مندرجات کا رخ کریں

"کامل سامیگولین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«'''کامل سامیگولین'''، تاتارستان کے مفتی، علما کونسل کے پریزیڈیم کے رکن، جمہوریہ تاتارستان کے مسلمانوں کے مذہبی امور کے محکمے کی ماہر کونسل کے سربراہ، جمہوریہ تاتارستان کے قاضیِ اعظم کے مشیر اور تاتارستان کے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر ہ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
 
(ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{Infobox person
| title = 
| image = کامیل سامیگولین.jpg 
| name =  کامیل سامیگولین
| other names = کامیل سامیگولین اسکندروویچ
| brith year =  1985 ء
| brith date =22  مارچ
| birth place = تاتارستان
| death year =   
| death dat =   
| death place = 
| teachers =
| students =
| religion =  [[اسلام]]
| faith = [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت و جماعت]]
| works = ہر کوئی حافظِ قرآن بن سکتا ہے، ابدی محبت، مجھے [[اسلام]] کے بارے میں بتا‏ؤ،عروض (شاعری کا علم)اور [[فقہ]] حنفی کا تعارف؛
| known for = تاتارستان کے مفتی، علما کونسل کے پریزیڈیم کے رکن، جمہوریہ تاتارستان کے [[مسلمان|مسلمانوں]] کے مذہبی امور کے محکمے کی ماہر کونسل کے سربراہ، جمہوریہ تاتارستان کے قاضیِ اعظم کے مشیر اور تاتارستان کے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر۔
}}
'''کامل سامیگولین'''، تاتارستان کے مفتی، علما کونسل کے پریزیڈیم کے رکن، جمہوریہ تاتارستان کے [[مسلمان|مسلمانوں]] کے مذہبی امور کے محکمے کی ماہر کونسل کے سربراہ، جمہوریہ تاتارستان کے قاضیِ اعظم کے مشیر اور تاتارستان کے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے نزدیک [[وہابیت]] کی بطور انتہا پسند نظریے ترویج پر پابندی عائد کی جانی چاہیے، اور [[اسرائیل]] کی [[فلسطین]] کے ساتھ جنگ کو وہ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہودیت سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن ہم صیہونیت کے مخالف ہیں۔
'''کامل سامیگولین'''، تاتارستان کے مفتی، علما کونسل کے پریزیڈیم کے رکن، جمہوریہ تاتارستان کے [[مسلمان|مسلمانوں]] کے مذہبی امور کے محکمے کی ماہر کونسل کے سربراہ، جمہوریہ تاتارستان کے قاضیِ اعظم کے مشیر اور تاتارستان کے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے نزدیک [[وہابیت]] کی بطور انتہا پسند نظریے ترویج پر پابندی عائد کی جانی چاہیے، اور [[اسرائیل]] کی [[فلسطین]] کے ساتھ جنگ کو وہ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہودیت سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن ہم صیہونیت کے مخالف ہیں۔


