مندرجات کا رخ کریں

"بحرین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے رجوع مکرر ہٹا کر صفحہ مسودہ:بحرین کو بحرین کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 1: سطر 1:
{{خانہ معلومات ملکی
| عنوان = 
| تصویر =  Flag of Bahrain.svg
| نقشہ کی تصویر = 
| سرکاری نام = 
| پورا نام = 
| طرز حکمرانی = آئینی بادشاہت   
| دارالحکومت =  منامہ
| آبادی  = ۱.۲۳۴.۵۹۶
| مذہب = اسلام
| سرکاری زبان = عربی
| کرنسی = 
}}


'''بحرین''' ، 767 مربع کلو میٹر کے رقبے پر مشتمل، جنوبی [[خلیج فارس]] کے ساحل پر واقع ایک ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت منامہ ہے اور اس کے زیادہ تر باشندے عرب ہیں۔ ملک کی آبادی 1,234,596 ہے۔
'''بحرین''' ، 767 مربع کلو میٹر کے رقبے پر مشتمل، جنوبی [[خلیج فارس]] کے ساحل پر واقع ایک ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت منامہ ہے اور اس کے زیادہ تر باشندے عرب ہیں۔ ملک کی آبادی 1,234,596 ہے۔
سطر 407: سطر 420:


1395 میں آیت اللہ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کر دی گئی۔ شہریت کی منسوخی کے ایک سال بعد، 1396 کے موسمِ بہار میں آل خلیفہ کی فوجوں نے ان کے گھر پر حملہ کر کے انہیں نظر بند کر دیا۔ اس حملے کے خلاف عوامی احتجاجات ہوئے جن میں 1397 تک 6 افراد شہید اور 200 زخمی ہوئے۔
1395 میں آیت اللہ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کر دی گئی۔ شہریت کی منسوخی کے ایک سال بعد، 1396 کے موسمِ بہار میں آل خلیفہ کی فوجوں نے ان کے گھر پر حملہ کر کے انہیں نظر بند کر دیا۔ اس حملے کے خلاف عوامی احتجاجات ہوئے جن میں 1397 تک 6 افراد شہید اور 200 زخمی ہوئے۔
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ: متحدہ عرب امارات ]]
[[زمرہ:ممالک]]
[[fa:امارات متحده عربی]]
[[fa:بحرین]]

حالیہ نسخہ بمطابق 16:06، 28 مئی 2026ء

بحرین
طرز حکمرانیآئینی بادشاہت
دارالحکومتمنامہ
آبادی۱.۲۳۴.۵۹۶
مذہباسلام
سرکاری زبانعربی

بحرین ، 767 مربع کلو میٹر کے رقبے پر مشتمل، جنوبی خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایک ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت منامہ ہے اور اس کے زیادہ تر باشندے عرب ہیں۔ ملک کی آبادی 1,234,596 ہے۔

ملک کی تاریخ

بحرین کی بادشاہت خلیج فارس میں واقع ایک جزیراتی ملک ہے۔ اس کا دارالحکومت منامہ ہے، سرکاری زبان عربی ہے، اور انگریزی، فارسی اور اردو زبانیں بھی بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہیں۔

بحرین کو پانچ صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اور 3 جولائی 2002 تک یہاں 14 شہر تھے۔ یہ ملک 32 جزیروں پر مشتمل ہے۔ بحرین ایران کا حصہ تھا اور 1820 سے برطانوی زیرِ سرپرستی تھا۔ 1971 میں بحرین نے ایران سے آزادی کا اعلان کیا[1]۔

تاریخ

ماضی میں، خلیج فارس کے جنوبی ساحلی علاقے کو، بصرہ سے لے کر موجودہ بحرین تک، بحرین کہا جاتا تھا (جس میں سعودی عرب کا الاحسا علاقہ بھی شامل تھا)۔ ساسانی دور سے پہلے بحرین ایران کے زیرِ انتظام تھا۔

1522 سے 1602 تک بحرین کچھ عرصے کے لیے پرتگالیوں کے قبضے میں رہا۔ 1602 میں، جب شاہ عباس نے پرتگالیوں کو خلیج فارس سے بے دخل کیا، تو ایران کا کنٹرول (عمانیوں کے حملوں کے مختصر ادوار کے علاوہ) 1783 تک جاری رہا۔

1765 سے بحرین جزیرہ آل خلیفہ خاندان کے ہاتھ میں آیا (جو عرب جزیرہ نما کے عرب تھے)، جو 19ویں صدی سے 1971 تک برطانوی اثر و رسوخ میں رہے۔ تاہم، قاجار دور میں ایران اب بھی بحرین پر ملکیت کا دعویٰ کرتا تھا۔

1927 میں، شاہ پہلوی کے دور میں، ایران نے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت برطانیہ کو ایک سرکاری شکایت بھیجی جس میں نجد اور حجاز کے سلطان (جو بعد میں سعودی عرب بن گیا) کے ساتھ اس کے معاہدے پر اعتراض کیا گیا تھا۔

اس میں "کویت اور بحرین کے علاقوں کے ساتھ دوستانہ اور پرامن تعلقات برقرار رکھنے کا عہد" شامل تھا، لیکن انگریزوں نے بحرین کے امیر کو ایک آزاد حاکم اور جزیرے اور اس کے باشندوں کو برطانوی حکومت کا زیرِ تحفظ قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ ایران کا بحرین پر حاکمیت کا دعویٰ کسی معتبر بنیاد پر مبنی نہیں ہے۔

ایران کے بحرین پر ظاہری دعوے بعد کے سالوں میں بھی جاری رہے، بشمول 1957 (1336) میں ایک نئے ملکی تقسیم کے قانون کی منظوری، جس میں بحرین کو ایران کا چودھواں صوبہ قرار دیا گیا تھا۔

جبکہ بحرین کی آزادی کی حمایت میں برطانیہ کے موقف کو عرب ممالک نے خوش آمدید کہا، سوویت یونین نے بحرین پر ایران کے حاکمیت کے اعلان کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔

1968 میں، نہر سویز اور خلیج فارس سے برطانوی افواج کے انخلا کے فیصلے کے ساتھ، بحرین کی صورتحال پر بحث دوبارہ عروج پر پہنچ گئی۔ انگریزوں نے قطر اور بحرین اور خلیج فارس کے سات امارات کا ایک فیڈریشن بنانے کی تجویز پیش کی،

جس کا ایران میں پہلوی کی طرف سے ظاہری مخالفت ہوئی۔ 4 جنوری 1969 کو، شاہ ایران، جو مکمل طور پر برطانیہ اور امریکہ پر انحصار کرتا تھا، نے دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں ایک زیادہ معتدل موقف اختیار کیا اور بحرین کے مقامی لوگوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنی قسمت کا تعین کرنے کے حق کا ذکر کیا؛

