلَا نَصْرَانِیًّا وَلَٰکِن کَانَ حَنِیفًا مُّسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ" <ref>آل عمران: 67</ref>۔ وہ مشرکوں کے درمیان بھی بلند مرتبتی کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کے آثار مکہ مکرمہ میں ان کی زیارت اور تعظیم کا موضوع تھے۔ | حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی عظمت اس حد تک ہے کہ وہ ہمیشہ سے یہودیت، مسیحیت اور [[اسلام]] کے درمیان نزاع کا باعث رہے ہیں اور ہر ایک انہیں اپنے سے مانتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: | ||
"مَا کَانَ إِبْرَاهِیمُ یَهُودِیًّا وَلَا نَصْرَانِیًّا وَلَٰکِن کَانَ حَنِیفًا مُّسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ" <ref>آل عمران: 67</ref>۔ وہ مشرکوں کے درمیان بھی بلند مرتبتی کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کے آثار مکہ مکرمہ میں ان کی زیارت اور تعظیم کا موضوع تھے۔ | |||
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نسب حضرت آدم علیہ السلام تک تورات میں بیان کیا گیا ہے۔ تورات کے نسب نامے کتب اسلامی میں بھی داخل ہو گئے اور اصل اور منشأ پر غور کیے بغیر قبول کر لیے گئے۔ | حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نسب حضرت آدم علیہ السلام تک تورات میں بیان کیا گیا ہے۔ تورات کے نسب نامے کتب اسلامی میں بھی داخل ہو گئے اور اصل اور منشأ پر غور کیے بغیر قبول کر لیے گئے۔ | ||
اہل کتاب کے خیال میں (کتاب مقدس کے واقعات کو جمع کرنے کے نتیجے میں) حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً 2000 سال قبل از مسیح، یعنی تقریباً 4000 سال پہلے شہر آور میں پیدا ہوئے اور تورات کے مطابق ابتدا میں ابرام (یعنی بلند مرتبت باپ) کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ | اہل کتاب کے خیال میں (کتاب مقدس کے واقعات کو جمع کرنے کے نتیجے میں) حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً 2000 سال قبل از مسیح، یعنی تقریباً 4000 سال پہلے شہر آور میں پیدا ہوئے اور تورات کے مطابق ابتدا میں ابرام (یعنی بلند مرتبت باپ) کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ | ||
تورات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد جن کا نام "تارح" تھا، اپنے بیٹے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی سارہ اور اپنی پوتی حضرت لوط علیہ السلام کو ساتھ لے کر کنعان کی سرزمین مغربی فلسطین کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں وہ سفر جاری رکھنے سے ہٹ گئے اور شہر حران میں آباد ہو گئے۔ یہ شہر موجودہ ترکیہ کے جنوب اور شام کی سرحد پر واقع ہے۔ | اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو99 سال کی عمر میں ابراہیم (یعنی اقوام کے باپ) میں تبدیل کر دیا۔ شہر اور کو قریب ایک صدی پہلے عراق میں فرات کے کنارے سے زمین سے نکالا گیا اور وہاں بہت سے قدیم آثار ملے۔ | ||
تورات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد جن کا نام "تارح" تھا، اپنے بیٹے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی سارہ اور اپنی پوتی حضرت لوط علیہ السلام کو ساتھ لے کر کنعان کی سرزمین مغربی فلسطین کی طرف روانہ ہوئے۔ | |||
راستے میں وہ سفر جاری رکھنے سے ہٹ گئے اور شہر حران میں آباد ہو گئے۔ یہ شہر موجودہ ترکیہ کے جنوب اور شام کی سرحد پر واقع ہے۔ | |||
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کو تورات میں تارح کہا گیا ہے، لیکن قرآن مجید نے انہیں آزر بت پرست قرار دیا ہے <ref>انعام: 74</ref>۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے اجداد میں سے ہیں۔ | حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کو تورات میں تارح کہا گیا ہے، لیکن قرآن مجید نے انہیں آزر بت پرست قرار دیا ہے <ref>انعام: 74</ref>۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے اجداد میں سے ہیں۔ | ||
| سطر 25: | سطر 34: | ||
حضرت ابراہیم علیہ السلام کچھ عرصے کے بعد حبرون (الخیل) میں آباد ہو گئے اور زندگی کے آخر تک وہیں رہے اور اب ان کا خاندانی مقبرہ اسی جگہ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام سدوم اور اس کےحوالی شہروں کو چلے گئے۔ ان شہروں کے لوگ نافرمانی اور ان کے پیغام کی بے اعتنائی کی وجہ سے اللہ کے حکم سے تباہ ہو گئے۔ یہ واقعہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ | حضرت ابراہیم علیہ السلام کچھ عرصے کے بعد حبرون (الخیل) میں آباد ہو گئے اور زندگی کے آخر تک وہیں رہے اور اب ان کا خاندانی مقبرہ اسی جگہ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام سدوم اور اس کےحوالی شہروں کو چلے گئے۔ ان شہروں کے لوگ نافرمانی اور ان کے پیغام کی بے اعتنائی کی وجہ سے اللہ کے حکم سے تباہ ہو گئے۔ یہ واقعہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔ | ||
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ میں دو بہت اہم موضوعات ہیں جن کا موجودہ تورات میں کوئی اشارہ نہیں: ایک تو بت شکنی اور انہیں آگ میں ڈالنے کا واقعہ اور دوسرا خانہ کعبہ کی تعمیر کی داستان۔ | حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ میں دو بہت اہم موضوعات ہیں جن کا موجودہ تورات میں کوئی اشارہ نہیں: ایک تو بت شکنی اور انہیں آگ میں ڈالنے کا واقعہ اور دوسرا خانہ کعبہ کی تعمیر کی داستان۔ | ||
[[قرآن |قرآن مجید]] سورہ انبیاء اور صافات میں نے بت شکنی اور انہیں آگ میں ڈالنے کی داستان بیان کی ہے۔ | [[قرآن |قرآن مجید]] سورہ انبیاء اور صافات میں نے بت شکنی اور انہیں آگ میں ڈالنے کی داستان بیان کی ہے۔ | ||
اسی طرح قرآن کریم خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر بھی کرتا ہے جو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے کی <ref>بقره: 127</ref>۔ چونکہ یہ فرزند انہیں بڑی عمر میں عطا ہوا <ref>ابراهیم: 39</ref>، خانہ کعبہ کی تعمیر ان کی مبارک زندگی کے اواخر میں ہوئی ہوگی۔ | اسی طرح قرآن کریم خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر بھی کرتا ہے جو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے کی <ref>بقره: 127</ref>۔ چونکہ یہ فرزند انہیں بڑی عمر میں عطا ہوا <ref>ابراهیم: 39</ref>، خانہ کعبہ کی تعمیر ان کی مبارک زندگی کے اواخر میں ہوئی ہوگی۔ | ||
تورات فرزند کی قربانی کی داستان بیان کرتی ہے اور کہتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربانی کریں، لیکن اس مسئلے کو ان سےبیان نہیں کیا اور ان سے کہا: "میں ایک بھیڑ قربانی کرنا چاہتا ہوں اور اللہ اس بھیڑ کو میرے لیے بھیجے گا..."۔ لیکن [[قرآن]] مجید میں آیا ہے: | تورات فرزند کی قربانی کی داستان بیان کرتی ہے اور کہتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربانی کریں، لیکن اس مسئلے کو ان سےبیان نہیں کیا اور ان سے کہا: | ||
"میں ایک بھیڑ قربانی کرنا چاہتا ہوں اور اللہ اس بھیڑ کو میرے لیے بھیجے گا..."۔ لیکن [[قرآن]] مجید میں آیا ہے: | |||
"فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرَىٰ فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ" <ref>صافات: 10</ref>۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، فرزند موت سے بچ گیا اور اللہ نے ایک دُور کو اس کے فدیے میں بنا دیا... | "فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرَىٰ فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ" <ref>صافات: 10</ref>۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، فرزند موت سے بچ گیا اور اللہ نے ایک دُور کو اس کے فدیے میں بنا دیا... | ||
== اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام == | == اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام == | ||
تورات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں پڑھتے ہیں: | تورات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں پڑھتے ہیں: | ||
(1) اس واقعہ کے بعد، اللہ کا کلام خواب میں ابرام کے پاس آیا اور کہا: "اے ابرام! مت ڈرو، میں تیرا سپر ہوں اور تیرا اجر بہت بڑا ہے۔" (2) ابرام نے کہا: "اے اللہ یہوہ! مجھے کیا دے گا اور میں بے اولاد جا رہا ہوں اور میرے گھر کا ولی العذر دامیکی ہے۔" (3) اور ابرام نے کہا: "دیکھو، تم نے مجھے کوئی اولاد نہیں دی اور میرا گھر والا میرا وارث ہے۔" (4) اسی وقت اللہ کا کلام ان کے پاس پہنچا، کہا: "یہ تیرا وارث نہیں ہوگا بلکہ جو تیری کمر سے نکلے گا وہی تیرا وارث ہوگا۔" | (1) اس واقعہ کے بعد، اللہ کا کلام خواب میں ابرام کے پاس آیا اور کہا: "اے ابرام! مت ڈرو، میں تیرا سپر ہوں اور تیرا اجر بہت بڑا ہے۔" | ||
(2) ابرام نے کہا: "اے اللہ یہوہ! مجھے کیا دے گا اور میں بے اولاد جا رہا ہوں اور میرے گھر کا ولی العذر دامیکی ہے۔" (3) اور ابرام نے کہا: "دیکھو، تم نے مجھے کوئی اولاد نہیں دی اور میرا گھر والا میرا وارث ہے۔" (4) اسی وقت اللہ کا کلام ان کے پاس پہنچا، کہا: "یہ تیرا وارث نہیں ہوگا بلکہ جو تیری کمر سے نکلے گا وہی تیرا وارث ہوگا۔" | |||
(5) پھر انہیں باہر لے کر گیا اور کہا: "اب آسمان کی طرف دیکھو اور ستاروں کو گنو اگر تم انہیں گن سکتے ہو۔" پھر ان سے کہا: "تیری اولاد ایسی ہوگی۔" ... (18) اسی دن اللہ نے ابرام سے عہد کیا اور کہا: "میں نے مصر کی نہر سے لے کر بڑی نہر یعنی فرات کی نہر تک کی یہ زمین تیری اولاد کو دی ہے۔" (پیدائش 15: 1 - 18)۔ | (5) پھر انہیں باہر لے کر گیا اور کہا: "اب آسمان کی طرف دیکھو اور ستاروں کو گنو اگر تم انہیں گن سکتے ہو۔" پھر ان سے کہا: "تیری اولاد ایسی ہوگی۔" ... (18) اسی دن اللہ نے ابرام سے عہد کیا اور کہا: "میں نے مصر کی نہر سے لے کر بڑی نہر یعنی فرات کی نہر تک کی یہ زمین تیری اولاد کو دی ہے۔" (پیدائش 15: 1 - 18)۔ | ||
| سطر 625: | سطر 639: | ||
{{حوالہ جات}} | {{حوالہ جات}} | ||
[[زمرہ:ادیان اور مذاهب]] | [[زمرہ:ادیان اور مذاهب]] | ||
[[fa: یهودیت]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:42، 19 اپريل 2026ء

یہودیت، جسے عبرانی یا یہودی بھی کہا جاتا ہے، عربوں اور آشوریوں کی طرح سامی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان قوموں کی زبان، ادب، ثقافت، رسوم اور عقائد ایک دوسرے سے اس قدر قریب ہیں کہ علماء کا ماننا ہے کہ ان کا اصل منبع ایک ہی ہے۔ ان میں سے کسی ایک قوم کی ثقافت کا جائزہ لینے اور تحقیق کرنے کے لیے دیگر سامی اقوام کی ثقافت پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ مثال کے طور پر، اگر ہم عربی ادب کے جائزے میں مصروف ہیں، تو عبرانی، سریانی اور حبشی زبانوں کا مطالعہ اور تحقیق ہمارے کام میں مزید کامیابی حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
عبرانی (یہودی)
عبرانی قوم کی تاریخی تاریخ کے بارے میں صحیح معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ کچھ علماء کا خیال ہے کہ "عبرانی" کا نام، جو کنعانیوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے کنعان کی سرزمین میں داخل ہونے کے بعد آپ کو دیا تھا اور انہیں عبرانی کہا جاتا تھا،
جو بعد میں ان کے القاب میں شامل ہو گیا اور یہ لقب ان کے خاندان میں باقی رہا؛ کیونکہ عبرانی مادہ "ع ب ر" سے آتا ہے جس کا معنی ہے دریا پار کرنا، اس اعتبار سے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دریائے فرات کو عبور کیا اور کنعان میں داخل ہوئے۔
کچھ کا یہ بھی ماننا ہے کہ عبرانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جدِ امجد "عابر" کی طرف منسوب ہے۔ اسی طرح، کچھ لوگ آزر (آپ کے والد یا چچا) کے نام کو دیکھتے ہوئے کہتے ہیں
کہ ان کے خاندان کی اصل آریائی ہے۔ لیکن علماء اس نظریہ کی تائید نہیں کرتے؛ کیونکہ ہمیں قرآن کریم اور اسلامی متون میں لفظ "آزر" کے لغوی معنی کی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ تورات میں ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارح ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام
حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کی عظمت اس حد تک ہے کہ وہ ہمیشہ سے یہودیت، مسیحیت اور اسلام کے درمیان نزاع کا باعث رہے ہیں اور ہر ایک انہیں اپنے سے مانتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
"مَا کَانَ إِبْرَاهِیمُ یَهُودِیًّا وَلَا نَصْرَانِیًّا وَلَٰکِن کَانَ حَنِیفًا مُّسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِینَ" [1]۔ وہ مشرکوں کے درمیان بھی بلند مرتبتی کی حیثیت رکھتے تھے اور ان کے آثار مکہ مکرمہ میں ان کی زیارت اور تعظیم کا موضوع تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نسب حضرت آدم علیہ السلام تک تورات میں بیان کیا گیا ہے۔ تورات کے نسب نامے کتب اسلامی میں بھی داخل ہو گئے اور اصل اور منشأ پر غور کیے بغیر قبول کر لیے گئے۔
اہل کتاب کے خیال میں (کتاب مقدس کے واقعات کو جمع کرنے کے نتیجے میں) حضرت ابراہیم علیہ السلام تقریباً 2000 سال قبل از مسیح، یعنی تقریباً 4000 سال پہلے شہر آور میں پیدا ہوئے اور تورات کے مطابق ابتدا میں ابرام (یعنی بلند مرتبت باپ) کے نام سے پکارے جاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے نام کو99 سال کی عمر میں ابراہیم (یعنی اقوام کے باپ) میں تبدیل کر دیا۔ شہر اور کو قریب ایک صدی پہلے عراق میں فرات کے کنارے سے زمین سے نکالا گیا اور وہاں بہت سے قدیم آثار ملے۔
تورات کے مطابق حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد جن کا نام "تارح" تھا، اپنے بیٹے ابراہیم علیہ السلام اور ان کی بیوی سارہ اور اپنی پوتی حضرت لوط علیہ السلام کو ساتھ لے کر کنعان کی سرزمین مغربی فلسطین کی طرف روانہ ہوئے۔
راستے میں وہ سفر جاری رکھنے سے ہٹ گئے اور شہر حران میں آباد ہو گئے۔ یہ شہر موجودہ ترکیہ کے جنوب اور شام کی سرحد پر واقع ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کو تورات میں تارح کہا گیا ہے، لیکن قرآن مجید نے انہیں آزر بت پرست قرار دیا ہے [2]۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اجداد میں سے ہیں۔
شیعہ علما کا عقیدہ ہے کہ ان کے تمام باپ دادا حضرت آدم علیہ السلام تک توحید پرست تھے اور اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ آزر ان کے چچا تھے اور عربی زبان میں "اب" (باپ) کے بجائے "عم" (چچا) کا استعمال درست ہے، جن میں سے قرآن کریم میں بھی ایسی چیز نظر آتی ہے[3]۔
تورات کہتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام75 سال کی عمر میں اللہ کے حکم سے شہر حران سے کنعان کی طرف روانہ ہوئے۔ انہوں نے اپنی بیوی سارہ اور اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام اور حران کے کچھ لوگوں کو ساتھ لیا اور سب کنعان گئے اور وہاں بیت ایل کے مشرق میں ایک پہاڑی پر خیمہ زن ہوئے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کچھ عرصے کے بعد حبرون (الخیل) میں آباد ہو گئے اور زندگی کے آخر تک وہیں رہے اور اب ان کا خاندانی مقبرہ اسی جگہ ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام سدوم اور اس کےحوالی شہروں کو چلے گئے۔ ان شہروں کے لوگ نافرمانی اور ان کے پیغام کی بے اعتنائی کی وجہ سے اللہ کے حکم سے تباہ ہو گئے۔ یہ واقعہ قرآن مجید میں بھی آیا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاریخ میں دو بہت اہم موضوعات ہیں جن کا موجودہ تورات میں کوئی اشارہ نہیں: ایک تو بت شکنی اور انہیں آگ میں ڈالنے کا واقعہ اور دوسرا خانہ کعبہ کی تعمیر کی داستان۔ قرآن مجید سورہ انبیاء اور صافات میں نے بت شکنی اور انہیں آگ میں ڈالنے کی داستان بیان کی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم خانہ کعبہ کی تعمیر کا ذکر بھی کرتا ہے جو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے کی [4]۔ چونکہ یہ فرزند انہیں بڑی عمر میں عطا ہوا [5]، خانہ کعبہ کی تعمیر ان کی مبارک زندگی کے اواخر میں ہوئی ہوگی۔
تورات فرزند کی قربانی کی داستان بیان کرتی ہے اور کہتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ حضرت اسحاق علیہ السلام کو قربانی کریں، لیکن اس مسئلے کو ان سےبیان نہیں کیا اور ان سے کہا:
"میں ایک بھیڑ قربانی کرنا چاہتا ہوں اور اللہ اس بھیڑ کو میرے لیے بھیجے گا..."۔ لیکن قرآن مجید میں آیا ہے: "فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرَىٰ فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ قَالَ یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِی إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ" [6]۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں، فرزند موت سے بچ گیا اور اللہ نے ایک دُور کو اس کے فدیے میں بنا دیا...
