مندرجات کا رخ کریں

"سید مجتبی خامنه‌ای" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
« {{جعبه اطلاعات شخصیت | عنوان = سید مجتبی خامنه‌ای | تصویر = سید مجتبی خامنه‌ای.jpg | نام = سید مجتبی خامنه‌ای | نام‌های دیگر = {{فهرست جعبه افقی| آیت‌الله حاج سیدمجتبی خامنه‌ای|سید مجتبی حسینی خامنه‌ای }} | سال تولد = 1348 ش | تاریخ تولد = | محل...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(2 صارفین 20 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{Infobox person
| title =  سید مجتبی خامنه‌ای
| image = سید مجتبی خامنه‌ای.jpg
| name =  سید مجتبی خامنه‌ای
| other names =  آیت‌الله حاج سیدمجتبی خامنه‌ایسید مجتبی حسینی خامنه‌ای
| brith year  = 1970 ء
| brith date =
| birth place = ایران مشهد
| death year =
| death dat
| death place = 
| teachers = احمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی، سید علی خامنه‌ای، شیخ جواد تبریزی،  شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی، شیخ محمد مؤمن قمی
| students =
| religion = [[اسلام]]
| faith = [[شیعہ]]
| works = علمی مقالات فقه اور اصول کے موضوع پر
| known for =  جمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر، حوزه کے عالی سطح کے مدرس اور استاد خارج فقه و اصول
}}




{{جعبه اطلاعات شخصیت 
'''سید مجتبی خامنه‌ای'''، [[ایران|جمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر ہیں جو عظیم مرجع اور رہبر [[سید علی خامنہ ای|آیت‌الله العظمی امام سید علی خامنه‌ای]] کی شهادت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔ آیت‌الله خامنه‌ای حوزه علمیه کے اعلیٰ دروس کے استاد اور فقه و اصول کے درس خارج کے صاحبِ کرسی ہیں۔ حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریاں، خصوصاً فقه، اصول فقه اور رجال میں، اور اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی سے استفادہ اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تولیدات، نیز درس فقہ کے آغاز میں [[قرآن |قرآن کریم]] کی آیات کی مختصر تفسیر، ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔
| عنوان = سید مجتبی خامنه‌ای 
| تصویر = سید مجتبی خامنه‌ای.jpg 
| نام = سید مجتبی خامنه‌ای 
| نام‌های دیگر = {{فهرست جعبه افقی| آیت‌الله حاج سیدمجتبی خامنه‌ای|سید مجتبی حسینی خامنه‌ای }} 
| سال تولد = 1348 ش 
| تاریخ تولد = 
| محل تولد = {{فهرست جعبه افقی| [[ایران]]| مشهد}} 
| سال درگذشت = 
| تاریخ درگذشت = 
| محل درگذشت = {{فهرست جعبه افقی| }} 
| استادان = {{فهرست جعبه افقی| احمدی میانه‌جی| رضا استادی| اوسطی| [[سید علی حسینی خامنه‌ای|آیت‌الله العظمی خامنه‌ای]]| شیخ جواد تبریزی [[حسین وحید خراسانی|شیخ حسین وحید خراسانی]]| [[سید موسی شبیری زنجانی]]| آقا مجتبی تهرانی| شیخ محمد مؤمن قمی}} 
| شاگردان = 
| دین = [[اسلام]] 
| مذهب = [[شیعه]] 
| آثار = {{فهرست جعبه افقی| فقہ| اصول }} 
| فعالیت‌ها = {{فهرست جعبه افقی| [[ایران|جمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر| درس خارج فقہ و اصول کے استاد| رسائل و مکاسب کی خصوصی تدریس}} 
| وبگاه = 
}}
 
'''سید مجتبی خامنه‌ای'''، [[ایران|جمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر ہیں جو [[شهادت]] کے بعد عظیم مرجع اور رہبر [[سید علی حسینی خامنه‌ای|آیت‌الله العظمی امام سید علی خامنه‌ای]] کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔ آیت‌الله خامنه‌ای [[حوزه علمیه]] کے اعلیٰ دروس کے استاد اور [[فقه]] و [[اصول فقه|اصول]] کے درس خارج کے صاحبِ کرسی ہیں۔ حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریاں، خصوصاً [[فقه]]، [[اصول فقه|اصول]] اور [[رجال]] میں، اور اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی سے استفادہ اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تولیدات، نیز درس فقہ کے آغاز میں [[قرآن|قرآن کریم]] کی آیات کی مختصر [[تفسیر]]، ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔


== سوانح حیات ==
== سوانح حیات ==
سید مجتبی خامنه‌ای، شہید رہبر اور مرجع [[سید علی حسینی خامنه‌ای|آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای]] کے دوسرے فرزند ہیں۔ وہ سنہ 1348 ش میں [[مشهد|مشہد مقدس]] میں پیدا ہوئے۔
سید مجتبی خامنه‌ای، شہید رہبر اور مرجع [[سید علی خامنہ ای|آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای]] کے دوسرے فرزند ہیں۔ وہ سنہ 1348 ش میں مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔


== تعلیم ==
== تعلیم ==
انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مدرسہ علوی میں مکمل کی اور [[حوزه علمیه]] کی ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهرانی میں شروع کیے۔ سنہ 1368 ش میں تکمیلِ حوزوی تعلیم کے لیے [[قم]] گئے اور 1371 ش کے اوائل تک وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد پانچ سال کے لیے [[تهران]] واپس آئے اور وہیں اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ سنہ 1376 ش میں انہوں نے شہیدہ بانو زہرا حدادعادل سے ازدواج کیا اور اسی سال مزید علمی و معنوی استفادہ کے لیے دوبارہ قم ہجرت کی۔
انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مدرسہ علوی میں مکمل کی اور حوزه علمیه کی ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهرانی میں شروع کیے۔ سنہ 1368 ش میں تکمیلِ حوزوی تعلیم کے لیے [[قم]] گئے اور 1371 ش کے اوائل تک وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد پانچ سال کے لیے تهران واپس آئے اور وہیں اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ سنہ 1376 ش میں انہوں نے شہیدہ بانو زہرا حدادعادل سے ازدواج کیا اور اسی سال مزید علمی و معنوی استفادہ کے لیے دوبارہ [[قم]] ہجرت کی۔


== محاذ پر حاضری ==
== محاذ پر حاضری ==
آیت‌الله خامنه‌ای نے [[جنگ ایران و عراق|دفاع مقدس]] کے دوران لشکر حضرت محمد رسول‌الله (صلی‌الله علیه وآله) کے گردان حبیب کے مجاہدین کے ساتھ محاذِ جہاد میں شرکت کی۔
آیت‌الله خامنه‌ای نے [[ایران اور عراق کی آٹھ ساله جنگ(مقدس دفاع)|مقدس دفاع]] کے دوران لشکر [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|حضرت محمد رسول‌الله]] (صلی‌الله علیه وآله) کے گردان حبیب کے مجاہدین کے ساتھ محاذِ جہاد میں شرکت کی۔


== اساتذہ ==
== اساتذہ ==
آیت‌الله خامنه‌ای نے سطوحِ عالی کے دروس حضرات آیات احمدی میانه‌جی، رضا استادی، اوسطی اور دیگر ممتاز اساتذہ [[حوزه علمیه قم]] سے حاصل کیے۔ درس خارج فقہ و اصول اپنے شہید والد [[سید علی حسینی خامنه‌ای|آیت‌الله العظمی خامنه‌ای]] کے علاوہ حضرات آیات عظام شیخ جواد تبریزی، [[حسین وحید خراسانی|شیخ حسین وحید خراسانی]]، [[سید موسی شبیری زنجانی]]، آقا مجتبی تهرانی اور شیخ محمد مؤمن قمی سے پڑھے۔   
آیت‌الله خامنه‌ای نے سطوحِ عالی کے دروس حضرات آیات احمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی اور دیگر ممتاز اساتذہ [[حوزہ علمیہ قم|حوزه علمیه قم]] سے حاصل کیے۔ درس خارج فقہ و اصول اپنے شہید والد [[سید علی خامنہ ای|شهید آیت‌الله العظمی خامنه‌ای]] کے علاوہ حضرات آیات عظام شیخ جواد تبریزی، [[حسین وحید خراسانی|شیخ حسین وحید خراسانی]]، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی اور شیخ محمد مؤمن قمی سے پڑھے۔   
وہ سترہ برس سے زیادہ عرصہ تک مسلسل درس خارج فقہ و اصول میں شرکت کرتے رہے۔ عربی زبان میں علمی تقریرات کی پیشکش اور درس کے علاوہ علمی مباحث میں اشکال، نقد اور گفتگو کے ذریعے اساتذہ سے علمی پیگیری نے بعض بزرگ علماء کی خصوصی توجہ ان کی جانب مبذول کرائی۔
وہ سترہ برس سے زیادہ عرصہ تک مسلسل درس خارج فقہ و اصول میں شرکت کرتے رہے۔ عربی زبان میں علمی تقریرات کی پیشکش اور درس کے علاوہ علمی مباحث میں اشکال، نقد اور گفتگو کے ذریعے اساتذہ سے علمی پیگیری نے بعض بزرگ علماء کی خصوصی توجہ ان کی جانب مبذول کرائی۔


== علمی نبوغ ==
== علمی نبوغ ==
ان کی فطری استعداد اور ذہانت، مسلسل کوشش، محنت، دقت اور علمی آزادی کے ساتھ مل کر حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریوں کا سبب بنی، خصوصاً [[فقه]]، [[اصول فقه|اصول]] اور [[رجال]] میں۔ اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تحقیق ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔   
ان کی فطری استعداد اور ذہانت، مسلسل کوشش، محنت، دقت اور علمی آزادی کے ساتھ مل کر حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریوں کا سبب بنی، خصوصاً فقه، اصول اور رجال میں۔ اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تحقیق ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔   


حکم شرعی کی حقیقت و ماہیت، حکم کے مراتب، احکام کے ملاکات، تعددِ حکم، قیود کی رجوعیت، حدیثی معارف کی منتقلی کا طریقہ اور فقہی کتب کے ارتقائی مراحل جیسے بنیادی مباحث میں ان کی ابتکارات نے ایک جامع علمی مکتب کی تشکیل میں مدد دی۔ اس علم کے اکابر فقہاء و اصولیین کے مکاتب، [[مرتضی انصاری|شیخ اعظم انصاری]] سے لے کر [[سید روح‌الله موسوی خمینی|امام خمینی]] تک، پر ان کی گہری دسترس نے اس مکتب کو مزید غنا بخشا ہے۔ ائمہ اطہارؑ کے اصحاب کے آثار اور قدیم [[مذهب شیعه|امامیہ]] علماء کی آراء، خصوصاً “ارتکاز عصر معصومؑ” کے مسئلے اور اس کے استنباطی عمل میں کردار پر خصوصی توجہ ان کے علمی منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے۔
حکم شرعی کی حقیقت و ماہیت، حکم کے مراتب، احکام کے ملاکات، تعددِ حکم، قیود کی رجوعیت، حدیثی معارف کی منتقلی کا طریقہ اور فقہی کتب کے ارتقائی مراحل جیسے بنیادی مباحث میں ان کی ابتکارات نے ایک جامع علمی مکتب کی تشکیل میں مدد دی۔ اس علم کے اکابر فقہاء و اصولیین کے مکاتب، شیخ اعظم انصاری سے لے کر [[سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینی]] تک، پر ان کی گہری دسترس نے اس مکتب کو مزید غنا بخشا ہے۔ ائمہ اطہارؑ کے اصحاب کے آثار اور قدیم [[شیعہ|شیعه]] علماء کی آراء، خصوصاً “ارتکاز عصر معصومؑ” کے مسئلے اور اس کے استنباطی عمل میں کردار پر خصوصی توجہ ان کے علمی منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے۔