"...اگر بحرین کے لوگ میرے ملک میں شمولیت میں دلچسپی نہیں رکھتے، تو ایران اس جزیرے پر اپنے علاقائی دعوے سے دستبردار ہو جائے گا..."، لیکن بحرین کے حاکم شیخ عیسی، جو جانتے تھے کہ بحرین کے لوگ کسی بھی صورت میں ایران سے الگ نہیں ہونا چاہتے، نے شاہ کی رائے شماری کی تجویز کو بھی مسترد کر دیا۔

برطانویوں کی کئی ماہ کی شبانہ روز کوششوں اور خفیہ مذاکرات کے بعد، ایران نے 9 مارچ 1970 (1349 کے اسفند) کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے بحرین کے لوگوں کی حقیقی خواہشات کا پتہ لگانے کے لیے خیر سگالی کے اقدامات کی درخواست کی۔

ایران پہلوی نے بھی ایک پیشگی طے شدہ اقدام میں اعلان کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی رائے کو، اگر وہ سلامتی کونسل کی منظوری کے ساتھ ہو تو، قبول کرے گا۔ برطانیہ نے بھی اس تجویز کا خیرمقدم کیا، اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل او تھینٹ نے وکٹوریہ گیچارڈی کی سربراہی میں ایک وفد کو اس کام پر مامور کیا۔

اقوام متحدہ کے وفد نے، عوام کی خواہشات کو نظر انداز کرتے ہوئے، برطانیہ اور امریکہ کے حکم پر اعلان کیا کہ بحرین کے تقریباً تمام لوگ مکمل طور پر آزاد حکومت چاہتے ہیں اور ان کی ایک بڑی اکثریت اسے ایک عرب ملک سمجھتی ہے۔

یہ فیصلہ، لوگوں کی رائے شماری کے بغیر، سلامتی کونسل میں آسانی سے منظور کر لیا گیا، اور بحرین نے 14 اگست 1971 کو ایران سے آزادی کا اعلان کیا، اور ایران پہلوی پہلا ملک تھا جس نے اسے آسانی سے تسلیم کر لیا۔

اہم ترین سیاسی جغرافیائی تبدیلیاں

2010-2011 میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلیاں، جنہیں اسلامی بیداری یا عرب بہار کہا جاتا ہے، اُن ممالک میں وقوع پذیر ہوئیں جو جغرافیائی لحاظ سے اسلامی تہذیبی دائرے اور عرب نسلی و قومی خطے میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام ممالک نے نوآبادیاتی تجربات اور غیر جمہوری حکومتوں کا سامنا کیا تھا۔

اسی طرح ان تمام ممالک میں، اگرچہ مختلف شعبہ جات میں بنیادی ڈھانچے کی کمی موجود تھی، لیکن سیاسی شعور اور فکری پختگی میں اضافہ، جدید اطلاعاتی اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کے استعمال کے ساتھ، ان عوامی تحریکوں کے ہمہ گیر ہونے میں اہم کردار ادا کیا۔

خلیج فارس کے خطے میں واقع بحرین بھی ان تبدیلیوں کا گواہ رہا ہے، لیکن وہاں کی تبدیلیوں اور دیگر عرب ممالک میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے درمیان بنیادی فرق، سیاسی اقتدار کے ڈھانچے میں مذہب کے کردار اور اس کے نتائج سے متعلق ہے۔ بحرین اُن ممالک میں شامل ہے جہاں حکومت ایک سنی اقلیت کے ہاتھ میں ہے، جبکہ اکثریتی آبادی شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔

اگرچہ اس ملک نے گزشتہ ایک دہائی کے دوران سیاسی، اقتصادی اور سماجی ڈھانچوں میں تبدیلیاں لانے کی کوشش کی، لیکن وہ اس معاشرے میں بنیادی اصلاحات لانے اور اپنی شیعہ اکثریت میں پائی جانے والی مخالفت اور دوری کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکا [2]۔

ملک کی گزشتہ صدی کی اہم ترین تبدیلیاں

مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں عوامی بغاوتیں، جو تیونس میں عوامی تحریک کے بعد شروع ہوئیں، اس خطے کو سیاسی اور سماجی زندگی کے ایک نئے مرحلے میں داخل کر چکی ہیں، جس کی خصوصیات اور بنیادی عناصر ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہوئے۔

تیونس، مصر، لیبیا، اردن اور یمن میں عوامی احتجاج اور تحریکوں کے آغاز کے بعد، خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک تک ان تحریکوں کے پھیلنے کا امکان، ان ممالک کے سیاسی، سماجی اور اقتصادی ڈھانچوں کی وجہ سے کم تصور کیا جا رہا تھا۔

لیکن بحرین میں شیعہ اکثریت کی قیادت میں وسیع عوامی احتجاج نے خلیج فارس کو بھی احتجاجی اور انقلابی تبدیلیوں کے ایک نئے میدان میں تبدیل کر دیا۔

بحرین میں وسیع پیمانے پر احتجاجات اور ان کا تسلسل، خلیج تعاون کونسل کے دیگر رکن ممالک کے مقابلے میں اس ملک کی منفرد اور مختلف حیثیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسی حیثیت، جس کا جائزہ حالیہ تبدیلیوں کی جڑوں اور مختلف پہلوؤں کو زیادہ واضح طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

بحرین کی اکثریتی شیعہ آبادی، سنی حکومت، ملک کا کم رقبہ اور محدود آبادی جس کے باعث اس کی کمزوری میں اضافہ ہوتا ہے، اور بحرین کی حکمران حکومت کے سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ خصوصی اور اسٹریٹجک تعلقات، وہ خصوصیات ہیں جن کے ذریعے حالیہ احتجاجی تحریکوں کی وجوہات، ان کی پیش رفت اور ان پر قابو پانے کے طریقہ کار کو سمجھا جا سکتا ہے۔

بحرین کی علاقائی اہمیت اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات و اہداف کے تناظر میں، اس رپورٹ میں اس ملک کی تبدیلیوں کی جڑوں اور پس منظر کے ساتھ ساتھ مختلف کرداروں، جن میں مظاہرین، اپوزیشن گروہ، بحرینی حکومت اور بیرونی طاقتیں شامل ہیں، کے رویّوں کا جائزہ لیا جائے گا۔

١۔ بحرین کی تبدیلیوں کی جڑیں اور پس منظر

اگرچہ تیونس اور مصر جیسے ممالک میں عوامی احتجاج اور ان کی نسبتی کامیابی نے بحرین میں ایک نئے عوامی احتجاجی مرحلے کی بنیاد رکھی، لیکن اس ملک کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنے سے واضح ہوتا ہے کہ بحرین کے سیاسی حالات، حکومتی ڈھانچے، اور حکومت و عوام کے درمیان مخصوص تعلقات، خصوصاً آل خلیفہ حکومت کے طرزِ حکمرانی، اس ملک میں کسی بھی عوامی احتجاج اور تبدیلی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