اسماعیل اور اسحاق علیہما السلام
تورات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں پڑھتے ہیں: (1) اس واقعہ کے بعد، اللہ کا کلام خواب میں ابرام کے پاس آیا اور کہا: "اے ابرام! مت ڈرو، میں تیرا سپر ہوں اور تیرا اجر بہت بڑا ہے۔"
(2) ابرام نے کہا: "اے اللہ یہوہ! مجھے کیا دے گا اور میں بے اولاد جا رہا ہوں اور میرے گھر کا ولی العذر دامیکی ہے۔" (3) اور ابرام نے کہا: "دیکھو، تم نے مجھے کوئی اولاد نہیں دی اور میرا گھر والا میرا وارث ہے۔" (4) اسی وقت اللہ کا کلام ان کے پاس پہنچا، کہا: "یہ تیرا وارث نہیں ہوگا بلکہ جو تیری کمر سے نکلے گا وہی تیرا وارث ہوگا۔"
(5) پھر انہیں باہر لے کر گیا اور کہا: "اب آسمان کی طرف دیکھو اور ستاروں کو گنو اگر تم انہیں گن سکتے ہو۔" پھر ان سے کہا: "تیری اولاد ایسی ہوگی۔" ... (18) اسی دن اللہ نے ابرام سے عہد کیا اور کہا: "میں نے مصر کی نہر سے لے کر بڑی نہر یعنی فرات کی نہر تک کی یہ زمین تیری اولاد کو دی ہے۔" (پیدائش 15: 1 - 18)۔ پھر تورات نے اس عہد کو حضرت اسحاق علیہ السلام، بنی اسرائیل کے آبا و اجداد، کے لیے مخصوص کیا اور اسی پیدائش کے سفر میں کہتا ہے: (18) ابراہیم نے اللہ سے کہا: "کاش کہ اسماعیل تیرے حضور زندگی بسر کرے۔" (19) اللہ نے کہا: "بے شک تیری بیوی سارہ تجھے ایک بیٹا جنے گی اور اسے اسحاق نام دو اور میں اپنا عہد اس سے مضبوط کروں گا تاکہ ہمیشہ کے لیے اس کی اولاد کے ساتھ ہو۔ (20) اور اسماعیل کے بارے میں میں نے تجھے قبول کر لیا ہے، دیکھ اب میں اسے برکت دوں گا اور اسے بہت زیادہ فراوان کروں گا۔ اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور ایک بڑی امت اس سے پیدا کروں گا۔ (21) لیکن میں اپنا عہد اسحاق سے مضبوط کروں گا کہ سارہ اسے اگلے سال اس وقت تجھے جنے گی۔" (پیدائش 17: 18-21)۔ تورات کے مطابق، اللہ نے حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کو بارہا بہت ساری اولاد کا وعدہ دیا تھا۔ ان کی کنیز جس کا نام ہاجر تھا، ایک بیٹا جنی جو اسماعیل (یعنی اللہ سنتا ہے) کے نام سے پکاری گئی۔ چودہ سال کے بعد سارہ نے ایک بچہ جنیا جس کا نام اسحاق (یعنی ہنستا ہے) رکھا۔
تورات کی کتاب اس حصے میں مختصر بات کرتی ہے اور صرف اشارہ کرتی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام فاران میں آباد ہوئے اور ان کی ماں نے ان کے لیے مصر سے ایک عورت لائی۔ اس سے متعلقہ دیگر امور تورات میں بھلادیے گئے ہیں اور اس کتاب میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے بارے میں ایک جملہ بھی نظر نہیں آتا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لیے پانی کا ظہور بھی جو اسلامی احادیث کے مطابق مکہ میں ہوا اور ابھی بھی زمزم کے نام سے موجود ہے، تورات کے مطابق بئرشبعہ نامی جگہ پر ہوا تھا! تورات کے مطابق، حضرت اسحاق علیہ السلام حضرت ابراہیم خلیل علیہ السلام کے جانشین بنے اور ان کے لیے جڑواں بچے پیدا ہوئے۔ جس نے پہلے دنیا میں آنکھ کھولی اسے عیسو کہا گیا۔ یہ لفظ لغت میں بالوں والے کے معنی میں ہے۔ تورات کے مطابق یہ بچہ پیدائش کے وقت پورے جسم پر بہت زیادہ بالوں والا تھا۔ دوسرے جڑواں کو یعقوب (یعنی پیچھے دوڑتا ہے) کہا گیا؛ کیونکہ پیدائش کے وقت، اس نے پہلے بچے کو پیچھے سے تعاقب کیا اور اس کے بعد دنیا میں آیا۔
اسرائیل
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے اور وہ اسرائیل کے لقب سے پکارے جاتے تھے۔ اہل کتاب اس مرکب نام کی یہ تشریح کرتے ہیں: وہ شخص جو اللہ پر فتح پا گیا، لیکن اس کا اصل مفہوم عبرانی زبان میں یہ ہے: وہ شخص جو ایک جنگجو پر غالب آ گیا۔ تورات کے مطابق، حضرت یعقوب علیہ السلام کا اللہ سے کشتی لڑنا جو اللہ پر ان کی فتح میں ختم ہوا، ان کے اسرائیل کے لقب پانے کا سبب ہے [7]۔ اہل کتاب نے قدیم زمانے سے کہا ہے کہ اس داستان میں اللہ کا مقصد اللہ کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے [8]۔
کچھ عرصے کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کے غائب ہونے کا واقعہ پیش آیا اور آخرکار یہی معاملہ بنی اسرائیل کے مصر میں قیام کا سبب بن گیا۔ تورات کی کتاب پیدائش کا یہ سفر یہاں ختم ہو جاتا ہے۔
کتاب خروج کے آغاز میں پڑھتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے مصر میں اچھی زندگی بسر کر رہے تھے اور ان کی اولاد اس سرزمین میں پھیل گئی۔ ان کے مصر میں قیام کا عرصہ چار سو تیس سال تھا [9]۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے جنہیں "بسیط" کہتے ہیں، علوم اور فنون میں ترقی کر گئے اور یہی امر مصریوں کے حسد کا باعث بنا۔ اس کے علاوہ، مصری خوفزدہ تھے کہ کہیں بنی اسرائیل اپنی طاقت سے معاملات کا اختیار نہ حاصل کر لیں؛ اس لیے انہوں نے بنی اسرائیل کو کمزور کرنے پر تلا دیا اور ان پر دشوار اور جان لیوا کام عائد کیے۔ مزید یہ کہ طے کیا گیا کہ مصری دایائیں بنی اسرائیل کے لڑکے بچوں کو مارنے کے لیے پیش کریں اور ان کے لیے صرف لڑکیاں رکھنا جائز ہو۔
صحرا نُشینوں کا دین
عبرانی ابتدا میں صحرا نُشین قوم تھی اور ان کا شہروں میں پہلا قیام حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں تھا [10]۔ صحرا نُشینی نے ان کے عقائد اور دینی رسومات پر بہت زیادہ اثر ڈالا۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں فرعون کے چنگال سے نجات دی، وہ چالیس سال تک صحراے سینا میں رہنے پر مجبور ہو گئے، لیکن اس کے بعد وہ مسلسل شہروں میں رہنے لگے اور ایک تہذیب قائم کی جو یہودی قوم کا قیمتی ورثہ بنی۔ مسیحیت بھی اسی تہذیب کی اولاد ہے۔
بنی اسرائیل میں خیالات کی تبدیلی
قوموں کے اثر و رسوخ میں آنے کا عمل عمومی اور فطری ہے اور عبرانی لوگ نقل مکانی اور جگہ بدلتے ہوئے مختلف قوموں کے خیالات سے متاثر ہوتے تھے۔ سورہ اعراف کی آیت 138 میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل جب دریا سے نکلے اور فرعون کے ہاتھ سے بچ گئے تو انہیں ایک بت پرست گروہ مل گیا۔
انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ان کے لیے بھی ایک بت بنا دیں اور یہ مطالبہ سختی سے رد کر دیا گیا۔ اسی طرح جب وہ مصر میں آباد تھے، تو مصریوں کے عقائد نے ان پر اثر ڈالا، ایسے کہ جب انہوں نے اس سرزمین کو چھوڑا تو مصریوں کی تقلید کرتے ہوئے جنہوں نے گائے کو مقدس مانا، انہوں نے بھی ایک بچھڑا بنایا اور اس کی عبادت میں مشغول ہو گئے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام
کتاب خروج کے دوسرے باب میں پڑھتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں سے ایک شخص [اس کا نام اسلامی احادیث میں عمران ہے اور تورات میں عمیرام بن قہات بن لاوی بن یعقوب ہے] </ref>[11] نے اپنے ہی قبیلے کی ایک لڑکی سے شادی کی اور ایک بیٹا ہوا۔ نوزاد کی ماں نے فرعون کے مامورین کے چنگل سے اسے بچانے کے لیے تین ماہ تک اسے چھپا کر رکھا۔
چونکہ بچے کو ہمیشہ کے لیے چھپائے رکھنا ممکن نہ تھا، اس کی ماں نے ایک صندوق تیار کیا اور اس کے سوراخوں کو تار کولی (قیر) سے بھر دیا اور بچے کو اس میں رکھ کر دریائے نیل کی نیل کے جنگلوں میں چھوڑ دیا۔ اس کی بہن اس کے پاس کھڑی ہو گئی تاکہ دیکھے کہ اس کے ساتھ کیا ہو گا۔
کچھ عرصے کے بعد فرعون کی بیٹی جو نیل کے کنارے نہانے کے لیے آئی تھی، نے صندوق کو دیکھا اور اپنی ایک لونڈی کو صندوق کے پاس بھیجا۔ جب صندوق کو اس کے پاس لایا گیا تو اس نے اسے کھولا اور دیکھا کہ اس میں ایک بچہ تیر رہا ہے۔ اس کا دل اس بچے پر پسی آیا اور کہا: "واضح ہے کہ یہ بچہ بنی اسرائیل سے ہے"۔ اس وقت بچے کی بہن آگے آئی اور پیشکش کی کہ اسے دودھ پلانے کے لیے ایک عورت لاؤں۔
فرعون کی بیٹی نے قبول کی اور بچے کی بہن اپنی ماں کو ان کے پاس لے گئی۔ فرعون کی بیٹی نے اس سے کہا: "اس بچے کو اپنے ساتھ لے جا اور دودھ پلا، میں تیری اجرت دوں گی"۔ کچھ سال کے بعد جب بچہ بڑا ہو گیا تو اس کی ماں اسے فرعون کی بیٹی کے پاس لے گئی۔ فرعون کی بیٹی نے اسے بیٹا مان لیا اور اس کا نام موسیٰ رکھا [12]۔ یہ داستان اس سے بہت ملتی جلتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سورہ قصص میں فرمایا ہے۔ بعض تاریخی حسابات کے مطابق یہ واقعہ تقریباً 1250 ق م میں پیش آیا۔
ہر حال میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے معاملات درست کیے اور انہیں کافروں سے جنگ کے لیے تیار کیا اور اللہ کے احکام انہیں سکھائے۔ انہوں نے بنی اسرائیل کو برکت دی اور ایک سو بیس سال کی عمر میں موآب نامی مقام پر، دریائے میت کے قریب، وفات پائی اور بنی اسرائیل نے ان کے لیے تیس دن عزاداری کی۔ یہ واقعہ کتاب تثنیہ کے آخر میں ملتا ہے اور تورات اس پر ختم ہوتی ہے:
(5) پس موسیٰ بنده اللہ وہاں موآب کی زمین میں اللہ کے حکم سے مر گیا (6) اور اسے موآب کی زمین میں بیت فعور کے سامنے ایک وادی میں دفن کیا گیا [13] اور آج تک کسی نے اس ک قبر نہیں پائی (7) اور موسیٰ جب وفات پائی تو اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی اور نہ اس کی آنکھیں کمزور ہوئیں اور نہ اس کی قوت کم ہوئی (8) اور بنی اسرائیل نے موآب کے میدانوں میں موسیٰ کے لیے تیس دن سوگ منایا۔
پس موسیٰ کے لیے سوگ اور ماتم کے دن گزر گئے (9) اور یوشع بن نون حکمت کے روح سے بھرپور تھا، اس لیے کہ موسیٰ نے اپنے ہاتھ اس پر رکھے تھے اور بنی اسرائیل نے اس کی اطاعت کی اور اسی طرح عمل کیا جیسا اللہ نے موسیٰ کو حکم دیا تھا (10) اور اسرائیل میں اب تک کوئی ایسا نبی نہیں اٹھا جو موسیٰ جیسا ہو، جسے اللہ نے آمنے سامنے سے پہچانا ہو (11) تمام نشانیوں اور معجزات میں جو اللہ نے اسے بھیجا تاکہ وہ انہیں مصر کی سرزمین میں فرعون اور اس کے تمام غلاموں اور پوری زمین پر دکھائے (12) اور تمام طاقتور ہاتھ اور وہ عظیم ہیبت جو موسیٰ نے تمام اسرائیل کے سامنے دکھائی[14]۔
یہودیت کی تأسیس
کتاب خروج کے تیسرے باب میں پڑھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حوریب کے بیابان میں پہاڑ کی وادی میں اللہ تعالیٰ کی آواز سنی جو آگ کے شعلوں سے ایک جھاڑی کے درمیان سے ان سے بات کر رہی تھی۔
قرآن مجید میں اللہ کا پہلا کلام درخت سے صحراے طویٰ میں یوں آیا ہے: "فَلَمَّا أَتَاهَا نُودِی یَا مُوسَیٰ إِنِّی أَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی وَأَنَا اخْتَرْتُكَ فَاسْتَمِعْ لِمَا یُوحَیٰ إِنَّنِی أَنَا اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدْنِی وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِی إِنَّ السَّاعَةَ آتِیَةٌ أَكَادُ أُخْفِیهَا لِتُجْزَىٰ كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَىٰ فَلَا یَصُدَّنَّكَ عَنْهَا مَنْ لَا یُؤْمِنُ بِهَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَتَرْدَیٰ" [15]۔
تورات کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے وعدہ کیا کہ وہ بنی اسرائیل کو مصریوں کے ہاتھ سے نجات دے گا اور انہیں کنعان کی سرزمین اور اس کے ارد گرد کی برکت والی جگہیں دے گا۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو رسالت عطا ہوئی کہ وہ فرعون کے پاس جائیں اور اس سے کہیں کہ بنی اسرائیل کو رہا کر دے۔ وہ معجزات کے ساتھ مصر کی طرف روانہ ہوئے اور طے ہوا کہ حضرت ہارون علیہ السلام ان کی مدد کریں۔
تورات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ طاقت دی کہ وہ معجزے کے طور پر اپنی لاٹھی اور اپنے بھائی کی لاٹھی کو سانپ میں بدل دیں اور اپنے ہاتھ سے سفید روشنی نکالیں۔ فرعون نے جادوگروں کی ایک بڑی جماعت جمع کی تاکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ کریں۔ مذکورہ سانپ نے ان کے تمام آلات اور سامان کو نگل لیا اور انہیں معلوم ہو گیا کہ ان کا کام جادو نہیں ہے۔ قرآن مجید کے مطابق انہوں نے فرعون کے خوف کے بغیر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لے آیا۔
اس کے بعد معجزات کے کچھ عذاب مصریوں پر آئے اور ہر بار فرعون وعدہ کرتا کہ بنی اسرائیل کو چھوڑ دوں گا، لیکن اپنے قول پر عمل نہ کرتا۔ تورات نے دس قسم کے عذاب شمار کیے ہیں:
- مصریوں کے پانی کا خون میں تبدیل ہو جانا
- ان کے درمیان میں کینوں کی کثرت
- مچھروں کی کثرت
- مکھیوں کی کثرت
- وبا کی وجہ سے مصری مویشیوں کا مرنا
- مصریوں اور ان کے مویشیوں کے دادھلے ہو جانا
- ان پر تگرگ کا برسا جس سے بہت سے مویشی اور کھیتیاں تباہ ہوئیں
- ٹڈی کی کثرت
- مصریوں کے گھروں میں تین دن تک تاریکی
- تمام مصریوں کے سربرآوردہ بیٹوں کا مارا جانا، یہاں تک کہ خود فرعون کا بھی سربرآوردہ بیٹا
قرآن مجید حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں کو نو شمارتا ہے[16] اور ظاہری طور پر مقصد وہ نشانیاں ہیں جو انہوں نے فرعون کے پاس لائی تھیں، ورنہ قرآن کریم اور تورات کے صریح بیان کے مطابق ان کے معجزات اس تعداد سے زیادہ تھے۔ ان عذابوں میں سے کچھ قرآن مجید میں بھی ذکر ہوئے ہیں [17]۔