== حوزہ میں تدریس ==
== حوزہ میں تدریس ==
آیت‌الله خامنه‌ای نے تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلسل تدریس بھی جاری رکھی۔ انہوں نے حوزہ کے ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهران میں پڑھانا شروع کیے اور سنہ 1374 ش سے کتاب معالم کی تدریس کی۔ بعد ازاں [[سید علی حسینی خامنه‌ای|آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای]] کی طرف سے حوزہ میں تحول کی ضرورت اور [[سید محمدباقر صدر|شهید صدر]] کی کتب کی اہمیت کے بارے میں تاکید کے بعد انہوں نے معالم کی تدریس ترک کرکے حلقاتِ شہید صدر کی تدریس شروع کی۔   
آیت‌الله خامنه‌ای نے تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلسل تدریس بھی جاری رکھی۔ انہوں نے حوزہ کے ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهران میں پڑھانا شروع کیے اور سنہ 1374 ش سے کتاب معالم کی تدریس کی۔ بعد ازاں [[سید علی خامنہ ای|آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای]] کی طرف سے حوزہ میں تحول کی ضرورت اور [[سید محمد باقر صدر|شهید صدر]] کی کتب کی اہمیت کے بارے میں تاکید کے بعد انہوں نے معالم کی تدریس ترک کرکے حلقاتِ شہید صدر کی تدریس شروع کی۔   


سنہ 1376 ش میں قم ہجرت کے بعد انہوں نے حلقات کی تدریس اپنے ایک ہم بحث کے سپرد کر دی۔ سنہ 1377 ش میں قم میں بیت شریف امام خمینی میں رسائل اور مکاسب کی خصوصی تدریس کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد نماز، تسبیحاتِ اربعہ، سجود اور رکوع کے موضوعات پر خصوصی درس خارج کا انعقاد کیا جس میں ان کے سابق شاگرد شریک ہوتے تھے۔   
سنہ 1376 ش میں قم ہجرت کے بعد انہوں نے حلقات کی تدریس اپنے ایک ہم بحث کے سپرد کر دی۔ سنہ 1377 ش میں قم میں بیت شریف امام خمینی میں رسائل اور مکاسب کی خصوصی تدریس کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد نماز، تسبیحاتِ اربعہ، سجود اور رکوع کے موضوعات پر خصوصی درس خارج کا انعقاد کیا جس میں ان کے سابق شاگرد شریک ہوتے تھے۔   


سنہ 1383 ش میں دوبارہ حلقات کی تدریس شروع کی اور 1384 ش اور 1385 ش میں قم کے ایک مدرسہ میں سطوح عالی (مکاسب) پڑھائے۔ سنہ 1386 ش میں ان کا درس [[مدرسه فیضیه]] منتقل ہوا اور سنہ 1387 ش میں [[قم]] میں آیت‌الله العظمی خامنه‌ای کے دفتر میں نماز پر خصوصی درس خارج منعقد ہوا۔ تعلیمی سال 1388 ش کے آغاز سے عمومی درس خارج فقہ اور 1389 ش سے رسمی طور پر درس خارج اصول شروع ہوا جو مبحث استصحاب کے آغاز تک جاری رہا۔
سنہ 1383 ش میں دوبارہ حلقات کی تدریس شروع کی اور 1384 ش اور 1385 ش میں قم کے ایک مدرسہ میں سطوح عالی (مکاسب) پڑھائے۔ سنہ 1386 ش میں ان کا درس مدرسه فیضیه منتقل ہوا اور سنہ 1387 ش میں [[قم]] میں آیت‌الله العظمی خامنه‌ای کے دفتر میں نماز پر خصوصی درس خارج منعقد ہوا۔ تعلیمی سال 1388 ش کے آغاز سے عمومی درس خارج فقہ اور 1389 ش سے رسمی طور پر درس خارج اصول شروع ہوا جو مبحث استصحاب کے آغاز تک جاری رہا۔


== طریقۂ تدریس ==
== طریقۂ تدریس ==
وہ تدریس سے پہلے بحث کے مراحل اور اپنے علمی نظریات کو تحریری شکل دیتے اور تدریس کے بعد فقہی و اصولی مباحث کو خود مرتب کرتے تھے جن کی بعض جلدیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ان کے دروس کی تقریرات شاگردوں کی طرف سے اشاعت کے لیے تیار تھیں، مگر ان کی ذاتی عدم رغبت کے باعث ابھی تک عام طور پر شائع نہیں ہوئیں اور صرف بعض خاص علماء کے پاس موجود ہیں۔   
وہ تدریس سے پہلے بحث کے مراحل اور اپنے علمی نظریات کو تحریری شکل دیتے اور تدریس کے بعد فقہی و اصولی مباحث کو خود مرتب کرتے تھے جن کی بعض جلدیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ان کے دروس کی تقریرات شاگردوں کی طرف سے اشاعت کے لیے تیار تھیں، مگر ان کی ذاتی عدم رغبت کے باعث ابھی تک عام طور پر شائع نہیں ہوئیں اور صرف بعض خاص علماء کے پاس موجود ہیں۔   


علمائے سلف کے انداز پر درس کے وقت کا ایک حصہ شاگردوں کے ساتھ دوستانہ علمی نشستوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ ان کی ایک اہم ابتکار یہ تھی کہ درس فقہ کے آغاز میں [[قرآن|قرآن کریم]] کی آیات کی مختصر [[تفسیر]] بیان کرتے تھے جس میں گہرے اور جدید تفسیری نکات شامل ہوتے تھے۔ شاگردوں کے اشکالات پر خصوصی توجہ، حتیٰ کہ درس کے بعد طویل گفتگو کے ذریعے، اور شاگردوں کو علمی طور پر فروعات پیش کرنے کی ترغیب دینا، تنقیدی صلاحیت اور استنباط کی مشق کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرتا تھا<ref>[https://web.eitaa.com/#@aboturaby آیت‌الله حاج سید مجتبی خامنه‌ای، کانال دکتر شیخ مجتبی ابوترابی در بستر ایتا].</ref>۔
علمائے سلف کے انداز پر درس کے وقت کا ایک حصہ شاگردوں کے ساتھ دوستانہ علمی نشستوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ ان کی ایک اہم ابتکار یہ تھی کہ درس فقہ کے آغاز میں [[قرآن|قرآن کریم]] کی آیات کی مختصر تفسیر بیان کرتے تھے جس میں گہرے اور جدید تفسیری نکات شامل ہوتے تھے۔ شاگردوں کے اشکالات پر خصوصی توجہ، حتیٰ کہ درس کے بعد طویل گفتگو کے ذریعے، اور شاگردوں کو علمی طور پر فروعات پیش کرنے کی ترغیب دینا، تنقیدی صلاحیت اور استنباط کی مشق کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرتا تھا<ref>[https://web.eitaa.com/#@aboturaby آیت‌الله حاج سید مجتبی خامنه‌ای، کانال دکتر شیخ مجتبی ابوترابی در بستر ایتا].</ref>۔


== جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر ==
== جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر ==
[[پرونده:صالح بعد صالح.jpg|بی‌قاب|چپ|]]
[[فائل: صالح بعد صالح.jpg|تصغیر|بائیں|]]


[[مجلس خبرگان رهبری]] کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه الله) کو [[نظام جمهوری اسلامی ایران|نظام مقدس جمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا گیا۔
مجلس خبرگان رهبری کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه الله) کو نظام جمهوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا گیا۔


بسم الله الرحمن الرحیم
بسم الله الرحمن الرحیم
ملتِ شریف اور آزادہ [[ایران]] اسلامی؛ خدا کا سلام اور درود آپ پر ہو۔   
ملتِ شریف اور آزادہ [[ایران]] اسلامی؛ خدا کا سلام اور درود آپ پر ہو۔   
مجلس خبرگان رهبری عظیم قائد [[سید علی حسینی خامنه‌ای|حضرت آیت‌الله العظمی امام خامنه‌ای]] (قدس‌الله نفسه الزکیه) کی شہادت اور دیگر گرانقدر شہداء خصوصاً مسلح افواج کے بلند مقام کمانڈروں اور میناب شہر کے مدرسہ شجره طیبه کے طلباء کی شہادت پر تعزیت پیش کرتی ہے اور مجرمانہ [[ایالات متحده آمریکا|امریکہ]] اور [[رژیم صهیونیستی|صہیونی رژیم]] کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔   
مجلس خبرگان رهبری عظیم قائد [[سید علی خامنہ ای|حضرت آیت‌الله العظمی امام خامنه‌ای]] (قدس‌الله نفسه الزکیه) کی شہادت اور دیگر گرانقدر شہداء خصوصاً مسلح افواج کے بلند مقام کمانڈروں اور میناب شہر کے مدرسہ شجره طیبه کے طلباء کی شہادت پر تعزیت پیش کرتی ہے اور مجرمانہ [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] اور رژیم صهیونیستی کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔   


یہ مجلس اعلان کرتی ہے کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کی خبر کے فوراً بعد، جنگی حالات اور دشمن کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود، اور مجلس خبرگان کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں بعض کارکنوں کی شہادت کے باوجود، اسلامی نظام کے نئے رہبر کے انتخاب کے عمل میں کوئی توقف نہیں کیا گیا۔ آئین کے تقاضوں کے مطابق فوری ہنگامی اجلاس کی تیاری کی گئی تاکہ ملک کو قیادت کے خلاء کا سامنا نہ ہو۔   
یہ مجلس اعلان کرتی ہے کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کی خبر کے فوراً بعد، جنگی حالات اور دشمن کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود، اور مجلس خبرگان کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں بعض کارکنوں کی شہادت کے باوجود، اسلامی نظام کے نئے رہبر کے انتخاب کے عمل میں کوئی توقف نہیں کیا گیا۔ آئین کے تقاضوں کے مطابق فوری ہنگامی اجلاس کی تیاری کی گئی تاکہ ملک کو قیادت کے خلاء کا سامنا نہ ہو۔   


مجلس خبرگان رهبری [[ولایت فقیه]] کے بلند مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انقلاب کے دونوں رہبروں کی 47 سالہ حکیمانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ آئین کی دفعہ 108 کے مطابق مکمل تحقیق و بررسی کے بعد آج کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه‌الله) کو قاطع اکثریت کے ساتھ [[نظام جمهوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔   
مجلس خبرگان رهبری ولایت فقیه کے بلند مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انقلاب کے دونوں رہبروں کی 47 سالہ حکیمانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ آئین کی دفعہ 108 کے مطابق مکمل تحقیق و بررسی کے بعد آج کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه‌الله) کو قاطع اکثریت کے ساتھ نظام [[ ایران|جمهوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔   


آخر میں مجلس خبرگان ملتِ ایران خصوصاً حوزہ اور یونیورسٹی کے اہلِ علم کو قیادت کے ساتھ بیعت اور ولایت کے محور پر اتحاد برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے<ref>[https://majlesekhobregan.ir/fa/cont/5118/%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%B3%D8%B7-%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DA%AF%D8%A7%D9%86-%D8 رهبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رهبری تعیین و معرفی شد، پایگاه اطلاع رسانی مجلس خبرگان رهبری].</ref>۔
آخر میں مجلس خبرگان ملتِ ایران خصوصاً حوزہ اور یونیورسٹی کے اہلِ علم کو قیادت کے ساتھ بیعت اور ولایت کے محور پر اتحاد برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے<ref>[https://majlesekhobregan.ir/fa/cont/5118/%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%B3%D8%B7-%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DA%AF%D8%A7%D9%86-%D8 رهبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رهبری تعیین و معرفی شد، پایگاه اطلاع رسانی مجلس خبرگان رهبری].</ref>۔


والسلام علیکم و رحمه‌الله و برکاته   
والسلام علیکم و رحمه‌الله و برکاته   
[[مجلس خبرگان رهبری]] 
مجلس خبرگان رهبری  
1404/12/17
1404/12/17


