مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے منتخب اثر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(2 صارفین 31 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:حرکت اسلامی سودان تاریخ و اهداف، از آغاز تاکنون.png|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل: امت واحده اسلامی و اتحادیه کشورهای اسلامی (کتاب).png |بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[حرکتِ اسلامی سوڈان (کتاب)|حرکتِ اسلامی سوڈان]]''' ایک ایسی کتاب کا عنوان ہے جس میں سوڈان کی گزشتہ ڈیڑھ صدی کی اسلامی تحریک کے بارے میں مقالات اور تراجم شامل ہیں۔ یہ سلسلہ ’’مہدی سوڈانی‘‘ کی قیام سے شروع ہوتا ہے اور بعد ازاں مختلف ناموں جیسے: "حرکتِ اسلامی، [[اخوان المسلمین |اخوان المسلمین سوڈان]]، الجبہۃ الوطنیۃ الإسلامیۃ" وغیرہ کے زیرِ عنوان آگے بڑھتا ہے۔ البتہ اس کتاب کی اصل توجہ گزشتہ نصف صدی میں ’’شیخ حسن الترابی‘‘ کی زیرِ قیادت چلنے والی تحریک پر مرکوز ہے۔ اس مجموعے میں ان تحریکوں کی ملکی سیاست، افریقی مسائل اور عالمِ اسلام سے متعلق پالیسیوں اور کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔ کتاب کے آخری حصّے میں ’’بیداری اسلامی‘‘ کو علمی و تاریخی نقطۂ نظر سے واضح کیا گیا ہے، جو عرب بہار اور عرب ممالک میں جاری سیاسی تبدیلیوں کے بارے میں حقیقت تک رسائی میں مدد دے سکتا ہے۔
'''[[امت واحدہ اسلامی اور اسلامی ممالک کی یونین]]'''،  ایک ایسی کتاب ہے جو [[اسلام]] میں '''"امت واحدہ"''' کے مفہوم اور تصوراتی نمونے کی وضاحت اور [[عالم اسلام]] کے اتحاد کے لیے ایک نئے ڈھانچے کی پیش کش کے مقصد سے لکھی گئی ہے۔ [[قرآن|قرآن کریم]] میں اس تصور کو امت واحدہ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ تمام اسلامی امتوں کے درمیان اتحاد اور [[وحدت اسلامی|وحدت]] آج کے معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔
کتاب کے مصنف [[ایران]] کے سابق سفیر در واتیکان، [[مصر]] (قاہرہ) میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے نمائندہ اور [[عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی|مجمعِ جہانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی]] کی عمومی اسمبلی کے رکن تھے۔ یہ کتاب "پژوهشگاه مطالعاتِ تقریبی" (مجمعِ جہانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی) کی کاوش سے شائع ہوئی ہے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:37، 17 ستمبر 2026ء

امت واحدہ اسلامی اور اسلامی ممالک کی یونین، ایک ایسی کتاب ہے جو اسلام میں "امت واحدہ" کے مفہوم اور تصوراتی نمونے کی وضاحت اور عالم اسلام کے اتحاد کے لیے ایک نئے ڈھانچے کی پیش کش کے مقصد سے لکھی گئی ہے۔ قرآن کریم میں اس تصور کو امت واحدہ کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔ تمام اسلامی امتوں کے درمیان اتحاد اور وحدت آج کے معاشرے کی ایک بنیادی ضرورت ہے۔