تورات کے مطابق فرعون آخرکار ہار گیا اور اس نے رات کو حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کو بلوایا اور کہا کہ بنی اسرائیل کے ساتھ جہاں چاہو جاؤ۔ اس پر وہ بحر احمر کے مشرقی کنارے مصر کی طرف کوچ کر گئے اور وہاں ٹھہر گئے۔
قوم موسیٰ نے دور سے فرعونیوں کے آنے کو دیکھا۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنا ہاتھ دریا کی طرف بڑھایا تو دریا پھٹ گیا اور خشک ہو گیا اور بنی اسرائیل آسانی سے اس سے گزر گئے [18]۔ پھر فرعون کے فوجی آئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے ہاتھ کے اشارے سے انہیں غرق کر دیا۔ تورات فرعون کے غرق ہونے کے بارے میں کچھ نہیں کہتی۔
قرآن مجید اور اسلامی احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اللہ کے حکم سے مصر سے نکلے، فرعون کی اجازت سے نہیں [19]۔ اسی طرح قرآن کریم کے صریح بیان کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اپنی لاٹھی دریا پر ماری، یہ نہیں کہ انہوں نے اپنا ہاتھ دریا کی طرف بڑھایا۔
بنی اسرائیل نے جزیرہ نما سینا کے قریب ٹھہرے اور وہاں ان کے لیے آسمان سے ایسی چیز نازل ہوتی تھی جو شبنم کی طرح تھی اور اس کے ساتھ بلدرچین کی طرح پرندہ بھی جو عربی میں "سلوی" کہلاتا ہے، اور وہ انہیں کھاتے تھے۔
یہ سلسلہ چالیس سال تک جاری رہا، یعنی جب تک بنی اسرائیل بیابان میں گھومتے رہے۔ تورات کہتی ہے کہ اس شبنم نما کھانے کو "من" کا نام دیا گیا؛ کیونکہ بنی اسرائیل نے اسے دیکھ کر عبرانی زبان میں پوچھا: "مان ہُوا" یعنی یہ کیا ہے؟
لوحوں اور دس احکام
جب بنی اسرائیل کے مصر سے نکلے تین ماہ ہو گئے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا گیا کہ وہ اللہ سے گفتگو کے لیے طور سینا (یعنی سینا کے پہاڑ) کے اوپر جائیں۔ وہاں انہوں نے دو لوح حاصل کیے جن پر اللہ کے فرمان نقش تھے۔ قرآن کریم "لواح" کو جمع کی صورت میں ذکر کرتا ہے[20]۔ ان فرمانوں میں سے دس حکم بہت اہم ہیں جنہیں "دس احکام" کہتے ہیں:
- اپنے لیے میرے سوا کوئی خدا نہ بناؤ
- بتوں کو سجدہ نہ کرو
- اللہ کا نام باطل میں نہ لو
- شبہ کو عزت دو
- ماں باپ کا احترام کرو
- کسی کو قتل نہ کرو
- زنا نہ کرو
- جھوٹ نہ بولو
- پڑوسی پر جھوٹی گواہی نہ دو
- پڑوسی کے مال اور عزت پر طمع نہ کرو
اس کے بعد ان احکام کی تفصیلات کتاب خروج کے 21ویں باب کے بعد سے بیان ہوئی ہیں۔
گوسالہ پرستی
تورات کہتی ہے کہ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام طور سینا سے واپسی میں دیر کر رہے ہیں، تو وہ حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس گئے اور ان سے درخواست کی کہ ان کے لیے خداوانے بنا دیں۔ اور انہوں نے معاملے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اطلاع دیا اور کہا کہ اللہ سے کہیں کہ انہیں ہلاک کر دے، لیکن ان کی شفاعت کی وجہ سے اس سے دستبردار ہو گئے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہ دونوں لوح اٹھائے اور بنی اسرائیل کی طرف آئے۔ جب انہوں نے ان کی بری حرکت دیکھی تو لوحوں کو زمین پر پیٹ دیا اور اپنے بھائی کی سرزنش کی اور گوسالے کو آگ لگائی اور اسے پاش پاش کر کے پانی میں ڈال دیا اور پھر بنی اسرائیل کو پلایا۔ اس کے بعد حکم دیا کہ اپنی تلواریں اٹھاؤ اور آدھے دن تک ایک دوسرے کو مارو۔
قرآن مجید نے اس داستان کو تقریباً اسی طرح مختلف مقامات پر بیان کیا ہے، سوائے اس کے کہ حضرت ہارون علیہ السلام کی پاکیزہ ذات کو اس ناجائز کام سے محفوظ رکھا ہے [21]۔ قرآن کریم میں گوسالے کا بنانے والا سامری نامی شخص ہے۔
اہل کتاب نے قرآن کریم میں "سامری" کے لفظ پر اعتراض کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا کوئی شخص موجود نہیں تھا؛ کیونکہ سامری فلسطین کے شہر سامرہ سے منسوب ہے اور اس شہر کو شہنشاہ عمری نے بنایا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے کئی سال بعد زندہ تھا [22]۔
مرحوم علامہ بلاغی نے جواب دیا ہے کہ بنی اسرائیل میں شمرون بن یساکار بن یعقوب نامی ایک شخص موجود تھا جس کا خاندان شمرونی کہلاتا تھا [23]۔ شمرونی کو عربی میں تلفظ کرنے سے سامری بنا [24]۔
تورات کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ ٹوٹے ہوئے لوحوں جیسے دو پتھر کے لوح تراشیں تاکہ اللہ ان پر وہ وصیتیں لکھے۔ قرآن کریم نے بھی اس بات کا اشارہ کیا ہے [25]۔
تورات
تورات ایک عبرانی لفظ ہے اور اس کا مطلب "قانون" ہے؛ کیونکہ تورات کی کتاب میں بہت سے احکام اور قوانین موجود ہیں۔ تورات کا دوسرا نام "شریعت" ہے۔
کتاب مقدس کے ماہرین تورات کے چار بنیادی ذرائع ہیں:
- الوہیمی ذریعہ E
- یہوہی ذریعہ J
- کاہنی ذریعہ P
- تثنیہ کے سفر کا ذریعہ D (جو ایک خاص ذریعہ ہے)
تورات اور کتاب مقدس کی سب سے قدیم اور مشہور تنقیدوں میں سے ایک نیدرلینڈ کے عالم اور فلسفی باروخ (بینڈیکٹ) اسپینوزا (1632 - 1677) نے "رسالۂ الہیات اور سیاست" (لاطینی زبان میں) کے نام سے کتاب میں کی ہے۔
اسپینوزا نے اپنی کتاب میں دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ کتاب مقدس کی تصدیق کے لیے اس کے تاریخی اور تنقیدی شواہد پر غور کرنا ضروری ہے اور افسوس ہے کہ پیشینیلوں نے اس علم کو ترک کر دیا تھا اور اگر انہوں نے اس بارے میں کچھ لکھا بھی تو ہماری پہنچ سے دور رہا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ اب ہم ایسے حالات میں جی رہے ہیں جہاں تعصب پر مبنی چیزیں دین کے نام سے مشہور ہو گئی ہیں اور لوگ اپنے عقائد میں عقل کو کوئی حصہ نہیں دیتے۔
اس لیے میں نسبتی مایوسی کے ساتھ اس راستے پر قدم رکھتا ہوں اور پہلے مرحلے میں کتاب مقدس کے مصنفین (اور سب سے پہلے تورات کی پانچ کتابوں کے مصنف) کی تحقیق کرتا ہوں: تقریباً سب (اہل کتاب) کا یقین ہے کہ موسیٰ نے تورات لکھی ہے، اس قدر کہ یہود کی فریسی فرقہ اس عقیدے پر زور دیتا ہے اور اس کے مخالف کو مرتد سمجھتا ہے۔
اسی لیے ابن عزرا جو نسبتاً آزاد خیال عالم تھے، اس بارے میں اپنی رائے ظاہر کرنے کی ہمت نہ کر سکے اور صرف مبہم اشاروں سے اس عوامی عقیدے کی غلطی کا ذکر کیا۔ لیکن میں بے خوف و ہراس اس اشارات کے پردے کو ہٹا دوں گا اور سچائی کو سب کے سامنے روشن کر دوں گا [26].
عہد قدیم
عہد قدیم وہ نام ہے جو مسیحیوں نے یہودیوں کی کتاب کو عہد جدید کے مقابلے میں دیا ہے۔ مسیحی دونوں عہدوں پر یقین رکھتے ہیں۔ عہد قدیم عبرانی زبان میں اور اس کا کچھ حصہ کلدانی زبان میں لکھا گیا ہے۔ یہ دونوں زبانیں عربی کی طرح سامی زبانوں سے ہیں۔ کتاب تورات عہد قدیق کے آغاز میں ہے۔
اس کے علاوہ عہد قدیم کی ایک نسخہ یونانی زبان میں بھی موجود ہے جو عبرانی نسخے سے ترجمہ کی گئی ہے اور اسے "ترجمہ سبعینیہ" (یا ترجمہ ستتر) کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ ترجمہ تقریباً 258 ق م میں مصر کے بادشاہ بطلیمیوس فلادیلفوس کے حکم سے 72 افراد نے کیا۔ اس نسخے میں اصل عبری سے کچھ اختلافات ہیں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے کچھ حصے "اپوکریفا" یعنی "پوشیدہ" کے نام سے پکارے جاتے ہیں اور قدیم زمانے سے شبہے میں رہے ہیں، لیکن مسیحی عام طور پر انہیں قبول کرتے رہے ہیں۔ تقریباً پانچ صدی پہلے، دینی اصلاح کے دوران، پروٹسٹنٹ مسیحیوں نے ان حصوں کی مستندئ پر سنگین شبہہ ظاہر کیا۔ کچھ عرصے کے بعد 826ء میں برطانوی اور امریکی جماعتوں نے باضابطہ طور پر کتاب مقدس کی طباعت اور اشاعت کے دوران انہیں کتاب مقدس سے نکال دیا۔ کیتھولک اور آرتھوڈوکس گرجا گھر اس عمل کے مخالف ہیں اور ان حصوں کو عہد قدیم کا حصہ مانتے ہیں۔
اب کتاب مقدس کے حوالے دینے کے بارے میں کچھ کہنا ہے: ہم سب قرآن کریم کے حوالے دینے کے طریقے سے واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ صفحے کی بجائے سورے کا نام اور آیت کا نمبر بتایا جاتا ہے۔
سینکڑوں قدیم اور مشہور کتب میں صفحے کا حوالہ دینا معمول ہے، جیسے افلاطون، ارسطو، ہومر، ہیروڈوٹس، شیکسپیئر اور دیگر کے آثار۔ ان آثار کے حوالے دینے کے لیے تدابیر سوچی گئی ہیں اور ابواب، فصول اور نمبر بنائے گئے ہیں تاکہ حوالہ خاص ایڈیشن تک محدود نہ ہو اور سب کے لیے کارآمد ہو۔
کتاب مقدس کا حوالہ دیتے وقت پہلے کتاب کا نام، پھر باب کا نمبر اور آخر میں بند کا نمبر بتایا جاتا ہے؛ مثلاً "پیدائش 1: 27" یعنی کتاب پیدائش، باب 1، بند 27۔
عہد قدیم کی 39 کتابیں ہیں جو موضوع کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں:
- تورات اور عہد قدیم کا تاریخی حصہ
- حکمت، مناجات اور شاعری
- انبیاء کی پیشین گوئیاں
عہد قدیم کا تاریخی حصہ
عہد قدیم کا تاریخی حصہ تورات سے شروع ہوتا ہے اور تورات کا آغاز کتاب پیدائش سے ہوتا ہے۔ کائنات کی پیدائش، آدم و حوا اور نیک و بد کے علم کو کھانے کے واقعے کے ساتھ ساتھ ان کا باغ Eden سے نکالنا، آدم کے بچوں کی کہانی، نوح کا طوفان، حضرت ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور یوسف سے متعلق واقعات اس کتاب میں بیان ہوئے ہیں۔ اگلی چار کتابیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سیرت اور بنی اسرائیل کی تاریخ بیان کرتی ہیں۔
یہ سیرت پیدائش، بعثت، ہجرت (تقریباً 1290 ق م میں مصر سے نکلنا)، حکومت کی تشکیل اور ان کی وفات کو شامل ہے۔ احکام اور قوانین کا بہت بڑا حصہ وحی کے الفاظ کے ساتھ ان چار کتابوں میں موجود ہے۔ یہودیوں اور مسیحیوں کے خیال میں تورات کی پانچ کتابوں کے مصنف حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ بنی اسرائیل کی تاریخ حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد سے اگلی بارہ کتابوں میں جاری ہے۔
یہ حصہ 17 کتابوں پر مشتمل ہے:
- کتاب پیدائش (کائنات کی پیدائش، حضرت آدم، نوح، ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور یوسف کی کہانیاں)
- کتاب خروج (حضرت موسیٰ کی پیدائش اور بعثت، بنی اسرائیل کا مصر سے سینا تک نکلنا اور احکام)
- کتاب لاویان (یہودی کاہنوں یعنی ہارون کی اولاد اور لاوی خاندان سے تعلق رکھنے والے روحانی لوگوں کے احکام)
- کتاب اعداد (حضرت موسیٰ کے زمانے میں بنی اسرائیل کا جائزہ، ان کا شریعت اور تاریخ)
- کتاب تثنیہ (جو احکام پچھلی کتابوں میں آئے ہیں ان کا دہرانا اور حضرت موسیٰ کی وفات تک بنی اسرائیل کی تاریخ)ان پانچ کتابوں کا مجموعہ "تورات" کہلاتا ہے۔
- کتاب یوشع (یوشع بن نون کی تاریخ و سیرت جو حضرت موسیٰ کے جانشین تھے)
- کتاب قاضیان (بادشاہوں کی تقرری سے پہلے بنی اسرائیل کے قاضیوں کی تاریخ)
- کتاب روت (روت نامی عورت کی زندگی کا ذکر جو حضرت داؤد کے آباؤ اجداد میں سے ہیں)
- پہلی سموئیل کی کتاب (نبی سموئیل کی تاریخ اور شاؤل - یعنی طالوت - کو بادشاہت پر مقرر کرنا)
- دوسری سموئیل کی کتاب (حضرت داؤد کی بادشاہی)
- پہلی پادشاہان کی کتاب (حضرت داؤد کی بادشاہی کا استمرار اور حضرت سلیمان اور ان کے جانشینوں کی بادشاہی)
- دوسری پادشاہان کی کتاب (بخت نصر کے حملے اور بابل کی جلاوطنی تک بنی اسرائیل کے بادشاہوں کی تاریخ کا استمرار)
- پہلی تواریخ ایام کی کتاب (بنی اسرائیل کے انساب اور داؤد کی وفات تک ان کی تاریخ کا دہرانا)
- دوسری تواریخ ایام کی کتاب (حضرت سلیمان اور اس کے بعد کے بادشاہوں کی تاریخ جلا بابل تک)
- کتاب عزرا (عزرا کے ساتھ یہودیوں کی آزادی کے ساتھ اورشلیم یعنی بیت المقدس کی دوبارہ تعمیر)
- کتاب نحمیا (ہخامنشی بادشاہ اردشیر اول کی زبان سے نحمیا کے ذریعے اورشلیم کی دوبارہ تعمیر اور یہودیوں کی واپسی)
- کتاب استر (خشایارشا کی یہودی بیوی استر کی شفاعت سے یہودیوں کو تباہی کے خطرے سے نجات، ہمدان میں دفن ہیں)
حکمت، مناجات اور شاعری
یہ حصہ 5 کتابوں پر مشتمل ہے:
- کتاب ایوب (ان کی آزمائش، بے صبری اور صبر)
- کتاب مزامیر یعنی زبور داؤد (150 مناجاتی قطعات کا مجموعہ)
- کتاب امثال سلیمان نبی (حکیمانہ کلمات)
- کتاب کہیل (سلیمان نبی کا مستعار نام، جس میں دنیا کے بارے میں بدبینی کا نقطہ نظر ہے)
- کتاب ناغمات (عاشقانہ اشعار)
انبیاء کی پیشین گوئیاں
انبیاء کی پیشین گوئیوں کا حصہ بنی اسرائیل کے نصیب کے بارے میں انتباہوں اور دھمکیوں پر مشتمل ہے۔ ان پیشین گوئیوں کو سمجھنے کے لیے قاری کو اس زمانے کے واقعات سے بالکل آگاہ ہونا چاہیے۔
یہ حصہ 17 کتابوں پر مشتمل ہے:
- کتاب اشعیا (عہد قدیق میں پیشین گوئی کی سب سے لمبی اور مشہور کتاب)
- کتاب ارمیا (پیشین گوئی)
- کتاب مراثی ارمیا (اورشلیم کی تباہی پر ان کا نوحہ)
- کتاب حزقیال (پیشین گوئی)
- کتاب دانیال (پیشین گوئی اور حضرت دانیال نبی کی جدوجہد کا بیان جو شوش میں دفن ہیں)
- کتاب ہوشع (پیشین گوئی)
- کتاب یوئیل (پیشین گوئی)
- کتاب عاموس (پیشین گوئی)
- کتاب یونس (پیشین گوئی اور مچھلی کے پیٹ میں جلنے کی کہانی)
- کتاب میکاہ (پیشین گوئی)
- کتاب ناحوم (پیشین گوئی)