== ردّ عمل ==
== ردّ عمل ==
=== سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ===
=== سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ===
بسم الله الرحمن الرحیم   
بسم الله الرحمن الرحیم   
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم. سوره =نساء آیه =59
ملتِ مؤمن ایران اسلامی؛ 
مجلس خبرگان رهبری کی جانب سےامام زمان (عجل‌الله تعالی فرجه الشریف) کے نائب عام اور ولایت فقیه|ولی فقیہ کے طور پر [[سید علی خامنہ ای|آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای]] کے انتخاب پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں نعمتِ ولایت عطا کی۔ 
ہم جامع الشرائط فقیه، جوان مفکر اور سیاسی و سماجی مسائل کے ماہر حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے انتخاب پر تبریک پیش کرتے ہوئے اپنے احترام، ارادت اور اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ انتخاب انقلاب اسلامی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ 
[[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاه پاسداران]] انقلاب اسلامی ولایت کا سپاہی ہونے کے ناطے مجلس خبرگان کے اس انتخاب کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ولی فقیہ زمان حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے احکامات کی اطاعت اور انقلاب اسلامی کی اقدار کے دفاع کے لیے آمادہ ہے۔ 
[[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاه پاسداران انقلاب اسلامی]]
18 اسفند 1404
== معلم اور مزدور ثقافتی و معاشی جنگ میں ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، رہبر معظم انقلاب ==
رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے حوالے سے کہا ہے کہ معلم اور مزدور ایران کی ثقافتی اور معاشی جدوجہد کے سب سے مضبوط ستون ہیں، ان کی قدر دانی صرف زبانی نہیں بلکہ عملی ہونی چاہیے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر ملک کی ترقی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے؛ علم اور عمل۔
انہوں نے کہا کہ علم کی بنیاد رکھنے میں معلم کا کردار سب سے نمایاں ہے کیونکہ وہ صرف تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ نئی نسل کی تربیت، سوچ کی تشکیل اور شناخت کی تعمیر میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
آج کے طلباء مستقبل میں اپنے اساتذہ کے اخلاق، انداز گفتگو اور رویّے کو عملی زندگی میں ظاہر کریں گے۔
انہوں نے مزدور اور محنت کش طبقے کے بارے میں کہا کہ ملک میں کام کا میدان بہت وسیع ہے جو گھروں، دفاتر، بازاروں، کھیتوں، کارخانوں، ورکشاپس، کانوں اور مختلف خدماتی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔
اگر یہ میدان محنت اور ذمہ داری کے جذبے سے بھر جائے تو قومی ترقی یقینی طور پر مضبوط ہوگی۔
پیغام میں مزید کہا گیا کہ بعض اوقات ایک مزدور اپنی محنت اور دیانت کے ذریعے اتنا بلند مقام حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے ہاتھ کو بھی استاد کی طرح احترام کے ساتھ چومنے کے قابل سمجھا جانا چاہیے۔
یہ تربیت انسان کو سب سے پہلے والدین اور پھر استاد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے 47 سال کی جدوجہد کے بعد دشمنوں کے مقابلے میں اپنی عسکری طاقت دنیا پر ثابت کر دی ہے،
اب ضروری ہے کہ ایران اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی دشمن کو مایوس اور شکست سے دوچار کرے۔
رہبر انقلاب نے کہا کہ ثقافتی جنگ میں سب سے مؤثر کردار معلم کا ہے اور اقتصادی جنگ میں مزدور طبقہ سب سے اہم عناصر میں شامل ہے، اسی لیے یہ دونوں ملک کی ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
اساتذہ اور مزدوروں کو اپنے مقام کو صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
رہبرِ انقلاب نے سالانہ رسمی تقریبات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف زبانی تعریف کافی نہیں، بلکہ ان طبقات کی عملی مدد ضروری ہے۔ جس طرح عوام اپنے دفاعی اداروں کی حمایت کے لیے میدان میں نکلتے ہیں، اسی طرح انہیں چاہیے کہ معلموں اور مزدوروں کے ساتھ بھی مضبوط تعاون کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے اپیل کی کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے انتظام میں والدین اور خاندانوں کا کردار بڑھایا جائے اور ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر مزدور طبقے کی حمایت کی جائے۔
رہبر انقلاب نے کاروباری افراد کو بھی تاکید کی کہ وہ مشکل حالات میں ملازمین کو نکالنے سے حتی المقدور پرہیز کریں اور ہر مزدور کو ادارے کا اثاثہ سمجھیں۔ حکومت کو بھی ایسے خیر خواہانہ اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔
رہبر انقلاب نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنی اسلامی و ایرانی شناخت کو مضبوط کرکے، نئی نسل کی تربیت اور ملکی پیداوار کی حمایت کے ذریعے ترقی اور بلندی کی منزلوں کی طرف مزید تیزی سے بڑھے گا<ref>[https://ur.mehrnews.com/news/1939088/%D9%85%D8%B9%D9%84%D9%85-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B2%D8%AF%D9%88%D8%B1-%D8%AB%D9%82%D8%A7%D9%81%D8%AA%DB%8C-%D9%88-%D9%85%D8%B9%D8%A7%D8%B4%DB%8C-%D8%AC%D9%86%DA%AF-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%D9%84%DA%A9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%DA%91%DA%BE-%DA%A9%DB%8C-%DB%81%DA%88%DB%8C-%DB%81%DB%8C%DA%BA معلم اور مزدور ثقافتی و معاشی جنگ میں ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، رہبر معظم انقلاب]- شائع شدہ از: 1 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 2 مئی 2026ء</ref>۔


'''{{متن قرآن|يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ|سوره =نساء|آیه =59}}'''
== فردوسی کی رزمیہ داستانیں ایرانی قوم کی بہادری کی جیتی جاگتی تصویر ہیں ==


ملتِ مؤمن ایران اسلامی؛ 
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ فردوسی کی رزمیہ داستانیں دراصل ایرانی قوم کی حقیقی اور بہادرانہ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔
[[مجلس خبرگان رهبری]] کی جانب سے [[حجت بن الحسن (مهدی)|امام زمان (عجل‌الله تعالی فرجه الشریف)]] کے نائب عام اور [[ولایت فقیه|ولی فقیہ]] کے طور پر آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے انتخاب پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں نعمتِ ولایت عطا کی۔   
 
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے حکیم ابوالقاسم فردوسی کی یاد اور فارسی زبان کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ فارسی زبان اور ادب، ایرانی اسلامی تہذیب اور ثقافت کو دنیا بھر میں فروغ دینے کی عظیم صلاحیت رکھتے ہیں۔
 
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے تیسری مقدس دفاعی جنگ میں بھی گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح ثابت کر دیا کہ فردوسی کی رزمیہ داستانیں دراصل ان کی حقیقی زندگی اور بہادرانہ شخصیت کی عکاس ہیں۔
 
رہبر انقلاب نے مزید کہا کہ شاہنامہ کے انسان ساز، شجاعانہ اور قرآنی تصورات نے ایران کی تمام قومیتوں اور طبقات کو اپنی شناخت، اصالت اور استقلال کے دفاع اور جارح ضحاک صفت دشمنوں کے خلاف متحد رکھا۔
 
انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ عظیم قربانی، مزاحمت اور کامیابی اہل ثقافت، ادب اور فن پر ایک بڑی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ فردوسی کی طرح اٹھ کھڑے ہوں اور عوامی بیداری کے تسلسل میں فنکاروں کی ذمہ داری ادا کریں۔
 
رہبر معظم انقلاب نے زور دیا کہ اہل قلم اور فنکار فکر، قلم، زبان اور فن کو یکجا کر کے ایرانی قوم کی عظیم جدوجہد اور بیداری کی داستان کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ بنائیں۔
 
انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ شیطان صفت طاقتوں اور عالمی جارحیت کے خلاف ایرانی قوم کی غیرت مندانہ مزاحمت اور شاندار کامیابی نے عوام کو تہذیبی استقلال کے تحفظ اور امریکی ثقافتی، لسانی اور طرز زندگی کی یلغار کے مقابلے کے لیے مزید تیار کر دیا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ثقافتی میدان میں سرگرم افراد کی جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے لسانی اور فکری دفاع کو مضبوط بنایا جائے اور بچوں، نوجوانوں اور نئی نسل کی تربیت و ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ قوم حتمی کامیابی تک زیادہ استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکے<ref>[https://ur.mehrnews.com/news/1939300/%D9%81%D8%B1%D8%AF%D9%88%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%B1%D8%B2%D9%85%DB%8C%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86%DB%8C%DA%BA-%D8%A7%DB%8C%D8%B1%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D9%82%D9%88%D9%85-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%DB%81%D8%A7%D8%AF%D8%B1%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%AC%DB%8C%D8%AA%DB%8C-%D8%AC%D8%A7%DA%AF%D8%AA%DB%8C-%D8%AA%D8%B5%D9%88%DB%8C%D8%B1 فردوسی کی رزمیہ داستانیں ایرانی قوم کی بہادری کی جیتی جاگتی تصویر ہیں، رہبر انقلاب]- شائع شدہ از: 16 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 16 مئی 2026ء</ref>۔
== احساس ذمہ داری اور عوام دوستی» شہید آیت اللہ رئیسی کی نمایاں خصوصیت تھی ==
[[فائل:رئیسی و مجتبی.jpg|تصغیر|بائیں|]]
[[سید ابراہیم رئیسی|شہید رئیسی]] اور شہدائے خدمت کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام:
رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔
 
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
 
اردیبہشت (مئی) کی فلائٹ کے شہداء اور ان میں سرفہرست شہید صدر جمہوریہ حجت الاسلام والمسلمین رئیسی کی یاد منانا، اسلامی جمہوریہ ایران میں خدمت گزار شہداء کے عظیم کارواں کی شہادت کی یاد تازہ کرتا ہے؛
 
[[مرتضی مطهری|مطہری]]، بہشتی، [[محمد علی رجائی|رجائی]] اور باہنر سے لے کر رئیسی، آل ہاشم، امیر عبداللہیان اور [[علی لاریجانی|لاریجانی]] تک، [[سید روح اللہ موسوی خمینی|عظیم امام خمینی]] اور عزیز خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہما کے مکتب کے سیکڑوں نمایاں اور تربیت یافتہ افراد، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں کی مخلصانہ اور مجاہدانہ خدمت کے دفتر کو اپنے خون آلود دستخط سے مزین کیا۔
 
شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات میں فرض شناسی، جوانوں کو آگے لانا، عدل و انصاف پر توجہ، فعال اور نفع بخش سفارت کاری اور خصوصاً ان کے عوامی ہونے کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ خصوصیات طاقتور مزاحمتی محاذ کے مجاہدوں اور نظام کے بہت سے خیر خواہوں سمیت ایران کے دوستوں کا حوصلہ بڑھنے کا سبب بنتی تھیں۔
 
البتہ یہ سب کچھ اس روحانیت کے ساتھ جڑا ہوا تھا جس کی جڑیں ان کے دل و جان کی گہرائیوں میں پیوست تھیں۔ عہدیداروں اور عوام کے درمیان تعلق میں، مؤثر مثبت خصوصیات، باہمی قدردانی کا سبب بنتی ہیں۔
 
یہی وجہ ہے کہ ان کے مولا اور آقا [[علی بن موسی|حضرت ابی الحسن الرضا صلوات اللہ و سلامہ علیہ]] کے جوار تک ان کا آخری سفر عدیم المثال شان و شوکت کے ساتھ انجام پایا۔
 
اس شہید کے ادھورے رہ جانے والے عہد صدارت نے قوم اور ملک کی خود مختاری کو محفوظ رکھتے ہوئے، اس کے لیے کوشش اور دلسوزی کا ایک معیار فراہم کیا۔
 
آج ہم دو عالمی دہشت گرد افواج کے مقابلے میں ایرانی قوم کی عظیم اور تاریخ کی بے نظیر شجاعت کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ چیز اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں؛ اعلیٰ قیادت اور انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں سے لے کر تمام سطحوں کے سربراہوں تک کی ذمہ داری کو پہلے سے زیادہ سنگین بنا دیتی ہے۔
 
آج قوم، حکومت اور اسلامی جمہوریہ کے تمام اداروں کے مابین اتحاد کی نعمت کا شکر، عہدیداروں کے خدمت کے جذبے کی تقویت اور ان کی دگنی اور مجاہدانہ خدمت، عوام کے مسائل اور پریشانیوں خصوصاً اقتصادی اور معاشی میدان میں ان کی مشکلات کو دور کرنا، میدان میں براہ راست موجودگی اور ملک کی پیشرفت اور روشن مستقبل کی جانب امید افزا حرکت کی راہ میں میدان میں موجود عوام کے سنجیدہ کردار کی تعریف پیش کرنا ہے۔
 
راہ خدمت کے شہداء پر خداوند کی رحمت ہو اور ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا ایران کے مسلمان عوام کے خدمت گزاروں کی پشت پناہ ہو۔
 
