مندرجات کا رخ کریں

"الشریف قاسم الثانی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(2 صارفین 2 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 16: سطر 16:
| known for = انڈونیشیا مین سلطنت سیاک سری ایندراپورا کا آخری بادشاه جنہوں نے جمہوریہ انڈونیشیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی }}
| known for = انڈونیشیا مین سلطنت سیاک سری ایندراپورا کا آخری بادشاه جنہوں نے جمہوریہ انڈونیشیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی }}


'''شریف قاسم عبدالجلیل سیف الدین''' جو سلطان شریف قاسم دوم کے نام سے معروف ہیں (انڈونیشیائی: Sultan Syarif Kasim) (1893ء - 1968ء)، سلطنت سیاک سری ایندراپورا کے بارہویں اور آخری سلطان تھے۔ وہ ان بہادروں میں سے تھے جنہوں نے جمہوریہ انڈونیشیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے مشرقی سماٹرا کے سلاطین کو [[انڈونیشیا]] میں شامل ہونے پر قانع کرنے کی کوشش کی اور 1946ء میں اپنی سلطنت کا نئی جمہوریہ سے الحاق کر کے اپنی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے اپنی سلطنت کی تمام جائیداد جو کہ 13 ملین ڈچ گلڈرز تک پہنچتی تھی، جمہوریہ انڈونیشیا کو عطیہ کر دی۔ <ref>Dutch East Indies, (1941), Regeerings-Almanak voor Nederlandsch-Indië, Volume 1.</ref>
'''شریف قاسم عبد الجلیل سیف الدین''' جو سلطان شریف قاسم دوم کے نام سے معروف ہیں (انڈونیشیائی: Sultan Syarif Kasim) (1893ء - 1968ء)، سلطنت سیاک سری ایندراپورا کے بارہویں اور آخری سلطان تھے۔ وہ ان بہادروں میں سے تھے جنہوں نے جمہوریہ انڈونیشیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے مشرقی سماٹرا کے سلاطین کو [[انڈونیشیا]] میں شامل ہونے پر قانع کرنے کی کوشش کی اور 1946ء میں اپنی سلطنت کا نئی جمہوریہ سے الحاق کر کے اپنی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے اپنی سلطنت کی تمام جائیداد جو کہ 13 ملین ڈچ گلڈرز تک پہنچتی تھی، جمہوریہ انڈونیشیا کو عطیہ کر دی۔ <ref>Dutch East Indies, (1941), Regeerings-Almanak voor Nederlandsch-Indië, Volume 1.</ref>


== نسب ==
== نسب ==
سطر 47: سطر 47:
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:سربراہان مملکت]]
[[زمرہ:سربراہان مملکت]]
[[fa:الشریف قاسم الثانی]]

حالیہ نسخہ بمطابق 15:00، 29 مئی 2026ء

الشریف قاسم الثانی
پورا نامشریف قاسم عبدالجلیل سیف الدین
دوسرے نامسلطان شریف قاسم
ذاتی معلومات
پیدائش1893 ع
مذہباسلام، اہل سنت
مناصبانڈونیشیا مین سلطنت سیاک سری ایندراپورا کا آخری بادشاه جنہوں نے جمہوریہ انڈونیشیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی

شریف قاسم عبد الجلیل سیف الدین جو سلطان شریف قاسم دوم کے نام سے معروف ہیں (انڈونیشیائی: Sultan Syarif Kasim) (1893ء - 1968ء)، سلطنت سیاک سری ایندراپورا کے بارہویں اور آخری سلطان تھے۔ وہ ان بہادروں میں سے تھے جنہوں نے جمہوریہ انڈونیشیا کی آزادی کے لیے جدوجہد کی۔ انہوں نے مشرقی سماٹرا کے سلاطین کو انڈونیشیا میں شامل ہونے پر قانع کرنے کی کوشش کی اور 1946ء میں اپنی سلطنت کا نئی جمہوریہ سے الحاق کر کے اپنی سلطنت کا خاتمہ کر دیا۔ انہوں نے اپنی سلطنت کی تمام جائیداد جو کہ 13 ملین ڈچ گلڈرز تک پہنچتی تھی، جمہوریہ انڈونیشیا کو عطیہ کر دی۔ [1]