- کتاب حبقوق (حضرت حبقوق نبی کی پیشین گوئی جو تویسرکان میں دفن ہیں)
- کتاب صوفنیاہ (پیشین گوئی)
- کتاب حجی (پیشین گوئی)
- کتاب زکریا (پیشین گوئی)
- کتاب ملاکی (پیشین گوئی)
عہد قدیم کا اپوکریفا
اب عہد قدیم کے اپوکریفا سے آشنا ہونے کے لیے ان کتابوں کے نام بیان کرتے ہیں۔ ضروری ہے کہ اشارہ کریں کہ جن نسخوں میں اپوکریفا ہے، وہ اپوکریفا کتابوں کی تعداد اور ترتیب دونوں میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ان کتابوں کا زیادہ تر ذریعہ ترجمہ سبعینیہ ہے۔ اب تک اپوکریفا فارسی زبان میں نظر نہیں آیا، لیکن اس کی نسخے عربی، انگریزی اور دوسری زبانوں میں موجود ہیں۔ عربی زبان میں اپوکریفا کا ایک مجموعہ 241 صفحات پر مشتمل ہے جس میں درج ذیل 10 کتابیں ہیں:
- طوبیا
- استر (یونانی)
- حکمت
- یشوع بن سیراخ
- باروک
- ارمیا کا خط
- دانیال (یونانی)
- پہلی مکابی
- دوسری مکابی
- یہودیت
مذہبی عقائد و احکام
مشہور مذہبی عالم، طبیب اور یہودی فلسفی موسیٰ بن میمون (1135 - 1204 عیسوی) نے یہودی مذہب کو نیا لباس پہنایا اور اس کے لیے تیرہ اصول ترتیب دیے، جن کی تفصیل یہ ہے:
- اللہ کا وجود
- اس کا یکتا ہونا
- اس کا تجرد ہونا
- اس کا زمانے سے ماورا ہونا
- اس کا معاملات میں حکمت رکھنا
- اس کا عدل
- عبادت کے ذریعے اس کے قربت ممکن ہونا
یہ باتیں اللہ سے متعلق تھیں، لیکن دوسری امور یہ ہیں:
- بوت پر یقین
- حضرت موسیٰ علیہ السلام کا سب سے بڑا ہونا
- تورات کے آسمانی ہونے پر یقین
- احکام کو منسوخ کرنے کا جواز نہ ہونا
- مسیحا موعود کا آنا
- قیامت اور انسانی نفس کا ہمیشہ رہنا
یہودیت میں اللہ
یہودیت (اسلام اور مسیحیت کی طرح) ابتدا سے توحید پر قائم ہے اور یہود کے تمام انبیاء، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے لے کر اس کے بعد کے بہت سے انبیاء، نے شرک سے جنگ کی ہے۔ یہ واضح ہے کہ توحیدی ادیان کے پیروکار بھی کبھی کبھار اپنے دین سے غافل ہو جاتے ہیں اور شرک کے مختلف طریقے اپنا لیتے ہیں۔ یہ مسئلہ کبھی محققین کی نظر میں ان ادیان کے اصل کو تبدیل نہیں کر سکا۔ انہوں نے کسی دین کے پیروکاروں کی لغزشوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنی تحقیقات سے یہ سمجھا کہ ادیان دو قسم کے ہوتے ہیں:
الف) وہ ادیان جو لوگوں کو شرک سے خبردار کرتے ہیں، جیسے ابراہیمی ادیان ب) وہ ادیان جو لوگوں کو شرک سکھاتے ہیں، جیسے مشرقی ادیان
یہودی مذہب میں اللہ کا خاص نام "یہوہ" ہے جس کا مطلب ہے "موجود"۔ یہ نام بہت احترام والا ہے اور اسے زبان پر لانا، تورات پڑھنے کے ذریعے سے بھی، حرام ہے۔ اس پابندی کی وجہ سے کوئی بھی اس کا اصل تلفظ نہیں جانتا اور کبھی کبھی مغربی سائنسی کتابوں میں احتیاطاً اسے بے حرکات (YHWH) لکھتے ہیں۔ لیکن محققین کا ایک گروہ خیال کرتا ہے کہ اس کا اصل تلفظ "یہوہ" ہے۔
جب سلیمان کا معبد قائم تھا، یہودیت کا سب سے بڑا مذہبی عہدیدار جسے "کوہن گدول" کہتے ہیں، سال میں صرف ایک بار، یہودی کیلنڈر کے دسویں ماہ تشری (موسم خزاں کے اوائل میں) کی یوم کیپور کے دن، اس معبد کے قدس الاقداس میں اللہ کے نام یہوہ کو زبان پر لا سکتے تھے اور دعائیں کر سکتے تھے۔ تورات کی تلاوت کے وقت مذکورہ نام کو "ادونائی" سے بدل دیا جاتا ہے جس کا مطلب ہے "میرا مالک" اور اسی کلمے کے حرکات اس پر رکھ دی جاتی ہیں؛ اس لیے کبھی اسے "یہوہ" لکھا گیا ہے [27]۔
اللہ کا ایک اور نام "اہیہ اشر اہیہ" ہے جس کا مطلب ہے "میں وہ ہوں جو ہوں"۔ یہ نام کتاب خروج 3: 14 میں آیا ہے اور کچھ اسلامی دعاؤں میں (جیسے شب عرفة کی دعا) بھی آیا ہے اور ناواقف لوگوں کی نقل میں اسے "اہیا شراہیا" میں بدل دیا گیا ہے۔
بنی اسرائیل کے انبیاء
یہودی لوگ نبوت پر یقین رکھتے ہیں اور اس بارے میں وسیع کلامی بحثیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ نبوت کے لیے ایک خاص مطلب مانتے ہیں جو پیشین گوئی ہے اور اشعیا، ارمیا، حزقیال اور ہوشع جیسے بڑے پیغمبر "نبی" یعنی پیشگو کے نام سے مشہور ہیں۔
عہد قدیم کی کتابوں میں بہت سے پیغمبران ذکر ہوئے ہیں [ان پیغمبران کے نام دعا ام داؤد میں آئے ہیں جو پندرہویں ماہ رجب کو پڑھی جاتی ہے]۔ اشعیا، ارمیا، عاموس نے اپنی خوبصورت تقریروں سے بنی اسرائیل کو خبردار کیا اور انہیں اپنی بری اور ناانصافیوں کے انجام سے ڈرایا اور یاد دلایا کہ ان کے سامنے ذلیل کن اسارت ہے۔ لیکن وہ ان باتوں پر کم توجہ دیتے تھے اور دوسری طرف اپنے پیغمبروں کو قتل، قید اور ستانے کا ارادہ کر لیتے تھے (قرآن مجید نے ان امور کو بہت ذکر کیا ہے)۔ عہد قدیق کے آخر کی سترہ کتابیں جنہیں نبوت کی کتابیں کہتے ہیں، ان پیشین گوئیوں پر مشتمل ہیں۔
قرآن کریم میں ذکر شدہ 26 پیغمبروں میں سے 20 یہودیوں اور عیسائیوں سے متعلق ہیں: آدم، نوح، ابراہیم، لوط، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، موسیٰ، ہارون، داؤد، سلیمان، الیاس، الیسع، عزیز (عزرا)، ایوب، یونس، زکریا، یحیی اور عیسیٰ۔
ان انبیاء میں سے 6 کا تعلق اہل کتاب سے نہیں ہے: ادریس [28]، شعیب (مگر کتاب خروج 2: 18 میں رعوئیل کے نام سے یا کتاب خروج 3: 1 میں یترو کے نام سے)، ذوالکفل، ہود، صالح اور محمد۔
بنی اسرائیل کی حکومت
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد حضرت یوشع بن نون علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے قوم کی قیادت سنبھالی۔ انہوں نے اس دریا کو جس کو اردن کہتے ہیں اور جو شمال سے جنوب فلسطین تک پھیلا ہوا ہے، پار کیا اور کنعان اور اس کے ارد گرد کے علاقے فتح کیے۔
عہد قدیم کے دعوے کے مطابق ان علاقوں کے آبادی والوں کا قتل عام کیا گیا اور وہ سرزمین بنی اسرائیل کے لیے مختص ہو گئی۔ ان جنگوں کا واقعہ عہد قدیق کی چھٹی کتاب "صحیفہ یوشع" میں موجود ہے۔ حضرت یوشع علیہ السلام کے بعد بنی اسرائیل میں بڑے آدمی قوم کی قیادت میں مصروف رہے جنہیں "داوران بنی اسرائیل" کہتے ہیں۔ ان کا عموماً نبی یا بادشاہ کا عہدہ نہیں تھا۔ ان قیادوں کی تاریخ کتاب داوران میں آئی ہے۔
بنی اسرائیل کے آخری داور حضرت سموئیل علیہ السلام تھے جن کے دو بیٹے تھے جو قوم کی قیادت کے لیے لائق نہ تھے۔ اس لیے لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کریں۔ دراصل اس زمانے میں بنی اسرائیل کے پاس کوئی بادشاہ نہیں تھا۔ عوام کے بہت زیادہ اصرار پر، سموئیل نے اللہ کی طرف سے ایک نوجوان کو ان کا بادشاہ مقرر کیا۔
بنی اسرائیل کا پہلا بادشاہ تقریباً 1030 سال قبل از مسیح مقرر ہوا۔ اس بادشاہ کا نام عہد قدیم [29] میں "شائول" ہے اور قرآن کریم میں "طالوت" ہے [30]۔
پہلے بادشاہ کی تقرری کے بعد بنی اسرائیل اور اس زمانے کے فلسطینیوں کے درمیان ایک اہم جنگ ہوئی اور کامیابی بنی اسرائیل کو ملی۔ اس قوم کا سب سے اہم جنگجو جلیات تھا جسے قرآن کریم میں "جالوت" کہا گیا ہے۔ اسے حضرت داؤد علیہ السلام نے مارا اور اس کی فوج بھاگ گئی۔
حضرت داؤد علیہ السلام طالوت کے جانشین بنے (تقریباً 1015 سال قبل از مسیح) اور حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے والد حضرت داؤد علیہ السلام کی جگہ بیٹھے اور بنی اسرائیل کا سب سے اہم اور شاندار ترین دور قائم کیا۔
انہوں نے شہر اورشلیم (یعنی سلامتی کا شہر) میں ایک بہت بڑا معبد بنایا جو "ہیکل سلیمان" کے نام سے مشہور ہو گیا (عبرانی زبان میں "ہیکل" کا مطلب ہے بلند عمارت)۔ یہ معبد بعد میں ایک بار تقریباً 587 ق م میں بختنصر کے ہاتھ سے اور دوسری بار 70 عیسوی میں رومی شہزادہ ٹائٹس کے ہاتھ سے تباہ ہوا۔
اہل کتاب نے عہد قدیم کی جھوٹی کتابوں (پہلی کتاب پادشاہان، باب 11) کی بنیاد پر خیال کیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام اپنی بت پرست بیویوں کے بھڑکانے سے آخر عمر میں بت پرست اور گناہگار ہو گئے! قرآن کریم نے ان کی بہت تعریف کرتے ہوئے ان کی پاکیزہ ذات کو محفوظ رکھا ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد ان کے بیٹے رحبعام نے بنی اسرائیل کے ملک کے معاملات سنبھالے اور جب اس نے ظلم شروع کیا تو کچھ لوگوں نے اس کے حکم سے الگ ہو کر صرف یہودا اور بنیامین کے دو قبیلے جو نسبتاً چھوٹا علاقہ تھا اور جو یعقوب علیہ السلام کے ایک بیٹے کے نام سے "یہودا" کہلاتا تھا، ان کے لیے باقی رہا۔
یہ علاقہ جس میں شہر اورشلیم (بیت المقدس) بھی شامل تھا، بہت اہم تھا اور "یہودی" کا لفظ یہاں سے آیا ہے۔ دس دوسرے قبیلے نے شمال فلسطین میں "اسرائیل" نامی ایک آزاد حکومت یربعام بن ناباط کی قیادت میں قائم کی۔ یربعام حضرت سلیمان علیہ السلام کے ایک گورنر تھا۔
ملک کا ٹکڑے ہونا کمزوری اور بدبختی کا سبب بنا۔ یہودا اور اسرائیل کے بادشاہوں کا عموماً گناہگار ہونا اور لوگوں کو گناہ اور بت پرستی کی طرف بلانا بھی اسی کمزوری کا نتیجہ تھا۔
بابل کی اسارت
ہر حال میں بنی اسرائیل کے انبیاء کی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں [یہ بات کلامی نقطہ نظر پر مبنی ہے اور تاریخی طور پر پیشین گوئیوں کی تصدیق ثابت نہیں] اور کچھ عرصے کے بعد آشوری جنہوں نے بابل کے شمال میں موجودہ عراق اور شام میں حکومت کی اور جن کا دارالحکومت شہر نینوا تھا، نے اسرائیل پر حملہ کیا اور بہت سے لوگوں کو اسیر بنایا۔ کچھ سالوں کے بعد بابل کے بادشاہ بختنصر جنہیں عہد قدیم میں "نبوکدنصر" (یعنی بت "نبو" کا تاج نگہبان) کہتے ہیں، نے اورشلیم پر حملہ کیا اور یہودا کے لوگوں کو مارا اور کچھ لوگوں کو اسیر کر کے بابل لے گیا جہاں وہ طويل عرصے تک رہے۔
اسرائیل اور یہودا کے لوگوں کا اسیر ہونا ان کے مشرق وسطیٰ اور دوسری سرزمینوں میں بکھرنے کا سبب بنا۔ اس اسارت کی خاص اہمیت تھی؛ کیونکہ اسرائیل کے کچھ لوگوں کو بھی جو پہلے آشوریوں کے حملے میں اسیری سے چھوٹ گئے تھے، اس حملے میں یہودا کے رہنے والوں کے ساتھ بابل جلاوطن کیا گیا۔ اس واقعے کو "بابل کی جلاوطنی" کہتے ہیں۔
یہودی جلاوطنی کے دوران مشرکوں کے کچھ رسوم اور اخلاق اختیار کر لئے اور ان میں سے بہت کم لوگ وطن سے محرومی، اسیری اور اللہ کی پرستش کی مشکلات سے پریشان تھے۔ ذرا غور کریں کہ انحصار طلبی اور خود بزرگ بینی چھوٹی یہودی قوم کا جدا نہ ہونے والا اخلاق ہے اور دنیا کی دوسری قومیں ان صفات کے ردعمل میں یہودیوں سے دشمنی اور جنگ پر آئیں اور انہیں تحقیر کرنے لگیں۔ شاید یروشلیم کا پہلا ٹھیک ہونا اور بنی اسرائیل کا چھ سصد سال قبل از مسیح کے قریب بابلیوں کے ہاتھ میں گرفتار ہونا بھی اسی وجہ سے تھا۔
نبی ارمیا نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لایا کہ بنی اسرائیل کو اس دشمن کے سامنے مزاحمت نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس پیغام کو کچھ نہ سمجھا اور اس نبی کو قید کر لیا۔ شہر قدس کے گرنے کے بعد ارمیا آزاد ہوئے [31]۔
معبد کی تجدید
جب کورش (یعنی سورج) جس نے ہخامنشی سلسلہ قائم کیا بابل فتح کیا، یہودی آزاد ہو گئے اور اپنی سرزمین میں واپس جانے کی اجازت ملی۔ لیکن بہت سے لوگ بابل چھوڑنے کو تیار نہ تھے اور بابل اور اس کے ارد گرد بکھر گئے۔ کورش کی یہودیوں کی آزادی کے بارے میں اعلامیہ تقریباً 538 ق م میں جاری ہوا۔ کورش نے اس کام سے یہودیوں میں بہت مقبولیت حاصل کی۔
یہودیوں کا ایک گروہ فلسطین واپس آیا اور شہر قدس کی تعمیر نو شروع کی۔ اس دوران اس سرزمین کے پڑوسیوں کو خطرہ محسوس ہوا اور فلسطین پر ایک طاقتور یہودی حکومت کے قیام میں رکاوٹ ڈالی۔ اس کے بعد فلسطین کے مختلف علاقوں میں کمزور حکومتیں قائم ہوئیں اور کئی صدیوں کے فساد کے بعد شہر قدس دوسری بار رومیوں کے ہاتھ سے تباہ ہوا اور یہودی دنیا میں بکھر گئے۔ اس کے بعد یہودی غیر ملکی ملکوں میں سخت زندگی گزارتے تھے اور اپنے جسم و جان پر ہر قسم کی ذلت اور مذلت چکھتے تھے۔
کنیسہ کا ظہور
بابل سے واپسی کے بعد یہودی مذہبی معاشرے کو ایک نیا نظام ملا اور معابد بنائے گئے جنہیں بعد میں "کنیسہ" کہا گیا۔ یہ معابد دوسرے معبدوں کی طرح خاص عمارتی شکل رکھتے تھے اور ان میں قربان گاہ اور دوسری خاص جگہیں موجود تھیں۔ ابھی بھی یہودیوں کا معبد کنیسہ کہلاتا ہے۔ یہودیوں کا قبلہ سلیمان کا معبد (مسجد اقصی) ہے۔ صرف سامیری قبلے کو نابلس کے قریب پہاڑ جرزیم مانتے ہیں۔
وہ دن میں تین بار نماز پڑھتے ہیں: فجر کی نماز، عصر کی نماز اور مغرب کی نماز۔ اگر کنیسے میں کم از کم دس مرد ہوں تو نماز ہوتی ہے اور اس وقت ایک شخص جو عموماً دوسروں سے بڑا ہوتا ہے اور عبرانی اچھی طرح جانتا ہے، آگے کھڑا ہوتا ہے اور تورات کے کچھ حصے یا دعائیں عبرانی میں پڑھتا ہے اور کچھ معاملات میں رکوع کرتے ہیں۔
سب سے مشہور عبارت جو پڑھی جاتی ہے "شیمع" (یعنی سنو) کہلاتی ہے جو تورات سے لی گئی ہے:
(4) اے اسرائیل! سنو! یہوہ ہمارا اللہ یہوہ اکیلا ہے (5) پس اپنے اللہ یہوہ سے اپنے تمام جان اور تمام قوت سے محبت کرو [32]۔
زرتشتی عقائد اور فارسی ثقافت کا اثر
