مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے نوٹس اور تجزیے" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 8 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: رد خیانت و توطئه در جنوب یمن (یادداشت).jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل:مدیریت امام جامعه در فتنۀ دی‌ماه (یادداشت) 5 (2).jpg|تصغیر|بائیں]]
'''[[جنوبی یمن میں خیانت اور سازش کی تردید )نوٹس)|جنوبی یمن میں خیانت اور سازش کی تردید]]'''ّ ایک یادداشت کا عنوان ہے جو جنوبی [[یمن]] کی حالیہ صورتِ حال پر نظر ڈالتی ہے، جہاں خیانت اور سازش کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔
'''[[دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت(نوٹس اور تجزیے)|دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت]]''' «دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت» اس یادداشت کا عنوان ہے جس میں دی ماہ 1404 ہجری شمسی کے دہشت گردانہ فسادات کے دوران [[سید علی خامنہ ای|حضرت امام خامنہ‌ای]] کی جرات مندانہ اور حکیمانہ قیادت کا جائزہ لیا گیا ہے۔
3 دسمبر 2025ء  کو جنوبی [[یمن]] کے علاقے میں ہم نے فوجی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور سعودی عرب سے وابستہ انتظامی و عسکری عناصر کی جانب سے کسی قابلِ ذکر مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈال دیے گئے۔ بظاہر معاملہ یہ تھا کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی کونسل کے عناصر اقتدار کے پھیلاؤ اور جنوب کو یکجا کرنے کے لیے میدان میں آئے ہیں، لیکن جنوبی صوبوں کی گورنریوں اور ضلعی انتظامیہ کی ہمراہی، اور عدن، حضرموت اور المہرہ میں فوجی یونٹوں کا ہتھیار ڈال دینا، اماراتی اور سعودی عناصر—اور خود ان دونوں ممالک—کے درمیان ملی بھگت کی خبر دیتا ہے۔
دینی بنیادوں پر قائم نظاموں میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار نہایت بنیادی اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے قریبی تعلق نہیں رکھتے، وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے دینی نظام رکھنے والے معاشروں کے واقعات کے تجزیے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:00، 24 جنوری 2026ء

دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت «دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت» اس یادداشت کا عنوان ہے جس میں دی ماہ 1404 ہجری شمسی کے دہشت گردانہ فسادات کے دوران حضرت امام خامنہ‌ای کی جرات مندانہ اور حکیمانہ قیادت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دینی بنیادوں پر قائم نظاموں میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار نہایت بنیادی اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے قریبی تعلق نہیں رکھتے، وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے دینی نظام رکھنے والے معاشروں کے واقعات کے تجزیے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