مندرجات کا رخ کریں

"اذان" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«تصغیر|بائیں '''اذان''' نماز کے وقت کے اعلان، نماز کی دعوت، اور دینِ اسلام کے ایک شعار کا نام ہے۔ ہر حکومت ہر دور اور زمانے میں اپنی قوم کے جذبات و احساسات کو ابھارنے اور انہیں انفرادی و اجتماعی فرائض کی طرف بلانے کے لیے مختلف نعرو...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:اذان کو اذان کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 73: سطر 73:
==اذان کے اجزا==
==اذان کے اجزا==


اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے، جو بغیر کسی کمی و بیشی کے جبرئیل کے ذریعے نازل ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں، نیز [[ابوبکر بن ابی قحافہ|ابوبکر]] کے دور اور [[عمر]] کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں اذان اسی طرح کہی جاتی تھی۔ تاہم اہلِ سنت ([[شافعیه|شافعی]]، [[حنبلی]]، [[حنفی]] اور [[مالکی]]) اذان کو پندرہ جملوں پر مشتمل قرار دیتے ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک ''حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ'' اذان کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح ''لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ'' بھی صرف ایک مرتبہ کہا جاتا ہے۔<ref>الفقه علی المذاهب الخمسه، محمد جواد مغنیہ، ص ۱۱۹۔</ref>
اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے، جو بغیر کسی کمی و بیشی کے جبرئیل کے ذریعے نازل ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں، نیز [[ابوبکر بن ابی قحافہ|ابوبکر]] کے دور اور [[عمر]] کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں اذان اسی طرح کہی جاتی تھی۔ تاہم اہلِ سنت ([[شافعیه|شافعی]]، [[حنبلی]]، [[حنفی]] اور مالکی) اذان کو پندرہ جملوں پر مشتمل قرار دیتے ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک ''حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ'' اذان کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح ''لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ'' بھی صرف ایک مرتبہ کہا جاتا ہے۔<ref>الفقه علی المذاهب الخمسه، محمد جواد مغنیہ، ص ۱۱۹۔</ref>


شیعہ روایات کے مطابق ''حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ'' رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا، لیکن [[عمر]] نے اسے حذف کر دیا اور اس کی جگہ ''الصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ'' کا اضافہ کیا۔
شیعہ روایات کے مطابق ''حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ'' رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا، لیکن [[عمر]] نے اسے حذف کر دیا اور اس کی جگہ ''الصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ'' کا اضافہ کیا۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:24، 4 ستمبر 2026ء

اذان نماز کے وقت کے اعلان، نماز کی دعوت، اور دینِ اسلام کے ایک شعار کا نام ہے۔ ہر حکومت ہر دور اور زمانے میں اپنی قوم کے جذبات و احساسات کو ابھارنے اور انہیں انفرادی و اجتماعی فرائض کی طرف بلانے کے لیے مختلف نعروں اور شعارات سے کام لیتی ہے۔

عیسائی ماضی میں بھی اور آج بھی ناقوس بجا کر اپنے پیروکاروں کو کلیسا کی طرف بلاتے ہیں، لیکن اسلام میں اس دعوت کے لیے اذان کے شعار کا استعمال کیا جاتا ہے۔

اذان کی تشریع

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد مہاجرین اور انصار رفتہ رفتہ آپ کے گرد جمع ہونے لگے اور اسلامی حکومت قائم کی؛ مسجد بنائی اور نمازِ باجماعت کا اہتمام کیا۔

دن بہ دن دینِ اسلام کی عظمت و شوکت میں اضافہ ہوتا گیا۔ چنانچہ انہیں ایسے ذریعے کی ضرورت محسوس ہوئی جس کے ذریعے لوگوں کو نماز کے وقت سے آگاہ کیا جا سکے۔ اس لیے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مختلف تجاویز پیش کی گئیں، لیکن آپ نے ان میں سے کوئی تجویز قبول نہیں کی، کیونکہ بعض تجاویز یہودیوں کے طریقے پر مبنی تھیں۔ اسی بنا پر ہجرت کے پہلے سال خداوند کے حکم سے جبرئیل کے ذریعے اذان آپ پر نازل ہوئی۔[1]

جعفر بن محمد صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ جب جبرئیل رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اذان لائے تو اس وقت آپ کا سرِ مبارک علی علیہ السلام کی گود میں تھا۔

چنانچہ جبرئیل نے اذان اور اقامت کے کلمات بیان کیے۔ جب حضرت بیدار ہوئے تو فرمایا: اے علی! کیا تم نے سنا؟ انہوں نے عرض کیا: ہاں! آپ نے فرمایا: کیا تم نے اسے یاد کر لیا؟ عرض کیا: ہاں! آپ نے فرمایا: بلال حبشی کو بلاؤ۔ علی علیہ السلام نے بلال کو بلایا۔ جب وہ آئے تو رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اذان سکھائی،[2] اور حکم دیا کہ نماز کے اوقات میں اپنی بلند اور رسا آواز سے اذان دیں۔ وہ تاریخِ اسلام میں پہلے شخص تھے جنہیں مؤذن بننے کا شرف حاصل ہوا۔

