[[فائل:دشواریهای آمریکا و اسرائیل در مواجهه با ایران.jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل: تجلی وحدت ملی در بدرقه امام شهید (تحلیل) 2.jpg|تصغیر|بائیں]]
[[امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ساتھ نمٹنے میں درپیش مشکلات(نوٹس)|امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ساتھ نمٹنے میں درپیش مشکلات،]] ایک ایسے نوٹ کا عنوان ہے جو یہودی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی آف امریکہ (JINSA) کے شائع کردہ نوٹ کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ یہ ادارہ، جو AIPAC سے وابستہ ہے، نے حال ہی میں “فتح کو مستحکم کرنا؛ 12 روزہ جنگ کے بعد [[ایران]] کے خلاف امریکی حکمت عملی” کے عنوان سے ایک مشاورتی دستاویز جاری کی ہے، جس کے سامعین میں امریکی، یورپی، جاپان اور کوریا جیسے کچھ مشرقی ایشیائی ممالک کے رہنما، اور کچھ عرب رہنما شامل ہیں۔
''' [[امامِ شہید کی آخری رخصتی میں قومی وحدت کی تجلی (نوٹس)|امامِ شہید کی آخری رخصتی میں قومی وحدت کی تجلی]] ''' ایک تجزیاتی عنوان ہے جو [[سید علی خامنہ ای|امامِ شہید]] کی وداع، آخری بدرقہ اور تشییع کے سماجیاتی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مزاحمتی قیادت کی تشییعِ جنازہ [[ایران]] کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سماجی سرمایہ کی تجدید اور قومی یکجہتی کے استحکام کا ایک اہم موڑ سمجھی جاتی رہی ہے۔
'''[[اسرائیلی غاصبانہ اقدامات کا تریاق(نوٹس)|اسرائیلی غاصبانہ اقدامات کا تریاق]]'''" یہ نوٹس ایک سال کے دوران [[اسرائیل|صیہونی حکومت]] کے طرز عمل کے موضوع سے متعلق ہے ۔ یہ نمونہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ جنگ اور جنگ بندی کے بجائے، اس نے مزاحمت کے مختلف حصوں کے خلاف "غیر مربوط کارروائیوں اور سیکورٹی اقدامات (ٹارگٹ کلنگ)" کو اپنے ایجنڈے میں شامل کیا ہے۔
[[لبنان]]، [[یمن]] اور [[غزہ]] کے ساتھ صیہونی حکومت کا برتاؤ اسی ماڈل پر زور دیتا ہے۔ ان محاذوں پر جنگ کا تجربہ کرنے کے بعد اس طرز عمل کو اپنایا گیا ہے اور یہ خود ثابت کرتا ہے کہ [[اسرائیل]] نے شکست کو تسلیم کرتے ہوئے جنگ سے تو کنارہ کشی اختیار کر لی ہے لیکن مزاحمت کے محاذوں کو الجھا کر رکھنا اپنے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
حالیہ نسخہ بمطابق 13:37، 19 جولائی 2026ء
امامِ شہید کی آخری رخصتی میں قومی وحدت کی تجلی ایک تجزیاتی عنوان ہے جو امامِ شہید کی وداع، آخری بدرقہ اور تشییع کے سماجیاتی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرتا ہے۔ مزاحمتی قیادت کی تشییعِ جنازہ ایران کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ سماجی سرمایہ کی تجدید اور قومی یکجہتی کے استحکام کا ایک اہم موڑ سمجھی جاتی رہی ہے۔