مندرجات کا رخ کریں

"سینٹکام" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{خانہ معلومات پارٹی
| عنوان =
| تصویر =  سنتکام.jpg
| نام =  یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ (United States Central Command)
| قیام کی تاریخ = 1980ء
| بانی =  امریکی وزارتِ دفاع
| رہنما =  چارلس بریڈفورڈ "بریڈ"
| مقاصد = مشرقِ وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور وسطی ایشیا کے بعض حصوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کی قیادت اور ہم آہنگی کی ذمہ دار}} 
'''سینٹکام'''، جسے انگریزی میں یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ (United States Central Command) کہا جاتا ہے، [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کی متحدہ جنگی کمانڈز میں سے ایک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور وسطی ایشیا کے بعض حصوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کی قیادت اور ہم آہنگی کی ذمہ دار ہے۔ یہ کمانڈ یکم جنوری 1983ء کو قائم کی گئی اور اس کا صدر دفتر ریاست فلوریڈا میں واقع میک ڈِل ایئر فورس بیس میں ہے۔
'''سینٹکام'''، جسے انگریزی میں یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ (United States Central Command) کہا جاتا ہے، [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کی متحدہ جنگی کمانڈز میں سے ایک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور وسطی ایشیا کے بعض حصوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کی قیادت اور ہم آہنگی کی ذمہ دار ہے۔ یہ کمانڈ یکم جنوری 1983ء کو قائم کی گئی اور اس کا صدر دفتر ریاست فلوریڈا میں واقع میک ڈِل ایئر فورس بیس میں ہے۔


سطر 92: سطر 101:
جب امریکہ نے 8 اپریل 2019ء (19 فروردین 1398ھ ش) کو [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی]] کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا، تو اس کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے سینٹکام اور اس سے وابستہ افواج کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔
جب امریکہ نے 8 اپریل 2019ء (19 فروردین 1398ھ ش) کو [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی]] کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا، تو اس کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے سینٹکام اور اس سے وابستہ افواج کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔


اسی طرح، ایرانی پارلیمان (مجلسِ شورای اسلامی) نے 23 اپریل 2019ء (3 اردیبهشت 1398ھ ش) کو منظور کیے گئے جوابی اقدام کے قانون کے تحت امریکی مرکزی کمان اور اس سے وابستہ تمام افواج اور اداروں کو دہشت گرد قرار دیا۔
اسی طرح، ایرانی پارلیمان (مجلسِ شورای اسلامی) نے 23 اپریل 2019ء (3 اردیبهشت 1398ھ ش) کو منظور کیے گئے جوابی اقدام کے قانون کے تحت امریکی مرکزی کمان اور اس سے وابستہ تمام افواج اور اداروں کو دہشت گرد قرار دیا<ref>[https://www.tabnak.ir/fa/tags/96344/1/%D8%B3%D9%86%D8%AA%DA%A9%D8%A7%D9%85 در مورد سنتکام در ویکی تابناک بیشتر بخوانید]-شائع شدہ از: 13 خرداد 1405ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2026ء</ref>۔


== سینٹکام اور پینٹاگون میں فرق ==
== سینٹکام اور پینٹاگون میں فرق ==


پینٹاگون امریکی وزارتِ دفاع کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور پوری امریکی مسلح افواج کی پالیسی سازی اور انتظام کا مرکز ہے، جبکہ سینٹکام ایک علاقائی عملیاتی کمانڈ ہے، جس کی ذمہ داری مخصوص جغرافیائی حدود میں فوجی کارروائیوں کا انتظام اور افواج کی قیادت کرنا ہے۔
پینٹاگون امریکی وزارتِ دفاع کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور پوری امریکی مسلح افواج کی پالیسی سازی اور انتظام کا مرکز ہے، جبکہ سینٹکام ایک علاقائی عملیاتی کمانڈ ہے، جس کی ذمہ داری مخصوص جغرافیائی حدود میں فوجی کارروائیوں کا انتظام اور افواج کی قیادت کرنا ہے<ref>[https://namnak.com/united-states-central-command.p115700 سنتکام چیست، کجاست و چه میکند؟]-شائع 18 بہمن 14044ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2026ء</ref>۔


== متعلقہ تلاشیں ==
== متعلقہ تلاشیں ==
سطر 103: سطر 112:
* [[افغانستان]]
* [[افغانستان]]
* [[عراق]]
* [[عراق]]
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}

حالیہ نسخہ بمطابق 17:03، 17 جون 2026ء

سینٹکام
پارٹی کا نامیونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ (United States Central Command)
بانی پارٹیامریکی وزارتِ دفاع
پارٹی رہنماچارلس بریڈفورڈ "بریڈ"
مقاصد و مبانیمشرقِ وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور وسطی ایشیا کے بعض حصوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کی قیادت اور ہم آہنگی کی ذمہ دار

سینٹکام، جسے انگریزی میں یونائیٹڈ اسٹیٹس سینٹرل کمانڈ (United States Central Command) کہا جاتا ہے، امریکہ کی متحدہ جنگی کمانڈز میں سے ایک ہے، جو مشرقِ وسطیٰ، مشرقی افریقہ اور وسطی ایشیا کے بعض حصوں میں امریکی فوجی کارروائیوں کی قیادت اور ہم آہنگی کی ذمہ دار ہے۔ یہ کمانڈ یکم جنوری 1983ء کو قائم کی گئی اور اس کا صدر دفتر ریاست فلوریڈا میں واقع میک ڈِل ایئر فورس بیس میں ہے۔