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
 
20 مئی 2026<ref>[https://ur.hawzahnews.com/news/416954/%D8%A7%D8%AD%D8%B3%D8%A7%D8%B3-%D8%B0%D9%85%DB%81-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%B9%D9%88%D8%A7%D9%85-%D8%AF%D9%88%D8%B3%D8%AA%DB%8C-%D8%B4%DB%81%DB%8C%D8%AF-%D8%A2%DB%8C%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%84%DB%81-%D8%B1%D8%A6%DB%8C%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%86%D9%85%D8%A7%DB%8C%D8%A7%DA%BA «احساس ذمہ داری اور عوام دوستی» شہید آیت اللہ رئیسی کی نمایاں خصوصیت تھی]- شائع شدہ از: 20 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 20مئی 2026ء</ref>۔
 
== عید غدیر اور امام خمینی کی برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام ==
[[فائل:سید م.jpg|تصغیر|بائیں|]]
امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای نے ملت کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا: آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
 
آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای نے ملت کے اندر موجود آمادگی، صلاحیت اور انقلابی روح کو دریافت کرکے اسے زندہ کیا، جس کے نتیجے میں امت نے خود اعتمادی، بیداری اور مزاحمت کے نئے دور میں قدم رکھا۔
 
حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے جمعرات 4 جون 2026 کو عید غدیر خم اور امام خمینی کی سینتیسویں برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انھوں نے موجودہ حالات، ایرانی عوام کی بعثت، عہدیداروں کی ذمہ داری اور [[محور مزاحمت|مزاحمتی محاذ]] کے بارے میں اہم نکات بیان کیے ہیں۔ پیغام حسب ذیل ہے:
 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
 
اَلْحَمْد للّٰہ الَّذی جَعَلَ کَمَالَ دینہ وَ تَمَامَ نعْمَتہ بولَایَۃ اَمیْرالْمؤْمنیْنَ عَلی بْن اَبی طَالبٍ علیہ السلام
 
میں عید سعید غدیر کی مبارک باد ایران اور پوری دنیا کے تمام مسلمانوں اور امت مسلمہ کے پدر گرامی، [[علی ابن ابی طالب|امیرالمؤمنین علی علیہ السلام]] کے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی روح مطہر پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔
 
اس سال یہ سینتیسویں 14 خرداد (4 جون) ہے جو امام خمینی کے فراق کو گزر رہی ہے اور یہ پہلی 14 خرداد ہے جب امت کے مہربان باپ، مکتب امام خمینی کے مرید اور وفادار و ممتاز ساتھی، انقلاب اسلامی کے عظیم رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ ضیافت الٰہی کے مہمان بنے ہیں
=== رہبر شیہد کے خطاب اور تحریریں ہم سب کے لیے ایک گراں قدر اور بے مثال خزانہ اور مستقبل کی راہ کا چراغ ہیں ===
اور امام خمینی کے مزار اقدس میں ان کی مضبوط آواز اور حکمت و بصیرت سے بھرپور کلام کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ کے بانی کے دس سالہ اور عظیم الشان رہبر شہید کے چھتیس سالہ بیان، خطاب اور تحریریں ہم سب کے لیے ایک گراں قدر اور بے مثال خزانہ اور مستقبل کی راہ کا چراغ ہیں۔
 
سب سے پہلے تو یہ کہ آج عید غدیر اور عید اللہ الاکبر ہے، اللہ کی جانب سے لیے گئے عہد و میثاق کا وہ دن جب خداوند عالم نے اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا انتظام چلانے کا معاملہ طے کر دیا اور حضرات معصومین علیہم السلام کی مسلسل ولایت و [[امامت]] کے ذریعے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا۔
=== تمام مسلمانوں و مومنین کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ اور مکمل اسوہ ===
عید غدیر اس ہستی کی یاد دلاتی ہے جس نے [[کعبہ|کعبے]] میں ولادت سے لے کر شہادت کی سعادت پانے تک اپنی پوری زندگی خدا کے لیے اور خدا کی راہ میں گزاری۔ اسی بنا پر [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کے بعد امیر المومنین اپنی زندگي کے تمام ادوار میں
 
اور تمام [[مسلمان|مسلمانوں]] و مومنین کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ اور مکمل اسوہ ہیں اور مناسب اور لازمی ہے کہ کم سن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک، اور عام لوگوں سے لے کر اہل فکر و دانش اور رہنماؤں تک، سب ان کی پیروی کریں، جس طرح انقلاب کے دونوں اماموں کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی اسی عظیم ہستی کی پیروی رہا ہے۔
 
دوسرے یہ کہ آج امام امت رحمۃ اللہ علیہ کی برسی ہے اور اس مشہور لیکن کم پہچانی گئی شخصیت کے بارے میں غور و فکر اور گفتگو کا ایک قیمتی موقع بھی ہے۔ ایسی پرکشش شخصیت کہ جس کی نورانی راہ اور ہدف کی گہری شناخت و معرفت، اسلامی مملکت ایران کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے
 
لیکن قوم کے بہت سے نوجوان افراد کو ان کی براہ راست زیارت اور شناخت کی توفیق حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسے بہت سے لوگ بھی، جنھوں نے ان کی زندگی کا زمانہ دیکھا، ان کی شخصیت کی گہرائی اور ان کی راہ و روش تک کم ہی پہنچ سکے۔
 
قَالَ اللہ تَعَالٰی: قلْ انَّمَا اَعظكمْ بوَاحدَۃٍ اَنْ تَقوموا للّٰہ مَثْنٰی وَ فرَادٰی <ref>سورۂ سبا، آیۂ 46</ref>۔  خداوند متعال اس آیت شریفہ میں رسول اعظم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ امت سے کہہ دیجیے: میں تمھیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، یہ کہ تم اللہ کے لیے دو دو کر کے یا ایک ایک کر کے اٹھ کھڑے ہو۔
=== اللہ کے لیے قیام، مکتب امام خمینی کی بنیاد ===
یہ آیت اس پہلے پیغام اور ان قدیم ترین دستاویزات میں سے ایک کا آغاز ہے جس میں ہمارے عہد کے اس بے مثال بندۂ صالح، انقلاب کے عظیم رہبر اور اسلامی جمہوریہ کے بانی نے ایرانی قوم کو اللہ کے لیے قیام کی دعوت دی تھی۔
 
جی ہاں، اللہ کے لیے قیام، مکتب امام خمینی کی بنیاد ہے اور ان کی ہستی کی اہم ترین برکتوں میں سے ایک یہی ہے کہ انھوں نے اسی اصول کی بنیاد پر معاشرے کی ہدایت و تربیت کی اور اس پر گہرا اثر ڈالا۔
 
یہی الہی تحریک، اللہ کی برکتوں اور عنایتوں کے نزول کا سرچشمہ بنی اور اسی کے ذریعے حق کی راہ کی طرف معاشرے کی راہنمائی کی خداوند عالم کی سنت جاری ہوئی کہ وَالَّذیْنَ جَاھَدوْا فیْنَا لَنَھْدیَنَّھمْ سبلَنَا (اور جو لوگ ہمارے لیے جہاد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں <ref>سورۂ عنکبوت، آيۂ 69</ref>۔  کیا ایسا نہیں ہے
 
کہ ایرانی قوم کی سب سے بڑی عوامی تحریکیں اور بعثتیں خمینئ کبیر اور رہبر عظیم الشان شہید خامنہ‌ای کے دور میں، براہ راست یا بالواسطہ انھی کی ہدایات کے نتیجے میں وجود میں آئیں؟ کون سی عظیم طاقت 15 خرداد 1342 ہجری شمسی (5 جون 1963) کو سامراج و استعمار کے سحر میں گرفتار اور غفلت زدہ قوم کو ایسی حالت سے بیدار کر سکتی تھی؟
 
جب گھٹن، جبر اور مغرب پر مکمل انحصار مسلط تھا؟ کون سی طاقت تھی جو 12 بہمن 1357 ہجری شمسی (1 فروری 1979) کو امام خمینی کے استقبال اور 14 خرداد 1368 ہجری (4 جون 1989) کو امام امت کی آخری رخصت کے لیے دسیوں لاکھ انسانوں کو سڑکوں پر لے آتی؟
 
اور حالیہ حیرت انگیز نمونے میں، وہ کون سی مضبوط طاقت اور فولادی ارادہ تھا جس نے 28 فروری 2026 کی سحر سے ایرانی قوم کو اس طرح مبعوث کر دیا اور میدان میں لے آئی کہ تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنے شہید رہبر
 
اور دیگر شہداء کے خون کے انتقام کا مطالبہ کرنے، اسلامی نظام اور اپنے عزیز وطن کے دفاع کے لیے پوری گرم جوشی اور شدت کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور کروڑوں جاں نثاروں کی صفوں کو رہبر شہید کے اہداف و مقاصد کو پورا کرنے اور حق کے قیام اور اللہ کے لیے قیام کے لیے مستحکم کیے ہوئے ہے؟
 
جی ہاں، یہی امام خمینی اور عظیم الشان شہید خامنہ‌ای تھے جنھوں نے ایرانی قوم کے اندر موجود اس استعداد اور آمادگی کو دریافت کیا، اسے فعال کیا اور ہمیشہ اسے خاص اہمیت دی۔
=== وہ طاقتور ہاتھ جس نے ملت کے عظیم سمندر میں تلاطم پیدا کر دیا ===
امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے، جو بلاشبہ اپنے بے مثال تقوی اور پرہیزگاری کے باعث قلم سے نکلنے والے ہر لفظ پر پوری توجہ رکھتے تھے، اپنی وصیت میں ایک عظیم دعویٰ کرتے ہوئے لکھا تھا:
 
"میں پورے یقین کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ آج کے دور میں ملت ایران اور اس کے کروڑوں افراد، رسول خدا کے زمانے کے حجاز کے لوگوں اور امیرالمؤمنین و [[حسین بن علی|امام حسین علیہما السلام]] کے دور کے کوفہ و عراق کے لوگوں سے بہتر ہیں۔"
 
آج پوری ایرانی قوم کو فخر ہے کہ مزاحمتی محاذ کے شانہ بہ شانہ اپنی نئی بعثت کے ذریعے، وہ دنیا کی آزاد قوموں اور بیدار نگاہوں کے لیے باعث افتخار بنی ہوئی ہے اور اس نے امام خمینی کی وصیت کے اس جملے کی سچائی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
 
رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ کے بقول، وہ طاقتور ہاتھ جس نے ملت کے عظیم سمندر میں تلاطم پیدا کر دیا، عظیم امام خمینی کی فولادی شخصیت، مطمئن دل اور ذوالفقار جیسی زبان تھی، جس نے دسیوں لاکھ انسانوں کو میدان میں اتارا، انھیں میدان میں قائم رکھا اور انھیں آگے بڑھنے کی سمت سمجھائی۔
 
اور یقینی طور پر اسی طرح کے اثر کا ایک اور نمونہ خود عزیز خامنہ‌ای سے متعلق تھا، جنھوں نے اپنے سلف صالح کے راستے پر قدم رکھا اور تقریباً چار عشروں تک انقلاب اور اسلامی نظام کی قیادت کے دوران نوجوانوں پر اعتماد، عوامی شعور کی گہرائی اور فکری سطح کی بلندی کے ذریعے معاشرے کو ایسی آمادگی تک پہنچایا کہ ان کی شہادت کے عظیم واقعے کے بعد ایرانی قوم کی بعثت کا ایک نیا نصاب سامنے آیا۔
=== وہ ہمیشہ مکتب امام کے اصولوں، پالیسیوں اور فکری خطوط کی وضاحت اور تشریح کرتے رہے ===
جی ہاں، عزیز خامنہ‌ای کا مکتب درحقیقت وہی امام خمینی کا مکتب ہے جو خالص محمدی اسلام کا ہی تسلسل ہے اور جس کا بنیادی ڈھانچہ اللہ کے لیے قیام ہے۔ اس مکتب کے شاگرد صف بہ صف حق کے قیام، باطل کے خاتمے اور اس نورانی راہ میں مجاہدت کے لیے تیار ہیں۔
 
امام خمینی رحمت اللہ علیہ ایران، اسلامی امت اور پوری دنیا کی سطح پر ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی لانے والے تھے جسے رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ نے مزید گہرائی، وسعت اور تسلسل عطا کیا، اور اس کی تکمیل و عملی جامہ پہننے کے لیے نظام سازی اور معاشرہ سازی کی۔  
 