نسب

قاسم بن ہاشم بن قاسم بن اسماعیل بن ابراہیم بن علی بن عثمان بن عبدالرحمٰن بن سعید بن علی بن محمد بن حسن بن عمر بن حسن بن علی بن ابوبکر السکران بن عبدالرحمٰن السقاف بن محمد مولا الدویلة بن علی بن علوی الغیور بن الفقیہ المقدم محمد بن علی بن محمد، صاحب مرباط بن علی خالع قسم بن علوی بن محمد بن علوی بن عبیداللہ بن احمد المهاجر بن عیسیٰ بن محمد النقیب بن علی العریضی بن جعفر الصادق بن محمد الباقر بن علی زین العابدین بن امام حسین السبط بن علی بن ابی طالب، اور علی بن ابی طالب علیہ السلام کی شادی فاطمه بنت محمد (زهرا) سلام اللہ علیہا سے ہوئی جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔ [2] وہ رسول خدا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چھتیسویں پوتے ہیں۔

پیدائش اور تربیت

وہ 1 دسمبر 1893ء کو سیاک سری ایندراپورا، صوبہ ریاؤ، جزیرہ سماٹرا، انڈونیشیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے بچپن ہی سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی جو جسمانی، روحانی اور عمومی معلومات کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل تھی۔ پھر 1904ء میں انہیں باتاویا، موجودہ جکارتہ بھیجا گیا تاکہ وہ قانون اور ریاستی امور کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ وہ پروفیسر سنوک ہورگرونژ کے شاگرد تھے، جو ایک ڈچ مستشرق اور استعماری حکومت کے مشیر تھے۔

وہ پندرہ سال کے تھے کہ ان کے والد سلطان شریف ہاشم کا انتقال ہو گیا اور انہیں سلطان قرار دیا گیا، لیکن وہ اس عمر کو نہیں پہنچے تھے کہ سلطنت سنبھال سکیں اور ابھی بھی باتاویا میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، اسی لیے وہ فوراً تخت نشین نہیں ہوئے اور دربار کے بعض عہدیداروں نے عارضی طور پر حکومت چلائی۔ [3].

تخت نشینی

3 مارچ 1915ء کو اکیس سال کی عمر میں ان کا نام سلطان شریف قاسم عبدالجلیل سیف الدین دوم رکھا گیا اور وہ تخت سلطنت سری ایندراپورا سیاک پر بیٹھے۔ 1915ء میں تاج پوشی کے بعد انہوں نے اپنی سرزمین میں ترقی کو فروغ دیا۔ انہوں نے سماک سری ایندراپورا کے لوگوں کے انسانی وسائل کی کیفیت کو تعلیم کے ذریعے بہتر بنانے کی کوشش کی تاکہ وہ ڈچ لوگوں کے مقابلے میں کھڑے ہو سکیں۔ 1917ء میں انہوں نے مدرسہ وفاق ہاشمی قائم کیا جو ڈچ اسکول کے مقابلے میں تھا جو صرف مخصوص علاقوں کے طلباء کو داخلہ دیتا تھا، جبکہ انہوں نے مختلف علاقوں کے تمام طلباء کے لیے تعلیم کو دستیاب بنایا۔ اس اسکول کا نصاب اسلام اور حب الوطنی کے اصولوں کا مجموعہ تھا جس میں عمومی علوم کی تدریس بھی شامل تھی۔ ان کی اہلیہ سلطانہ لطیفہ نے بھی ان کی مدد کی تاکہ ریاؤ میں خواتین کے لیے ایک نجی اسکول قائم کیا جا سکے اور 1927ء میں لطیفہ اسکول کے نام سے ایک اسکول کھولا گیا۔