اگرچہ خلیج فارس کے تمام جنوبی ممالک میں سیاسی جماعتوں اور مخالف گروہوں کے لیے مناسب سیاسی فضا موجود نہیں اور حکمران خاندان سیاسی اداروں اور امور پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں، لیکن بحرین کی صورتحال کئی پہلوؤں سے قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک سے مختلف ہے۔

ریاست اور معاشرے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور آل خلیفہ خاندان کی امتیازی پالیسیاں، بحرین میں موجودہ سیاسی تبدیلیوں اور عوامی احتجاجات کی بنیادی وجوہات سمجھی جا سکتی ہیں۔ اس خلیج کی تاریخی جڑیں ہیں اور داخلی و خارجی سیاسی و سیکورٹی عوامل نے اسے مزید گہرا کیا ہے۔

بحرین کی اکثریتی آبادی شیعہ ہے اور ایران کے ساتھ مذہبی اور ثقافتی تعلقات رکھتی ہے، یہاں تک کہ گزشتہ صدیوں میں اس جزیرے پر ایرانی حکمرانوں کی حکومت رہی ہے؛ لیکن موجودہ وقت میں اس ملک پر حکومت کرنے والا خاندان سنی مسلک سے تعلق رکھتا ہے، جو جزیرہ نمائے عرب سے ہجرت کر کے بحرین آیا اور اقتدار پر قابض ہو گیا۔

آل خلیفہ خاندان نے 1820 میں برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ کر کے اپنی کسٹمز، تجارت اور داخلی و خارجی سلامتی کے امور برطانوی حکام کے سپرد کیے، اور 1880 میں بحرین کے برطانوی زیرِ حفاظت ہونے کی حیثیت کو ایک اور معاہدے کے ذریعے مزید مستحکم کیا گیا۔

برطانیہ نے 1919 میں بحرین کو باضابطہ طور پر اپنی زیرِ حفاظت ریاست قرار دیا اور اس کے بعد یہ ملک ایک برطانوی مشیر کی نگرانی میں چلایا جاتا رہا۔ برطانیہ کی حمایت سے آل خلیفہ خاندان کی حکومت اور بحرین کے سیاسی و اقتصادی معاملات پر ان کا کنٹرول، 1971 میں ملک کی آزادی تک جاری رہا۔

اس عرصے میں آل خلیفہ کی حکومت برطانوی حمایت اور عوامی جواز کے بغیر قائم رہی، لیکن آزادی کے بعد بتدریج امریکہ نے آل خلیفہ حکومت کے بقا میں مرکزی کردار سنبھال لیا۔

اگرچہ آل خلیفہ خاندان نے مختلف اوقات میں سیاسی و سماجی اصلاحات کی کچھ سطحی کوششیں کیں، لیکن ان کے حکومتی طریقہ کار اور پالیسیوں نے حکومت اور شیعہ اکثریتی معاشرے کے درمیان خلیج کو مزید وسیع کیا۔

اس صورتحال نے حکومت کے خلاف مسلسل عوامی ناراضگی اور اس کی مشروعیت میں کمی پیدا کی، جو وقتاً فوقتاً عوامی احتجاج اور اپوزیشن کی سرگرمیوں کی صورت میں ظاہر ہوتی رہی۔ لہٰذا موجودہ احتجاجات اگرچہ وسیع، بنیادی اور سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور آل خلیفہ حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں، لیکن یہ بالکل نئی اور بے بنیاد تحریک نہیں ہیں۔

1971 میں بحرین کی آزادی کے بعد، آل خلیفہ خاندان نے اپنی حکومت کو قانونی جواز فراہم کرنے کے لیے مختلف سیاسی و قانونی اصلاحات کی کوشش کیں۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی حصے میں آئین کی تدوین اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد، آل خلیفہ حکومت کو قانونی حیثیت دینے اور عوام کو محدود سیاسی شرکت فراہم کرنے کی کوشش تھی۔

لیکن 1975 میں پارلیمان کی جانب سے “قانونِ تحفظِ ریاست” کی مخالفت کے بعد، بحرین کے امیر نے پارلیمان کو تحلیل کر دیا۔ اس قانون کے مطابق، حکومت کے خلاف کسی بھی اقدام یا مؤقف کو داخلی یا خارجی سلامتی کے خلاف تصور کیا جاتا تھا، اور حکومت کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ مشتبہ افراد کو فوری طور پر گرفتار کر کے بغیر مقدمہ چلائے قید کر دے۔

1980 اور 1990 کی دہائیوں میں حکومت اور اس کی امتیازی پالیسیوں کے خلاف عوامی ناراضگی نے اپوزیشن اور سیکورٹی فورسز کے درمیان شدید اور طویل تصادم کو جنم دیا۔

شیخ عیسیٰ بن سلمان کی وفات اور ان کے بیٹے، موجودہ بادشاہ حمد بن عیسیٰ، کے اقتدار میں آنے کے بعد، آل خلیفہ خاندان نے اپنی حکومت کی مشروعیت بڑھانے کے لیے نئی کوششیں شروع کیں۔ فروری 2001 میں شیخ حمد نے قومی منشور پر ریفرنڈم کرایا، جس کی منظوری کے بعد بحرین کو امارت سے بادشاہت میں تبدیل کر دیا گیا اور دو ایوانی پارلیمانی نظام بحال کیا گیا۔

اس نظام میں مجلسِ شورا کے ارکان حکمران منتخب کرتے ہیں جبکہ مجلسِ نمائندگان کے ارکان عوام آزادانہ انتخابات کے ذریعے منتخب کرتے ہیں۔ اگرچہ 1975 میں پارلیمان کی تحلیل کے بعد، بحرین کے سابق امیر نے 1992 میں عوامی مطالبات کے دباؤ پر ایک مشاورتی مجلس تشکیل دی تھی، جس کے تمام ارکان خود امیر کی طرف سے مقرر کیے جاتے تھے۔

2002 کے پارلیمانی انتخابات میں بیشتر اہم شیعہ جماعتوں، جیسے الوفاق الاسلامی، نے آئینی تحفظات کی بنا پر شرکت نہیں کی، لیکن اس جماعت نے 2006 اور 2010 کے انتخابات میں حصہ لیا اور بالترتیب 40 میں سے 17 اور 18 نشستیں حاصل کیں۔ البتہ بعض دیگر شیعہ جماعتوں نے نشستوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور قانونی و سیاسی اعتراضات کی وجہ سے انتخابات میں حصہ نہیں لیا۔

پارلیمانی انتخابات میں شیعہ جماعتوں کی شرکت اور کچھ نشستوں کے حصول کے باوجود، بحرین کے شیعوں میں ہمیشہ یہ احساس موجود رہا کہ انہیں اقتدار کے حقیقی اور مؤثر ڈھانچے سے دور رکھا جا رہا ہے۔