اسی سلسلے میں انھوں نے اپنے قول، قلم اور عمل کے ذریعے اور مختلف ملاقاتوں میں مکتب امام خمینی کو زندہ رکھا اور 4 جون کو ایرانی قوم اور امام خمینی کے درمیان سالانہ تجدید عہد کے موقع میں بدل دیا۔
 
وہ ہمیشہ مکتب امام کے اصولوں، پالیسیوں اور فکری خطوط کی وضاحت اور تشریح کرتے رہے۔ ان تعلیمات میں سے ایک، جو شاید بار بار دوہرائی جاتی تھیں، یہ تھا کہ ایرانی قوم، ایک باایمان، ذہین اور بہادر قوم ہے اور یہ کہ عوام ہی ملک کے حقیقی مالک اور اس کی طاقت کا سرچشمہ ہیں،
 
اور یہ کہ یہ قوم اگر کسی صحیح تبدیلی کا ارادہ کر لے تو اسے عملی جامہ پہنا سکتی ہیں اور "ہم کر سکتے ہیں" کے نعرے کو مختلف میدانوں میں حقیقت بنا سکتی ہیں۔ انھی تعلیمات میں، ایک اسلامی، انسانی اور ایرانی فریضے کی حیثیت سے مظلوم کی حمایت ہے۔
 
نیز یہ کہ عالمی تسلط پسندانہ نظام اور اس میں سرفہرست امریكا، اس قوم، اس کے ممتاز تشخص اور اس کے سر نہ جھکانے والے مزاج کو برداشت نہیں کر پا رہا ہے۔
=== دشمن عسکری محاذ،  عوامی میدان اور سڑکوں پر، ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے ===
جی ہاں، یہی تسلط پسندانہ نظام، جس نے لگ بھگ اسّی برس پہلے اسرائیل نامی ایک فوجی اڈا قائم کیا تھا، فرات کے مشرق میں، اپنے نام نہاد اور جعلی "گریٹر اسرائیل" کی مشرقی سرحد پر ایک طاقتور، آزاد اور مختلف صلاحیتوں سے مالامال ایران کا وجود برداشت نہیں کر سکتا
 
اور اس کی ترقی روکنے کے لیے کسی بھی کارروائي سے دریغ نہیں کرتا۔ اسی موقع پر میں عزیز قوم سے عرض کرتا ہوں کہ خبیث دشمن، جب سے اسے مسلح فورسز میں موجود آپ کے بہادر فرزندوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہوا ہے اور خاص طور پر فیصلہ کن ضرب کھانے کے بعد چاہے
 
وہ عسکری محاذ پر ہو یا عوامی میدان اور سڑکوں پر، ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک اس سے واضح طور پر دور ہونے لگے ہیں۔
=== اصل ہتھیار شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونا ہے ===
   
اس وجہ سے اب اس نے اپنی ہائبرڈ وار کا رخ دو باتوں پر مرکوز کر دیا ہے: ایک عوام کی استقامت اور ثابت قدمی اور دوسرا ملک کے ذمہ داران کو اندازے کی غلطی میں مبتلا کرنا۔ اس مقصد کے لیے اس کا اصل ہتھیار شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونا ہے۔
 
لہذا ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب لوگ ثابت قدمی، بصیرت، اتحاد و یکجہتی، باہمی اعتماد سے کام لے کر اور دشمن کی آواز میں آواز نہ ملا کر اس کے منحوس عزائم کو مٹی میں ملا دیں۔
 
اس سلسلے میں ان امور کی پشت پناہی میں حکام اور ذمہ داران کا کردار بہت اہم ہے۔ ہر وہ اقدام جو عوام کے دلوں میں بداعتمادی یا کمزوری پیدا کرے، درحقیقت اس ملک اور اس کے عوام کے دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔
 
اس وقت، اسلامی انقلاب کے مظلوم لیکن مقتدر اور یقینی طور پر کامیاب رہنماؤں کے طور پر امام خمینئ کبیر اور شہید عزیز خامنہ‌ای کے مکتب کو عملی طور پر دنیا بھر میں متعارف کرانے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کا ایک نیا موقع حاصل ہو گيا ہے۔
 
یہ اہم ذمہ داری پوری قوم، بالخصوص نوجوانوں، اہل دانش، اہل فکر اور اہل فن کے کندھوں پر ہے کہ وہ اسی مکتب کی بنیاد پر، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے،
 
ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں اور خالص اسلام کے راستے پر، یعنی اس نورانی راہ پر جسے صاحبان عصمت و ولایت کبریٰ علیہم السلام نے اپنے ڈھائی سو سالہ دور حیات میں متعین فرمایا، عزیز ایران کے روشن مستقبل کی تعمیر کریں۔
 
میں خداوند قادر سے دعا کرتا ہوں کہ اس مبعوث شدہ قوم کو حتمی فتح اور پیشرفت و عظمت کی بلند و پرشکوہ چوٹیوں تک پہنچائے، اور انقلاب کے دو اماموں کی ارواح مقدسہ اور اسلامی انقلاب کے شہداء خصوصاً دوسرے اور تیسرے مقدس دفاع کے شہداء کی پاکیزہ روحوں کو ان کے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ محشور فرمائے۔


ہم جامع الشرائط [[فقیه]]، جوان مفکر اور سیاسی و سماجی مسائل کے ماہر حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے انتخاب پر تبریک پیش کرتے ہوئے اپنے احترام، ارادت اور اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ انتخاب انقلاب اسلامی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔ 
ہمارے آقا [[محمد بن حسن المهدی|حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف]] کے مقدس اور نورانی قلب کو ایرانی قوم سے راضی فرمائے اور اس عزیز قوم اور اپنے فضل و کرم سے اس کے خدمت کاروں کو حضرت کی خصوصی دعاؤں اور شفاعت سے مستفیض کرے۔


[[سپاه پاسداران انقلاب اسلامی|سپاه پاسداران]] ولایت کا سپاہی ہونے کے ناطے مجلس خبرگان کے اس انتخاب کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ولی فقیہ زمان حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے احکامات کی اطاعت اور انقلاب اسلامی کی اقدار کے دفاع کے لیے آمادہ ہے۔ 
والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ


[[سپاه پاسداران انقلاب اسلامی]] 
سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای
18 اسفند 1404 


4 جون 2026<ref>[https://ur.hawzahnews.com/news/417229/%D8%B9%DB%8C%D8%AF-%D8%BA%D8%AF%DB%8C%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%AE%D9%85%DB%8C%D9%86%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D8%A8%D8%B1%D8%B3%DB%8C-%DA%A9%DB%8C-%D9%85%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%A8%D8%AA-%D8%B3%DB%92-%D8%B1%DB%81%D8%A8%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8-%DA%A9%D8%A7-%D9%BE%DB%8C%D8%BA%D8%A7%D9%85 امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای نے ملت کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا: آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای]- شائع شدہ از: 4 جون 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 5 جون 2026ء</ref>۔
== متعلقہ مضامین ==
== متعلقہ مضامین ==
* [[سید روح‌الله موسوی خمینی]]
* [[سید روح اللہ موسوی خمینی]]  
* [[سید علی حسینی خامنه‌ای]]   
* [[سید علی خامنہ ای]]   
* [[حوزه علمیه قم]]
* [[حوزہ علمیہ قم]]  
* [[حوزه علمیه]] 
   
* [[مشهد]]  
* [[قم]]
* [[قم]]


== حواشی ==
== حوالہ جات ==
{{پانویس}}
{{حوالہ جات}}


== مآخذ ==
== مآخذ ==
* [https://web.eitaa.com/#@aboturaby آیت‌الله حاج سید مجتبی خامنه‌ای، کانال دکتر شیخ مجتبی ابوترابی در بستر ایتا]، تاریخ درج مطلب: 9 اسفند 1404 ش، تاریخ مشاہدہ: 15 اسفند 1404 ش۔  
* [https://web.eitaa.com/#@aboturaby آیت‌الله حاج سید مجتبی خامنه‌ای، چینل ڈاکٹر شیخ مجتبی ابوترابی در بستر ایتا]، تاریخِ اشاعت: 27 فروری 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 5 مارچ 2026ء  
 
* [https://majlesekhobregan.ir/fa/cont/5118/%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%B3%D8%B7-%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DA%AF%D8%A7%D9%86-%D8 رهبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رهبری تعیین و معرفی شد، پایگاه اطلاع رسانی مجلس خبرگان رهبری]، تاریخ درج مطلب: 18 اسفند 1404 ش، تاریخ مشاہدہ: 18 اسفند 1404 ش۔


{{ایران}} 
* [https://majlesekhobregan.ir/fa/cont/5118/%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%A7%D9%86%D9%82%D9%84%D8%A7%D8%A8-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%AA%D9%88%D8%B3%D8%B7-%D9%85%D8%AC%D9%84%D8%B3-%D8%AE%D8%A8%D8%B1%DA%AF%D8%A7%D9%86-%D8 رہبر جدید انقلاب اسلامی توسط مجلس خبرگان رهبری تعیین و معرفی شد، مجلس خبرگان رهبری کی اطلاع رسانی ویب سائٹ]، تاریخِ اشاعت: 8 مارچ 2026ء، تاریخِ مشاہدہ: 8 مارچ 2026ء
{{علمای اسلام}}
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:علما]]
[[زمرہ:شیعه علما]]
[[زمرہ:وحدت پسند علما]]


[[رده:شخصیت‌ها]] 
[[زمرہ:ایران]]
[[رده:شخصیت‌های سیاسی]] 
[[fa:سید مجتبی خامنه‌ای]]
[[رده:عالمان]] 
[[رده:عالمان شیعه]] 
[[رده:عالمان وحدت‌گرا]] 
[[رده:مراجع تقلید]]
[[رده:ایران]]

حالیہ نسخہ بمطابق 15:07، 5 جون 2026ء

سید مجتبی خامنه‌ای
پورا نامسید مجتبی خامنه‌ای
دوسرے نامآیت‌الله حاج سیدمجتبی خامنه‌ایسید مجتبی حسینی خامنه‌ای
ذاتی معلومات
پیدائش1970 ء
پیدائش کی جگہایران مشهد
اساتذہاحمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی، سید علی خامنه‌ای، شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی، شیخ محمد مؤمن قمی
مذہباسلام، شیعہ
اثراتعلمی مقالات فقه اور اصول کے موضوع پر
مناصبجمہوری اسلامی ایران]] کے تیسرے رہبر، حوزه کے عالی سطح کے مدرس اور استاد خارج فقه و اصول


سید مجتبی خامنه‌ای، جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر ہیں جو عظیم مرجع اور رہبر آیت‌الله العظمی امام سید علی خامنه‌ای کی شهادت کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے۔ آیت‌الله خامنه‌ای حوزه علمیه کے اعلیٰ دروس کے استاد اور فقه و اصول کے درس خارج کے صاحبِ کرسی ہیں۔ حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریاں، خصوصاً فقه، اصول فقه اور رجال میں، اور اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی سے استفادہ اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تولیدات، نیز درس فقہ کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی مختصر تفسیر، ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہیں۔

سوانح حیات

سید مجتبی خامنه‌ای، شہید رہبر اور مرجع آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای کے دوسرے فرزند ہیں۔ وہ سنہ 1348 ش میں مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔

تعلیم

انہوں نے ہائی اسکول کی تعلیم مدرسہ علوی میں مکمل کی اور حوزه علمیه کی ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهرانی میں شروع کیے۔ سنہ 1368 ش میں تکمیلِ حوزوی تعلیم کے لیے قم گئے اور 1371 ش کے اوائل تک وہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد پانچ سال کے لیے تهران واپس آئے اور وہیں اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ سنہ 1376 ش میں انہوں نے شہیدہ بانو زہرا حدادعادل سے ازدواج کیا اور اسی سال مزید علمی و معنوی استفادہ کے لیے دوبارہ قم ہجرت کی۔

محاذ پر حاضری

آیت‌الله خامنه‌ای نے مقدس دفاع کے دوران لشکر حضرت محمد رسول‌الله (صلی‌الله علیه وآله) کے گردان حبیب کے مجاہدین کے ساتھ محاذِ جہاد میں شرکت کی۔