یہودی بھی دوسری قوموں کی طرح اپنے ماحول سے متاثر ہوتے تھے اور کچھ قدیم تہذیبوں سے رابطے کے بعد، چاہے یہ ارادی ہو یا لاارادی، ان کے بہت سے تصورات اور اعمال کو لے لیا، لیکن یہ ذرا کریں کہ وہ ہمیشہ اور ہر معاملے میں ان باتوں کو اپنے خاص توحیدی اخلاقیات کے رنگ میں ڈھالتے تھے۔ مثال کے طور پر نوح کا طوفان، چاہے بابلیوں سے لیا گیا ہو یا نہیں، جس طرح کتاب پیدائش میں آیا ہے اس میں ایک یکتا، مہربان اور عادل اللہ کی بات کی گئی ہے۔
یہ کہانی میخی کتب پر لکھی ہوئی تختیوں پر "پر-نبیشتیم" (napishtim-Per) کی کہانی سے اس قدر مختلف ہے جو سربرآوردہ شرک کے علاوہ خودغرض، جھگڑالو، جذباتی اور حسد کرنے والے بتوں کو بیان کرتی ہے۔ یہ فرق باقی کہانیوں اور قوانین اور اعتقادات میں بھی نظر آتا ہے جنہیں کہا جاتا ہے کہ یہودیوں نے دوسری قوموں سے لیے ہیں۔
تورات میں تقریباً قیامت کا کوئی ذکر نہیں (مگر ایک دو مبہم اشارے، مثلاً تثنیہ 8: 16)۔ تورات کے خیالات [33] کے مطابق دینداری اور بے دینی نعمتوں کو حاصل کرنے یا کھونے پر براہ راست اور یقینی اثر رکھتی ہیں۔ دوسری طرف کتاب تلمود میں قیامت کا بہت ذکر کیا گیا ہے۔
میت کے زندہ ہونے پر یقین یہودیت کے اصلی عقائد میں سے ہے جو محققین کے خیال میں غیر ملکیوں سے لیا گیا ہے۔ یہ عقیدہ مسیحا کے تصور سے جُڑا ہوا ہے اور ایسی چیز پیدا کی ہے جو "رجعت" پر یقین کی مانند ہے۔ قدیم ایرانی کہتے تھے کہ آنے والے زمانے میں، جب اہورمزدا اپنے ہمسر انگرو مئینیو پر فتح پائے گا اور اسے ہلاک کرے گا، مردے زندہ ہوں گے، لیکن اس تعلیم کا بلند اور روحانی شکل یہود کے اصیل الہام کا نتیجہ ہے اور ایرانی زمین کے جادوگروں کے سوکھ اور بے روح عقیدے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
محققین کے کہنے کے مطابق نفس کے ہمیشہ رہنے پر یقین قدیم زمانے سے بنی اسرائیل میں موجود تھا اور کتاب مقدس میں کئی مقامات پر اس کا اشارہ کیا گیا ہے، لیکن وہ عقیدہ بابل سے واپسی کے بعد قوم کے ہمیشہ رہنے اور مسیحا کے قیام کے عقیدے سے جُڑ گیا اور میت کے زندہ ہونے پر یقین پیدا ہوا۔ یہ خیال قرآن مجید سے متصادم ہے؛ کیونکہ سورہ طہ کے آغاز میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اٹھائے جانے کی کہانی سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پہلے پیغام میں میت کے زندہ ہونے پر یقین موجود تھا۔
یہودی تعطیلات
یہودی تعطیلات مندرجہ ذیل ہیں:
- ہفتے کا دن: اس دن لوگ خاندان کے ساتھ مل کر کھانا کھاتے ہیں اور اس دوران خاندان کا بڑا ایک جام شراب ہاتھ میں لیتا ہے اور دعا پڑھ کر اسے تقدیس کرتا ہے اور خاندان کے لوگ اس شراب کو پیتے ہیں۔ ہفتے کے دن کی تعطیل دس احکام میں سے ایک ہے [34] [35]۔
- ماہ کا پہلا دن: اسے عبرانی میں "روش حودش" کہتے ہیں جس کا مطلب ہے "مہینے کا آغاز"۔
- ساتواں سال یا "انفکاک" کا سال: تورات کے مطابق ہر سات سال بعد قرض معاف کرنا چاہیے اور انسانی کام جیسے یہودی غلاموں کو آزاد کرنا اور اسطرح کے دوسرے کام کرنا چاہیے [36]۔ اس سال کا عبرانی نام "شمیطا" ہے جس کا مطلب ہے "چھوڑ دینا"۔
- یوبیل کا سال: یہ تعطیل ہر پچاس سال بعد آتی ہے جس میں بہت سے انسانی اور اخلاقی کام کیے جاتے ہیں[37]۔
- فسح کا عید: لغت میں اس کا مطلب ہے "نظر پوشی کرنا" اور یہ اس لیے اس نام سے پکاری گئی کیونکہ اس عذاب کے دوران فرعونیوں پر آنے کے وقت اللہ نے بنی اسرائیل کے سربرآوردہ بیٹوں کے قتل سے نظر اچھالی" یہ عید سات دن رہتی ہے اور اس کا آغاز موسم بہار میں چودہویں نیسان کو ہوتا ہے اور اس کی رسوم تورات میں بیان ہوئی ہیں [خروج باب 12]۔ یہ سب سے اہم عید ہے اور عیسائی بھی اس کی اہمیت کی وجہ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تدفین کے ساتھ اس کے ملنے کی وجہ سے اسے عزیز رکھتے ہیں۔ دو تین صدیوں سے کبھی کبھی یہودیوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک مسیحی بچے یا بڑے کو مارا ہے اور فسح کی رسوم میں ان کے خون کا استعمال کیا ہے۔ اس بارے میں کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔
- ہفتوں کا عید: یہ عید فسح کے پچاس دن بعد اس لیے منعقد ہوتی ہے کہ سات ہفتے گزر گئے ہیں اور فصل تیار ہو گئی ہے۔ اس کا عبرانی نام "شاوو عوت" ہے یعنی "ہفتے"۔
- نئے سال کا عید: یہ عید جسے عبرانی میں "روش ہشانا" (رأس السنۃ) کہتے ہیں موسم خزاں کے اوائل میں ستمبر میں ہوتا ہے۔ اس دن دس دن کے توبے کے ایام کے لیے تیاری کی علامت کے طور پر سڑ فرونکا جاتا تھا۔ دسواں دن خاص اہمیت رکھتا تھا اور اسے "یوم کیپور" کہتے تھے۔
- یوم کیپور: یعنی "کفارے کا دن"؛ یہ اہم عید دسویں ماہ تشری کے دن واقع ہے اور اسے "عاسور" یعنی "عاشورا" کہتے ہیں۔ یہودی مغرب سے پچھلے دن کی شام سے لے کر اس دن کی رات تک، گناہوں کے کفارے کے لیے، روزہ رکھتے ہیں اور کھانے، پینے، نہانے اور کام کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور کنیسوں میں عبادت اور استغفار میں مصروف رہتے ہیں۔ اس دن بنیاد پرست یہودی خاص کپڑے پہنتے ہیں اور چمڑے کے جوتے پہننے سے گریز کرتے ہیں۔
- سائبانوں کا عید: یہ عید بیسویں ماہ تشری کے دن ہوتا ہے جس کی علامت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے زمانے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں "تیہ" (بیابان) میں خیموں میں رہنے کی یاد میں ایک ہفتے تک خیمے میں رہتے ہیں۔ اس عید کا عبرانی نام "سکوت" ہے یعنی "سائبان"۔
- افتتاح کا عید: عبرانی میں اسے "حنوکا" کہتے ہیں؛ یہ 168 ق م میں یونانی استعمار کرنے والوں پر یہودیوں کی فتح کی یاد ہے۔ اس دن سلیمان کا معبد یہودیوں نے دشمن کی گندگیوں اور تباہیوں سے پاک کیا۔ یہ عید سائبانوں کے عید کے ایک ہفتے بعد ہوتا ہے۔
- قرعے کا عید: عبرانی میں اسے "پوریم" کہتے ہیں۔ یہ دن ہامان وزیر خشایارشا کے سازش سے یہودیوں کے قتل عام کے خطرے کے ٹلنے کی مناسبت سے عید قرار دیا گیا ہے۔ اس واقعے کی تفصیل عہد قدیق میں کتاب استر میں آئی ہے۔ اس دن کا نام اس لیے ہے کہ ہامان نے اپنے فیصلے کا اعلان کرنے کے لیے بادشاہ سے قرعہ لگایا تھا۔ یہ ماہ اسفند میں ہوتا ہے۔
یہودی فرقے
سب ادیان کم عرصے کے بعد بہت سے فرقوں میں بٹ جاتی ہیں۔ سماجی مسائل اور رجحانات کی متنوعیت فرقے پیدا کرتی ہے۔ ان فرقوں میں سے کچھ طاقتور اور کچھ کمزور ہیں، اسی طرح کچھ زیادہ آبادی والے فرقے اور کچھ کم آبادی والے فرقے ہیں۔
یہودیت کے مشہور فرقے بابل سے واپسی کے بعد پیدا ہوئے ہیں اور پرانے فرقوں کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔
فریسی
فریسی کا لفظ عبرانی میں "عزلت طلب" کے معنی میں ہے۔ یہ لقب ان کے الگ ہونے اور ممتاز ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ فرقہ مسیح سے دو صدی پہلے پیدا ہوا اور آج بھی اکثریت یہودی اس سے ہیں۔
اس فرقے کی ابتدا "حسیدیم" (یعنی پارساؤں) فرقے سے ہوئی۔ حسیدیم کا فرقہ مسیح سے تین یا چار صدی پہلے یہودیوں کے درمیان بت پرستی اور انحراف کے اثرات دور کرنے کے لیے پیدا ہوا۔ انہوں نے مکابی جنگوں میں حصہ لیا اور دین کے راستے میں بہادری سے لڑے اور شہید ہوئے۔
اٹھارویں صدی میں بھی مشرقی یورپ کے یہودیوں میں "حسیدیم" نامی ایک نئی لہر پیدا ہوئی جو اس تحریک سے متاثر تھی۔
فریسی مسیح سے ایک صدی پہلے حسیدیم میں سے نکلے۔ وہ فکری طور پر صدوقیوں سے واضح تضاد اور مخالفت رکھتے تھے۔
یہ فرقہ اللہ کو جسم اور جسمانی صفات سے پاک مانتے تھے۔ اس کے علاوہ انسانی ارادے سے متعلق معاملات میں درمیانی راستہ اختیار کیا اور مردے کے زندہ ہونے اور عدلیہ کی عدالت کو مانتے تھے اور نماز جیسی عبادتوں پر زور دیتے تھے۔ فریسیوں نے یہودی معاشرے میں اچھی پوزیشن حاصل کی اور اکثریت ان کی پیروی کرنے لگی۔
فریسیوں نے عہد قدیم کے علاوہ جو "مکتوب تورات" کہلاتی تھی، "شفاہی تورات" پر بھی یقین رکھا۔ شفاہی تورات یہودی علما کے حکیمانہ اقوال ہیں جن پر ان کے خیال میں نسل در نسل حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے یہودی قوم کے لیے منتقل ہوتے رہے ہیں۔
یہ اقوال دوسری سے پانچویں صدی عیسوی کے درمیان ایک بہت بڑی کتاب "تلمود" میں جمع کیے گئے اور بنی اسرائیل کے خیال و اعتقاد کی بنیاد بن گئے۔
فریسیوں نے مختلف علمی مراکز قائم کیے اور اپنا وقت تورات کے دقیق نکتوں کا مطالعہ کرنے میں صرف کیا اور نئے نکتے دریافت کیے۔ ان کے خیال میں تورات میں ایک بھی حرف کم یا زیادہ یا بے جا یا بے معنی نہیں ہے، بلکہ ہر حرف اور کلمے میں اسرار چھپے ہوئے ہیں اور رمز دفن ہیں۔
یہودیت کے اندرونی معاملات بابل سے واپسی سے لے کر شہر قدس کے دوسرے ٹھیک ہونے تک فریسی حاخاموں اور کبھی کبھی صدوقی کے ہاتھ میں تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے سخت مخالف تھے اور ان کے صلیب پر چڑھائے جانے کے لیے کوششیں کیں۔ فریسیوں کا نام بار بار چار انجیلوں میں آیا ہے۔
صدوقیان
اس فرقے کا نام صادوق بن اخیطوب سے مربوط ہے جسے حضرت داؤد علیہ السلام نے کاہنی پر مقرر کیا تھا [38]۔ یہ عہدہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں بھی صادوق کے لیے باقی رہا [پہلی کتاب پادشاہان 2: 34]۔ بنی صادوق کے کاہنوں کو کتاب حزقیال میں تعریف اور ستائش کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ان کی امانت داری کی تعریف کی گئی ہے [39]۔
صدوقیوں نے نماز کے بجائے قربانی کو خاص اہمیت دی۔ سلیمان کے ہیکل کے بہت سے کاہن اور سنہدرین کے حاخام اسی فرقے سے تعلق رکھتے تھے۔ رومی گورنروں سے ان کے تعلقات بھی اچھے تھے۔
صدوقی خود کو ضروری سمجھتے تھے کہ پورانے طریقوں کو برقرار رکھیں اور فریسیوں کی نئی تشریح اور رائے اور ان کے رسوم و عادات کے خلاف مخالفت کرتے تھے۔ وہ اللہ کے جسمانی ہونے پر یقین رکھتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کے راستے میں جو قربانی اور تحائف دیتے ہیں وہ اسی طرح ہیں جیسے کسی بادشاہ یا انسانی حاکم کو دیا جاتا ہے۔ صدوقی نفوس کے ہمیشہ رہنے اور قیامت کو انکار کرتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اچھائی اور برائی کا بدلہ اسی دنیا میں دیا جاتا ہے اور انسانی ارادے کے بارے میں مکمل اختیار پر یقین رکھتے تھے۔
صدوقی فریسیوں کی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کے مخالف تھے اور ان کا نام بار بار چار انجیلوں میں آیا ہے۔ 70 عیسوی میں اورشلیم کے ٹھیک ہونے کے بعد اس فرقے کا کوئی اثر و نشان باقی نہ رہا۔
سامری
سامریوں کا نام سامرہ نامی علاقے سے آیا ہے جو حضرت سلیمان علیہ السلام کے بعد فلسطین کی سرزمین کے ٹکڑے ہونے کے وقت اسرائیل کے ملک کا مرکز تھا۔ یہ فرقہ بابل کی اسیری سے واپسی کے بعد پیدا ہوا اور کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کی نسل اسرائیلی نہیں ہے اور شاید یہ اسرائیلی اور آشوری کا مخلوط ہے۔
یہ بہت چھوٹا فرقہ صرف تورات کے پانچ سفر اور کتاب یوشع کو قبول کرتا ہے اور عہد قدیق کی 33 دوسری کتابوں کو رد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اس فرقے کی تورات رائج تورات سے کچھ مختلف ہے اور سامری زبان بھی عبرانی زبان سے مختلف ہے اگرچہ یہ فرق اسے عبرانی ہونے سے باہر نہیں کرتا۔
سامری پہاڑ جرزیم کی جو نابلس کے قریب ہے پاکیزگی پر یقین رکھتے ہیں اور اسے اپنا قبلہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بھی وہی قبلہ تھا، لیکن حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنی طرف سے سلیمان کے معبد (مسجد اقصی) کو قبلہ بتایا۔
یہ فرقہ مذہبی معاملات پر خاص توجہ دیتا ہے اور خاص رسومات ادا کرتا ہے۔
اسنیان
اسنی کے لفظ کی جڑ شاید "شفا دینے والے" کے معنی میں ہے، اس مفہوم سے کہ وہ اپنے نفس کی شفا کے خیال میں تھے۔ اس لفظ کے نام گزاری میں شاید دوسرا احتمال بھی ہے (جیسے تعمید دینے والے)۔
یہ گروہ مسیح سے تقریباً دو صدی پہلے وجود میں آیا اور اورشلیم کے ٹھیک ہونے کے ساتھ، وہ بھی صدوقیوں اور کچھ دوسرے فرقوں کی طرح ختم ہو گئے اور ان کا کوئی نام باقی نہ رہا، یہاں تک کہ ڈیڑھ صدی پہلے 1947ء میں، ان کی کچھ تحریری آثار عہد قدیم کی نسخوں کے ساتھ جو انہوں نے تحریر کی تھیں، فلسطین کی غاروں میں بحرالمرت کے کنارے سے ملے اور ان کے اعتقادات اور معاشرے سے متعلق کچھ ابہامات حل ہو گئے۔
اسنی افرادی ملکیت کو قبول نہیں کرتے تھے اور شادی کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتے تھے۔ وہ دن میں کئی بار غسل کرتے تھے اور اس مقصد کے لیے بڑے حوض بنائے تھے جنہیں حالیہ دریافتوں میں زمین سے نکالا گیا ہے۔
صبح فجر پر سو سے بیدار ہوتے اور عبادت کے بعد دوپہر تک کام کرتے تھے، پھر کام ترک کر دیتے اور اجتماعی طور پر دوپھر کا کھانا کھاتے تھے اور ان کا رات کا کھانا بھی اجتماعی ہوتا تھا۔
ہفتے کے دن وہ بالکل کام سے دستبردار ہو جاتے اور تورات کے مطالعہ اور غور و فکر میں مشغول ہو جاتے۔