انتخابی حلقوں کی تقسیم اس انداز سے کی گئی ہے کہ موجودہ حالات میں شیعہ جماعتیں کبھی بھی 40 میں سے 18 سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کر سکتیں۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ منتخب پارلیمان کے اختیارات محدود ہیں، جبکہ اصل قانون ساز طاقت مجلسِ شورا کے پاس ہے، جس کے تمام ارکان بادشاہ کی طرف سے مقرر کیے جاتے ہیں۔

لیکن بحرین کی شیعہ اکثریت میں امتیاز، ناانصافی اور محرومی کا احساس صرف سیاسی اقتدار میں محدود شرکت تک محدود نہیں بلکہ انہیں انتظامی، اقتصادی، سماجی اور سرکاری شعبوں میں بھی امتیازی سلوک کا سامنا ہے،

جس کے باعث ان کی ناراضگی اور احتجاجات مسلسل جاری ہیں۔ بحرین ہیومن رائٹس سینٹر کی 2003 کی رپورٹ کے مطابق، 572 اعلیٰ سرکاری مناصب میں سے صرف 101 یعنی 18 فیصد شیعوں کے پاس تھے، جبکہ 47 اعلیٰ سطحی وزارتوں اور ڈائریکٹر جنرل کے عہدوں میں سے صرف 10 یعنی 21 فیصد شیعوں کو دیے گئے تھے۔ اس نظام میں شیعہ افراد وزارتِ دفاع، خارجہ، انصاف اور داخلہ جیسے اہم عہدوں پر فائز نہیں ہو سکتے۔

بحرین میں نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 19.6 فیصد بتائی گئی ہے، جو خاص طور پر شیعہ آبادی کے لیے نامناسب معاشی حالات کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے باوجود بہت سی ملازمتیں غیر ملکی سنی تارکین وطن کو دی جاتی ہیں۔ غیر ملکیوں کو شہریت دینا اور آبادی کے تناسب کو سنیوں کے حق میں تبدیل کرنے کی پالیسی، شیعہ عوام کی ناراضگی کا ایک اہم سبب ہے۔

آل خلیفہ حکومت کی جانب سے جان بوجھ کر اختیار کی گئی ان پالیسیوں کے نتیجے میں اردن، فلسطین، لبنان، سعودی عرب اور مصر سے آنے والے افراد کو شہریت، سہولیات اور روزگار فراہم کیا گیا، جبکہ بحرینی شیعہ نوجوانوں کو نظر انداز کیا گیا۔

مجموعی طور پر، جیسا کہ مذکورہ بالا جائزے سے واضح ہوتا ہے، بحرین میں حکومت اور معاشرے کے درمیان خلیج گزشتہ کئی دہائیوں میں آل خلیفہ خاندان کی امتیازی پالیسیوں کے باعث مزید گہری ہو چکی ہے، اور سطحی اصلاحات بھی حکومت کے مشروعیتی بحران کو کم کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

لہٰذا تیونس اور مصر جیسے ممالک میں عوامی انقلابات کے بعد، بحرین کے شیعہ عوام نے بھی آل خلیفہ حکومت کے خلاف اپنے احتجاجات کے ایک نئے اور وسیع مرحلے کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں بحرین میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں جن میں مختلف داخلی و خارجی کردار سرگرم ہیں۔

٢۔ بحرین کی تبدیلیوں کے کردار

بحرین کی تبدیلیوں میں مختلف داخلی اور خارجی کردار ادا کرنے والے عناصر شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنے حالات اور طاقت کے ذرائع کے مطابق اپنے مفادات اور فوائد کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

داخلی سطح پر ایک جانب عوام اور مخالف گروہ، اور دوسری جانب آل خلیفہ حکومت بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔ خارجی سطح پر خلیج تعاون کونسل، خصوصاً سعودی عرب، اور امریکہ جیسے عناصر کو اہم کردار حاصل ہے۔

١-٢۔ بحرین کے عوام اور مخالف گروہ

بحرین کے زیادہ تر شیعہ عوام اور آل خلیفہ خاندان کے مخالف سیاسی گروہوں نے، بیان کردہ پس منظر اور تیونس و مصر میں انقلابات کے بعد، اس ملک میں احتجاجات اور ریلیاں منعقد کیں، جن کے نتیجے میں بحرین میں سیاسی تبدیلیوں کا آغاز ہوا۔

عوام اور مخالف سیاسی گروہوں کے رویّے اور مطالبات، مختلف مراحل میں مختلف رہے۔ ابتدا میں عوام اصلاحات اور حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر رہے تھے، لیکن لولو چوک میں دھرنا دینے والوں پر سیکورٹی فورسز کے حملے کے بعد، مخالفین کے مؤقف اور مطالبات ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے۔

لولو چوک کے واقعات اور تشدد کے بعد، عوامی مظاہرے اور احتجاجات مزید وسیع ہو گئے اور بحرین کی شیعہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اسی طرح الوفاق کے اراکین نے بحرینی پارلیمان سے استعفیٰ دے دیا۔

اس مرحلے میں مختلف گروہوں نے حکومت کی مذاکرات کی پیشکش کو کچھ شرائط پیش کرتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان شرائط میں حکومت کا استعفیٰ، سڑکوں سے فوج کا انخلا، اور آئینی بادشاہت کے تصور کو قبول کرنا شامل تھا، جسے الوفاق تحریک نے پیش کیا تھا۔

اس مرحلے پر مخالف گروہ اپنے مطالبات کے لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم تھے: پہلا گروہ، جو الوفاق کی قیادت میں تھا، آئینی بادشاہت اور منتخب حکومت کے قیام کا خواہاں تھا، جبکہ دوسرا گروہ “جمہوریہ کے لیے اتحاد” کے عنوان سے، جس میں وفاداری اسلامی تحریک اور حق و آزادگان بحرین جیسی تنظیمیں شامل تھیں، موجودہ نظام کے خاتمے اور ایک جمہوری جمہوریہ کے قیام کا مطالبہ کر رہا تھا۔

اس کے علاوہ سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی اصلاحات، اور تارکین وطن کو سیاسی مقاصد کے تحت شہریت دینے کے عمل کو روکنے جیسے مطالبات بھی عوام کی جانب سے پیش کیے گئے۔

تیسرے مرحلے میں، جو لولو چوک کے علاوہ دارالحکومت کے دیگر علاقوں میں مظاہرین کی موجودگی اور بحرینی و غیر ملکی سیکورٹی فورسز کی جانب سے شدید کریک ڈاؤن کے بعد شروع ہوا، مظاہرین کے لیے سخت حالات پیدا ہو گئے اور مخالف گروہ شدید دباؤ اور سرکوبی کا سامنا کرنے لگے۔

اس مرحلے میں اگرچہ عوامی احتجاج محدود اور منتشر انداز میں بدستور جاری رہے، لیکن سخت سیکورٹی حالات نے مظاہرین کے حق میں تبدیلیوں کی پیش رفت کو روک دیا۔