اساتذہ

آیت‌الله خامنه‌ای نے سطوحِ عالی کے دروس حضرات آیات احمدی میانجی، رضا استادی، اوسطی اور دیگر ممتاز اساتذہ حوزه علمیه قم سے حاصل کیے۔ درس خارج فقہ و اصول اپنے شہید والد شهید آیت‌الله العظمی خامنه‌ای کے علاوہ حضرات آیات عظام شیخ جواد تبریزی، شیخ حسین وحید خراسانی، سید موسی شبیری زنجانی، آقا مجتبی تهرانی اور شیخ محمد مؤمن قمی سے پڑھے۔ وہ سترہ برس سے زیادہ عرصہ تک مسلسل درس خارج فقہ و اصول میں شرکت کرتے رہے۔ عربی زبان میں علمی تقریرات کی پیشکش اور درس کے علاوہ علمی مباحث میں اشکال، نقد اور گفتگو کے ذریعے اساتذہ سے علمی پیگیری نے بعض بزرگ علماء کی خصوصی توجہ ان کی جانب مبذول کرائی۔

علمی نبوغ

ان کی فطری استعداد اور ذہانت، مسلسل کوشش، محنت، دقت اور علمی آزادی کے ساتھ مل کر حوزوی علوم کے نظام میں مضبوط علمی نوآوریوں کا سبب بنی، خصوصاً فقه، اصول اور رجال میں۔ اسلامی مدون علوم میں منظم فکری مبانی اور ان مبانی کی پابندی کے ساتھ علمی تحقیق ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتی ہے۔

حکم شرعی کی حقیقت و ماہیت، حکم کے مراتب، احکام کے ملاکات، تعددِ حکم، قیود کی رجوعیت، حدیثی معارف کی منتقلی کا طریقہ اور فقہی کتب کے ارتقائی مراحل جیسے بنیادی مباحث میں ان کی ابتکارات نے ایک جامع علمی مکتب کی تشکیل میں مدد دی۔ اس علم کے اکابر فقہاء و اصولیین کے مکاتب، شیخ اعظم انصاری سے لے کر امام خمینی تک، پر ان کی گہری دسترس نے اس مکتب کو مزید غنا بخشا ہے۔ ائمہ اطہارؑ کے اصحاب کے آثار اور قدیم شیعه علماء کی آراء، خصوصاً “ارتکاز عصر معصومؑ” کے مسئلے اور اس کے استنباطی عمل میں کردار پر خصوصی توجہ ان کے علمی منہج کی نمایاں خصوصیات میں سے ہے۔

حوزہ میں تدریس

آیت‌الله خامنه‌ای نے تعلیم کے ساتھ ساتھ مسلسل تدریس بھی جاری رکھی۔ انہوں نے حوزہ کے ابتدائی دروس مدرسہ آیت‌الله مجتهدی تهران میں پڑھانا شروع کیے اور سنہ 1374 ش سے کتاب معالم کی تدریس کی۔ بعد ازاں آیت‌الله العظمی سید علی خامنه‌ای کی طرف سے حوزہ میں تحول کی ضرورت اور شهید صدر کی کتب کی اہمیت کے بارے میں تاکید کے بعد انہوں نے معالم کی تدریس ترک کرکے حلقاتِ شہید صدر کی تدریس شروع کی۔

سنہ 1376 ش میں قم ہجرت کے بعد انہوں نے حلقات کی تدریس اپنے ایک ہم بحث کے سپرد کر دی۔ سنہ 1377 ش میں قم میں بیت شریف امام خمینی میں رسائل اور مکاسب کی خصوصی تدریس کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد نماز، تسبیحاتِ اربعہ، سجود اور رکوع کے موضوعات پر خصوصی درس خارج کا انعقاد کیا جس میں ان کے سابق شاگرد شریک ہوتے تھے۔

سنہ 1383 ش میں دوبارہ حلقات کی تدریس شروع کی اور 1384 ش اور 1385 ش میں قم کے ایک مدرسہ میں سطوح عالی (مکاسب) پڑھائے۔ سنہ 1386 ش میں ان کا درس مدرسه فیضیه منتقل ہوا اور سنہ 1387 ش میں قم میں آیت‌الله العظمی خامنه‌ای کے دفتر میں نماز پر خصوصی درس خارج منعقد ہوا۔ تعلیمی سال 1388 ش کے آغاز سے عمومی درس خارج فقہ اور 1389 ش سے رسمی طور پر درس خارج اصول شروع ہوا جو مبحث استصحاب کے آغاز تک جاری رہا۔

طریقۂ تدریس

وہ تدریس سے پہلے بحث کے مراحل اور اپنے علمی نظریات کو تحریری شکل دیتے اور تدریس کے بعد فقہی و اصولی مباحث کو خود مرتب کرتے تھے جن کی بعض جلدیں اشاعت کے لیے تیار ہیں۔ اگرچہ ان کے دروس کی تقریرات شاگردوں کی طرف سے اشاعت کے لیے تیار تھیں، مگر ان کی ذاتی عدم رغبت کے باعث ابھی تک عام طور پر شائع نہیں ہوئیں اور صرف بعض خاص علماء کے پاس موجود ہیں۔

علمائے سلف کے انداز پر درس کے وقت کا ایک حصہ شاگردوں کے ساتھ دوستانہ علمی نشستوں کے لیے مخصوص ہوتا تھا۔ ان کی ایک اہم ابتکار یہ تھی کہ درس فقہ کے آغاز میں قرآن کریم کی آیات کی مختصر تفسیر بیان کرتے تھے جس میں گہرے اور جدید تفسیری نکات شامل ہوتے تھے۔ شاگردوں کے اشکالات پر خصوصی توجہ، حتیٰ کہ درس کے بعد طویل گفتگو کے ذریعے، اور شاگردوں کو علمی طور پر فروعات پیش کرنے کی ترغیب دینا، تنقیدی صلاحیت اور استنباط کی مشق کو تقویت دینے میں اہم کردار ادا کرتا تھا[1]۔

جمہوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر

مجلس خبرگان رهبری کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه الله) کو نظام جمهوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا گیا۔

بسم الله الرحمن الرحیم ملتِ شریف اور آزادہ ایران اسلامی؛ خدا کا سلام اور درود آپ پر ہو۔ مجلس خبرگان رهبری عظیم قائد حضرت آیت‌الله العظمی امام خامنه‌ای (قدس‌الله نفسه الزکیه) کی شہادت اور دیگر گرانقدر شہداء خصوصاً مسلح افواج کے بلند مقام کمانڈروں اور میناب شہر کے مدرسہ شجره طیبه کے طلباء کی شہادت پر تعزیت پیش کرتی ہے اور مجرمانہ امریکہ اور رژیم صهیونیستی کے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کرتی ہے۔

یہ مجلس اعلان کرتی ہے کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کی خبر کے فوراً بعد، جنگی حالات اور دشمن کی براہِ راست دھمکیوں کے باوجود، اور مجلس خبرگان کے دفاتر پر بمباری کے نتیجے میں بعض کارکنوں کی شہادت کے باوجود، اسلامی نظام کے نئے رہبر کے انتخاب کے عمل میں کوئی توقف نہیں کیا گیا۔ آئین کے تقاضوں کے مطابق فوری ہنگامی اجلاس کی تیاری کی گئی تاکہ ملک کو قیادت کے خلاء کا سامنا نہ ہو۔

مجلس خبرگان رهبری ولایت فقیه کے بلند مقام کو مدنظر رکھتے ہوئے اور انقلاب کے دونوں رہبروں کی 47 سالہ حکیمانہ قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اعلان کرتی ہے کہ آئین کی دفعہ 108 کے مطابق مکمل تحقیق و بررسی کے بعد آج کے ہنگامی اجلاس میں آیت‌الله سید مجتبی حسینی خامنه‌ای (حفظه‌الله) کو قاطع اکثریت کے ساتھ نظام جمهوری اسلامی ایران کے تیسرے رہبر کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔

آخر میں مجلس خبرگان ملتِ ایران خصوصاً حوزہ اور یونیورسٹی کے اہلِ علم کو قیادت کے ساتھ بیعت اور ولایت کے محور پر اتحاد برقرار رکھنے کی دعوت دیتی ہے[2]۔

والسلام علیکم و رحمه‌الله و برکاته مجلس خبرگان رهبری 1404/12/17

ردّ عمل

سپاه پاسداران انقلاب اسلامی

بسم الله الرحمن الرحیم يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ وَ أُولِي الْأَمْرِ مِنْكُم. سوره =نساء آیه =59

ملتِ مؤمن ایران اسلامی؛ مجلس خبرگان رهبری کی جانب سےامام زمان (عجل‌الله تعالی فرجه الشریف) کے نائب عام اور ولایت فقیه|ولی فقیہ کے طور پر آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے انتخاب پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں اور خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں نعمتِ ولایت عطا کی۔

ہم جامع الشرائط فقیه، جوان مفکر اور سیاسی و سماجی مسائل کے ماہر حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے انتخاب پر تبریک پیش کرتے ہوئے اپنے احترام، ارادت اور اطاعت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ انتخاب انقلاب اسلامی کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہے۔

سپاه پاسداران انقلاب اسلامی ولایت کا سپاہی ہونے کے ناطے مجلس خبرگان کے اس انتخاب کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ولی فقیہ زمان حضرت آیت‌الله سید مجتبی خامنه‌ای کے احکامات کی اطاعت اور انقلاب اسلامی کی اقدار کے دفاع کے لیے آمادہ ہے۔

سپاه پاسداران انقلاب اسلامی 18 اسفند 1404

معلم اور مزدور ثقافتی و معاشی جنگ میں ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، رہبر معظم انقلاب

رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے حوالے سے کہا ہے کہ معلم اور مزدور ایران کی ثقافتی اور معاشی جدوجہد کے سب سے مضبوط ستون ہیں، ان کی قدر دانی صرف زبانی نہیں بلکہ عملی ہونی چاہیے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے یوم معلم اور یوم مزدور کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ ہر ملک کی ترقی دو بنیادی ستونوں پر قائم ہوتی ہے؛ علم اور عمل۔

انہوں نے کہا کہ علم کی بنیاد رکھنے میں معلم کا کردار سب سے نمایاں ہے کیونکہ وہ صرف تعلیم ہی نہیں دیتا بلکہ نئی نسل کی تربیت، سوچ کی تشکیل اور شناخت کی تعمیر میں بھی مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔

آج کے طلباء مستقبل میں اپنے اساتذہ کے اخلاق، انداز گفتگو اور رویّے کو عملی زندگی میں ظاہر کریں گے۔

انہوں نے مزدور اور محنت کش طبقے کے بارے میں کہا کہ ملک میں کام کا میدان بہت وسیع ہے جو گھروں، دفاتر، بازاروں، کھیتوں، کارخانوں، ورکشاپس، کانوں اور مختلف خدماتی شعبوں تک پھیلا ہوا ہے۔

اگر یہ میدان محنت اور ذمہ داری کے جذبے سے بھر جائے تو قومی ترقی یقینی طور پر مضبوط ہوگی۔

پیغام میں مزید کہا گیا کہ بعض اوقات ایک مزدور اپنی محنت اور دیانت کے ذریعے اتنا بلند مقام حاصل کر لیتا ہے کہ اس کے ہاتھ کو بھی استاد کی طرح احترام کے ساتھ چومنے کے قابل سمجھا جانا چاہیے۔

یہ تربیت انسان کو سب سے پہلے والدین اور پھر استاد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوری ایران نے 47 سال کی جدوجہد کے بعد دشمنوں کے مقابلے میں اپنی عسکری طاقت دنیا پر ثابت کر دی ہے،

اب ضروری ہے کہ ایران اقتصادی اور ثقافتی میدان میں بھی دشمن کو مایوس اور شکست سے دوچار کرے۔

رہبر انقلاب نے کہا کہ ثقافتی جنگ میں سب سے مؤثر کردار معلم کا ہے اور اقتصادی جنگ میں مزدور طبقہ سب سے اہم عناصر میں شامل ہے، اسی لیے یہ دونوں ملک کی ثقافت اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اساتذہ اور مزدوروں کو اپنے مقام کو صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

رہبرِ انقلاب نے سالانہ رسمی تقریبات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف زبانی تعریف کافی نہیں، بلکہ ان طبقات کی عملی مدد ضروری ہے۔ جس طرح عوام اپنے دفاعی اداروں کی حمایت کے لیے میدان میں نکلتے ہیں، اسی طرح انہیں چاہیے کہ معلموں اور مزدوروں کے ساتھ بھی مضبوط تعاون کا مظاہرہ کریں۔

