مندرجات کا رخ کریں

"خمس" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:خمس کو خمس کی جانب منتقل کیا
 
(ایک دوسرے صارف 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 35: سطر 35:
اسلامی احکام ان مصلحتوں اور مفسدوں کے تابع ہیں جو ان کے موضوعات کی ذات میں پوشیدہ ہیں اور یہ احکام کبھی بھی بلاوجہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اسلامی احکام کے ایک بڑے حصے کی حکمت اور فلسفہ آیات اور روایات میں بیان کیا گیا ہے؛ جبکہ اس کے دوسرے حصے کو انسانی عقل، علم اور تجربے کی مدد سے وقت گزرنے کے ساتھ سمجھ سکتی ہے۔ چنانچہ خمس کا وجوب بھی ان مصلحتوں پر مبنی ہے جو اس کی حقیقت میں موجود ہیں، جیسا کہ بعض روایات میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اسلامی احکام ان مصلحتوں اور مفسدوں کے تابع ہیں جو ان کے موضوعات کی ذات میں پوشیدہ ہیں اور یہ احکام کبھی بھی بلاوجہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اسلامی احکام کے ایک بڑے حصے کی حکمت اور فلسفہ آیات اور روایات میں بیان کیا گیا ہے؛ جبکہ اس کے دوسرے حصے کو انسانی عقل، علم اور تجربے کی مدد سے وقت گزرنے کے ساتھ سمجھ سکتی ہے۔ چنانچہ خمس کا وجوب بھی ان مصلحتوں پر مبنی ہے جو اس کی حقیقت میں موجود ہیں، جیسا کہ بعض روایات میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔


مثال کے طور پر امام صادق (علیہ السلام) لوگوں سے خمس لینے کی وجہ کے بارے میں فرماتے تھے: «انّی لَاخُذُ مِنْ احَدِکُمُ الدِّرْهَمَ وَ انّی لَمِنْ اکْثَرِ اهْلِ الْمَدینَةِ مالًا، ما اریدُ بِذلِکَ الَّا انْ تُطَهَّرُوا<ref>علل الشرایع، شیخ صدوق، ص 377-378</ref>؛ میں باوجود اس کے کہ مدینہ کے بیشتر لوگوں سے زیادہ مالدار ہوں، تم سے ایک درہم (خمس) بھی لیتا ہوں اور اس کام سے میرا مقصد صرف تمہارا پاک ہونا ہے»۔
مثال کے طور پر [[جعفر بن محمد|امام صادق]] (علیہ السلام) لوگوں سے خمس لینے کی وجہ کے بارے میں فرماتے تھے: «انّی لَاخُذُ مِنْ احَدِکُمُ الدِّرْهَمَ وَ انّی لَمِنْ اکْثَرِ اهْلِ الْمَدینَةِ مالًا، ما اریدُ بِذلِکَ الَّا انْ تُطَهَّرُوا<ref>علل الشرایع، شیخ صدوق، ص 377-378</ref>؛ میں باوجود اس کے کہ مدینہ کے بیشتر لوگوں سے زیادہ مالدار ہوں، تم سے ایک درہم (خمس) بھی لیتا ہوں اور اس کام سے میرا مقصد صرف تمہارا پاک ہونا ہے»۔


جیسا کہ اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت (علیہم السلام) معاشی اور گزر اوقات کے لحاظ سے دوسروں کی مدد کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ خمس کا بنیادی فلسفہ اس حکومت کا انتظام چلانا ہے جس کے سربراہ وہ معصوم ہستیاں ہیں تاکہ لوگوں کو پاکیزگی کی طرف رہنمائی کریں۔ اسی بنیاد پر بعض روایات میں خمس کو "حقِ امارت و حکومت" کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔
جیسا کہ اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت (علیہم السلام) معاشی اور گزر اوقات کے لحاظ سے دوسروں کی مدد کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ خمس کا بنیادی فلسفہ اس حکومت کا انتظام چلانا ہے جس کے سربراہ وہ معصوم ہستیاں ہیں تاکہ لوگوں کو پاکیزگی کی طرف رہنمائی کریں۔ اسی بنیاد پر بعض روایات میں خمس کو "حقِ امارت و حکومت" کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔


