مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/پہلا منتخب مضمون" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(3 صارفین 180 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: تحکیم روابط ایران وعربستان.jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل:امام روح الله.jpg|تصغیر|بدون_چوکھٹا|]]
'''[[سعودی عرب کے وزیر دفاع کا دورہ: ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی طرف ایک قدم]]'''
'''[[لارنس ڈیوڈسن]]''' ، مغربی ایشیا کی تاریخ اور سیاست کے ماہر امریکی تاریخ دان، محقق اور ویسٹ چسٹر یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے پروفیسر ایمریٹس ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کا [[انقلاب اسلامی|اسلامی انقلاب]] بنیادی طور پر ایک عظیم شخصیت [[سید روح اللہ موسوی خمینی|(امام خمینی)]] کا نتیجہ تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] ایک توسیع پسند اور استحصالی قوت ہے جو ایسی حکومتوں کی حمایت کرتی ہے جو اس کی مفاد پرستانہ پالیسیوں میں تعاون کرتی ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈسن کے نزدیک 11 ستمبر کے حملوں اور امریکہ میں [[مسلمان|مسلمانوں]] کو درپیش اسلامو فوبیا کے درمیان براہِ راست تعلق ہے۔[[لارنس ڈیوڈسن | جاری ہے]]
یہ واقعہ سعودی عرب کے وزیر دفاع، خالد بن سلمان، کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے ایران کے دورے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جو جمعرات 28 فروردین 1404 هجری شمسی (مطابق 18 شوال 1446 هجری قمری) کو انجام پایا تھا۔ یہ دورہ، ایران کی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف کی دعوت پر کیا گیا۔ 
<span id="mp-more"> '''[[یوم القدس| جاری ہے.]]'''</span>

حالیہ نسخہ بمطابق 15:01، 3 جون 2026ء

لارنس ڈیوڈسن ، مغربی ایشیا کی تاریخ اور سیاست کے ماہر امریکی تاریخ دان، محقق اور ویسٹ چسٹر یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے پروفیسر ایمریٹس ہیں۔ ان کے نزدیک ایران کا اسلامی انقلاب بنیادی طور پر ایک عظیم شخصیت (امام خمینی) کا نتیجہ تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ امریکہ ایک توسیع پسند اور استحصالی قوت ہے جو ایسی حکومتوں کی حمایت کرتی ہے جو اس کی مفاد پرستانہ پالیسیوں میں تعاون کرتی ہیں۔ ڈاکٹر ڈیوڈسن کے نزدیک 11 ستمبر کے حملوں اور امریکہ میں مسلمانوں کو درپیش اسلامو فوبیا کے درمیان براہِ راست تعلق ہے۔ جاری ہے