انہوں نے اپیل کی کہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے انتظام میں والدین اور خاندانوں کا کردار بڑھایا جائے اور ملکی مصنوعات کے استعمال کو ترجیح دے کر مزدور طبقے کی حمایت کی جائے۔

رہبر انقلاب نے کاروباری افراد کو بھی تاکید کی کہ وہ مشکل حالات میں ملازمین کو نکالنے سے حتی المقدور پرہیز کریں اور ہر مزدور کو ادارے کا اثاثہ سمجھیں۔ حکومت کو بھی ایسے خیر خواہانہ اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔

رہبر انقلاب نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنی اسلامی و ایرانی شناخت کو مضبوط کرکے، نئی نسل کی تربیت اور ملکی پیداوار کی حمایت کے ذریعے ترقی اور بلندی کی منزلوں کی طرف مزید تیزی سے بڑھے گا[3]۔

فردوسی کی رزمیہ داستانیں ایرانی قوم کی بہادری کی جیتی جاگتی تصویر ہیں

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے کہا ہے کہ فردوسی کی رزمیہ داستانیں دراصل ایرانی قوم کی حقیقی اور بہادرانہ زندگی کی عکاسی کرتی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ ای نے حکیم ابوالقاسم فردوسی کی یاد اور فارسی زبان کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ فارسی زبان اور ادب، ایرانی اسلامی تہذیب اور ثقافت کو دنیا بھر میں فروغ دینے کی عظیم صلاحیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم نے تیسری مقدس دفاعی جنگ میں بھی گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں کی طرح ثابت کر دیا کہ فردوسی کی رزمیہ داستانیں دراصل ان کی حقیقی زندگی اور بہادرانہ شخصیت کی عکاس ہیں۔

رہبر انقلاب نے مزید کہا کہ شاہنامہ کے انسان ساز، شجاعانہ اور قرآنی تصورات نے ایران کی تمام قومیتوں اور طبقات کو اپنی شناخت، اصالت اور استقلال کے دفاع اور جارح ضحاک صفت دشمنوں کے خلاف متحد رکھا۔

انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ عظیم قربانی، مزاحمت اور کامیابی اہل ثقافت، ادب اور فن پر ایک بڑی ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ فردوسی کی طرح اٹھ کھڑے ہوں اور عوامی بیداری کے تسلسل میں فنکاروں کی ذمہ داری ادا کریں۔

رہبر معظم انقلاب نے زور دیا کہ اہل قلم اور فنکار فکر، قلم، زبان اور فن کو یکجا کر کے ایرانی قوم کی عظیم جدوجہد اور بیداری کی داستان کو تاریخ میں ہمیشہ کے لیے محفوظ بنائیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ شیطان صفت طاقتوں اور عالمی جارحیت کے خلاف ایرانی قوم کی غیرت مندانہ مزاحمت اور شاندار کامیابی نے عوام کو تہذیبی استقلال کے تحفظ اور امریکی ثقافتی، لسانی اور طرز زندگی کی یلغار کے مقابلے کے لیے مزید تیار کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ثقافتی میدان میں سرگرم افراد کی جدت اور تخلیقی صلاحیتوں کے ذریعے لسانی اور فکری دفاع کو مضبوط بنایا جائے اور بچوں، نوجوانوں اور نئی نسل کی تربیت و ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں تاکہ قوم حتمی کامیابی تک زیادہ استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھ سکے[4]۔

احساس ذمہ داری اور عوام دوستی» شہید آیت اللہ رئیسی کی نمایاں خصوصیت تھی

شہید رئیسی اور شہدائے خدمت کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام: رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے بدھ 20 مئی کو شہید صدر مملکت سید ابراہیم رئیسی اور ان کے شہید رفقائے کار کی دوسری برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ رہبر انقلاب کا پیغام حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اردیبہشت (مئی) کی فلائٹ کے شہداء اور ان میں سرفہرست شہید صدر جمہوریہ حجت الاسلام والمسلمین رئیسی کی یاد منانا، اسلامی جمہوریہ ایران میں خدمت گزار شہداء کے عظیم کارواں کی شہادت کی یاد تازہ کرتا ہے؛

مطہری، بہشتی، رجائی اور باہنر سے لے کر رئیسی، آل ہاشم، امیر عبداللہیان اور لاریجانی تک، عظیم امام خمینی اور عزیز خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہما کے مکتب کے سیکڑوں نمایاں اور تربیت یافتہ افراد، جنھوں نے اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں کی مخلصانہ اور مجاہدانہ خدمت کے دفتر کو اپنے خون آلود دستخط سے مزین کیا۔

شہید رئیسی کی نمایاں خصوصیات میں فرض شناسی، جوانوں کو آگے لانا، عدل و انصاف پر توجہ، فعال اور نفع بخش سفارت کاری اور خصوصاً ان کے عوامی ہونے کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ خصوصیات طاقتور مزاحمتی محاذ کے مجاہدوں اور نظام کے بہت سے خیر خواہوں سمیت ایران کے دوستوں کا حوصلہ بڑھنے کا سبب بنتی تھیں۔

البتہ یہ سب کچھ اس روحانیت کے ساتھ جڑا ہوا تھا جس کی جڑیں ان کے دل و جان کی گہرائیوں میں پیوست تھیں۔ عہدیداروں اور عوام کے درمیان تعلق میں، مؤثر مثبت خصوصیات، باہمی قدردانی کا سبب بنتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ان کے مولا اور آقا حضرت ابی الحسن الرضا صلوات اللہ و سلامہ علیہ کے جوار تک ان کا آخری سفر عدیم المثال شان و شوکت کے ساتھ انجام پایا۔

اس شہید کے ادھورے رہ جانے والے عہد صدارت نے قوم اور ملک کی خود مختاری کو محفوظ رکھتے ہوئے، اس کے لیے کوشش اور دلسوزی کا ایک معیار فراہم کیا۔

آج ہم دو عالمی دہشت گرد افواج کے مقابلے میں ایرانی قوم کی عظیم اور تاریخ کی بے نظیر شجاعت کے سامنے کھڑے ہیں۔ یہ چیز اسلامی جمہوریہ کے عہدیداروں؛ اعلیٰ قیادت اور انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ کے سربراہوں سے لے کر تمام سطحوں کے سربراہوں تک کی ذمہ داری کو پہلے سے زیادہ سنگین بنا دیتی ہے۔

آج قوم، حکومت اور اسلامی جمہوریہ کے تمام اداروں کے مابین اتحاد کی نعمت کا شکر، عہدیداروں کے خدمت کے جذبے کی تقویت اور ان کی دگنی اور مجاہدانہ خدمت، عوام کے مسائل اور پریشانیوں خصوصاً اقتصادی اور معاشی میدان میں ان کی مشکلات کو دور کرنا، میدان میں براہ راست موجودگی اور ملک کی پیشرفت اور روشن مستقبل کی جانب امید افزا حرکت کی راہ میں میدان میں موجود عوام کے سنجیدہ کردار کی تعریف پیش کرنا ہے۔

راہ خدمت کے شہداء پر خداوند کی رحمت ہو اور ہمارے آقا عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی دعا ایران کے مسلمان عوام کے خدمت گزاروں کی پشت پناہ ہو۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

20 مئی 2026[5]۔

عید غدیر اور امام خمینی کی برسی کی مناسبت سے رہبر انقلاب کا پیغام

امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای نے ملت کی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کیا: آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امام خمینیؒ اور شہید خامنہ ای نے ملت کے اندر موجود آمادگی، صلاحیت اور انقلابی روح کو دریافت کرکے اسے زندہ کیا، جس کے نتیجے میں امت نے خود اعتمادی، بیداری اور مزاحمت کے نئے دور میں قدم رکھا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی آيت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے جمعرات 4 جون 2026 کو عید غدیر خم اور امام خمینی کی سینتیسویں برسی کی مناسبت سے ایک پیغام جاری کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انھوں نے موجودہ حالات، ایرانی عوام کی بعثت، عہدیداروں کی ذمہ داری اور مزاحمتی محاذ کے بارے میں اہم نکات بیان کیے ہیں۔ پیغام حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اَلْحَمْد للّٰہ الَّذی جَعَلَ کَمَالَ دینہ وَ تَمَامَ نعْمَتہ بولَایَۃ اَمیْرالْمؤْمنیْنَ عَلی بْن اَبی طَالبٍ علیہ السلام

میں عید سعید غدیر کی مبارک باد ایران اور پوری دنیا کے تمام مسلمانوں اور امت مسلمہ کے پدر گرامی، امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی روح مطہر پر درود و سلام بھیجتا ہوں۔

اس سال یہ سینتیسویں 14 خرداد (4 جون) ہے جو امام خمینی کے فراق کو گزر رہی ہے اور یہ پہلی 14 خرداد ہے جب امت کے مہربان باپ، مکتب امام خمینی کے مرید اور وفادار و ممتاز ساتھی، انقلاب اسلامی کے عظیم رہبر شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اعلی اللہ مقامہ ضیافت الٰہی کے مہمان بنے ہیں

رہبر شیہد کے خطاب اور تحریریں ہم سب کے لیے ایک گراں قدر اور بے مثال خزانہ اور مستقبل کی راہ کا چراغ ہیں

اور امام خمینی کے مزار اقدس میں ان کی مضبوط آواز اور حکمت و بصیرت سے بھرپور کلام کی گونج سنائی نہیں دے رہی ہے لیکن اسلامی جمہوریہ کے بانی کے دس سالہ اور عظیم الشان رہبر شہید کے چھتیس سالہ بیان، خطاب اور تحریریں ہم سب کے لیے ایک گراں قدر اور بے مثال خزانہ اور مستقبل کی راہ کا چراغ ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ کہ آج عید غدیر اور عید اللہ الاکبر ہے، اللہ کی جانب سے لیے گئے عہد و میثاق کا وہ دن جب خداوند عالم نے اسلامی معاشرے اور اسلامی نظام کا انتظام چلانے کا معاملہ طے کر دیا اور حضرات معصومین علیہم السلام کی مسلسل ولایت و امامت کے ذریعے دین کو کامل اور اپنی نعمت کو پورا کر دیا۔

تمام مسلمانوں و مومنین کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ اور مکمل اسوہ

عید غدیر اس ہستی کی یاد دلاتی ہے جس نے کعبے میں ولادت سے لے کر شہادت کی سعادت پانے تک اپنی پوری زندگی خدا کے لیے اور خدا کی راہ میں گزاری۔ اسی بنا پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد امیر المومنین اپنی زندگي کے تمام ادوار میں

اور تمام مسلمانوں و مومنین کے لیے اعلیٰ ترین نمونہ اور مکمل اسوہ ہیں اور مناسب اور لازمی ہے کہ کم سن بچوں سے لے کر عمر رسیدہ افراد تک، اور عام لوگوں سے لے کر اہل فکر و دانش اور رہنماؤں تک، سب ان کی پیروی کریں، جس طرح انقلاب کے دونوں اماموں کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز بھی اسی عظیم ہستی کی پیروی رہا ہے۔

دوسرے یہ کہ آج امام امت رحمۃ اللہ علیہ کی برسی ہے اور اس مشہور لیکن کم پہچانی گئی شخصیت کے بارے میں غور و فکر اور گفتگو کا ایک قیمتی موقع بھی ہے۔ ایسی پرکشش شخصیت کہ جس کی نورانی راہ اور ہدف کی گہری شناخت و معرفت، اسلامی مملکت ایران کے مستقبل کے لیے مشعل راہ ہے

لیکن قوم کے بہت سے نوجوان افراد کو ان کی براہ راست زیارت اور شناخت کی توفیق حاصل نہیں ہوئی بلکہ ایسے بہت سے لوگ بھی، جنھوں نے ان کی زندگی کا زمانہ دیکھا، ان کی شخصیت کی گہرائی اور ان کی راہ و روش تک کم ہی پہنچ سکے۔

قَالَ اللہ تَعَالٰی: قلْ انَّمَا اَعظكمْ بوَاحدَۃٍ اَنْ تَقوموا للّٰہ مَثْنٰی وَ فرَادٰی [6]۔ خداوند متعال اس آیت شریفہ میں رسول اعظم کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ امت سے کہہ دیجیے: میں تمھیں صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، یہ کہ تم اللہ کے لیے دو دو کر کے یا ایک ایک کر کے اٹھ کھڑے ہو۔