سطر 28: سطر 47:
*  17 اپریل 2013 سے تاتارستان کے مفتی؛
*  17 اپریل 2013 سے تاتارستان کے مفتی؛
*  جولائی 2016 سے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر۔
*  جولائی 2016 سے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر۔
=== کھیلوں کی سرگرمیاں ===
کامل سامیگولین نے 2019 میں کازان میراتھن میں حصہ لیا اور 42.2 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ وہ کھیلوں کے ماہر (ماسٹر) ہیں اور روایتی جوجیتسو میں فرسٹ ڈان بلیک بیلٹ اور برازیلین جوجیتسو میں براؤن بیلٹ کے حامل ہیں۔
=== اعزازات ===
*  جمہوریہ تاتارستان کا تمغہ "بہادرانہ کام کے لیے" (روحانی و اخلاقی اقدار کے تحفظ و فروغ اور بین المذاہب امن و ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار کے لیے)؛
*  ریاستی تمغہ "جمہوریہ تاتارستان کے 100 سال" (جمہوریہ کی سماجی و اقتصادی صلاحیت، بین النسلی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، ثقافتی و روحانی ورثے کے تحفظ، اور پیشہ ورانہ و سماجی سرگرمیوں میں اعلیٰ کامیابیوں کے لیے)؛
*  ورلڈ کانگریس آف تاتار کا اعلیٰ ترین ایوارڈ - تمغہ "تاتاری عوام کے لیے عظیم خدمات کے لیے"؛
*  جمہوریہ تاتارستان کی عوامی شخصیات کی یونین کا تمغہ درجہ اول "معاشرے کے لیے خدمات کے لیے"؛
*  روسی فیڈریشن کے مسلمانوں کے مرکزی مذہبی بورڈ کی جانب سے تمغہ "الاعتصام" (اتحاد)؛
*  یاردیم چیریٹی فاؤنڈیشن کی جانب سے "تعاون برائے ترقیِ امداد" کا تمغہ؛
*  روسی وزارت صحت کی جانب سے "ڈونر موومنٹ کی مدد کے لیے" تمغہ؛
*  روسی مسلمانوں کے مرکزی مذہبی بورڈ کی جانب سے "ایمان اور اعزاز" کا نشان (معاشرے کی روحانی و اخلاقی بحالی میں نمایاں کامیابیوں، روس کے مستند روحانی ورثے کے تحفظ، اور روس میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن و ہم آہنگی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار کے لیے)۔
== تصانیف ==
=== تالیفات: ===
*  ہر کوئی حافظِ قرآن بن سکتا ہے؛
*  ابدی محبت؛
*  مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ؛
*  عروض (شاعری کا علم)؛
*  فقہ حنفی کا تعارف؛
*  اسلام 75 اسباق میں؛
*  زیارت قبور؛ حضرت خضر (علیہ السلام) کا پیغامِ زندگی اور ابن تیمیہ و ان کے پیروکاروں کا رد؛
*  عقیدہ اہل سنت والجماعت؛
*  تلاوت قرآن سے متعلق نماز میں غلطیاں۔
=== تراجم: ===
*  بدء الامالی؛
*  قصیدہ محمدیہ؛
*  زبدۃ المجلہ؛
*  الدر المکنون<ref>[https://realnoevremya.ru/persons/1087-samigullin-kamil-iskanderovich Самигуллин Камиль Искандерович،  کامیل سامیگولین اسکندروویچ، وب‌سایت خبری زمان واقعی]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء</ref>۔
== نقطہ نظر ==
=== امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت ===
[[فائل:کامیل سامیگولین 1.jpg|تصغیر|دائیں|]]
تاتارستان کے مفتی کامل سامیگولین نے کازان میں [[ایران]] کے قونصل خانے میں ایک تقریب کے دوران ایرانی قوم سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے [[سید علی  خامنہ ای|حضرت آیت اللہ خامنہ ای]] کی شہادت کو [[عالم اسلام]] کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا
اور ایران پر [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] اور [[اسرائیل]] کے حملے کو ظلم اور آزاد قوموں کے ساتھ دشمنی کی واضح مثال قرار دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کے اقدامات کا کوئی جواز نہیں ہے اور جو کچھ ہوا وہ ظلم اور انسانیت دشمنی کی ایک واضح مثال ہے۔
ان کے بقول، ان اقدامات نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ انصاف اور انسانیت کے اصولوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تاتارستان کے مفتی نے مزید کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای "ایرانی قوم کے روحانی باپ" اور ایک ایسے رہنما تھے جو آخری لمحے تک ظلم و ناانصافی کے خلاف ڈٹے رہے۔
انہوں نے کہا کہ اس رہنما نے اپنی زندگی اپنے ملک کی آزادی کے دفاع اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے وقف کر دی اور اسی راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔
=== ایران کے رہبر کی شہادت پر تعزیتی پیغام کا اجراء ===
جمہوریہ تاتارستان کے مفتی کامل سامیگولین نے کازان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل کے نام ایک باضابطہ پیغام میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر معظم امام خامنہ ای، ان کے اہل خانہ، اور میزائل حملوں میں جان گنوانے والے بچوں و عام شہریوں کی شہادت پر ایرانی قوم سے تعزیت کا اظہار کیا۔
اس پیغام میں کہا گیا ہے: ہم اس جانکاہ غم میں ایرانی قوم کے ساتھ شریک ہیں اور بارگاہِ الہیٰ میں دعا گو ہیں کہ وہ مرحومین کو اپنی رحمت و مغفرت میں جگہ دے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔
اے پروردگار! زمین پر اپنا امن و انصاف قائم فرما، مظلوموں کی مدد فرما اور ظالموں کو ان کے اعمال کی سزا دے۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر منصفانہ عمل اور انسانی اصولوں و بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا<ref>[https://www.taghribnews.com/fa/news/712152/%D9%85%D9%81%D8%AA%DB%8C-%D8%AC%D9%85%D9%87%D9%88%D8%B1%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%AA%D8%A7%D8%B1%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%D8%B4%D9%87%D8%A7%D8%AF%D8%AA-%D8%A7%D9%85%D8%A7%D9%85-%D8%A7%D9%85%D8%AA-%D8%AA%D8%B3%D9%84%DB%8C%D8%AA-%DA%AF%D9%81%D8%AA مفتی جمهوری تاتارستان شهادت امام امت را تسلیت گفت]- شائع شدہ از: 13 اسفند 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء</ref>۔
== امریکہ کی سازشوں سے متعلق پیغام کا اجرا ==
کامل سامیگویین، جمہوریہ تاتارستان کے مسلمانوں کے دینی ادارے کے سربراہ، نے روس کی مسلم برادری کے نام اپنے ایک پیغام میں ان سے اپیل کی کہ وہ سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا نہ دیں اور ناقابلِ تلافی غلطیاں نہ کریں۔ یہ پیغام ان کی ذاتی انٹرنیٹ صفحے پر شائع کیا گیا۔
اس بیان کی وجہ امریکہ کی جانب سے روس پر وہ الزام تھا جس میں میانمار کی حکومت اور روہنگیا کی عوامی نمائندوں کے درمیان کشیدگی بھڑکانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ امریکہ نے یہ الزام اس بنا پر عائد کیا کہ میانمار نے روس سے چند طیارے خریدے تھے۔
تاتارستان کے مفتی نے اس متن میں زور دیتے ہوئے کہا: آج کی دنیا میں مسلمانوں کو بین الاقوامی سیاسی کشیدگیوں میں شامل کرنا اور انہیں بھڑکانا ایک عام اور معمول کی بات بن چکی ہے۔
مکار سیاسی لوگ مذہبی جذبات سے کھیل کر ہمارے دینی بھائیوں کو اشتراکی و تصادمی اقدامات پر اکساتے ہیں، بین الاقوامی معاہدوں اور مختلف اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو خراب کرتے ہیں، یا انہیں اپنے ہی وطن کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
جمہوریہ تاتارستان کے مسلمانوں کے دینی ادارے کے سربراہ کے مطابق امریکی فریق کا یہ الزام، روسی مسلمانوں کو اپنے وطن کے خلاف ناسمجھی پر مبنی اقدامات پر اکسانے کے ذریعے، ہمارے ملک میں بین المذاہب صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: پوری عالمی برادری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ وہ ریاست نہیں جسے مسلمانوں کی حالتِ زار کی فکر ہو یا جو ان کے دفاع کے لیے کوشاں ہو۔ انہوں نے مؤمنین سے اپیل کی کہ سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا نہ دیں اور ناقابلِ تلافی اعمال کے مرتکب نہ ہوں۔
آخر میں انہوں نے کہا: میں خداوندِ منان سے دعا کرتا ہوں کہ وہ روسی مسلمانوں کو نادانستگی میں ہونے والی غلطیوں یا مکارانہ، غیر اخلاقی کھیلوں میں شرکت سے محفوظ رکھے<ref>[https://www.hawzahnews.com/news/441419/%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7-%D9%86%DA%AF%D8%B1%D8%A7%D9%86-%D9%88%D8%B6%D8%B9%DB%8C%D8%AA-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86-%D9%88-%D8%A8%D9%87-%D8%AF%D9%86%D8%A8%D8%A7%D9%84-%D8%AF%D9%81%D8%A7%D8%B9-%D8%A7%D8%B2-%D8%A2%D9%86%D8%A7%D9%86-%D9%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA آمریکا نگران وضعیت مسلمانان و به دنبال دفاع از آنان نیست]- شائع شدہ از: 1 اسفند 1396ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء</ref>۔
== اسرائیل کے مظالم اور نسل کشی ==
تاتارستان کے مفتی نے کازان میں ایران کے قونصل جنرل سے ملاقات میں کہا: ہم اب تک سمجھتے تھے کہ اسرائیل عسکری طور پر ایک طاقتور ملک ہے؛ لیکن حماس کے اقدامات نے صہیونی حکومت کی جھوٹی ہیبت کو پاش پاش کر دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیل تمام عرب ممالک کو کنٹرول کر سکتا ہے، مگر غزہ اور حماس کی تحریک کو نہیں۔ کامل نے مزید کہا: بہت سے لوگ اس واقعے کو اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کہتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے، اور ہمارے نزدیک یہ اسرائیل کی جانب سے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
ہم بھی آپ کی طرح یہودیت سے کوئی مسئلہ نہیں رکھتے، لیکن صیہونیت کے مخالف ہیں۔ سامیگولین نے مزید کہا: آج دنیا کے تمام لوگ غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیلی جرائم دیکھ رہے ہیں اور ہم حماس کے مجاہدین پر فخر کرتے ہیں<ref>[https://kazan.mfa.ir/portal/newsview/733054 فلسطین محور گفتگوی سرکنسول کشورمان با مفتی جمهوری تاتارستان]- شائع شدہ از: 11 آبان 1402ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء</ref>۔
== وہابیت کے بارے میں رائے کی تردید ==
کامل سامیگولین، تاتارستان کے روحانی مسلمانوں کے انتظامی سیکرٹری اور اس ملک کے مفتی، نے روس کی بین المذاہب کونسل کے اجلاس میں اعلان کیا کہ وہابیت پر باضابطہ پابندی ہونی چاہیے اور اسے ایک انتہا پسند نظریہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔
== متعلقہ تلاشیں ==
*  [[امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026]]
*  [[وحدت اسلامی|اسلامی وحدت]]
*  [[مسلمان]]
*  [[تاتارستان]]
== حوالہ جات ==
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:تاتارستان]]
[[fa:کامیل سامیگولین]]