2-2۔ بحرین کی حکومت

بحرین کی حکومت، جو آل خلیفہ خاندان کے زیرِ تسلط ہے، نے عوامی احتجاجات اور مخالف گروہوں کے حوالے سے اب تک تین مختلف حکمتِ عملیاں اختیار کی ہیں: محدود کریک ڈاؤن، نسبتاً مصالحت آمیز رویّہ، اور بالآخر خلیج تعاون کونسل کی افواج کی مدد سے وسیع اور شدید سرکوبی۔

پہلے مرحلے میں، مظاہرین کی محدود تعداد اور ان کے لولو چوک میں اجتماع کے باعث، بحرینی حکومت نے کوشش کی کہ ان مظاہرین کو طاقت کے ذریعے منتشر کر کے احتجاجات کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ لیکن سیکورٹی فورسز کا تشدد نہ صرف احتجاجات کے خاتمے میں ناکام رہا بلکہ اس سے احتجاجات میں مزید وسعت اور مخالفین کے مؤقف میں شدت پیدا ہوئی۔

احتجاجات کے پھیلنے کے بعد، بحرینی حکومت نے کم تشدد اور سیاسی و پرامن طریقوں کے ذریعے بحران کو قابو میں لانے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں حکومت کے چار وزراء، جن میں وزیرِ امورِ وزیر اعظم، وزیرِ صحت، وزیرِ پانی و بجلی، اور وزیرِ ہاؤسنگ شامل تھے، کو برطرف کیا گیا۔

بحرین کے بادشاہ نے مظاہرین کی ہلاکت پر قومی سوگ کا اعلان کیا اور ولی عہد کو مخالفین کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنا مکمل بااختیار نمائندہ مقرر کیا۔ اسی طرح سلمان بن حمد آل خلیفہ نے اعلان کیا کہ آئندہ شاہی خاندان پارلیمان کو زیادہ اختیارات دے گا اور عوامی ریفرنڈم کا انعقاد بھی ممکن بنایا جائے گا۔

چونکہ حکومت کے اقدامات دراصل مخالفین کو کوئی حقیقی اور بنیادی رعایت دینے کے مترادف نہیں تھے، اس لیے مظاہرین نے اپنے احتجاجات جاری رکھے، اور بحرینی حکومت نے شدید اور وسیع پیمانے پر مخالفین کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔

خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی افواج کو طلب کرنا، لولو چوک سے مظاہرین کو طاقت کے ذریعے نکالنا، ایمرجنسی نافذ کرنا، سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کرنا، لولو چوک کو مخالفین کی علامت کے طور پر مسمار کرنا، زخمیوں کو ہسپتالوں سے اغوا کرنا، عوامی احتجاجات کو بیرونی ممالک اور گروہوں سے منسوب کرنا، شیعہ مساجد کو مسمار کرنا، اور سرکاری ملازمین کو برطرف کرنا، بحرینی حکومت کے اقدامات میں شامل تھے۔

حکومت کے دیگر اہم اقدامات میں دو شیعہ سیاسی جماعتوں، عمل اسلامی اور الوفاق، کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی کوشش، ان کے خلاف مقدمات قائم کرنا، اور دو ایرانیوں اور ایک بحرینی شہری پر اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے جاسوسی کا الزام لگا کر ان کے خلاف مقدمہ چلانا شامل ہے۔

3-2۔ خارجی کردار

بحرین سے باہر، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر، اس ملک کی تبدیلیوں کے حوالے سے تین طرح کے ردِ عمل اور رویّے نمایاں ہیں۔ پہلا، خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک خصوصاً سعودی عرب، جنہوں نے آل خلیفہ خاندان کی مکمل حمایت کرتے ہوئے بحرینی عوامی احتجاجات کو کچلنے میں حصہ لیا۔

دوسرا، امریکہ اور مغربی ممالک، جنہوں نے آل خلیفہ خاندان کے ساتھ اپنے مفادات کے تعلق کے باعث، اگرچہ بعض اوقات پرامن رویّے کی سفارش کی، لیکن بحرینی حکومت کے جابرانہ اقدامات کی مذمت نہیں کی۔ تیسرا، بعض علاقائی اسلامی شخصیات، حکومتیں اور گروہ، جن میں اسلامی جمہوریہ ایران، لبنان اور عراق شامل ہیں، جنہوں نے بحرینی حکومت اور سعودی عرب کے اقدامات اور تشدد کی مذمت کرتے ہوئے عوام کے خلاف کریک ڈاؤن ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

بحرین میں احتجاجات کے آغاز کے ساتھ ہی خلیج تعاون کونسل کے رہنماؤں میں شدید تشویش پیدا ہو گئی۔ یہ تشویش سعودی حکام میں اس وجہ سے زیادہ تھی کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں بھی شیعہ آبادی رہتی ہے جو بحرین کے قریب واقع ہے۔

خلیج تعاون کونسل نے اپنے اجلاس میں آل خلیفہ خاندان کی حمایت کی اور کونسل کے سیکورٹی معاہدے اور “جزیرہ شیلڈ فورس” کے تحت بحرین میں افواج بھیجنے کی منظوری دی تاکہ مظاہرین کو کچلا جا سکے۔

اس سلسلے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی سیکورٹی فورسز بحرین بھیجی گئیں اور انہوں نے بحرینی افواج کے ساتھ مل کر عوامی احتجاجات کو دبانے میں حصہ لیا۔ اسی دوران ایسی رپورٹس بھی سامنے آئیں جن میں آل خلیفہ اور آل سعود کے درمیان بحرین کے شیعوں کو دبانے کے لیے خفیہ معاہدے کا ذکر کیا گیا۔

ان رپورٹس کے مطابق، سعودی حکومت کی جانب سے اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے بدلے آل خلیفہ خاندان نے سعودی عرب کو اہم مراعات دیں، جن میں سعودی تارکین وطن کو شہریت دے کر بحرین کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا، خارجی سیاسی و سیکورٹی معاہدوں میں سعودی بادشاہ سے مشاورت، بحرین میں فوجی اڈے قائم کرنے کی اجازت، اور سعودی حکام کی بحرینی انٹیلی جنس اور وزارتِ داخلہ کی سرگرمیوں پر نگرانی شامل ہیں۔

خلیج تعاون کونسل نے اپنے حالیہ اجلاسوں میں ایران پر بحرین کے معاملات میں مداخلت کا الزام بھی عائد کیا اور اس کی مذمت کی، تاکہ بحرینی عوامی احتجاجات کو غیر مقامی اور بیرونی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کیا جا سکے۔

بحرین مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے پانچویں بحری بیڑے کا مرکز ہے، اور واشنگٹن نے گزشتہ سال بحرین کو 200 ملین ڈالر کی فوجی امداد فراہم کی۔ اگرچہ آل خلیفہ خاندان دو صدیوں سے بحرین پر حکمران ہے، لیکن موجودہ عوامی بغاوت نے امریکہ کے لیے ایک نہایت مشکل صورتحال پیدا کر دی اور اسے ایک غیر مستحکم اتحادی کا سامنا کرنا پڑا۔