سلطان شریف قاسم دوم ڈچ استعماری حکومت کے خلاف تھے جو مشرقی ہند میں قائم تھی اور جب سے انہوں نے اس ملک میں اقتدار سنبھالا، ڈچ لوگوں کا دباؤ ان پر بڑھتا گیا۔ انہیں معلوم تھا کہ ڈچ لوگوں کے خلاف جسمانی جدوجہد خودکشی کے مترادف ہے اور اس کے علاوہ سلطنت سیاک ابھی تک اس معاہدے کی پابند تھی جو ماضی میں ان کے پیشرو نے دستخط کیا تھا۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہوں نے فوجی طاقت کو مضبوط بنانا ضروری سمجھا، لہذا انہوں نے عوامی دفاعی مورچوں کو مضبوط بنانا اور نوجوانوں کو فوجی تربیت دینا شروع کر دی۔ پھر انہوں نے کھل کر ڈچ لوگوں کے خلاف مزاحمت کا اظہار کیا اور سلطنت سیاک کو ڈچ مشرقی ہند کی ریاست کے حصے کے طور پر تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اس نے ڈچ لوگوں کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنے ملک میں فوجی پولیس کی خصوصی فورسز لے آئیں۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران 1942ء میں جب جاپان نے سنگاپور اور ملائی جزیرہ نما پر قبضہ کرنا شروع کیا، تو وہ مغربی اور شمالی سماٹرا کے راستے آگے بڑھا اور جاپانی فوجیں پکانبارو پہنچ گئیں اور انہوں نے ریاؤ میں کئی بادشاہوں کو گرفتار کر لیا لیکن سلطان قاسم دوم کو گرفتار کرنے کی ہمت نہ کی، کیونکہ انہوں نے کوئی مزاحمت یا بغاوت نہیں دکھائی۔ وقت گزرنے کے ساتھ، جاپان نے اقتدار پر قبضہ کرنا شروع کر دیا۔ اگرچہ سلطان قاسم کے پاس اب کوئی طاقت نہیں تھی، لیکن وہ اپنی قوم کے لیے ذمہ داری محسوس کرتے رہے، انہوں نے جاپانی قابض حکومت کو روموشا فوج بھیجنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ اگست 1945ء کے آخر میں جاپان کے بغیر شرط اتحادیوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد، انڈونیشیا کی آزادی کی خبر سلطنت سیاک تک پہنچی۔ [4]

موضع اور استقلالِ انڈونیشیا میں

17 اگست 1945ء کو انڈونیشیا کے اعلانِ استقلال کے بعد سلطان قاسم دوم نے جمہوریہ انڈونیشیا کی آزادی کی حمایت کا اعلان کیا اور سیاک سری اندراپورا اور ریاؤ کے تمام اہم شخصیات پر مشتمل ایک بڑا عوامی اجلاس منعقد کیا، جس میں انہوں نے انڈونیشیا کی آزادی کا دفاع کرنے کا عہد کیا۔ انہوں نے انڈونیشیا کے پہلے صدر احمد سوکارنو کو ایک ٹیلی گرام بھیجا جس سے ظاہر ہوا کہ سلطنت سیاک سری اندراپورا نئی جمہوریہ کی پوری طرح پشت پناہ ہے۔

1946ء میں سلطنت سیاک کے انڈونیشیا کی سرحدوں میں الحاق کے اعلان کے کچھ ہی عرصے بعد، سلطان نے اپنی 13 ملین گلڈر کی دولت جمہوریہ کی حکومت کو عطیہ کر دی۔ یہ رقم یقیناً معمولی نہیں تھی۔ شریف قاسم نے یہ رقم انڈونیشیا کے پہلے صدر آچمد سوکارنو کے حوالے کی۔ شریف قاسم نے تاج اور تقریباً اپنی تمام تر دولت کو ترک کرنے میں ذرا بھی تردد نہیں کیا، جو اس بات کی تصدیق تھی کہ سلطنت سیاک سری اندراپورا کا انڈونیشیا کی جمہوریہ میں ان کے زیرِ قیادت انضمام مکمل ہو چکا ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انڈونیشیا کی حکومت نے 6 نومبر 1998ء کو انہیں 'قومی ہیرو' کا لقب عطا کیا۔ پکانبارو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام ان کے نام پر 'سلطان شریف قاسم دوم ہوائی اڈا' رکھا گیا۔ [5]

وفات

ان کا انتقال 23 اپریل 1968ء کو ریاؤ کے دار الحکومت پکانبارو میں 74 سال کی عمر میں ہوا۔

حوالہ جات

سانچہ:پانویس

  1. Dutch East Indies, (1941), Regeerings-Almanak voor Nederlandsch-Indië, Volume 1.
  2. السقاف, أحمد بن عبدالله (1964). خدمة العشیرة بترتیب وتلخیص وتذییل شمس الظهیرة. جاکرتا، إندونیسیا: المکتب الدائمی لإحصاء وضبط أنساب السادة العلویین. صفحة 21.
  3. "Biografi dan bentuk perjuangan sultan Syarif Kasim 2". مدونة. مؤرشف من الأصل فی 19 ینایر 2020.
  4. "17 AGUSTUS - Serial Pahlawan Nasional: Sultan Syarif Kasim II". Tribunnews WIKI. مؤرشف من الأصل فی 5 أغسطس 2020.
  5. "Sultan Syarif Kasim II". مدونة Biografi Para Pahlawan. مؤرشف من الأصل فی 30 ینایر 2020.