حالیہ نسخہ بمطابق 15:37، 9 جون 2026ء

کامل سامیگولین
پورا نامکامیل سامیگولین
دوسرے نامکامیل سامیگولین اسکندروویچ
ذاتی معلومات
پیدائش1985 ء
یوم پیدائش22 مارچ
پیدائش کی جگہتاتارستان
مذہباسلام، اہل سنت و جماعت
اثراتہر کوئی حافظِ قرآن بن سکتا ہے، ابدی محبت، مجھے اسلام کے بارے میں بتا‏ؤ،عروض (شاعری کا علم)اور فقہ حنفی کا تعارف؛
مناصبتاتارستان کے مفتی، علما کونسل کے پریزیڈیم کے رکن، جمہوریہ تاتارستان کے مسلمانوں کے مذہبی امور کے محکمے کی ماہر کونسل کے سربراہ، جمہوریہ تاتارستان کے قاضیِ اعظم کے مشیر اور تاتارستان کے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر۔

کامل سامیگولین، تاتارستان کے مفتی، علما کونسل کے پریزیڈیم کے رکن، جمہوریہ تاتارستان کے مسلمانوں کے مذہبی امور کے محکمے کی ماہر کونسل کے سربراہ، جمہوریہ تاتارستان کے قاضیِ اعظم کے مشیر اور تاتارستان کے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے نزدیک وہابیت کی بطور انتہا پسند نظریے ترویج پر پابندی عائد کی جانی چاہیے، اور اسرائیل کی فلسطین کے ساتھ جنگ کو وہ نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہودیت سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن ہم صیہونیت کے مخالف ہیں۔

ان کے مطابق حماس کے اقدامات نے صہیونی حکومت کی کھوکھلی ہیبت کو درہم برہم کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل تمام عرب ممالک کو تو کنٹرول کر سکتا ہے لیکن غزہ اور تحریک حماس کو نہیں دبا سکتا۔

انہوں نے روس کے مسلم معاشرے کے نام اپنے پیغام میں ان سے مطالبہ کیا کہ وہ روس پر الزامات کے حوالے سے امریکہ کی سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا نہ دیں اور امریکی سازشوں سے ہوشیار رہیں۔ کامل سامیگولین نے کازان میں ایران کے قونصل خانے میں منعقدہ ایک تقریب میں ایرانی عوام سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے امام خامنہ ای کی شہادت کو عالم اسلام کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو آزاد قوموں کے خلاف ظلم اور دشمنی کا واضح ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے شہید آیت اللہ خامنہ ای کو "ایرانی قوم کا روحانی باپ" اور ایک ایسا رہنما قرار دیا جو آخری لمحے تک ظلم اور ناانصافی کے خلاف ڈٹا رہا۔