کہا جاتا ہے کہ ان کا قبلہ سورج تھا، سلیمان کا معبد نہیں اور ظاہری طور پر وہ یہ خیال میترا پرستوں سے لیتے تھے۔
ان کا تفسیر اور تصوف کے میدان میں علم کا سطح بلند تھا اور ان کے افراد کی تعداد پہلی صدی عیسوی میں تقریباً 4000 بتائی گئی ہے جو اس معاشرے میں رکنیت کی پابندیوں کو دیکھتے ہوئے ایک بڑی تعداد لگتی ہے۔
کچھ دانشمندوں کے خیال میں اس فرقے کے افکار موجودہ مسیحیت کی بنیاد بن گئے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اس فرقے کے ارکان سب مسیحی ہو گئے ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ یحیی بن زکریا (تعمید دینے والے) بھی ان میں سے تھے۔ انجیل (اور اسلامی احادیث) کے مطابق ان کا بیابان میں گھومنا اس بات کا ثبوت ہو سکتا ہے۔
قانونیان
لفظ "قانونی" لغت میں غیور اور متعصب کے معنی میں ہے، اس گروہ پر لاگو ہوتا تھا جو شدت سے رومیوں کے فلسطین پر غلبے کی مخالف تھے۔ یہ لوگ اکثر اپنے کپڑوں کے نیچے خنجر چھپائے رکھتے تھے اور مناسب موقع پر رومیوں کے حامیوں کو ہلاک کر دیتے تھے۔
اجنبی انہیں دوسری فرقوں سے پہچانتے تھے اور ان کے خطرے کو سنجیدہ سمجھتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اپنے دیگر عقائد کے لحاظ سے فریسیوں سے کوئی خاص فرق نہیں رکھتے تھے۔
قارئین
قارئین کا لفظ عربی اور عبرانی کے "قراء" سے آیا ہے جو فریسیوں کے پیچیدہ تفسیروں کے مقابلے میں آسمانی کتب کی تلاوت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
یہ فرقہ اسلام کے ظہور کے بعد وجود میں آیا۔ یہ تلمود (شفاہی توراۃ) کی مخالفت کرتا ہے، توراۃ کے ظاہری معنی پر بضد ہے اور ہمیشہ سے فریسیوں سے جھگڑا رکھتا ہے۔ ان کا پہلا رہنما ایک یہودی ربّانی تھا جس کا نام عنان تھا۔ اس نے ابوحنیفہ سے معاشرت کی اور ان سے اسلامی فقہ کی اصطلاحات سیکھیں۔ اس نے منصور دوانیقی کے دور میں بغداد میں یہ فرقہ قائم کیا۔
پھر بنیامین نہاوندی نامی شخص نے اس مکتب کو اس زمانے کے ایران میں پھیلایا اور اس میں کچھ تبدیلیاں کیں اور عنانیہ کے نام کی جگہ اس پر قارئین (عبرانی میں قرائیم یعنی تلاوت کرنے والے) کا نام رکھا۔
پچھلی صدیوں میں اکثر قارئین دنیای اسلام میں رہتے تھے۔ اب وہ اسرائیل، روسیہ، یوکرین اور دوسرے ممالک میں ہیں۔ یوکرین کی کریمیا جزیرہ نما کا نام قرائیم فرقے کے نام سے لیا گیا ہے۔ قارئین میں سے بڑے علماء برآمد ہوئے ہیں جن کے مباحث نے یہودی الہیات میں محققین کی توجہ حاصل کی ہے۔ وہ اپنے مباحث میں حنفی فقہ کے اصول کی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔
دُونمے
دُونمے فرقے کا نام ترکی استنبولی میں "بدل جانے والے" کے معنی میں ہے اور کبھی کبھی انہیں شبّتین بھی کہتے ہیں جو ان کے بانی شبتای صبی سے منسوب ہے۔
یہ شخص 1626ء میں مغربی ترکیہ کے شہر ازمیر میں پیدا ہوا۔ یہودی الہیات اور تصوف کا مطالعہ و جائزہ لینے کے بعد اس نے آہستہ آہستہ دعویٰ کیا کہ وہ یہود کا مسیحا ہے اور ان کے نجات کے لیے آیا ہے۔ یورپ، ترکی اور مشرق وسطیٰ کے بعض یہودیوں نے اس کی دعوت قبول کی اور اس کے پاس بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔
وہ خود کو خدا کا پہلا بیٹا کہتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ 1666ء میں قیام کرے گا۔ اس نے مہلت سے پہلے اورشلیم اور قاہرہ کا سفر کیا۔ اس زمانے میں یہودی خوشی سے جشن مناتے اور نعرے لگاتے تھے: "جیتے رہو مسیحا بادشاہ" اور "جیتے رہو سلطان صبی"۔
شبتای صبی 1666ء میں اس کے بجائے کہ اورشلیم جاتا، استنبول گیا اور فوراً عثمانی بادشاہ کے حکم سے گرفتار کر لیا گیا۔ 16 ستمبر 1666ء کو اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا اور اس سے کہا گیا کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام محمد افندی رکھا اور ایک مسلمان خاتون سے شادی کی۔
اس نے اپنے بہت سے پیروکاروں کو بھی اسلام قبول کرنے کی ترغیب دی، لیکن پھر بھی بہت سے یہودی اسے مسیحا مانتے تھے۔ انہوں نے اس مسئلے کی توجیہ میں کہا کہ شبتای کا صرف ایک سایہ مسلمان ہوا ہے اور خود وہ گمشدہ دس قبیلوں بنیاسرائیل کو تلاش کرنے کے لیے آسمان پر گیا ہے اور جلد ظہور کرے گا۔ اس مذہب کے ایک کارکن نے کہا: جس طرح موسیٰ فرعون کے محل میں پرورش پائے، اسی طرح ضروری تھا کہ مسیحا عثمانی سلطان کے محل میں رہیں تاکہ وہ گمشدہ نفوس اسلام کو بھی نجات دے سکیں۔
شبتای نے اپنا مسیحا کا وصف برقرار رکھا اور اسے یہ اجازت تھی کہ وہ یہودیوں میں اسلام کی تبلیغ کے لیے ان سے رابطہ کر سکے۔ اس نے ایک ایسا فرقہ قائم کیا جس کے ارکان فوراً مسلمانوں کی طرح عمامہ سر پر باندھتے اور اسلامی رسومات کے پیروکار بن جاتے تھے اور شبتای کے بطور نجات دہندہ بنیاسرائیل کے حقیقی طور پر واپس آنے کی امید رکھتے تھے۔
اس کی موت 1676ء میں ہوئی اور اس کے بھائی نے اس کے پیروکاروں کو اپنے گرد جمع کیا۔ اس کے بعد اس فرقے کے پیروکار ظاہر میں اسلامی روایات اور باطن میں یہودی روایات پر عمل کرتے تھے۔
اب ترکیہ میں ان کے کچھ ہزار افراد موجود ہیں۔
مسیحا کے ظہور کا انتظار
مسیحا کے انتظار کی سوچ فطری طور پر یہودی ہے۔ قدیم زمانے کے اقوام موجودہ صورتحال سے مایوسی اور مستقبل کی طرف توجہ نہ کرنے کی وجہ سے اپنے ماضی پر فخر کرتے تھے اور سماجی اور قومی خوشی کی کمال کو اسی میں دیکھتے تھے۔ یونانی اور رومی شاعروں ہیزیوڈ اور اووِد نے اس کو ہنرمندی سے بیان کیا ہے۔
انہوں نے دنیا کے لیے پانچ دورے اور پانچ نسلوں کا تصور پیش کیا اور کہا: پہلے دورے کو جسے سنہری دور کہتے ہیں، انسان خوش اور درد و تکلیف سے دور ہو کر، زمین کی پیداوار کو بغیر کاشتے باہر سے حاصل کرتے تھے۔ ان کی موت بھی ایسے خواب کی طرح ہوتی تھی جس میں کوئی خواب نہیں آتا تھا اور اس دوران وہ جہان کے نگران فرشتوں کی محفل میں جا ملتے تھے۔ اس سلسلے کے دوسرے طرف آخری دورہ یعنی لوہے کا دور تھا جو سب سے زیادہ بدحال تھا اور یہ دونوں شاعر اسی دورے میں زندگی بسر کرتے تھے۔
یہودیوں نے بھی ایک متدین قوم کے طور پر اور اس اعتقاد پر کہ دنیا کو ایک اچھا اور کامل وجود نے پیدا کیا ہے، کمال کو خلقت کے آغاز میں رکھا اور کہا کہ پہلا انسان جو براہ راست خدا کے ہاتھ سے پیدا ہوا ہے، ضرور کامل اور خوش بخت ہو گا۔
اس کے باوجود، یہودی کامیابی اور فضیلت کو ماضی کے سنہری دور میں نہیں بلکہ مستقبل اور آخری دن میں تلاش کرتے ہیں۔ کتاب مقدس میں یہ عبارت یہودیوں میں رائج تھی: "اگرچہ تیرا آغاز چھوٹا ہے، تاہم تیرا آخر بہت بلند ہو جائے گا" [40]۔
پہلی بار قدس شہر کے خراب ہونے کے بعد، یہودی ہمیشہ ایک ایسے الہی فاتح رہنما کے منتظر رہے جو قوم خدا کی طاقت اور شان کو داؤد اور سلیمان کے سنہری دور واپس لائے۔
متوقع شخصیت کو "ماشیح" (مسيح شدہ) کہا جاتا تھا۔ ماشیح بنیاسرائیل کے بادشاہوں کا لقب تھا؛ کیونکہ ایک روایت کے مطابق نبی حضرات کی موجودگی میں ان کے سر پر تھوڑا سا تیل ملتے تھے اور اس طرح ان کے لیے ایک قسم کی پاکیزگی پیدا کرتے تھے۔ یہ لقب بعد کے زمانوں میں یہود کے آدرشی بادشاہ پر لاگو ہوا۔
بنیاسرائیل کے دل مسیحای موعود کے عشق سے لبریز تھے اور دوسری طرف ظالم حکمران ہمیشہ ایسے رہنمای نجات کے شکار میں رہتے تھے۔ انجیل متی کے دوسرے باب میں پڑھتے ہیں کہ فلسطین کے بادشاہ ہیرودیس اعظم نے حضرت عیسیٰ کے پیدا ہونے کے بعد انہیں مارنے کی کوشش کی، مگر چونکہ انہیں الہی حکم سے مصر لے جایا گیا تو وہ خطرہ ٹل گیا۔
فارسی لفظ "مسیحا" عبری لفظ "ماشیح" سے اس کے لاطینی تلفظ (Messiah) کو مد نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔
اشعیای نبی کی کتاب میں مسیحا کی سب سے اہم خوشخبری آئی ہے:
"(1) یسّی (داوود کے باپ) کے تنے سے ایک کلی نکلے گی اور اس کی جڑوں سے ایک شاخ پھولے گی (2) اور خداوند کا روح اس پر آئے گا، یعنی حکمت اور سمجھ کا روح اور مشورے اور طاقت کا روح اور خداوند کے ڈر کا روح اور معرفت (3) اس کی خوشی خداوند کے ڈر میں ہو گی اور وہ اپنی آنکھوں کی دیکھ بھال کے مطابق فیصلہ نہیں کرے گا اور اپنے کانوں کی سنی ہوئی بات کے مطابق سزا نہیں دے گا (4) بلکہ وہ غریبوں کو انصاف سے فیصلہ کرے گا اور زمین کے مظلوموں کے حق میں سچائی سے حکم لگائے گا۔ وہ اپنے منہ کی لاٹھی سے دنیا کو مارے گا اور اپنے ہونٹوں کے پھونک سے بدکاروں کو ہلاک کرے گا (5) اس کا کمر بند عدالت ہو گا اور اس کے پیٹ کا کمر بند سچائی (6) بھیڑیا بھیڑے کے ساتھ رہے گا اور تیندوا بکرے کے ساتھ سوئے گا اور بچھڑا اور شیر اور مویشی سب مل کر رہیں گے اور ایک چھوٹا بچہ انہیں ہانکے گا (7) بیل ریچھ کے ساتھ چرے گا اور ان کے بچے سب مل کر سوئیں گے اور شیر گائے کی طرح چارہ کھائے گا (8) اور دودھ پیتا ہوا بچہ سانپ کے بل کھائے گا اور دودھ چھوڑ دینے والا بچہ اپنا ہاتھ افعی کے گڑھے پر رکھے گا (9) اور میرے تمام پاک پہاڑ پر کوئی نقصان اور بگاڑ نہیں ہو گا؛ کیونکہ زمین خداوند کی معرفت سے بھری ہوئی ہو گی، جس طرح پانی سمندر کو ڈھانپ لیتا ہے" [41]۔
موعود کے انتظار کا جوش و خروش یہودیت اور مسیحیت کے نشیب و فراز سے بھرپور تاریخ میں لہراتا رہا ہے۔ یہودیوں نے اپنی پوری عذرا بھری تاریخ میں ہر قسم کی ذلت اور اذیت اس امید پر برداشت کی ہے کہ ایک دن مسیحا آئے گا اور انہیں ذلت اور درد و ت+کلیف کے گرداب سے نجات دے کر دنیا کا حکمران بنے گا۔
بنیاسرائیل کی پوری تاریخ میں کچھ لوگ یہود کے موعود کے طور پر ابھرے اور سادہ لوح لوگوں کو جمع کر کے ان کے مسائل میں اضافہ کیا۔ اس میں حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) ظہور پذیر ہوئے اور اپنی بلند شخصیت اور الہی روح کے ساتھ ایک بڑا دین قائم کیا اور بہت سے لوگوں کو آسمانی بادشاہت کی طرف رہنما کیا، مگر اکثر یہودیوں نے انہیں مسترد کر دیا۔
ہمارے زمانے میں بھی یہودی صہیونیست اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے ہیں اور فلسطین کو غصب کر کے یہودی قوم کی ہمیشہ کی حقارت کو ٹلانا چاہتے ہیں، مسیحا کے انتظار کا جوش و ولولہ کچھ بھی کم نہیں ہوا ہے۔ یہ سچ ہے کہ یہودیوں کی ایک چھوٹی سی تعداد نے قدیم امیدوں سے زیادہ لگاؤ کی وجہ سے صہیونی ریاست کے قیام کو مسیحا کے آدرش کے خلاف سمجھتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے، مگر یہودیت کا بڑا حصہ اسے دل و جان سے قبول کر چکا ہے اور اسے مسیحا کے دور کا راستہ بتاتا ہے۔ اب غاصب صہیونیست فلسطین کے باسی، روزانہ کی مسیحا کی دعاؤں کے علاوہ، غاصب اسرائیلی ریاست کے بانی کی سالگرہ کے اختتام پر، عبادت کے شیپور میں پھونک مارنے کے بعد، اس طرح دعا کرتے ہیں:
"خداوند ہمارے خدا کی رضامندی ہو کہ اس کی مہربانی سے ہم آزادی کے طلوع فجر کے مشاہدے کے حق دار ہوں اور مسیحا کے صور کا پھونک ہمارے کانوں کو نوازے"۔
رومیوں کی فتح اور یہودیوں کا خاتمہ
اوشیلم کے از سر نو تعمیر کے بعد یہودیوں کے وہاں بسنے سے مسائل پیدا ہوئے اور ظالم بادشاہوں اور مشرک شام کے بت پرستوں سے جدوجہد شروع ہو گئی۔ مکابیوں کی جنگیں شام کے استعمارگروں کے خلاف یہودیوں کی کامیابی پر ختم ہوئیں جنہیں اپوکریفا کی کتب میں بیان کیا گیا ہے۔
اس دوران میں عموماً بنیاسرائیل مشرکوں کے زیر فرمان تھے اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کا ظہور بھی اسی دوران میں ہوا جس کی تفصیل آئندہ بیان ہو گی۔ اسی دور میں یہودی علما کی طرف سے احکام و قوانین جاری ہوتے تھے اور استعمارگر ریاستوں کے نمائندے حکومت کرتے تھے۔ یہودی علما ایک اسمبلی جسے سنہدرین کہتے تھے میں جمع ہوتے تھے اور مذہبی امور کے بارے میں فیصلے کرتے تھے (سنہدرین کا لفظ یونانی "سیندریون" سے آیا ہے جس کے معنی اسمبلی ہیں)۔
اوشیلم کا خراب ہونا اور یہودیوں کی پریشانی
70ء میں رومی امپراطور کے بیٹے ٹائٹس نے اوشیلم کا محاصرہ کیا اور اسے تباہ کر دیا اور بے شمار لوگوں کو تلوار سے مار ڈالا۔ اس نے سنہدرین کو بھی ختم کر دیا۔
اس واقعے کے بعد یہودی ممالک مجاور یورپ اور شمالی افریقہ میں پراگندہ ہو گئے اور وقت کے ساتھ کچھ لوگ مدینہ منورہ جو یثرب کے نام سے جانا جاتا تھا گئے اور وہاں آباد ہو گئے۔ اسلامی ذرائع کے مطابق، ان یہودیوں کی مدینہ کو سکونت کے لیے چننے کی ترغیب حضرت رسول خاتم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے مبارک ظہور کا انتظار تھا۔
بعد میں، خلیفہ دوم کے دور میں، مسلمانوں نے مذاکرات کے ذریعے شہر قدس کو مسیحیوں سے حاصل کیا۔ طبری کے مطابق (15 ہجری کے واقعات میں) مسلمانوں نے قدس حاصل کرتے وقت اپنے صلح نامے میں مسیحیوں کے سامنے یہ عزم کیا کہ وہ کبھی یہودیوں کو اس شہر میں سکونت کی اجازت نہیں دیں گے [42]۔
تلمود
لفظ "تلمود" تعلیم کے معنی میں عبری کے ثلاثی فعل "لمد" (یعنی سکھانا) سے آیا ہے اور اس کا لفظ "تلمیذ" اور اس کے مشتقات سے تعلق ہے جو عربی زبان میں رباعی ہیں۔ تلمود ایک بہت بڑی کتاب کو کہتے ہیں جس میں یہودی احادیث اور احکام موجود ہیں۔