بحرین میں احتجاجات کے آغاز کے بعد، امریکی حکام نے آل خلیفہ خاندان اور بحرین کے استحکام و سلامتی کی حمایت پر زور دیتے ہوئے، حکومت سے پرامن سیاسی اصلاحات اپنانے کا مطالبہ کیا۔ یہ مؤقف دراصل امریکی حکام کی اس تشویش کا نتیجہ تھا کہ احتجاجات شدت اختیار کر سکتے ہیں اور موجودہ اقتدار کا ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے۔

تاہم احتجاجات کے پھیلنے، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال، اور سعودی افواج کے بحرین میں داخل ہونے کے بعد، امریکہ نے زیادہ محتاط رویّہ اختیار کیا۔ یہ رویّہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ بحرینی مظاہرین کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی سنجیدہ مخالفت نہیں کرتا بلکہ اس کا مقصد بحران کو قابو میں رکھنا اور آل خلیفہ حکومت کو برقرار رکھنا ہے۔

نتیجہ

بحرین میں موجودہ عوامی احتجاجات اور تبدیلیوں کی بنیادی وجہ حکومت اور معاشرے کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج اور آل خلیفہ خاندان کی مذہبی امتیازی پالیسیاں ہیں، جنہیں ایک قسم کا مذہبی امتیاز قرار دیا جا سکتا ہے۔

آل خلیفہ خاندان گزشتہ تقریباً دو صدیوں سے بیرونی طاقتوں، پہلے برطانیہ اور اب امریکہ، کی حمایت سے بحرین پر حکمرانی کر رہا ہے اور بحرین کے شیعہ عوام کو بنیادی حقوق اور اقتدار میں مؤثر شرکت سے محروم رکھے ہوئے ہے۔

بحرین کی آزادی کے بعد سے آل خلیفہ حکومت نے آئین سازی، قومی منشور، اور پارلیمانی انتخابات جیسے اقدامات کے ذریعے اپنے لیے مشروعیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے؛ لیکن چونکہ یہ اقدامات صرف نمائشی تھے اور شیعہ گروہوں کو حقیقی حقوق اور اختیارات دینے کا سبب نہیں بنے، اس لیے یہ حکومت داخلی مشروعیت حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

حتیٰ کہ اقتصادی اور سماجی میدانوں میں آل خلیفہ کی امتیازی پالیسیاں، جن میں اس ملک کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی کوششیں بھی شامل ہیں، عوامی ناراضگی میں اضافے کا سبب بنیں اور بالآخر موجودہ وسیع احتجاجات پر منتج ہوئیں۔

بحرین کے بحران میں مختلف کردار سرگرم ہیں۔ مظاہرین اور مخالف گروہ، جو ان تبدیلیوں کا بنیادی حصہ ہیں، بحرین کے سیاسی ڈھانچے اور اپنے سماجی حالات میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے لیے انہوں نے وسیع احتجاجات کیے ہیں، لیکن ان کے خلاف کریک ڈاؤن اور احتجاجات کے محدود تسلسل کے باعث ان کی کامیابی کا منظرنامہ واضح نہیں ہے۔

بحرینی حکومت نے اگرچہ لولو چوک کے واقعات کے ابتدائی مرحلے میں نسبتاً تحمل اور مصالحت آمیز رویّہ اختیار کیا، لیکن احتجاجات کے پھیلنے کے بعد سعودی اور اماراتی سیکورٹی فورسز کو طلب کر کے مظاہرین کے خلاف شدید اور وسیع کارروائیاں شروع کیں اور طاقت و تشدد کے ذریعے بحران ختم کرنے کی کوشش کی۔

خلیج تعاون کونسل، خصوصاً سعودی عرب کی قیادت میں، بحرینی حکومت کی حمایت کرتے ہوئے اس ملک میں افواج بھیج کر مظاہرین کو دبانے میں اہم کردار ادا کیا۔ امریکہ نے اگرچہ ابتدا میں آل خلیفہ خاندان کو پرامن اصلاحات اپنانے کا مشورہ دیا،

لیکن احتجاجات کے جاری رہنے کے بعد اس نے محتاط پالیسی اختیار کی اور سعودی افواج کی مداخلت اور عوامی کریک ڈاؤن کے خلاف کوئی سنجیدہ مخالفت ظاہر نہیں کی، بلکہ اس کی توجہ زیادہ تر بحرینی حکومت کی بقا پر مرکوز رہی۔

بحرینی حکومت طاقت اور علاقائی و بین الاقوامی اتحادیوں کی حمایت کے ذریعے بحران پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے باوجود مخالف گروہ اور عوام اپنی احتجاجی سرگرمیاں، اگرچہ نسبتاً محدود اور منتشر انداز میں، جاری رکھے ہوئے ہیں۔

نئے حالات میں مظاہرین نے مذاکرات کے لیے اپنی بعض ابتدائی شرائط، جیسے سڑکوں سے فوج کا انخلا، میں کچھ نرمی پیدا کی ہے اور مختلف ذرائع اور طریقوں، مثلاً کویت جیسے ممالک کی ثالثی کے ذریعے، انتخابی نظام میں تبدیلی اور حکومت کے انتخابی اختیارات میں اضافے جیسے مطالبات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان حالات میں ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ صرف کریک ڈاؤن کے ذریعے بحران کا خاتمہ ممکن ہوگا، اور بحرینی حکومت کو کسی نہ کسی حد تک اور وقتی طور پر مخالفین کو کچھ رعایتیں دینا پڑیں گی۔

تاہم اہم نکتہ یہ ہے کہ آل خلیفہ خاندان اور بحرین کے عوام کے درمیان خلیج میں شدید اور شاید ناقابلِ تلافی اضافہ ہو چکا ہے اور حکومت کی مشروعیت ختم ہو چکی ہے، جو طویل مدت میں بحرینی حکومت کے لیے چیلنج، کمزوری یا حتیٰ کہ زوال کا سبب بن سکتی ہے۔

اہم حکومتیں اور حکمران سلسلے

حکومت

ہخامنشی دور میں بحرین ایران کا حصہ تھا۔ اسلام کے ظہور کے بعد یہ سرزمین اسلامی حکومتوں کے زیرِ اقتدار آ گئی۔ تیسری صدی ہجری کے اواخر سے بحرین قرامطہ حکومت کے زیرِ تسلط آ گیا عبداللہ بن علی بن ابراہیم عیونی نے 466 ہجری میں قرامطہ حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا اور اپنی افواج منظم کر کے اس حکومت کو شکست دی اور اس خطے میں شیعہ عیونی حکومت قائم کی۔

یہ حکومت 641 ہجری تک، یعنی مجموعی طور پر 175 سال تک قائم رہی۔ ان کی حکومت کا دائرہ موجودہ کویت سے شروع ہو کر موجودہ قطر کے برابر علاقے تک پھیلا ہوا تھا۔ عیونی حکومت کے بعد بحرین دوبارہ ایران کے زیرِ اقتدار آ گیا۔