[[علی بن ابی طالب|حضرت علی (علیہ السلام)]] فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی معیشت اور زندگی کے جو اسباب اور طریقے [[قرآن]] میں بیان فرمائے ہیں وہ پانچ ہیں: امارت و حکومت، تعمیر و ترقی، اجرت (نوکری)، تجارت اور صدقات؛ لیکن امارت و حکومت کا شعبہ وہی خمس ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {{متن قرآن |وَاعْلَمُوا انَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْ ءٍ فَانَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبی وَالْیَتامی وَالْمَساکینِ...|سوره = انفال |آیه = 41}} جان لو کہ جو کچھ تمہیں غنیمت حاصل ہو، اس کا خمس اللہ، رسول، رسول کے قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے لیے ہے<ref> وسائل الشیعه، ج 6، ص 341</ref>»۔
[[علی ابن ابی طالب|حضرت علی (علیہ السلام)]] فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی معیشت اور زندگی کے جو اسباب اور طریقے [[قرآن]] میں بیان فرمائے ہیں وہ پانچ ہیں: امارت و حکومت، تعمیر و ترقی، اجرت (نوکری)، تجارت اور صدقات؛ لیکن امارت و حکومت کا شعبہ وہی خمس ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاعْلَمُوا انَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْ ءٍ فَانَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبی وَالْیَتامی وَالْمَساکینِ...سوره = انفال/آیه = 41 جان لو کہ جو کچھ تمہیں غنیمت حاصل ہو، اس کا خمس اللہ، رسول، رسول کے قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے لیے ہے<ref> وسائل الشیعه، ج 6، ص 341</ref>»۔


اس حدیث شریف اور آیت کریمہ کے پیش نظر، فقہ شیعہ کی رو سے خمس بنیادی طور پر اللہ کا مال ہے<ref>اللہ کا مال ہے؛ یعنی یہ اللہ کا حق ہے جسے خمس دینے والے کو اللہ کی راہ (فی سبیل اللہ) میں خرچ کرنا چاہیے، تاہم اللہ نے اپنا یہ حصہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے خاندان کے لیے قرار دیا ہے اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال کا خمس پیغمبر، امام معصوم علیہ السلام یا ان کے نائب کو ادا کرے</ref> جو الٰہی نظامِ حکومت میں مقامِ رسالت اور امامت کے اختیار میں دیا جاتا ہے، اور غیبت کے زمانے میں یہ [[ولی فقیہ]]، [[مجتہد|مجتہد جامع الشرائط]]، جو عالم باللہ اور حلال و حرام الٰہی کے امین ہوں، کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسے مسلمانوں کے مفادات، اسلامی ثقافت و تعلیمات کی ترویج، تبلیغات، دفاعی اداروں کے قیام وغیرہ میں استعمال کریں۔ اسی لیے مقامِ [[ولایت]]، [[امامت]] اور قیادت کے امور کا انتظام، دینی و اسلامی مراکز کی تقویت، [[حکومت اسلامی|اسلامی حکومت]] کے معاشی ڈھانچے کی مضبوطی، اس کی آزادی و خودمختاری کی ضمانت، اور معاشرے (بالخصوص [[سادات]]) کی محرومیوں اور ضرورتوں کو دور کرنا خمس کے آثار و برکات میں سے ہو گا۔
اس حدیث شریف اور آیت کریمہ کے پیش نظر، فقہ شیعہ کی رو سے خمس بنیادی طور پر اللہ کا مال ہے<ref>اللہ کا مال ہے؛ یعنی یہ اللہ کا حق ہے جسے خمس دینے والے کو اللہ کی راہ (فی سبیل اللہ) میں خرچ کرنا چاہیے، تاہم اللہ نے اپنا یہ حصہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے خاندان کے لیے قرار دیا ہے اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال کا خمس پیغمبر، امام معصوم علیہ السلام یا ان کے نائب کو ادا کرے</ref> جو الٰہی نظامِ حکومت میں مقامِ رسالت اور امامت کے اختیار میں دیا جاتا ہے، اور غیبت کے زمانے میں یہ [[ولايت فقیہ|ولی فقیہ]]، [[مرجع تقلید|مجتہد جامع الشرائط]]، جو عالم باللہ اور حلال و حرام الٰہی کے امین ہوں، کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسے مسلمانوں کے مفادات، اسلامی ثقافت و تعلیمات کی ترویج، تبلیغات، دفاعی اداروں کے قیام وغیرہ میں استعمال کریں۔ اسی لیے مقامِ ولایت، [[امامت]] اور قیادت کے امور کا انتظام، دینی و اسلامی مراکز کی تقویت، اسلامی حکومت کے معاشی ڈھانچے کی مضبوطی، اس کی آزادی و خودمختاری کی ضمانت، اور معاشرے (بالخصوص سادات) کی محرومیوں اور ضرورتوں کو دور کرنا خمس کے آثار و برکات میں سے ہو گا۔


امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا: «انَّ الْخُمْسَ عَوْنُنا عَلی دینِنا وَ عَلی عَیالاتِنا وَ عَلی مَوالینا<ref> جامع احادیث الشیعه، ج 8، ص 581</ref>؛ بیشک خمس ہمارے دین (دینی مقاصد)، ہمارے خاندان اور ہمارے دوستوں کے لیے ایک مددگار ہے»۔
[[علی بن موسی|امام رضا]] (علیہ السلام) نے فرمایا: «انَّ الْخُمْسَ عَوْنُنا عَلی دینِنا وَ عَلی عَیالاتِنا وَ عَلی مَوالینا<ref> جامع احادیث الشیعه، ج 8، ص 581</ref>؛ بیشک خمس ہمارے دین (دینی مقاصد)، ہمارے خاندان اور ہمارے دوستوں کے لیے ایک مددگار ہے»۔


اسی بنیاد پر مومنین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آئین و مذہب کی بقا اور ترویج کے لیے مالی قربانی دیں اور اپنے اموال کا خمس ادا کر کے اسلامی حکومت کی ملک کے انتظام اور تمام ثقافتی، معاشی، سیاسی اور فوجی میدانوں میں اس کی خودمختاری برقرار رکھنے میں مدد کریں<ref>احکام اقتصادی (ج 1)، ص 19</ref>۔
اسی بنیاد پر مومنین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آئین و مذہب کی بقا اور ترویج کے لیے مالی قربانی دیں اور اپنے اموال کا خمس ادا کر کے اسلامی حکومت کی ملک کے انتظام اور تمام ثقافتی، معاشی، سیاسی اور فوجی میدانوں میں اس کی خودمختاری برقرار رکھنے میں مدد کریں<ref>احکام اقتصادی (ج 1)، ص 19</ref>۔
سطر 50: سطر 50:
* [[فقہ]]
* [[فقہ]]
* [[فروع دین]]
* [[فروع دین]]
* [[سادات]]
* [[زکوۃ]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

حالیہ نسخہ بمطابق 14:00، 31 اگست 2026ء

خمس ایک فقهی اصطلاح ہے جس سے مراد سالانہ آمدنی کے اخراجات سے بچنے والے حصے (مازاد درآمد) اور کچھ دیگر چیزوں جیسے کہ معدنیات (کان) اور خزانے سے مخصوص شرائط کے تحت جو فقہ میں بیان کی گئی ہیں، بیس فیصد (پانچواں حصہ) ادا کرنا ہے۔ خمس فروع دین میں سے ہے اور سورہ انفال کی آیت ۴۱ اور روائی کتب میں ۱۱۰ سے زائد احادیث میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

خمس اسلامی فقہ اور خاص طور پر فقہ امامیہ کے اہم موضوعات میں سے ہے۔ خمس کا حساب کتاب اور اس کی ادائیگی ان فرائض میں سے ہے جن پر شیعیانِ علی اپنی زندگی میں خاص توجہ دیتے ہیں۔

خمس کا نصف حصہ غریب سادات کے لیے مخصوص ہے اور دوسرا نصف حصہ سہم امام کے طور پر امام زمانہ کی غیبت کے دوران مراجع تقلید کے ذریعے ان امور میں خرچ کیا جاتا ہے جنہیں وہ اہلِ بیت (علیہم السلام) کی سیرت اور تاریخ زندگی کی روشنی میں خمس کے مصارف کے طور پر تشخیص دیتے ہیں۔

خمس کی ادائیگی سے حاصل ہونے والے وجوہات شرعیہ (مالی رقوم)، حوزہ علمیہ اور اسلامی معاشرے میں ترویج دین کے بنیادی مالی منابع (ذرائع) میں سے ایک ہیں۔