اگرچہ دوسری قومیں ناقوس بجا کر یا دیگر ذرائع استعمال کر کے لوگوں کو عبادت گاہوں کی طرف بلاتی ہیں، لیکن اسلامی شریعت میں مؤذن کی اذان مسلمانوں کے مساجد میں خدا کی عبادت کے لیے جمع ہونے کی علامت ہے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ صرف بلال کو اذان کے الفاظ سکھائے بلکہ اس کے اوقات بھی بتائے، اور لوگوں سے فرمایا: بلال وقت کی پابندی کرنے والے شخص ہیں؛ جب بھی وہ اذان دیں، نماز پڑھ لیا کرو۔[3]

اسی لیے جب بلال کے سوزِ دل سے وقت پر اذان کی ملکوتی آواز بلند ہوتی اور لوگوں کے کانوں تک پہنچتی تو وہ ایسی روح کی مانند ہوتی جو مردہ جسم میں پھونک دی گئی ہو اور اسے زندگی بخش دیتی ہو۔[4]

اگرچہ اس زمانے میں ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کی آواز بلال سے زیادہ دل نشیں اور لہجہ زیادہ فصیح تھا، لیکن بلال کی پاک دلی، ایمان اور اخلاص نے انہیں اس بلند مرتبے تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد بلال ہمیشہ رسولِ اکرم کے ساتھ رہے اور اذان دیتے رہے۔

تبلیغ میں اذان کا مقام

اذان تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے، جو اسلام کی دعوت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اذان میں تکبیر، توحید، خداوند کی وحدانیت اور عظمت کی گواہی، رسولِ اکرم کی رسالت کی گواہی، نماز، فلاح اور بہترین اعمال کی طرف دعوت شامل ہے، اور آخر میں لا إله إلا الله پر اختتام ہوتا ہے۔

اذان میں جملوں کا تکرار ایک قابلِ توجہ نکتہ ہے۔ یہ تکرار سامعین کی توجہ موضوع کی اہمیت کی طرف مبذول کرانے والے مؤثر عوامل میں سے ایک ہے۔

جس طرح مبلغین بھی اس بات کے قائل ہیں، ایک پیغام کو بار بار دہرانا ان عوامل میں شامل ہے جو مخاطب کو قائل کرنے، تصدیق کرنے اور ترغیب دینے میں بہت مؤثر ہوتے ہیں۔

اذان ہمیشہ عبادت کے ایک جز، اسلام کے جاوداں شعار اور توحید کی بلند آواز کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے اور آئندہ بھی کی جاتی رہے گی بھی کی جاتی رہے گی۔ اس کی دو خصوصیات ہیں:

  • الف: کوں کو مسلسل سرکوب کرنا۔
  • ب: مسلمانوں کو حق اور فلاح کی طرف بلانا، اور پاکیزگی و اصلاح کا درس دینا۔[5]

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں فرمایا:

إِنَّ الشَّیْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ هَرَبَ؛ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو بھاگ جاتا ہے۔[6]

اور فرمایا:

إِنَّ أَهْلَ السَّمَاءِ لَا یَسْمَعُونَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ شَیْئًا إِلَّا الْأَذَانَ؛ اہلِ آسمان اہلِ زمین کی طرف سے اذان کے علاوہ کوئی چیز نہیں سنتے۔[7]

ان دونوں روایتوں کے مطابق اذان کو معاشرے میں اس طرح نمایاں ہونا چاہیے کہ ایک طرف شیطان کو دور کرے اور شیطانی مظاہر کو نابود کرے، اور دوسری طرف انسان کو عالمِ ملکوتِ اعلیٰ کی سیر کرائے۔ وہ اس کے عرفانی اور روحانی جذبے کو اس طرح معراج تک پہنچا دے کہ گویا آسمان والے اس کی پکار سن رہے ہوں، اس آواز سے لطف اندوز ہو رہے ہوں اور جوش و شوق میں آ رہے ہوں۔

اذان کے فقہی احکام

تمام اسلامی مذاہب اذان کو مستحبِ مؤکد قرار دیتے ہیں، سوائے حنبلی مذہب کے پیروکاروں کے، جو اسے واجبِ کفائی کہتے ہیں۔[8]

اذان کی دو قسمیں ہیں: اذانِ اعلام اور اذانِ نماز، یعنی اقامت۔ اذانِ اعلام اولِ وقت کہی جانی چاہیے، جبکہ اذانِ نماز اس کے فوراً بعد کہی جاتی ہے، خواہ نماز کا آخری وقت ہی کیوں نہ ہو۔