دسویں صدی ہجری کے تیسرے عشرے میں پرتگالیوں کے حملے کے بعد بحرین تقریباً ایک صدی تک ان کے قبضے میں رہا، لیکن 1031 ہجری میں شاہ عباس صفوی نے پرتگالیوں کو نکال کر بحرین پر دوبارہ قبضہ کر لیا اور بحرین دوبارہ ایران کا حصہ بن گیا، اگرچہ اکثر مقامی عرب حکمران ہی وہاں حکومت کرتے رہے۔

صفوی دور اور اس کے بعد بھی یہ علاقہ بعض اوقات عمان کے خارجیوں کے قبضے میں آ جاتا تھا یہاں تک کہ نادر شاہ نے بحرین کو خارجیوں کے قبضے سے آزاد کرایا اور بحرین کی حکومت مذکورہ خاندان کے سپرد کر دی۔

یہ خاندان بحرین پر حکومت کرتا رہا یہاں تک کہ بارہویں صدی ہجری کے اواخر میں آل خلیفہ خاندان نے بحرین میں اقتدار سنبھال لیا۔

آل خلیفہ خاندان

آل خلیفہ ایک مالکی مسلک رکھنے والا سلسلہ ہے، جو عربستان کے عتوبی عربوں میں سے ہے۔ یہ لوگ اٹھارہویں صدی عیسوی کے ابتدائی برسوں میں خلیج فارس کے جنوبی ساحلوں کی طرف ہجرت کر آئے اور تقریباً 1196 ہجری قمری میں بحرین کے جزائر پر قبضہ کر لیا، لیکن بحرین پر ایران کے نام سے حکومت کرتے رہے۔

تاہم آل خلیفہ حکمرانوں کا برطانیہ سے وابستہ ہو جانا آخرکار اس بات کا سبب بنا کہ 22 مرداد 1350 ہجری شمسی کو بحرین نے ایران کے مقابلے میں باضابطہ طور پر اپنی آزادی کا اعلان کر دیا۔ اسی سال 25 آذر کو بحرین باقاعدہ طور پر اقوام متحدہ کا رکن بنا اور اس کا 129واں رکن قرار پایا۔ اس کے بعد 16 دسمبر ـ 25 آذر ـ بحرین کا قومی دن تسلیم کیا جاتا ہے۔

ذیل میں بحرین کے حکمرانوں کے نام درج ہیں:

  • محمد بن خلیفہ (1190-1199 ھ)
  • خلیفہ بن محمد بن خلیفہ (1190-1197 ھ)

یہ دونوں آل خلیفہ کے ابتدائی حکمران تھے، اگرچہ ان کی حکومت بحرین میں نہیں تھی بلکہ ان کا مرکزِ حکومت زبارہ تھا۔

  • احمد بن محمد (1196-1211 ھ)
  • سلمان بن احمد (1211-1236 ھ)
  • عبداللہ بن احمد (1236-1258 ھ)
  • محمد بن خلیفہ (1258-1286 ھ)
  • عیسیٰ بن علی (1286-1341 ھ)
  • حمد بن عیسیٰ (1341-1361 ھ)
  • سلمان بن حمد (1361-1381 ھ)
  • عیسیٰ بن سلمان (1381-1419 ھ)[۱۷]
  • حمد بن عیسیٰ (1419 ھ - )

اقتصادی نظام

بحرین کی اسلامی الوفاء تحریک نے اس ملک میں کفایتی اقتصادی پالیسیوں اور شہریوں پر ٹیکسوں میں اضافے پر تنقید کی۔ اس بیان میں کہا گیا کہ یہ پالیسیاں ہرگز بحرین کی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے نہیں بلکہ آل خلیفہ کے سیکورٹی اور فوجی منصوبوں کی حمایت کے لیے اختیار کی جا رہی ہیں۔

الوفاء اسلامی تحریک نے مزید کہا کہ سیاسی طبقہ اقتصادی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے اور ہم بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بحرینی حکومت کو شہریوں پر ٹیکسوں میں اضافے کو ختم کرنے کی ہدایت دے۔

اس تحریک نے وضاحت کی کہ بحرین کی معیشت ایک حقیقی بحران کا شکار ہے، جو اس ملک کی کرنسی کی قدر کو خطرے میں ڈال رہا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ بحرین کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔

بحرین کی اسلامی الوفاء تحریک نے مزید کہا کہ یہ بحران حکومت کی عوامی قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی اور بحرینی دینار کے امریکی ڈالر سے منسلک ہونے کے باعث مزید بڑھ رہا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ آل خلیفہ حکومت کا خیال ہے کہ اس مرحلے میں حکومت کی ترجیح سیکورٹی اور فوجی پروگرام، اسلحے کے معاہدے، اور امریکہ و برطانیہ کی جانب سے فوجی تربیت ہے۔

اسلامی الوفاء تحریک نے کہا کہ آل خلیفہ غیر ملکیوں کو شہریت دینے کی اپنی پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ عوامی انقلابی تحریک سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اس تحریک نے زور دیا کہ آل خلیفہ عام ہڑتال کو روکنے کے لیے بیرونی مزدوروں کا وسیع پیمانے پر استعمال کرتا ہے، جبکہ حکومتی حکام کی نگرانی میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی بھی جاری ہے۔ الوفاء بحرین نے اپنے بیان کے اختتامی حصے میں کہا کہ آل خلیفہ نظام سے بدعنوانی کے خاتمے کے ذریعے ہی بحرین کے اقتصادی اور سیاسی بحران کا حل ممکن ہے۔ ملک کا سیاسی نظام

اگرچہ بحرین کی 70 فیصد آبادی شیعہ ہے، لیکن آل خلیفہ حکومت نے اس ملک کے شیعوں کو حاشیے پر دھکیل رکھا ہے اور انہیں کسی بھی قسم کے عہدے اور منصب دینے سے گریز کرتی ہے۔ بحرین ایک سرزمین ہے جس کا رقبہ 665 مربع کلومیٹر ہے۔

عالمی بینک کے اعداد و شمار کے مطابق 2011 میں اس کی آبادی 13 لاکھ 23 ہزار 535 افراد تھی۔ بحرین 15 اگست 1971 کو ایران سے الگ ہوا۔ 1999 سے پہلے شیعہ اس ملک کی 85 فیصد آبادی پر مشتمل تھے۔

1999 کے بعد بحرین کی حکمران حکومت نے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی پالیسی اپنائی اور غیر ملکیوں کو سیاسی شہریت دینا شروع کی، یہاں تک کہ 2012 تک (13 برسوں کے دوران) 3 لاکھ سے 4 لاکھ غیر ملکیوں کو شہریت دی جا چکی تھی۔