خمس لغت میں

لغت میں خمس کے معنی پانچویں حصے (ایک بٹا پانچ) کے ہیں اور اصطلاح فقہ میں اس سے مراد آمدنی اور غنیمت کا وہ پانچواں حصہ ہے جو مخصوص شرائط کے تحت ادا کیا جانا ضروری ہے[1]۔ پس اصطلاح شرع میں خُمُس یا خُمس ایک ایسا حق ہے جس کا مال سے نکالنا واجب ہے اور بنی ہاشم اس کے مستحق ہیں[2]۔

خمس قرآن میں

خداوند متعال نے درج ذیل آیت میں خمس کے وجوب اور اس کے مصارف کو خلاصے کے طور پر بیان فرمایا ہے اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے:

وَاعْلَمُوا أَنَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْ ءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبی وَالْیَتامی وَالْمَساکِینِ وَابْنِ السَّبِیلِ إِنْ کُنْتُمْ آمَنْتُمْ بِاللَّهِ وَ ما أَنْزَلْنا عَلی عَبْدِنا. سوره = انفال آیه = 41 (اے مومنو!) جان لو کہ جو کچھ بھی تمہیں غنیمت اور فائدہ حاصل ہو (خواہ کم ہو یا زیادہ)، اس کا خمس (پانچواں حصہ) مخصوص طور پر اللہ، رسول، اور ان کے قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے۔

اگرچہ غنیمت سے عام طور پر وہ چیز مراد لی جاتی ہے جو جنگ میں دشمن سے حاصل ہو، لیکن اہل لغت کے اقوال کے پیش نظر جنہوں نے غنیمت کو مطلق نفع اور فائدے کے معنی میں لیا ہے، اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) سے مروی کثیر روایات کے مطابق، خمس کی یہ آیت دیگر فوائد اور منافع کو بھی شامل کرتی ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: «وَاخراجُ الخُمسِ مِنْ کلِّ مایَملِکُهُ اَحَدٌ مِنَ‌ النّاس[3]؛ خمس ہر اس چیز سے نکالا جائے گا جس کا کوئی انسان مالک بنتا ہے»۔

اور ایک شخص نے امام موسی بن جعفر (علیہ السلام) سے سوال کیا کہ کس چیز سے خمس دیا جانا چاہیے؟ آپ نے فرمایا: «فی کُلِّ ما اَفادَ النّاسُ مِنْ قَلیلٍ اَوْ کَثیرٍ[4]؛ ہر اس چیز میں جس سے لوگ فائدہ حاصل کریں، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ (اس کا خمس دینا واجب ہے)»۔

رسول اکرم اور ائمہ معصومین (علیہم السلام) کی سیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جو جنگی غنائم کے علاوہ دیگر چیزوں سے بھی خمس لیا کرتے تھے، اور ان متعدد واقعات کی روشنی میں جو نقل ہوئے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خمس دینے کا حکم فرماتے تھے؛ منجملہ آپ نے قبیلہ بنی قیس کو لکھا: «فَاَنتُم اِنْ اَقَمْتُمُ الصَّلوهَ و آتَیتُم الزَّکوهَ و اَعطَیتُم سهمَ اللهِ و الصفِی فَاَنتُمْ آمِنونَ[5]؛ اگر تم نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو اور اللہ کا حصہ (خمس) اور صفی (مال غنیمت کا چنیدہ حصہ) ادا کرو تو تم امان میں ہو»۔

اور آپ (ص) جس طرح زکوۃ جمع کرنے کے لیے افراد کو بھیجتے تھے، اسی طرح خمس لینے کے لیے بھی کارندے روانہ فرماتے تھے؛ چنانچہ آپ نے علی (علیہ السلام) کو یمن بھیجا اور حکم دیا کہ ان سے خمس وصول کریں[6] اور بنی اسد کے ایک شخص کو بھی خمس وصول کرنے پر مامور فرمایا[7]۔ لہٰذا اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ خمس کی آیت سے مقصود جنگی غنائم کے علاوہ دیگر منافع میں بھی خمس کا لزوم ہے۔ اسی بات اور متعدد دیگر روایات و دستاویزات کے پیش نظر، علمائے شیعہ نے فتویٰ دیا ہے کہ مذکورہ آیت دیگر منافع کو بھی شامل کرتی ہے اور جنگی غنائم کے خمس کے علاوہ دیگر چھ امور میں بھی (جن کا ذکر بعد میں آئے گا) خمس کی ادائیگی کو واجب قرار دیا ہے۔