اللہ کے لیے قیام، مکتب امام خمینی کی بنیاد

یہ آیت اس پہلے پیغام اور ان قدیم ترین دستاویزات میں سے ایک کا آغاز ہے جس میں ہمارے عہد کے اس بے مثال بندۂ صالح، انقلاب کے عظیم رہبر اور اسلامی جمہوریہ کے بانی نے ایرانی قوم کو اللہ کے لیے قیام کی دعوت دی تھی۔

جی ہاں، اللہ کے لیے قیام، مکتب امام خمینی کی بنیاد ہے اور ان کی ہستی کی اہم ترین برکتوں میں سے ایک یہی ہے کہ انھوں نے اسی اصول کی بنیاد پر معاشرے کی ہدایت و تربیت کی اور اس پر گہرا اثر ڈالا۔

یہی الہی تحریک، اللہ کی برکتوں اور عنایتوں کے نزول کا سرچشمہ بنی اور اسی کے ذریعے حق کی راہ کی طرف معاشرے کی راہنمائی کی خداوند عالم کی سنت جاری ہوئی کہ وَالَّذیْنَ جَاھَدوْا فیْنَا لَنَھْدیَنَّھمْ سبلَنَا (اور جو لوگ ہمارے لیے جہاد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں [7]۔ کیا ایسا نہیں ہے

کہ ایرانی قوم کی سب سے بڑی عوامی تحریکیں اور بعثتیں خمینئ کبیر اور رہبر عظیم الشان شہید خامنہ‌ای کے دور میں، براہ راست یا بالواسطہ انھی کی ہدایات کے نتیجے میں وجود میں آئیں؟ کون سی عظیم طاقت 15 خرداد 1342 ہجری شمسی (5 جون 1963) کو سامراج و استعمار کے سحر میں گرفتار اور غفلت زدہ قوم کو ایسی حالت سے بیدار کر سکتی تھی؟

جب گھٹن، جبر اور مغرب پر مکمل انحصار مسلط تھا؟ کون سی طاقت تھی جو 12 بہمن 1357 ہجری شمسی (1 فروری 1979) کو امام خمینی کے استقبال اور 14 خرداد 1368 ہجری (4 جون 1989) کو امام امت کی آخری رخصت کے لیے دسیوں لاکھ انسانوں کو سڑکوں پر لے آتی؟

اور حالیہ حیرت انگیز نمونے میں، وہ کون سی مضبوط طاقت اور فولادی ارادہ تھا جس نے 28 فروری 2026 کی سحر سے ایرانی قوم کو اس طرح مبعوث کر دیا اور میدان میں لے آئی کہ تین ماہ سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود وہ اپنے شہید رہبر

اور دیگر شہداء کے خون کے انتقام کا مطالبہ کرنے، اسلامی نظام اور اپنے عزیز وطن کے دفاع کے لیے پوری گرم جوشی اور شدت کے ساتھ میدان میں موجود ہے اور کروڑوں جاں نثاروں کی صفوں کو رہبر شہید کے اہداف و مقاصد کو پورا کرنے اور حق کے قیام اور اللہ کے لیے قیام کے لیے مستحکم کیے ہوئے ہے؟

جی ہاں، یہی امام خمینی اور عظیم الشان شہید خامنہ‌ای تھے جنھوں نے ایرانی قوم کے اندر موجود اس استعداد اور آمادگی کو دریافت کیا، اسے فعال کیا اور ہمیشہ اسے خاص اہمیت دی۔

وہ طاقتور ہاتھ جس نے ملت کے عظیم سمندر میں تلاطم پیدا کر دیا

امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے، جو بلاشبہ اپنے بے مثال تقوی اور پرہیزگاری کے باعث قلم سے نکلنے والے ہر لفظ پر پوری توجہ رکھتے تھے، اپنی وصیت میں ایک عظیم دعویٰ کرتے ہوئے لکھا تھا:

"میں پورے یقین کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ آج کے دور میں ملت ایران اور اس کے کروڑوں افراد، رسول خدا کے زمانے کے حجاز کے لوگوں اور امیرالمؤمنین و امام حسین علیہما السلام کے دور کے کوفہ و عراق کے لوگوں سے بہتر ہیں۔"

آج پوری ایرانی قوم کو فخر ہے کہ مزاحمتی محاذ کے شانہ بہ شانہ اپنی نئی بعثت کے ذریعے، وہ دنیا کی آزاد قوموں اور بیدار نگاہوں کے لیے باعث افتخار بنی ہوئی ہے اور اس نے امام خمینی کی وصیت کے اس جملے کی سچائی کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔

رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ کے بقول، وہ طاقتور ہاتھ جس نے ملت کے عظیم سمندر میں تلاطم پیدا کر دیا، عظیم امام خمینی کی فولادی شخصیت، مطمئن دل اور ذوالفقار جیسی زبان تھی، جس نے دسیوں لاکھ انسانوں کو میدان میں اتارا، انھیں میدان میں قائم رکھا اور انھیں آگے بڑھنے کی سمت سمجھائی۔

اور یقینی طور پر اسی طرح کے اثر کا ایک اور نمونہ خود عزیز خامنہ‌ای سے متعلق تھا، جنھوں نے اپنے سلف صالح کے راستے پر قدم رکھا اور تقریباً چار عشروں تک انقلاب اور اسلامی نظام کی قیادت کے دوران نوجوانوں پر اعتماد، عوامی شعور کی گہرائی اور فکری سطح کی بلندی کے ذریعے معاشرے کو ایسی آمادگی تک پہنچایا کہ ان کی شہادت کے عظیم واقعے کے بعد ایرانی قوم کی بعثت کا ایک نیا نصاب سامنے آیا۔

وہ ہمیشہ مکتب امام کے اصولوں، پالیسیوں اور فکری خطوط کی وضاحت اور تشریح کرتے رہے

جی ہاں، عزیز خامنہ‌ای کا مکتب درحقیقت وہی امام خمینی کا مکتب ہے جو خالص محمدی اسلام کا ہی تسلسل ہے اور جس کا بنیادی ڈھانچہ اللہ کے لیے قیام ہے۔ اس مکتب کے شاگرد صف بہ صف حق کے قیام، باطل کے خاتمے اور اس نورانی راہ میں مجاہدت کے لیے تیار ہیں۔

امام خمینی رحمت اللہ علیہ ایران، اسلامی امت اور پوری دنیا کی سطح پر ایک بڑی اور تاریخی تبدیلی لانے والے تھے جسے رہبر شہید اعلی اللہ مقامہ نے مزید گہرائی، وسعت اور تسلسل عطا کیا، اور اس کی تکمیل و عملی جامہ پہننے کے لیے نظام سازی اور معاشرہ سازی کی۔

اسی سلسلے میں انھوں نے اپنے قول، قلم اور عمل کے ذریعے اور مختلف ملاقاتوں میں مکتب امام خمینی کو زندہ رکھا اور 4 جون کو ایرانی قوم اور امام خمینی کے درمیان سالانہ تجدید عہد کے موقع میں بدل دیا۔

وہ ہمیشہ مکتب امام کے اصولوں، پالیسیوں اور فکری خطوط کی وضاحت اور تشریح کرتے رہے۔ ان تعلیمات میں سے ایک، جو شاید بار بار دوہرائی جاتی تھیں، یہ تھا کہ ایرانی قوم، ایک باایمان، ذہین اور بہادر قوم ہے اور یہ کہ عوام ہی ملک کے حقیقی مالک اور اس کی طاقت کا سرچشمہ ہیں،

اور یہ کہ یہ قوم اگر کسی صحیح تبدیلی کا ارادہ کر لے تو اسے عملی جامہ پہنا سکتی ہیں اور "ہم کر سکتے ہیں" کے نعرے کو مختلف میدانوں میں حقیقت بنا سکتی ہیں۔ انھی تعلیمات میں، ایک اسلامی، انسانی اور ایرانی فریضے کی حیثیت سے مظلوم کی حمایت ہے۔

نیز یہ کہ عالمی تسلط پسندانہ نظام اور اس میں سرفہرست امریكا، اس قوم، اس کے ممتاز تشخص اور اس کے سر نہ جھکانے والے مزاج کو برداشت نہیں کر پا رہا ہے۔

دشمن عسکری محاذ، عوامی میدان اور سڑکوں پر، ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے

جی ہاں، یہی تسلط پسندانہ نظام، جس نے لگ بھگ اسّی برس پہلے اسرائیل نامی ایک فوجی اڈا قائم کیا تھا، فرات کے مشرق میں، اپنے نام نہاد اور جعلی "گریٹر اسرائیل" کی مشرقی سرحد پر ایک طاقتور، آزاد اور مختلف صلاحیتوں سے مالامال ایران کا وجود برداشت نہیں کر سکتا

اور اس کی ترقی روکنے کے لیے کسی بھی کارروائي سے دریغ نہیں کرتا۔ اسی موقع پر میں عزیز قوم سے عرض کرتا ہوں کہ خبیث دشمن، جب سے اسے مسلح فورسز میں موجود آپ کے بہادر فرزندوں کے مقابلے میں شکست کا سامنا ہوا ہے اور خاص طور پر فیصلہ کن ضرب کھانے کے بعد چاہے

وہ عسکری محاذ پر ہو یا عوامی میدان اور سڑکوں پر، ایک گہری اور معنی خیز ذلت کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ممالک اس سے واضح طور پر دور ہونے لگے ہیں۔

اصل ہتھیار شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونا ہے

اس وجہ سے اب اس نے اپنی ہائبرڈ وار کا رخ دو باتوں پر مرکوز کر دیا ہے: ایک عوام کی استقامت اور ثابت قدمی اور دوسرا ملک کے ذمہ داران کو اندازے کی غلطی میں مبتلا کرنا۔ اس مقصد کے لیے اس کا اصل ہتھیار شک، مایوسی، خوف، بدگمانی اور اختلاف کے بیج بونا ہے۔

لہذا ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب لوگ ثابت قدمی، بصیرت، اتحاد و یکجہتی، باہمی اعتماد سے کام لے کر اور دشمن کی آواز میں آواز نہ ملا کر اس کے منحوس عزائم کو مٹی میں ملا دیں۔

اس سلسلے میں ان امور کی پشت پناہی میں حکام اور ذمہ داران کا کردار بہت اہم ہے۔ ہر وہ اقدام جو عوام کے دلوں میں بداعتمادی یا کمزوری پیدا کرے، درحقیقت اس ملک اور اس کے عوام کے دشمن کی مدد کے مترادف ہے۔

اس وقت، اسلامی انقلاب کے مظلوم لیکن مقتدر اور یقینی طور پر کامیاب رہنماؤں کے طور پر امام خمینئ کبیر اور شہید عزیز خامنہ‌ای کے مکتب کو عملی طور پر دنیا بھر میں متعارف کرانے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کا ایک نیا موقع حاصل ہو گيا ہے۔

یہ اہم ذمہ داری پوری قوم، بالخصوص نوجوانوں، اہل دانش، اہل فکر اور اہل فن کے کندھوں پر ہے کہ وہ اسی مکتب کی بنیاد پر، اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے،

ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی عنایات کے سائے میں اور خالص اسلام کے راستے پر، یعنی اس نورانی راہ پر جسے صاحبان عصمت و ولایت کبریٰ علیہم السلام نے اپنے ڈھائی سو سالہ دور حیات میں متعین فرمایا، عزیز ایران کے روشن مستقبل کی تعمیر کریں۔

میں خداوند قادر سے دعا کرتا ہوں کہ اس مبعوث شدہ قوم کو حتمی فتح اور پیشرفت و عظمت کی بلند و پرشکوہ چوٹیوں تک پہنچائے، اور انقلاب کے دو اماموں کی ارواح مقدسہ اور اسلامی انقلاب کے شہداء خصوصاً دوسرے اور تیسرے مقدس دفاع کے شہداء کی پاکیزہ روحوں کو ان کے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ محشور فرمائے۔

ہمارے آقا حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے مقدس اور نورانی قلب کو ایرانی قوم سے راضی فرمائے اور اس عزیز قوم اور اپنے فضل و کرم سے اس کے خدمت کاروں کو حضرت کی خصوصی دعاؤں اور شفاعت سے مستفیض کرے۔

والسّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

4 جون 2026[8]۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

مآخذ