سوانح حیات

کامل سامیگولین 22 مارچ 1985 کو سوویت یونین کے ضلع زونیگوفسکی، گاؤں کراسنوگورسک میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم شمالی قفقاز کی اسلامی یونیورسٹی، استنبول کے مدرسے، کیف کی بین الاقوامی یونیورسٹی کی فیکلٹی آف شریعہ اور روسی اسلامک انسٹی ٹیوٹ کی فیکلٹی آف تھیالوجی سے مکمل کی، اور 2022 میں عربی زبان میں "قرآنی مطالعات اور قرآن کے رسم الخط کے قوانین کے مطالعہ میں تاتاری ماہرینِ الہیات کا کردار" کے عنوان سے اپنا مقالہ دفاع کرنے کے بعد اسلامی علوم میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ ترکی، عربی اور روسی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں۔

شرعی اجازت نامے

  • استنبول کے مدرسے سے قرآن مجید کے مکمل حافظ ہونے کا سرٹیفکیٹ؛
  • شیخ حسن ہادیہ کے ذریعے شیخ عبدالرحیم الکریم تک، اور وہاں سے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تک بلا تعطل سلسلہ سند کے ساتھ علوم شریعہ کی تدریس کا سرٹیفکیٹ؛
  • "عقیدہ طحاویہ"، "جوہر توحید" اور اذان دینے کا اجازت نامہ؛
  • محمد زاہد کوثری کی تمام کتابوں کی تدریس کا اجازت نامہ، جو ان کے شاگرد محمد امین سراج سے حاصل کیا؛
  • عاصم کی قرات کے ساتھ قرآن پڑھانے کا اجازت نامہ؛
  • استاد حسام الدین بن محمد صالح فرفور القادری الحسنی سے "حاشیہ ابن عابدین" پڑھانے کا اجازت نامہ۔

سرگرمیاں

  • 2007 سے 2008 تک تیومین صوبے کے ضلع نیژوارتوفسک، قصبہ نوواگانسک میں امام جماعت؛
  • 2008 میں مسجد تینیچلیک (کازان) کے امام جماعت؛
  • 2011 میں جمہوریہ تاتارستان کے مذہبی امور کے محکمے کے شعبہ اشاعت کی سربراہی؛
  • جمہوریہ تاتارستان کے مذہبی امور کے محکمے میں تحقیقی امور کے نائب مفتی؛
  • جمہوریہ تاتارستان کے مذہبی امور کے محکمے کی پریزیڈیم کے رکن؛
  • جمہوریہ تاتارستان کے مذہبی امور کے محکمے کی علما کونسل کے رکن؛
  • جمہوریہ تاتارستان کے قاضیِ اعظم کے مشیر؛
  • جمہوریہ تاتارستان کے مذہبی امور کے محکمے کی ماہر کونسل کے سربراہ؛
  • 6 مارچ 2013 سے جمہوریہ تاتارستان کے عبوری مفتی؛
  • 17 اپریل 2013 سے تاتارستان کے مفتی؛
  • جولائی 2016 سے مدرسہ محمدیہ کے ڈائریکٹر۔

کھیلوں کی سرگرمیاں

کامل سامیگولین نے 2019 میں کازان میراتھن میں حصہ لیا اور 42.2 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔ وہ کھیلوں کے ماہر (ماسٹر) ہیں اور روایتی جوجیتسو میں فرسٹ ڈان بلیک بیلٹ اور برازیلین جوجیتسو میں براؤن بیلٹ کے حامل ہیں۔

اعزازات

  • جمہوریہ تاتارستان کا تمغہ "بہادرانہ کام کے لیے" (روحانی و اخلاقی اقدار کے تحفظ و فروغ اور بین المذاہب امن و ہم آہنگی کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار کے لیے)؛
  • ریاستی تمغہ "جمہوریہ تاتارستان کے 100 سال" (جمہوریہ کی سماجی و اقتصادی صلاحیت، بین النسلی اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، ثقافتی و روحانی ورثے کے تحفظ، اور پیشہ ورانہ و سماجی سرگرمیوں میں اعلیٰ کامیابیوں کے لیے)؛
  • ورلڈ کانگریس آف تاتار کا اعلیٰ ترین ایوارڈ - تمغہ "تاتاری عوام کے لیے عظیم خدمات کے لیے"؛
  • جمہوریہ تاتارستان کی عوامی شخصیات کی یونین کا تمغہ درجہ اول "معاشرے کے لیے خدمات کے لیے"؛
  • روسی فیڈریشن کے مسلمانوں کے مرکزی مذہبی بورڈ کی جانب سے تمغہ "الاعتصام" (اتحاد)؛
  • یاردیم چیریٹی فاؤنڈیشن کی جانب سے "تعاون برائے ترقیِ امداد" کا تمغہ؛
  • روسی وزارت صحت کی جانب سے "ڈونر موومنٹ کی مدد کے لیے" تمغہ؛
  • روسی مسلمانوں کے مرکزی مذہبی بورڈ کی جانب سے "ایمان اور اعزاز" کا نشان (معاشرے کی روحانی و اخلاقی بحالی میں نمایاں کامیابیوں، روس کے مستند روحانی ورثے کے تحفظ، اور روس میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن و ہم آہنگی کو فروغ دینے میں نمایاں کردار کے لیے)۔