جب یہودی بابل میں جلا وطن ہوئے تو ان میں سوفریم (یعنی کاتب) نامی ایک گروہ پیدا ہوا۔ کاتب وہ لوگ تھے جو توراۃ اور مذہبی مضامین کی کتابت کا اہتمام کرتے تھے۔ سب سے اہم سوفیر عزرا (عزیر) تھے جو پانچویں صدی قبل از مسیح میں زندہ تھے اور شاید موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد سب سے بڑی یہودی شخصیت ہوں۔ عزرا نے فیصلہ کیا کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کو ترقی دے اور عهد عتیق کی کتاب کی عبارتوں سے یہودی معاشرے کی ضروریات کو پورا کرے۔ ان کی یہ کوشش یہودی شفاہی روایت کا آغاز تھی۔
عزرا کے بعد تفسیر اور مذہبی متنوں کی تعبیر کا ایک طریقہ رواج پا گیا جسے مدراش کہتے ہیں اور اس کی ایجاد انہی سے منسوب ہے۔ لفظ "مدراش" کا مطلب ہے تلاش؛ کیونکہ علماء مدراش کے ذریعے پوشیدہ معانی کی تلاش کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ زندگی کے تمام روزانہ مسائل کو توراۃ سے نکالیں۔
عظیم اسمبلی کے قیام کے بعد، یہ خیال آہستہ آہستہ رواج پا گیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد توراۃ کی تفسیر نسل در نسل اس اسمبلی کے ارکان کے ہاتھوں پہنچی ہے۔ پھر پانچ جوڑے علماء نےترتیب وار طور پر تفسیر اور نئے قوانین وضع کرنے کا کام کیا جن میں آخری دو جوڑے ہلیل اور شمعی (شمائی) کے نام سے بہت مشہور ہوئے۔
یہ دونوں تقریباً 10ء میں فوت ہوئے۔ اس دوران میں جوڑوں میں سے ایک نسی یعنی صدر اور دوسرا ابیت یعنی دین کو عدالت کا سربراہ کہا جاتا تھا۔ یہ تمام واقعات فریسیوں کے درمیان ہو رہے تھے اور صدوقیان ان کی مخالفت کرتے تھے اور صرف توراۃ کے ظاہری پر توجہ دیتے تھے۔
ہلیل اور شمعی ہر ایک نے ایک مکتب قائم کیا اور ان کے شاگردوں نے عیسوی تاریخ کے پہلے ستر سالوں میں ان کے خیالات و افکار کو پھیلایا اور آخرکار کامیابی ہلیل کو ملی۔ کہا جاتا ہے کہ ان دو رہنماؤں کے درمیان 300 سے زائد اختلافات تھے اور شمعی اپنے فہم میں ہلیل سے زیادہ سخت گیر تھا۔ ہلیل تنائیم کی سلسلة کا پہلا فرد ہے۔
اس سلسلة کا دوسرا فرد جو ہلیل اور بعد کے علماء کے درمیان ربط کا حلقہ سمجھا جاتا ہے یوحانان بن زکائی ہیں۔ جب 70ء میں ٹائٹس کی فوج اوشیلم کو تباہ کرنے میں مصروف تھی، یوحانان مسلسل یہودیوں کو امن کی دعوت دیتے رہے؛ کیونکہ وہ یہودیوں کے خاتمے سے پریشان تھے۔ یہودیوں نے ان کی بات نہیں مانی؛ اس لیے انہوں نے علمی اور مذہبی مرکز کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے اس مقصد کے لیے پہلے اپنی بیماری اور پھر اپنی موت کی افواہ پھیلائی اور ان کے پیروکاروں نے انہیں تابوت میں رکھ کردفن کے لئے شہر سے باہر نکالا۔ چونکہ وہ ایک ممتاز شخصیت تھے، ٹائٹس کے سپاہی (جو اوشیلم کے دروازوں پر نیزے سے جنازوں کی جانچ کرتے تھے) نے ان کے جسد خاکی کو چھوڑ دیا۔
یوحانان نے شہر سے باہر اپنے آپ کو فوج کے کمانڈر جنرل تک پہنچایا اور ان سے درخواست کی کہ وہ فلسطین میں یاونہ نامی چھوٹے شہر کو ان کے حوالے کر دیں۔ یہ درخواست منظور ہوئی اور انہوں نے وہاں اپنا علمی کام جاری رکھا اور اس طرح ہلیل اور دیگر گزرے ہوئے علماء کے علوم کو آنے والی نسلوں تک منتقل کیا۔
یوحانان کے بعد اسماعیل بن الیشع نامی شخص نے تلمودی تفاسیر پر کام کیا اور ان کا اہم کام یہ تھا کہ ہلیل کے سات تفسیری اصولوں کو تیرہ اصولوں تک پہنچایا۔ اسی دوران عقیبا بن یوسف نامی شخص بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس عالم کا تلمود پر بہت بڑا حق ہے۔ تلمود کا اس بنیادی ڈھانچے کو اس شکل میں دیکھتے ہیں بڑی حد تک اس کی محنت کا نتیجہ ہے۔
تاہم، تلمود کے متن کی تدوین کا اعزاز بہت سے علماء کے خیال میں یہودا ہناسی کو حاصل ہوا۔ وہ 135ء میں (عقیبا کی وفات کے تین سال بعد) پیدا ہوئے اور عقیبا اور دیگر علماء کی تفسیروں سے آگاہ ہونے کے بعد انہوں نے انہیں کتابی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ اور عقیبا اور دیگر علماء کی تفسیروں سے آگاہ ہونے کے بعد انہوں نے انہیں کتابی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ یہ عالم نے اپنی قوم میں اچھی پوزیشن حاصل کی اور پچاس سال سے زائد نسی یعنی رہنما رہے۔
یہودا ہناسی نے شفاہی توراۃ کے لیے "مشنہ" کا نام چنا جو عبرانی میں دہرانے اور مثنی کے معنی میں ہے، میقراء کے برعکس جس کے معنی پڑھنے والا اور مقروء ہے۔ تلمود کہلاتا ہے کیونکہ یہ توراۃ کا مثنی ہے، لیکن توراۃ مقراء ہے۔
مشنا کی زبان عامیانہ عبرانی ہے جو عهد قدیم کی ادبی عبرانی کے برابر نہیں ہے۔ مشنا کے چھ ابواب ہیں جنہیں سدر کہتے ہیں اور ان کا کل 63 رسائل میں 523 ابواب پر مشتمل ہے جو اس طرح ہیں:
- سدر زراعیم (بخش بیج، فصل کی فصل، مویشیوں کی پیداوار کے احکام)؛ 11 رسائل
- سدر موعد (عید کا باب، یادگار کے دنوں کے بارے میں)؛ 12 رسائل
- سدر ناشیم (عورتوں کا باب، شادی کے احکام)؛ 7 رسائل
- سدر نزیقین (نقصان کا باب، اموال اور نفوس کے نقصان کے احکام)؛ 10 رسائل
- سدر قداشیم (مقدس کا باب، یہودی مذہب کے مقدسات)؛ 11 رسائل
- سدر طھاروت (پاکیزگی کا باب، پاک اور ناپاک کے احکام)؛ 12 رسائل
مشنا کی تفسیر کو "گمارا" کہتے ہیں۔ یہ لفظ تکمیل کے معنی میں ہے اور ان تفاسیر کے مصنفین دعویٰ کرتے تھے کہ ان کی تحریریں گزرے ہوئے علماء کے باقی رہنے والے اقوال ہیں جو مشنا کی کتاب کی تکمیل کرتی ہیں۔ گمارا میں پہلے مشنا کی ایک عبارت نقل کی جاتی ہے اور پھر اس عبارت کی تفسیر، تجزیہ اور اس کے لیے شواہد پیش کیے جاتے ہیں۔
مشنا کے لیے دو قسم کی گمارا لکھی گئی ہے: ایک فلسطینی گمارا جو فلسطین کے یہودی علماء نے لکھی اور دوسری بابلی گمارا جو زیادہ وسیع اور دلچسپ ہے اور ان یہودی علماء کے ایک گروہ نے لکھی جو بابل میں رہ گئے تھے اور فلسطینی گمارا سے زیادہ مفصل ہے۔ تلمود ان دو گمارا کی بنیاد پر دو قسم کا ہے: فلسطینی تلمود اور بابلی تلمود۔
تلمود میں ہمیں دو بنیادی عناصر ملتے ہیں: ایک "ہلاچا" جس کے معنی راستہ اور طریقہ ہیں جو صحیح زندگی کے لیے دینی ہدایات ہیں اور دوسرا "اگادا" جس کے معنی روایت ہیں جو یہودی پیشواوں یا مختلف اقوام کے بزرگوں کی کہانیاں اور واقعات ہیں جو کسی موضوع کی توثیق کے لیے نقل کیے جاتے ہیں۔
تلمود کے بہت سارے مواد اسلامی کتب میں پراگندہ ہو گئے ہیں اور کچھ مسلمانوں نے انہیں بے تحاشہ قبول کر لیا ہے اور کسی نے ان کے اصل اور ماخذ کی تلاش نہیں کی۔
ان قسم کی روایات کو اسرائیلیات کہتے ہیں۔ البتہ تلمود میں سچے مواد بھی ملتے ہیں جو کچھ معاملوں میں آیات اور اسلامی احادیث سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تلمود یہودیت کے ایک معلومات کثیر دائرۃ المعارف کے طور پر اس آئین کی حفاظت کا ذمہ دار رہا ہے اور یہودی فقہ کے قوانین کا ماخذ رہا ہے۔ مسیحیوں نے حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کی توہین کی وجہ سے اس کتاب کے ساتھ ہمیشہ سے اختلاف رکھا ہے۔
چھٹی صدی عیسوی میں کلیسے کے رہنماؤں نے اس کے ساتھ اپنا اختلاف ظاہر کیا، لیکن یہ کتاب صدیوں تک کوئی مسئلہ نہیں بنی اور یہودی کمیونٹیز یہ دیکھتی تھیں کہ وہ مسیحیوں کے اس کتاب کے تعلق سے جذبات کو ابھارنے نہ دیں۔ 1239ء میں ایک یہودی جس نے مسیحیت اختیار کر لی تھی، پوپ کو اس کتاب کو جلانے پر اکسایا اور تلمود سوزی کی بنیاد رکھی۔
اس تاریخ کے بعد، تلمود کی نسخوں سے بھری ہوئی گاڑیاں شہر کے میدانوں میں لے جائی جاتی تھیں اور انہیں آگ کا کھانا کھلایا جاتا تھا یا چمڑے کے لیے جوتے بنانے والوں کے حوالے کر دی جاتی تھیں۔
اب دنیا کی کتب خانوں میں بابلی تلمود کی چند نسخہ ہاتھ سے لکھی ہوئی ملتی ہیں اور جرمنی کے شہر میونخ کی کتب خانے کی واحد نسخہ ہی مکمل ہے۔ تلمود کا پہلا اور سب سے مشہور عبرانی متن کا چھپنا اطالیہ کے شہر وینس میں ڈینیال بمبرگ کے ہاتھ سے ہوا (بابلی تلمود 1520ء میں تین سال میں اور فلسطینی تلمود 1523ء میں چار سال میں)۔ اس چھپائی میں بابلی تلمود کے 5894 صفحات ہیں جو مختلف چھپائیوں میں رکھے جاتے ہیں تاکہ اس عظیم کتاب کے حوالے کے لیے استعمال کیے جا سکیں۔
تلمود کو کچھ یورپی زبانوں میں ترجمہ اور شائع کیا گیا ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ 18 بڑے جلدوں میں لندن سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کا ایک خلاصہ فارسی زبان میں "تلمود کا خزانہ" کے نام سے 1350ء ہجری شمسی میں تہران سے شائع ہوا ہے۔
قبالا (کابالا)
عرفان (یا تصوف) ادیان میں شریعت اور عقلیت (فقہ اور فلسفہ) کے ردعمل کے طور پر سامنے آتا ہے۔ عرفان ذوق سے پیدا ہوتا ہے، اسے نہی رد کیا جا سکتا ہے نہ ثابت، اور اس کا فنون سے گہرا تعلق ہے۔
عرفان آگ کی طرح نازک ہے اور ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ ہندوستان اور مشرق بعید کی ادیان سراسر عرفانی ہیں اور ہمارے زمانے میں تھوڑی سی تبلیغ کے ساتھ امریکا اور یورپ کے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔
عرفان اور یہودی اعلیٰ علوم کو قبالا (یعنی مقبول) کہتے ہیں۔ یہودی عرفان ایک زرخیز اور پرورش پذیر مکتب ہے اور بنیاسرائیل کی روحانی زندگی پر اس کا بہت اثر رہا ہے اور ہے۔ اس باب میں آثار ملتے ہیں جن میں سب سے اہم "زوہر" (یعنی درخشاں) نامی کتاب ہے۔ اس کتاب کے اصلی مصنف کے بارے میں بہت بحث ہے۔ قبالا کے علم میں الہی عرش، اسم اعظم، آخرالزمان کے واقعات، مسیحا کا ظہور، رجعت اور قیامت کے بارے میں بہت بحث کی جاتی ہے۔ اس فن میں حروف کا علم اہم کردار ادا کرتا ہے۔
یہودیوں کی خونخواری
یہودیوں کے ہاں دو خونریزی والے رسوم ہیں جو "یہوہ" کو راضی کرتے ہیں؛ ان میں سے ایک عید نانوں کا ہے جس میں انسانی خون ملائی جاتی ہے - جس کا مطلب وہی عید فصح ہے - اور دوسرا یہودی بچوں کے ختنے کا رسم ہے جس میں خاخام یہودی ان کا خون پیتا ہے۔
یہودیوں کا خونریزی کوئی نئی بات نہیں جیسے کہ غیر قانونی فلسطینی علاقوں میں ہو رہا ہے۔ اس قوم کا درندگی اور وحشیگری کا خو، تاریخ بھر میں موجود رہا ہے۔ ماضی قریب میں یہود کی تاریخ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بنیادی طور پر اور اپنی تحریف شدہ آئین اور تعلیمات کے مطابق خونریزی اور بلکہ خونخواری پر زور دیتے ہیں۔ یہودیوں کے یہ روایات، نوزادوں کے ختنے کے فوراً بعد ختنے کی جگہ سے خون چوسنے سے لے کر یہوہ کے لیے انسانوں کی قربانی کرنے اور قربانی کے خون کو ایک قسم کی مٹھائی میں استعمال کرنے تک، شامل ہیں۔
یہودی اپنی دو مقدس عیدوں میں انسانوں کی قربانی کرکے اور انسانی خون میں ملے ہوئے کھانے کے سوا خوش نہیں ہوتے۔ پہلی عید کا نام "پوریم" ہے جو ہر سال مارچ میں منائی جاتی ہے اور دوسری عید کا نام عید فصح ہے جو ہر سال اپریل میں ہوتی ہے۔
عید پوریم کی قربانیاں عموماً نوجوانوں میں سے منتخب کی جاتی ہیں۔ قتل کے بعد ان کا خون لیا جاتا ہے پھر اسے خشک کرکے ذرات کی شکل میں تبدیل کیا جاتا ہے تاکہ اسے فطیرہ کے آٹے (عید کے دن کے کھانے) میں ملائیں اور اگر کچھ بچ جائے تو اگلے سال کی عید کے لیے رکھ لیا جاتا ہے۔ لیکن عید فصح کی قربانیاں عموماً دس سال سے کم عمر کے بچوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ قربانی کے خون کو خشک کرکے فطیرہ کے آٹے میں ملاتے ہیں اگرچہ خون خشک ہونے سے پہلے بھی یہ کام ہو سکتا ہے۔
قربانی کا خون بہا کر اسے لینے اور استعمال کرنے کے مختلف طریقے ہیں۔ ان میں سے ایک طریقہ سوئی والی بیڑی کا استعمال ہے۔ (قربانی کے جسم کے برابر سائز کی بیڑی جس کے چاروں طرف تیز دھار والی سوئیاں لگی ہوں) قربانی کے مارے جانے کے بعد سوئیاں شخص کے جسم میں چبھو جاتی ہیں اور اس کے ذریعے قربانی کا خون بہہ نکلتا ہے اس وقت یہودی اپنے خوش ہونے کا اظہار کرتے ہوئے اس خون کو خاص ظروف میں جمع کرتے ہیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ قربانی کو بھیڑ کی طرح ذبح کرتے ہیں اور اس کا خون برتن میں ڈالتے ہیں اور اسے صاف کرتے ہیں۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ قربانی کی رگوں کو کئی جگہوں سے کاٹتے ہیں تاکہ خون وہاں سے ابلے۔ پھر اس خون کو برتن میں جمع کرکے اس خاخام کے حوالے کیا جاتا ہے جو انسانی خون میں ملے ہوئے مقدس فطیرہ تیار کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، تاکہ یہود کے دیوتا "یہوہ، جو انسانی خون کے بہانے پر پیاسا ہے!!" کو اپنا خوش کریں۔
شادی کے دن مرد اور عورت شام کے بعد ہر چیز کھانے سے پرہیز کرتے ہیں یہاں تک کہ خاخام انہیں ایک برتن میں جو خاکستر میں دفن ہوتا ہے اور جس میں وہ انسانی خون ڈالتے ہیں، اس میں ڈوبی ہوئی ایک ابلا ہوا انڈا دیتا ہے۔ ختنے کی رسم میں بھی خاخام اپنی انگلیوں کو ایسے برتن میں ڈالتا ہے جو خون میں ملے ہوئے مشروب سے بھرا ہوا ہوتا ہے؛ پھر اپنی انگلیوں کو بچے کے منہ میں ڈالتا ہے اور بچے سے یوں کہتا ہے: "تیرا جینا تیرے خون سے ہے...."