اور ایک قابل توجہ نقطہ جس کی طرف مذکورہ آیت نے اشارہ کیا ہے، خمس کی اہمیت ہے جہاں ارشاد ہوتا ہے: "تمہیں جو بھی نفع حاصل ہو اس کا خمس ادا کرو، اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے"؛ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگر کسی پر خمس واجب ہو اور وہ اسے ادا کرنے سے گریز کرے، تو وہ اللہ اور جو کچھ رسول پر نازل ہوا ہے، اس پر ایمان و اعتقاد نہیں رکھتا[8]۔

خمس روایات میں

  1. امام رضا (علیہ السلام) فرماتے ہیں: کوئی بھی مال حلال نہیں ہوتا مگر اسی راہ سے جسے اللہ نے حلال کیا ہے؛ خمس ہمارے دین کی تقویت، ہمارے اہل و عیال کی کفالت اور ہمارے دوستوں کی مدد کے لیے ہمارا پشت پناہ ہے۔ خمس کے ذریعے ہم اپنی آبرو کو ان لوگوں سے محفوظ رکھتے ہیں جن کی طاقت کا ہمیں خوف ہے۔ پس خمس کو ہم سے دریغ نہ کرو اور خود کو ہماری دعا سے محروم نہ کرو[9]۔
  2. قالَ‌ الباقِر: «لایحلُّ لاَحدٍ ان یَشْتَرِیَ منَ الخُمسِ شَیْئاً حَتّی یَصِلَ الَینا حَقَّنا[10]؛ ابو بصیر کہتے ہیں کہ امام باقر (علیہ السلام) نے فرمایا: کسی کے لیے بھی یہ حلال نہیں ہے کہ وہ خمس کے مال (جس مال کا خمس نہ دیا گیا ہو) سے کوئی چیز خریدے جب تک کہ ہمارا حق ہم تک نہ پہنچا دے۔
  3. کافی میں اپنی سند کے ساتھ علی بن ابراہیم سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے، انہوں نے حسین بن عثمان سے اور انہوں نے سماعہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام ابو الحسن (علیہ السلام) سے خمس کے مسئلے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: خمس ہر اس فائدے میں واجب ہے جو لوگ حاصل کرتے ہیں، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ[11]۔
  4. امام صادق (علیہ السلام) فرماتے ہیں: بیشک وہ اللہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، چونکہ اس نے زکوۃ کو ہمارے لیے حرام قرار دیا ہے، اس لیے ہمارے لیے خمس قرار دیا ہے۔ پس زکوۃ کو ہم پر حرام کیا اور خمس کو ہمارے لیے (ہمیں خمس دینا) واجب کیا ہے اور کرامت (تحفہ و ہدیہ) ہمارے لیے حلال ہے[12]۔

فلسفہ خمس

اسلامی احکام ان مصلحتوں اور مفسدوں کے تابع ہیں جو ان کے موضوعات کی ذات میں پوشیدہ ہیں اور یہ احکام کبھی بھی بلاوجہ مقرر نہیں کیے گئے۔ اسلامی احکام کے ایک بڑے حصے کی حکمت اور فلسفہ آیات اور روایات میں بیان کیا گیا ہے؛ جبکہ اس کے دوسرے حصے کو انسانی عقل، علم اور تجربے کی مدد سے وقت گزرنے کے ساتھ سمجھ سکتی ہے۔ چنانچہ خمس کا وجوب بھی ان مصلحتوں پر مبنی ہے جو اس کی حقیقت میں موجود ہیں، جیسا کہ بعض روایات میں اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

مثال کے طور پر امام صادق (علیہ السلام) لوگوں سے خمس لینے کی وجہ کے بارے میں فرماتے تھے: «انّی لَاخُذُ مِنْ احَدِکُمُ الدِّرْهَمَ وَ انّی لَمِنْ اکْثَرِ اهْلِ الْمَدینَةِ مالًا، ما اریدُ بِذلِکَ الَّا انْ تُطَهَّرُوا[13]؛ میں باوجود اس کے کہ مدینہ کے بیشتر لوگوں سے زیادہ مالدار ہوں، تم سے ایک درہم (خمس) بھی لیتا ہوں اور اس کام سے میرا مقصد صرف تمہارا پاک ہونا ہے»۔