روزانہ کی واجب نمازوں کے لیے اذان مستحب ہے، لیکن عرفہ کے دن عصر کی نماز، جمعہ کے دن عصر کی نماز، اور مزدلفہ میں عشا کی نماز کے لیے اذان ساقط ہے۔

بعض علماء نے کہا ہے کہ ان تین مواقع پر اذان ساقط ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ظہر و عصر اور مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کرنا مستحب ہے۔ چونکہ اذان کا بنیادی مقصد نماز کے وقت کا اعلان کرنا ہے، اس لیے جب سب لوگ دوسری نماز کے لیے تیار ہوں تو اذان کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

البتہ ہر اس دوسری نماز کے لیے بھی اذان ساقط ہے جسے پہلی نماز کے ساتھ جمع کیا جائے۔[9]

مستحب ہے کہ بچے کی پیدائش کے بعد یا اس کا نام رکھنے سے پہلے اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہی جائے، تاکہ اس کی بلند روح میں دل کو بھانے والی باتیں پیوست کی جائیں، اس کے باطن میں حقائق کے بیج بوئے جائیں، اور وہ بچپن و نوجوانی میں انہی بیجوں کے ساتھ پروان چڑھ کر پاکیزگی کے ساتھ ایک مہذب انسان بنے۔

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی بن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا:

یَا عَلِیُّ، إِذَا وُلِدَ لَکَ غُلَامٌ أَوْ جَارِیَةٌ فَأَذِّنْ فِی أُذُنِهِ الْیُمْنَى وَأَقِمْ فِی الْیُسْرَى، فَإِنَّهُ لَا یَضُرُّهُ الشَّیْطَانُ أَبَدًا؛ علی جان! جب بھی تمہارے ہاں بیٹا یا بیٹی پیدا ہو تو اس کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہو، کیونکہ شیطان اسے کبھی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔[10]

اسی طرح بعض فقہی مباحث میں اذان میں عورت کی آواز کے مسئلے پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا عورت کے لیے بھی اذان اور اقامت کہنا مستحب ہے؟ کیا عورت بلند آواز سے اذان اور اقامت کہہ سکتی ہے اور غیر محرم مرد اس کی آواز سن سکتے ہیں، یا وہ صرف عورتوں کی جماعت میں اذان و اقامت کہہ سکتی ہے؟

بعض فقہاء نے غیر محرم عورت کی آواز سننے کو حرام قرار دیا ہے،[11] اور اذان و اقامت کے استحباب کے لیے مرد ہونا شرط قرار دیا ہے،[12] البتہ عورتوں کے لیے اذان و اقامت کہنے کی صورت مستثنیٰ ہے۔

بعض دیگر فقہاء نے عورت کے لیے اذان و اقامت کہنا جائز قرار دیا ہے۔ تاہم بعض علماء نے اس اعتقاد کی بنا پر کہ اذان، اقامت، نمازِ جمعہ اور نمازِ جماعت عورت پر واجب نہیں ہیں، عورت کے لیے اذان و اقامت کے استحباب کی بھی نفی کی ہے؛ لیکن معلوم نہیں کہ یہ بات عورت کی آواز کے حرام ہونے کی علت بن سکتی ہے یا نہیں۔[13]

عمرو بن ابی نصر کہتے ہیں: میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کیا مؤذن بغیر وضو اذان کہہ سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں، لیکن اقامت وضو کے ساتھ کہے۔ میں نے عرض کیا: کیا بیٹھ کر اذان کہہ سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں، لیکن اقامت کھڑے ہو کر کہے۔[14]

اذان کے اجزا

اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے، جو بغیر کسی کمی و بیشی کے جبرئیل کے ذریعے نازل ہوئے۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں، نیز ابوبکر کے دور اور عمر کی خلافت کے ابتدائی زمانے میں اذان اسی طرح کہی جاتی تھی۔ تاہم اہلِ سنت (شافعی، حنبلی، حنفی اور مالکی) اذان کو پندرہ جملوں پر مشتمل قرار دیتے ہیں؛ یعنی ان کے نزدیک حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ اذان کا حصہ نہیں ہے۔ اسی طرح لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ بھی صرف ایک مرتبہ کہا جاتا ہے۔[15]

شیعہ روایات کے مطابق حَیَّ عَلَى خَیْرِ الْعَمَلِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا، لیکن عمر نے اسے حذف کر دیا اور اس کی جگہ الصَّلَاةُ خَیْرٌ مِنَ النَّوْمِ کا اضافہ کیا۔

ایک شخص نے عمر سے پوچھا: اس کی کیا دلیل ہے؟ عمر نے کہا:

