مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے نوٹس اور تجزیے" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(2 صارفین 13 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: رد خیانت و توطئه در جنوب یمن (یادداشت).jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل:اربعین زعیم امت اسلام و پیام امام خامنه‌ای (یادداشت).jpg|تصغیر|بائیں]]
'''[[جنوبی یمن میں خیانت اور سازش کی تردید )نوٹس)|جنوبی یمن میں خیانت اور سازش کی تردید]]'''ّ ایک یادداشت کا عنوان ہے جو جنوبی [[یمن]] کی حالیہ صورتِ حال پر نظر ڈالتی ہے، جہاں خیانت اور سازش کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔
 
3 دسمبر 2025ء  کو جنوبی [[یمن]] کے علاقے میں ہم نے فوجی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور سعودی عرب سے وابستہ انتظامی و عسکری عناصر کی جانب سے کسی قابلِ ذکر مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈال دیے گئے۔ بظاہر معاملہ یہ تھا کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی کونسل کے عناصر اقتدار کے پھیلاؤ اور جنوب کو یکجا کرنے کے لیے میدان میں آئے ہیں، لیکن جنوبی صوبوں کی گورنریوں اور ضلعی انتظامیہ کی ہمراہی، اور عدن، حضرموت اور المہرہ میں فوجی یونٹوں کا ہتھیار ڈال دینا، اماراتی اور سعودی عناصر—اور خود ان دونوں ممالک—کے درمیان ملی بھگت کی خبر دیتا ہے۔
'''[[اربعینِ زعیمِ امتِ اسلام اور امام خامنہ ای کے پیغام کا ردِعمل(نوٹس اور تجزیے)|اربعینِ زعیمِ امتِ اسلام اور امام خامنہ ای کے پیغام کا ردِعمل]]'''یہ مضمون [[سید علی  خامنہ ای|امام خامنہ ای]] کے پیغام پر مختلف ردِعمل کا ذکر کرتا ہے، جو سید الشہداء انقلاب امام سید علی خامنہ ای کی شہادت کے چہلم کے موقع پر جاری ہوا۔ 
پیغام کے بنیادی نکات ’’[[آبنائے ہرمز|تنگہ ہرمز]] کے انتظام کے نئے مرحلے‘‘، ’’جنگ اور شہداء کے خون کے نقصانات کا ازالہ‘‘، ’’حملہ آوروں سے انتقام‘‘، ’’محورِ مقاومت کی وحدت‘‘ اور ’’ایران کی کامیابی باوجود نقصانات‘‘ پر مرکوز تھے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 16:09، 19 اپريل 2026ء

اربعینِ زعیمِ امتِ اسلام اور امام خامنہ ای کے پیغام کا ردِعملیہ مضمون امام خامنہ ای کے پیغام پر مختلف ردِعمل کا ذکر کرتا ہے، جو سید الشہداء انقلاب امام سید علی خامنہ ای کی شہادت کے چہلم کے موقع پر جاری ہوا۔ پیغام کے بنیادی نکات ’’تنگہ ہرمز کے انتظام کے نئے مرحلے‘‘، ’’جنگ اور شہداء کے خون کے نقصانات کا ازالہ‘‘، ’’حملہ آوروں سے انتقام‘‘، ’’محورِ مقاومت کی وحدت‘‘ اور ’’ایران کی کامیابی باوجود نقصانات‘‘ پر مرکوز تھے۔