تلمود یہودیوں کو یہ حکم دیتا ہے: "نیک غیر اسرائیلی افراد کو مار ڈالو۔" اسی طرح یہ بھی کہتا ہے: "جیسے مچھلی کا پیٹ چاک کرنا جائز ہے اسی طرح انسان کا پیٹ پھاڑنا بھی کوئی حرج نہیں اگرچہ یہ کام "عظیم روزے" والے شنیوار کے دن کے ساتھ بھی ہو جائے۔" پھر اس جرم کے لیے انعام بھی مقرر کرتا ہے اور یوں کہتا ہے: "جو بھی غیر یہودی کو مارے اس کا صله یہ ہے کہ وہ ابدی جنت میں رہے گا اور چوتھی درجے میں سکونت پذیر ہو گا..."[43]
یورپ میں یہودیت
یہودی اسلامی علاقوں میں اچھی زندگی بسر کرتے تھے اور ان میں سے کچھ نے بلند سماجی عہدوں حاصل کیں۔ اس کے برعکس یورپی ممالک میں رہنے والے یہودیوں کو گتو (Ghetto) کے نام سے خاص مقامات پر ذلتوں کے ساتھ زندگی بسر کرنی پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ ایسا بہت ہوتا تھا کہ مسیحی انہیں زور سے اپنے مذہب میں داخل کراتے تھے۔
یہ قسم کے لوگ ظاہری طور پر مسیحی ہو جاتے تھے لیکن باطن میں یہودی ہی رہتے تھے اور ایسے لوگوں کو "مارانوس" (Marranos) کہتے تھے جو عربی میں "مرانوس" ہے اور فارسی یہودیوں کی اصطلاح میں انوس کہلاتے ہیں۔ اندلس کے یہودیوں نے اس علاقے میں مسلمانوں کے حکومت کے دوران اچھی زندگی بسر کی۔
جب 1492ء میں اندلس مکمل طور پر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا، یہودیوں کو بھی اس سرزمین سے جلا وطن کیا گیا۔ وہ شمالی افریقہ کے اسلامی ممالک کی طرف گئے، لیکن ان میں سے صرف تھوڑے سے لوگ اس ہولناک صورتحال سے ڈاکوؤں اور طمع کرنے والے کپتانوں کے پنجوں سے بچ کر محفوظ ساحل پر پہنچے اور اسلام کے پیار بھرے آغوش میں پناہ لی۔ مسلمانوں کا اچھا طرز عمل اور غیروں کے ساتھ انسانی سلوک یہودی اور مسیحی مؤرخین کے نزدیک مشہور ہے۔
جدید دور میں یہودیت
یورپ کے یہودی اسلامی ممالک میں اچھی زندگی بسر کرتے تھے اور ان میں سے کچھ نے بلند سماجی عہدوں حاصل کیں۔ اس کے برعکس یورپی ممالک میں رہنے والے یہودیوں کو گتو (Ghetto) کے نام سے خاص مقامات پر ذلتوں کے ساتھ زندگی بسر کرنی پڑتی تھی۔ اس کے علاوہ ایسا بہت ہوتا تھا کہ مسیحی انہیں زور سے اپنے مذہب میں داخل کراتے تھے۔
یہ قسم کے لوگ ظاہری طور پر مسیحی ہو جاتے تھے لیکن باطن میں یہودی ہی رہتے تھے اور ایسے لوگوں کو "مارانوس" (Marranos) کہتے تھے جو فارسی یہودیوں کی اصطلاح میں "انوس" کہلاتے ہیں۔ اندلس کے یہودیوں نے اس علاقے میں مسلمانوں کے دور میں اچھی زندگی بسر کی۔
1492ء میں جب اندلس مکمل طور پر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا، یہودیوں کو بھی اس سرزمین سے جلا وطن کیا گیا۔ وہ شمالی افریقہ کے اسلامی ممالک کی طرف گئے، لیکن ان میں سے صرف تھوڑے سے لوگ اس ہولناک صورتحال سے ڈاکوؤں اور طمع کرنے والے کپتانوں کے پنجوں سے بچ کر محفوظ ساحل پر پہنچے اور اسلام کے پیار بھرے آغوش میں پناہ لی۔ مسلمانوں کا اچھا طرز عمل اور غیروں کے ساتھ انسانی سلوک یہودی اور مسیحی مؤرخین کے نزدیک مشہور ہے۔
جدید دور میں یہودیت
یورپ کے یہودی ان تمام دباؤ کی وجہ سے جو ان پر پڑا، مسیحیوں اور دوسری قوموں کے درمیان نہیں رہ سکتے تھے اورپی درپی جلاوطنیاں انہیں ہر بار زیادہ آزاد وطن کے قیام کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی تھیں۔
یہودیوں کے لیے ایک آزاد ملک قائم کرنے کا خیال ایک طویل پس منظر رکھتا ہے اس کے باوجود غیر یہودی قوموں کے درمیان رہنا اقتصادی طور پر زیادہ تر یہودیوں کے لیے بہتر تھا اور اسی لیے اسرائیل کی ریاست کے قیام کے بعد یہودی وہاں جانے کے لیے تیار نہیں تھے؛ اس لیے، انہیں ہجرت کی ترغیب دینے کے لیے یورپ، ایشیا اور افریقہ کے تمام یہودی بستیوں میں تنظیمیں قائم کی گئیں۔ اسرائیل کے پروپیگنڈے کے ادارے بھی یہودیوں کو خوش حالی کا خواب دکھاتے تھے۔ ایک گروہ یہودی ہجرت کے بعد اپنے پرانے وطن واپس آ گئے اور دوسری قوموں کے درمیان اپنے پرانے پروگرام جاری رکھے۔
صہیونیزم کا ظہور اور اسرائیل ریاست کا قیام
یہودیت میں تبلیغ نہیں ہوتی کیونکہ یہودی اپنے مذہب کو الہی نعمت سمجھتے ہیں جو صرف بنیاسرائیل کی نسل کے لیے ہے۔ اس کے باوجود جب کوئی یہودی بننا چاہے تو اسے اس قوم کی ذلتوں سے آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ اگر وہ اس میدان کا مرد نہیں ہے تو اس میں قدم نہ رکھے [44]۔ یہودیت کا زور سے لاگو کرنا کم ہی ہوا ہے (مثلاً اخدود والوں کے ذریعے جن کا سورہ بروج میں ذکر آیا ہے)۔ یہودی عموماً لوگوں کو صہیونیزم کی دعوت دیتے ہیں۔
انیسویں صدی کے اخیر میں روس کے یہودیوں کی ایک بڑی تعداد نکال دی گئی۔ ان میں سے کچھ مغربی یورپ میں آباد ہو گئے اور کچھ فلسطین گئے اور بحیرہ روم کے قریب ایک جگہ پر آباد ہوئے اور اسے "صہیون" کا نام دیا۔ فلسطین داؤد اور سلیمان (علیہ السلام) کے دور میں بنیاسرائل کی شکوفائی کے زمانے میں فوجی مرکز تھا۔ یہ نام ہمیشہ اس قوم کی طاقت کا ذکر کراتا رہا ہے اور متاخرنبیوں کی کتب میں اس کا بہت ذکر آیا ہے۔
اسی زمانے میں یورپ اور روس کے یہودیوں نے انتظار کی روایت کو نظرانداز کرتے ہوئے آزادی اور عزت حاصل کرنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے اور صہیونیزم کی بنیاد رکھی اور اسے خطرناک سمجھتے ہوئے مسلمانوں کو مہاجرین کے ساتھ تعاون سے محتاط کیا۔ (المنار تفسیر میں سورہ نساء کی آیت 45 کے تحت اس قسم کی انتباہات کی ایک مثال آئی ہے)۔ مسلمانوں کو اس المناک المیہ کی گہرائی کا علم اس وقت ہوا جب راستہ بند ہو چکا تھا۔
انگلستان اور امریکا کی قیادت میں عالمی استکبار نے مکمل تعاون سے سرپرستی کی۔ صہیونیستوں نے ان حمایتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کی کمزوری اور ذلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پوزیشن مستحکم کی اور ایسی صورتحال پیدا کی جو اب ہم تلخی سے دیکھ رہے ہیں۔
صہیونی ریاست کے قیام سے ڈیڑھ صدی گزر چکی ہے، فلسطین کے غاصبوں نے کوئی جنایت نہیں چھوڑی اور مختلف طریقوں سے اپنے ظالمانہ غلبے کو وسعت دینے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بین الاقوامی فورموں کے قراردادوں اور بیانات کو کچھ نہیں سمجھا۔ وہ لوگ بھی جو صہیونیستوں کی پر امنی کو مان گئے تھے، تھوڑے ہی عرصے میں ان کے جھوٹ اور بے ایمانی سے آگاہ ہو گئے۔
حواله جات
- ↑ آل عمران: 67
- ↑ انعام: 74
- ↑ بقره: 133
- ↑ بقره: 127
- ↑ ابراهیم: 39
- ↑ صافات: 10
- ↑ پیدایش 32: 24-32
- ↑ رک. : هوشع 12:3-4
- ↑ خروج 12: 40
- ↑ یہ معاملہ سورہ یوسف کی آیت 100 میں آیا ہے
- ↑ خروج 6: 14-20
- ↑ [عبرانی میں "موشه" کا مطلب ہے: پانی سے نکالا گیا]
- ↑ [دفن کرنے والا معلوم نہیں اور بعض کہتے ہیں کہ مقصود اللہ ہے]
- ↑ [تثنیہ 34: 5 - 12]
- ↑ [طہ: 11 - 16]
- ↑ [اسراء: 101]
- ↑ [اعراف: 130 اور 133]
- ↑ [اہل کتاب کے نزدیک وہ دریا جس سے بنی اسرائیل گزرے بحر احمر تھا جو مصر کی سرحد پر واقع تھا۔ بعض مسلمانوں نے اس دریا کو دریائے نیل بتایا ہے]
- ↑ [شعراء: 52]
- ↑ [اعراف: 145]
- ↑ [طہ: 90]
- ↑ [کتاب اول پادشاہان 16: 24]
- ↑ [پیدائش 46: 13 اور 26: 24]
- ↑ [البلاغی، محمد جواد، الہدیٰ الی دین المصطفیٰ، صیدا: مطبعہ العرفان، 1331 ہجری، ج 1، صص 98 - 99]
- ↑ [اعراف: 154]
- ↑ [اسپینوزا، بینڈیکٹ ڈی، اے تھیولوجیکو - پولیٹیکل ٹریٹیس، باب 8]
- ↑ [ابوالبختری وہب بن وہب جس نے بنی عباس کے زمانے کے آغاز میں احادیث بنانے کا کام کیا، اپنی ایک جھوٹی حدیث میں "یاہو" کو اللہ کا اسم اعظم بتایا اور یہ صوفیوں کو پسند آیا اور انہوں نے اسے پھیلایا۔ عربی کے دستور زبان کے مطابق "یاہو" کا مرکب بالکل غلط ہے اور یہ "یہوہ" سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہو اور یاہو قدیم مشرق وسطیٰ کے کچھ بتوں کے نام تھے]
- ↑ [مگر پیدائش 5: 24 میں اخنوخ کے نام سے]
- ↑ [پہلی کتاب سموئیل، باب 9 کے بعد]
- ↑ [بقرہ: 247]
- ↑ [ارمیا 39: 14]
- ↑ [تثنیہ 6: 4-5]
- ↑ [لاویان باب 26 اور تثنیہ باب 28]
- ↑ [خروج 20: 8-11]
- ↑ [ہفتے کو عبرانی میں "شبات" کہتے ہیں اور اس کی جڑ "آرام کرنا" اور "کام سے ہاتھ کھینچنا" کے معنی میں ہے، جیسے عربی میں "سبت" کا لفظ، فارسی لفظ "شنبہ" شبات سے لیا گیا ہے]
- ↑ [تثنیہ 15]
- ↑ [لاویان باب 25]
- ↑ دوسری کتاب سموئیل 8: 17 اور 15: 24
- ↑ حزقیال 44: 15
- ↑ (ایوب 8:7)
- ↑ (اشعیا 11:1-9)
- ↑ (الطبری، محمد بن جریر، تاریخ الرسل و الملوک، لیڈن، 1964، ج 1، ص 2405)
- ↑ چه قومی "خونخواران تاریخ بشریت" لقب گرفتهاند؟
- ↑ (دیکھیں: تلمود کا خزانہ، ص 84)