تاریخچہ

مشرقِ وسطیٰ کی بڑھتی ہوئی تزویراتی اہمیت، خصوصاً ایران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران اور افغانستان پر سوویت حملے کے بعد، صدر جمی کارٹر کی حکومت نے 1980ء میں "جوائنٹ ریپڈ ڈیپلائمنٹ ٹاسک فورس" قائم کی۔

یہ ڈھانچہ یکم جنوری 1983ء کو امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) میں تبدیل ہوگیا۔ بعد کے عشروں میں سینٹکام نے خلیج فارس کی جنگ، افغانستان کی جنگ اور عراق کی جنگ جیسی اہم فوجی کارروائیوں کی قیادت کی۔

اہداف اور ذمہ داریاں

امریکی سرکاری دستاویزات کے مطابق، سینٹکام اپنے اتحادیوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے علاقائی سلامتی کو فروغ دینے، سرحد پار خطرات کا مقابلہ کرنے، بحرانوں کے انتظام اور اپنے دائرۂ اختیار میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتا ہے۔

اس کمانڈ کی اہم ذمہ داریاں درج ذیل ہیں:

  • فوجی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور ان کا نفاذ؛
  • امریکہ کے اتحادی افواج کے ساتھ ہم آہنگی؛
  • علاقائی سلامتی کے خطرات کا مقابلہ؛
  • اہم بحری راستوں کا تحفظ؛
  • انسدادِ دہشت گردی کے مشنز کی معاونت۔

جغرافیائی دائرۂ اختیار

سینٹکام کے دائرۂ اختیار میں درج ذیل ممالک شامل ہیں:

اڈے

سینٹکام اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے خطے میں متعدد فوجی اڈوں سے استفادہ کرتی ہے، جن میں قطر، بحرین اور کویت کے اڈے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح بحرین میں تعینات امریکی بحریہ کا پانچواں بحری بیڑہاس کمانڈ کے اہم عملی ذیلی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔

کمانڈر

سینٹکام کے قیام سے اب تک اس کے کمانڈرز یہ رہے ہیں:

  • رابرٹ کنگسٹن (1983–1985ء)؛
  • جارج بی کرسٹ (1985–1988ء)؛
  • نورمن شوارزکوف جونیئر (1988–1991ء)؛
  • جوزف پی ہوار (1991–1994ء)؛
  • جے ایچ بنفورڈ پیی سوم (1994–1997ء)؛
  • انتھونی زینی (1997–2000ء)؛
  • ٹومی فرانکس (2000–2003ء)؛
  • جان ابی زید (2003–2007ء)؛
  • ولیم فیلن (2007–2008ء)؛
  • ڈیوڈ پیٹریاس (2008–2010ء)؛
  • جیمز میٹس (2010–2013ء)؛
  • لوئیڈ آسٹن (2013–2016ء)؛
  • جوزف ووٹل (2016–2019ء)؛
  • کینتھ میک کینزی جونیئر (2019–2022ء)؛
  • مائیکل ایرک کوریلا (2022–2025ء)؛
  • چارلس بریڈفورڈ "بریڈ" کوپر دوم (2025ء سے تاحال)۔

بریڈ کوپر

چارلس بریڈفورڈ "بریڈ" کوپر دوم (Charles Bradford Cooper II) امریکی بحریہ کے ایڈمرل ہیں، جو اگست 2025ء سے سینٹکام کے کمانڈر ہیں۔

زندگی اور فوجی خدمات

کوپر نے 1989ء میں اپنی فوجی خدمات کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد اہم ذمہ داریاں انجام دیں، جن میں شامل ہیں:

  • یو ایس ایس رسل کے کمانڈر (2007–2008ء)؛
  • یو ایس ایس گیٹس برگ کے کمانڈر (2013–2015ء)؛
  • کوریا میں امریکی بحری افواج کے کمانڈر (2016–2018ء)؛
  • ساتویں ایکسپیڈیشنری ٹاسک فورس کے کمانڈر (2018–2019ء)؛
  • بحریہ کے قانون ساز امور کے سربراہ (2019–2020ء)؛
  • بحرِ اوقیانوس کی سطحی بحری افواج کے کمانڈر (2020–2021ء)؛
  • امریکی پانچویں بحری بیڑے اور سینٹکام کی بحری افواج کے کمانڈر (2021–2024ء)؛
  • سینٹکام کے نائب کمانڈر (2024–2025ء)؛
  • سینٹکام کے کمانڈر (2025ء سے تاحال)۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جانا

جب امریکہ نے 8 اپریل 2019ء (19 فروردین 1398ھ ش) کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا، تو اس کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے سینٹکام اور اس سے وابستہ افواج کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔

اسی طرح، ایرانی پارلیمان (مجلسِ شورای اسلامی) نے 23 اپریل 2019ء (3 اردیبهشت 1398ھ ش) کو منظور کیے گئے جوابی اقدام کے قانون کے تحت امریکی مرکزی کمان اور اس سے وابستہ تمام افواج اور اداروں کو دہشت گرد قرار دیا[1]۔

سینٹکام اور پینٹاگون میں فرق

پینٹاگون امریکی وزارتِ دفاع کا مرکزی ہیڈکوارٹر اور پوری امریکی مسلح افواج کی پالیسی سازی اور انتظام کا مرکز ہے، جبکہ سینٹکام ایک علاقائی عملیاتی کمانڈ ہے، جس کی ذمہ داری مخصوص جغرافیائی حدود میں فوجی کارروائیوں کا انتظام اور افواج کی قیادت کرنا ہے[2]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. در مورد سنتکام در ویکی تابناک بیشتر بخوانید-شائع شدہ از: 13 خرداد 1405ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2026ء
  2. سنتکام چیست، کجاست و چه میکند؟-شائع 18 بہمن 14044ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 جون 2026ء