تصانیف

تالیفات:

  • ہر کوئی حافظِ قرآن بن سکتا ہے؛
  • ابدی محبت؛
  • مجھے اسلام کے بارے میں بتاؤ؛
  • عروض (شاعری کا علم)؛
  • فقہ حنفی کا تعارف؛
  • اسلام 75 اسباق میں؛
  • زیارت قبور؛ حضرت خضر (علیہ السلام) کا پیغامِ زندگی اور ابن تیمیہ و ان کے پیروکاروں کا رد؛
  • عقیدہ اہل سنت والجماعت؛
  • تلاوت قرآن سے متعلق نماز میں غلطیاں۔

تراجم:

  • بدء الامالی؛
  • قصیدہ محمدیہ؛
  • زبدۃ المجلہ؛
  • الدر المکنون[1]۔

نقطہ نظر

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت

تاتارستان کے مفتی کامل سامیگولین نے کازان میں ایران کے قونصل خانے میں ایک تقریب کے دوران ایرانی قوم سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کو عالم اسلام کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا

اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کو ظلم اور آزاد قوموں کے ساتھ دشمنی کی واضح مثال قرار دیا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایرانی قوم کے خلاف امریکہ اور صہیونی حکومت کے اقدامات کا کوئی جواز نہیں ہے اور جو کچھ ہوا وہ ظلم اور انسانیت دشمنی کی ایک واضح مثال ہے۔

ان کے بقول، ان اقدامات نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ انصاف اور انسانیت کے اصولوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ تاتارستان کے مفتی نے مزید کہا کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای "ایرانی قوم کے روحانی باپ" اور ایک ایسے رہنما تھے جو آخری لمحے تک ظلم و ناانصافی کے خلاف ڈٹے رہے۔

انہوں نے کہا کہ اس رہنما نے اپنی زندگی اپنے ملک کی آزادی کے دفاع اور مظلوم اقوام کی حمایت کے لیے وقف کر دی اور اسی راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔

ایران کے رہبر کی شہادت پر تعزیتی پیغام کا اجراء

جمہوریہ تاتارستان کے مفتی کامل سامیگولین نے کازان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے قونصل جنرل کے نام ایک باضابطہ پیغام میں، اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر معظم امام خامنہ ای، ان کے اہل خانہ، اور میزائل حملوں میں جان گنوانے والے بچوں و عام شہریوں کی شہادت پر ایرانی قوم سے تعزیت کا اظہار کیا۔

اس پیغام میں کہا گیا ہے: ہم اس جانکاہ غم میں ایرانی قوم کے ساتھ شریک ہیں اور بارگاہِ الہیٰ میں دعا گو ہیں کہ وہ مرحومین کو اپنی رحمت و مغفرت میں جگہ دے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب کرے۔

اے پروردگار! زمین پر اپنا امن و انصاف قائم فرما، مظلوموں کی مدد فرما اور ظالموں کو ان کے اعمال کی سزا دے۔ انہوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک غیر منصفانہ عمل اور انسانی اصولوں و بین الاقوامی قوانین کے منافی قرار دیا[2]۔

امریکہ کی سازشوں سے متعلق پیغام کا اجرا

کامل سامیگویین، جمہوریہ تاتارستان کے مسلمانوں کے دینی ادارے کے سربراہ، نے روس کی مسلم برادری کے نام اپنے ایک پیغام میں ان سے اپیل کی کہ وہ سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا نہ دیں اور ناقابلِ تلافی غلطیاں نہ کریں۔ یہ پیغام ان کی ذاتی انٹرنیٹ صفحے پر شائع کیا گیا۔