جیسا کہ اس حدیث شریف سے واضح ہوتا ہے کہ اہل بیت (علیہم السلام) معاشی اور گزر اوقات کے لحاظ سے دوسروں کی مدد کے محتاج نہیں ہیں، بلکہ خمس کا بنیادی فلسفہ اس حکومت کا انتظام چلانا ہے جس کے سربراہ وہ معصوم ہستیاں ہیں تاکہ لوگوں کو پاکیزگی کی طرف رہنمائی کریں۔ اسی بنیاد پر بعض روایات میں خمس کو "حقِ امارت و حکومت" کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔

حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی معیشت اور زندگی کے جو اسباب اور طریقے قرآن میں بیان فرمائے ہیں وہ پانچ ہیں: امارت و حکومت، تعمیر و ترقی، اجرت (نوکری)، تجارت اور صدقات؛ لیکن امارت و حکومت کا شعبہ وہی خمس ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: وَاعْلَمُوا انَّما غَنِمْتُمْ مِنْ شَیْ ءٍ فَانَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِی الْقُرْبی وَالْیَتامی وَالْمَساکینِ...سوره = انفال/آیه = 41 جان لو کہ جو کچھ تمہیں غنیمت حاصل ہو، اس کا خمس اللہ، رسول، رسول کے قرابت داروں، یتیموں اور مسکینوں کے لیے ہے[14]»۔

اس حدیث شریف اور آیت کریمہ کے پیش نظر، فقہ شیعہ کی رو سے خمس بنیادی طور پر اللہ کا مال ہے[15] جو الٰہی نظامِ حکومت میں مقامِ رسالت اور امامت کے اختیار میں دیا جاتا ہے، اور غیبت کے زمانے میں یہ ولی فقیہ، مجتہد جامع الشرائط، جو عالم باللہ اور حلال و حرام الٰہی کے امین ہوں، کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ وہ اسے مسلمانوں کے مفادات، اسلامی ثقافت و تعلیمات کی ترویج، تبلیغات، دفاعی اداروں کے قیام وغیرہ میں استعمال کریں۔ اسی لیے مقامِ ولایت، امامت اور قیادت کے امور کا انتظام، دینی و اسلامی مراکز کی تقویت، اسلامی حکومت کے معاشی ڈھانچے کی مضبوطی، اس کی آزادی و خودمختاری کی ضمانت، اور معاشرے (بالخصوص سادات) کی محرومیوں اور ضرورتوں کو دور کرنا خمس کے آثار و برکات میں سے ہو گا۔

امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا: «انَّ الْخُمْسَ عَوْنُنا عَلی دینِنا وَ عَلی عَیالاتِنا وَ عَلی مَوالینا[16]؛ بیشک خمس ہمارے دین (دینی مقاصد)، ہمارے خاندان اور ہمارے دوستوں کے لیے ایک مددگار ہے»۔

اسی بنیاد پر مومنین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے آئین و مذہب کی بقا اور ترویج کے لیے مالی قربانی دیں اور اپنے اموال کا خمس ادا کر کے اسلامی حکومت کی ملک کے انتظام اور تمام ثقافتی، معاشی، سیاسی اور فوجی میدانوں میں اس کی خودمختاری برقرار رکھنے میں مدد کریں[17]۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. احکام اقتصادی (ج 1)، ص 19
  2. مجمع البحرین ج۴، ص۶۶
  3. جامع الاحادیث، ج 8، ص 546
  4. وسائل، ج 6، باب 8، ‌ص 350، ح 6
  5. اسدالغابه، ج 1، ص 328
  6. بحارالانوار، ج 21، ص 360
  7. تفسیر عیاشی، ج 2، ص 93
  8. فروع دین، غلامحسین رحیمی، ص 31
  9. وسائل الشیعه، ج 6، ص 375
  10. وسائل، ج 6، ص 337، ح 4
  11. کافی، ج 1، ص 545
  12. وسائل، ج 6، ص 337، h 2
  13. علل الشرایع، شیخ صدوق، ص 377-378
  14. وسائل الشیعه، ج 6، ص 341
  15. اللہ کا مال ہے؛ یعنی یہ اللہ کا حق ہے جسے خمس دینے والے کو اللہ کی راہ (فی سبیل اللہ) میں خرچ کرنا چاہیے، تاہم اللہ نے اپنا یہ حصہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے خاندان کے لیے قرار دیا ہے اور انسان پر لازم ہے کہ وہ اپنے مال کا خمس پیغمبر، امام معصوم علیہ السلام یا ان کے نائب کو ادا کرے
  16. جامع احادیث الشیعه، ج 8، ص 581
  17. احکام اقتصادی (ج 1)، ص 19