إِذَا سَمِعَ عَوَامُّ النَّاسِ أَنَّ الصَّلَاةَ خَیْرُ الْعَمَلِ تَهَاوَنُوا بِالْجِهَادِ وَتَخَلَّفُوا عَنْهُ؛ جب عام لوگ یہ سنیں گے کہ نماز بہترین عمل ہے تو وہ جہاد کے معاملے میں سستی کریں گے اور اس کے لیے میدان میں جانے سے پیچھے رہ جائیں گے۔[16]

اذان کے آثار اور فوائد

اذان ایک ایسی عبادت ہے جس کے مختلف پہلو ہیں، اور اس کے ہر جملے کے تربیتی، معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی آثار و فوائد ہیں۔ ان میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:

  1. یہ بندگانِ خدا کے لیے نماز کا وقت مقرر کرتی ہے۔
  2. یہ اعتقادی مفاہیمِ عالیہ کی تعلیم دیتی ہے۔
  3. یہ لوگوں کو عبادت کی ترغیب دیتی ہے۔
  4. یہ غافل لوگوں کو بیدار کرنے کا سبب بنتی ہے۔
  5. یہ لوگوں کو اتحاد اور یکجہتی کی دعوت دیتی ہے۔
  6. یہ مسلمانوں کو وقت کی پابندی اور کاموں میں نظم و ضبط کی دعوت دیتی ہے۔
  7. یہ شیطان کو دور کرتی ہے۔ جیسا کہ جعفر بن محمد صادق علیہ السلام نے فرمایا: جب تم تنہائی میں خوف زدہ ہو جاؤ اور تمہیں گمان ہو کہ جن میں سے شیاطین تمہارا راستہ روکنا چاہتے ہیں تو اذان کہو۔[17]
  8. یہ بچوں کی روحانی تربیت کے لیے ماحول تیار کرتی ہے۔
  9. اذان غم دور کرنے کا سبب بنتی ہے۔
  10. اگر اذان ایمان اور اخلاص کے ساتھ کہی جائے تو خداوند مؤذن کے گناہ معاف کر دیتا ہے:

مَنْ أَذَّنَ فِی سَبِیلِ اللّٰهِ صَلَاةً وَاحِدَةً إِیمَانًا وَاحْتِسَابًا تَقَرُّبًا إِلَى اللّٰهِ غَفَرَ اللّٰهُ لَهُ سَالِفًا مِنْ ذُنُوبِهِ؛ جو شخص خدا کے لیے ایمان اور اخلاص کے ساتھ، خدا کا قرب حاصل کرنے کی نیت سے ایک نماز کی اذان کہے، خداوند اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیتا ہے۔[18]

  1. یہ رزق میں وسعت کا سبب بنتی ہے۔ سلیمان بن عقیل کہتے ہیں: میں نے حضرت موسیٰ بن جعفر کاظم علیہ السلام سے عرض کیا: انسان کو مؤذن کے ساتھ اذان کیوں کہنی چاہیے؟ آپ نے فرمایا: یہ عمل رزق میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔[19]

حوالہ جات

  1. سیرۃ ابن ہشام، جلد ۱، ص ۱۵۴۔
  2. وسائل الشیعہ، حر عاملی، جلد ۴، ص ۶۱۲۔
  3. مجله مکتب اسلام، سال ۹، شمارہ ۵، ص ۲۰۔
  4. بحار الانوار، جلد ۲۲، ص ۲۴۵۔
  5. اہمیتِ اذان و اقامت، ترجمہ: محمد محمدی اشتهاردی، ص ۲۵۔
  6. کنز العمال، متقی ہندی، حدیث ۲۰۹۵۱۔
  7. میزان الحکمہ، ری شہری، جلد ۱، ص ۸۲۔
  8. دائرۃ المعارف جامع اسلامی، حسینی دشتی، جلد ۲، ص ۶۲۔
  9. ایضاً، ص ۶۵ و ۶۶۔
  10. تحف العقول، ابن شعبہ حرانی، ص ۱۴۔
  11. جواہر الکلام، شیخ حسن نجفی، جلد ۲۹، ص ۹۷۔
  12. مجله پیام زن، سال ۹، شمارہ ۱۰، دی ماہ ۱۳۷۹، ص ۲۷؛ شرائع الاسلام، محقق حلی سے نقل کرتے ہوئے۔
  13. ایضاً، ص ۲۵۔
  14. دائرۃ المعارف جامع اسلامی، جلد ۲، ص ۶۶۔
  15. الفقه علی المذاهب الخمسه، محمد جواد مغنیہ، ص ۱۱۹۔
  16. بحار الانوار، جلد ۸۴، ص ۱۵۶۔
  17. من لا یحضره الفقیه، شیخ صدوق، جلد ۱، ص ۱۹۵۔
  18. بحار الانوار، جلد ۸۴، ص ۱۵۷۔
  19. ایضاً، ص ۱۷۷۔