اس بیان کی وجہ امریکہ کی جانب سے روس پر وہ الزام تھا جس میں میانمار کی حکومت اور روہنگیا کی عوامی نمائندوں کے درمیان کشیدگی بھڑکانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ امریکہ نے یہ الزام اس بنا پر عائد کیا کہ میانمار نے روس سے چند طیارے خریدے تھے۔

تاتارستان کے مفتی نے اس متن میں زور دیتے ہوئے کہا: آج کی دنیا میں مسلمانوں کو بین الاقوامی سیاسی کشیدگیوں میں شامل کرنا اور انہیں بھڑکانا ایک عام اور معمول کی بات بن چکی ہے۔

مکار سیاسی لوگ مذہبی جذبات سے کھیل کر ہمارے دینی بھائیوں کو اشتراکی و تصادمی اقدامات پر اکساتے ہیں، بین الاقوامی معاہدوں اور مختلف اقوام کے درمیان دوستانہ تعلقات کو خراب کرتے ہیں، یا انہیں اپنے ہی وطن کے خلاف کھڑا کر دیتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

جمہوریہ تاتارستان کے مسلمانوں کے دینی ادارے کے سربراہ کے مطابق امریکی فریق کا یہ الزام، روسی مسلمانوں کو اپنے وطن کے خلاف ناسمجھی پر مبنی اقدامات پر اکسانے کے ذریعے، ہمارے ملک میں بین المذاہب صورتحال کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بن رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: پوری عالمی برادری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ امریکہ وہ ریاست نہیں جسے مسلمانوں کی حالتِ زار کی فکر ہو یا جو ان کے دفاع کے لیے کوشاں ہو۔ انہوں نے مؤمنین سے اپیل کی کہ سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا نہ دیں اور ناقابلِ تلافی اعمال کے مرتکب نہ ہوں۔

آخر میں انہوں نے کہا: میں خداوندِ منان سے دعا کرتا ہوں کہ وہ روسی مسلمانوں کو نادانستگی میں ہونے والی غلطیوں یا مکارانہ، غیر اخلاقی کھیلوں میں شرکت سے محفوظ رکھے[3]۔

اسرائیل کے مظالم اور نسل کشی

تاتارستان کے مفتی نے کازان میں ایران کے قونصل جنرل سے ملاقات میں کہا: ہم اب تک سمجھتے تھے کہ اسرائیل عسکری طور پر ایک طاقتور ملک ہے؛ لیکن حماس کے اقدامات نے صہیونی حکومت کی جھوٹی ہیبت کو پاش پاش کر دیا اور یہ ثابت کر دیا کہ اسرائیل تمام عرب ممالک کو کنٹرول کر سکتا ہے، مگر غزہ اور حماس کی تحریک کو نہیں۔ کامل نے مزید کہا: بہت سے لوگ اس واقعے کو اسرائیل اور فلسطین کی جنگ کہتے ہیں، لیکن یہ غلط ہے، اور ہمارے نزدیک یہ اسرائیل کی جانب سے نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

ہم بھی آپ کی طرح یہودیت سے کوئی مسئلہ نہیں رکھتے، لیکن صیہونیت کے مخالف ہیں۔ سامیگولین نے مزید کہا: آج دنیا کے تمام لوگ غزہ کے عوام کے خلاف اسرائیلی جرائم دیکھ رہے ہیں اور ہم حماس کے مجاہدین پر فخر کرتے ہیں[4]۔

وہابیت کے بارے میں رائے کی تردید

کامل سامیگولین، تاتارستان کے روحانی مسلمانوں کے انتظامی سیکرٹری اور اس ملک کے مفتی، نے روس کی بین المذاہب کونسل کے اجلاس میں اعلان کیا کہ وہابیت پر باضابطہ پابندی ہونی چاہیے اور اسے ایک انتہا پسند نظریہ تسلیم کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. Самигуллин Камиль Искандерович، کامیل سامیگولین اسکندروویچ، وب‌سایت خبری زمان واقعی-اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء
  2. مفتی جمهوری تاتارستان شهادت امام امت را تسلیت گفت- شائع شدہ از: 13 اسفند 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء
  3. آمریکا نگران وضعیت مسلمانان و به دنبال دفاع از آنان نیست- شائع شدہ از: 1 اسفند 1396ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء
  4. فلسطین محور گفتگوی سرکنسول کشورمان با مفتی جمهوری تاتارستان- شائع شدہ از: 11 آبان 1402ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 جون 2026ء