اس ملک کا سیاسی ڈھانچہ آل خلیفہ خاندان کی موروثی بادشاہت پر مبنی ہے۔ اس وقت اس ملک کی آبادی میں 70 فیصد شیعہ، 28 فیصد سنی، اور 2 فیصد عیسائی، یہودی، ہندو وغیرہ شامل ہیں۔ آل خلیفہ خاندان کی اس ملک میں تقریباً 4 ہزار افراد پر مشتمل آبادی ہے اور یہ تقریباً سن 230 سے اس ملک میں داخل ہوئے۔

اہم ترین عہدے اور کلیدی مناصب آل خلیفہ خاندان کے قبضے میں ہیں۔ آل خلیفہ 50 فیصد سے زائد وزارتوں، تمام اہم وزارتوں، وزیر اعظم کے منصب، نائب وزرائے اعظم، اور بحرین کی اعلیٰ دفاعی کونسل پر قابض ہے۔

بحرین کے 70 فیصد شیعہ صرف 18 فیصد اہم عہدوں پر فائز ہیں، جبکہ 28 فیصد سنی آبادی 82 فیصد اہم ذمہ داریوں پر قابض ہے۔ بحرین میں اقتدار بادشاہ، اس کے خاندان، اعلیٰ دفاعی کونسل، اور بادشاہ کی مقرر کردہ مشاورتی کونسل کے ہاتھ میں ہے۔

بحرین میں دو ایوان ہیں: ایک مجلسِ نمائندگان یا مجلس النواب، جس کے ارکان عوام منتخب کرتے ہیں۔ دوسرا مشاورتی ایوان یا “مجلسِ شورا” ہے، جس کے ارکان بادشاہ مقرر کرتا ہے۔

مجلسِ شورا کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ مجلسِ نمائندگان (پارلیمان) کے تمام فیصلوں کو مسترد یا منظور کر سکتی ہے۔ مجلسِ نمائندگان کے فیصلوں پر بادشاہ کے دستخط ضروری ہوتے ہیں، ورنہ وہ نافذ نہیں ہوتے۔

دونوں ایوانوں کے 40، 40 ارکان ہیں۔ بحرین میں اگرچہ تینوں ریاستی ادارے موجود ہیں، لیکن تمام طاقت اور اختیارات بادشاہ کے ہاتھ میں ہیں۔ بحرین کے سیاسی ڈھانچے کی سب سے اہم خصوصیت مذہبی امتیاز، آمرانہ طرزِ حکومت، اور اختیارات کا بادشاہ کے ہاتھ میں مرتکز ہونا ہے۔ شیعہ، اکثریت میں ہونے کے باوجود، حکومتی ظلم و ستم کا شکار ہیں اور انہیں حاشیے پر دھکیل دیا گیا ہے۔

عوام کا طرزِ زندگی اور معیشت (اس ملک میں ترقی کے اشاریے)

بحرین کے جزائر قدیم زمانے سے خلیج فارس کے اہم تجارتی مراکز میں شمار ہوتے تھے، جہاں تجارت کا بنیادی محور موتیوں کا شکار اور خرید و فروخت تھا، اور یہی وجہ تھی کہ خلیج فارس کے جنوبی ساحلی علاقوں کے مقابلے میں یہاں زیادہ آبادی آباد ہوئی۔

تیل کی دریافت سے پہلے، موتیوں کا شکار اور ان کی تجارت بحرین کی سب سے بڑی برآمدات میں شامل تھی۔ لوگ موتیوں کے شکار اور تجارت کے ساتھ ساتھ ماہی گیری بھی کرتے تھے۔ بحرین کی اہم زرعی پیداوار کھجور ہے اور اس کے بعد چارہ (یونجہ) آتا ہے۔ بحرین کے معدنی وسائل میں سرخ مٹی کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔

1934 میں ایک امریکی کمپنی “باپکو” نے بحرین میں تیل نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔ تیل کی پیداوار اور برآمدات شروع ہونے کے بعد، رفتہ رفتہ ماہی گیری، زراعت وغیرہ کی سرگرمیاں کم ہو گئیں اور تیل عوامی سرگرمیوں میں اولین حیثیت اختیار کر گیا، یہاں تک کہ آج بحرین کی معیشت ایک تک محصولی اقتصادی نظام بن چکی ہے، جو تیل اور تیل سے بنی مصنوعات کی برآمدات پر منحصر ہے۔ بحرین میں موجودہ فعال صنعتوں میں ایلومینیم سازی کی بھاری صنعت، جہاز سازی اور جہازوں کی مرمت، اور پلاسٹک سازی جیسی چھوٹی صنعتیں شامل ہیں[3]۔ [4]۔

بحرین کی اہم فعال تحریکیں

بحرین کی اہم مخالف تحریکیں اور جماعتیں:

الف) تحریکِ احرار

یہ تحریک 1956 (1335 ہجری شمسی) میں قائم ہوئی اور 1960 کی دہائی میں بحرینی حکومت کے خلاف مزدور تحریک اور “مشہور تحریک” کا سبب بنی، اور 1981 (1362) سے حکومت مخالف مسلح کارروائیوں کی طرف مائل ہو گئی۔

اس تحریک کے ارکان میں شیعہ اور سنی مسلمان شامل ہیں اور یہ اسلامی نظریے اور “نہ مشرقی، نہ مغربی” کے نعرے کے تحت، عوامی رائے عامہ کو منظم کرنے اور ہر قسم کی مفاہمت سے گریز کی حکمتِ عملی کے ساتھ بحرین میں اسلامی حکومت کے قیام کے خواہاں ہیں۔

“حسین الشہابی” اس وقت اس تحریک کے نمایاں رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں، اور تحریکِ احرار نے حالیہ بحرینی احتجاجات میں فعال شرکت کی ہے اور “الوفاق” اور “حق” جیسی دیگر مخالف تحریکوں کے ساتھ مل کر حکومت، پارلیمان اور آل خلیفہ حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔

ب) جمعیت الوفاق الاسلامی

جمعیت الوفاق الاسلامی بحرین ایک بحرینی شیعہ اسلامی سیاسی تنظیم ہے، جو 2001 (1380) میں قائم ہوئی اور بحرین کی سب سے بڑی مخالف جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ تاریخی لحاظ سے اسے تحریکِ احرار بحرین کی وارث سمجھا جاتا ہے، جو 1994 (1373) اور 1998 (1377) کے احتجاجات کی اصل محرک تھی۔

اس جماعت کی قیادت اس وقت شیخ “علی سلمان” کر رہے ہیں۔ اس جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ ایک ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے لیے تمام حکومتی اداروں میں عوامی حاکمیت ضروری ہے، اور اسی بنا پر یہ “اسلامی اصولوں اور بنیادوں کے مطابق آزادی، انصاف اور مساوات” کا نعرہ دیتی ہے۔

ج) تحریکِ حق

یہ تحریک اپنے تعارف کے مطابق “بحرینی آزادیوں اور جمہوریت کی اصلاح پسند تحریک” ہے اور الوفاق الاسلامی کے ساتھ مل کر بحرین کی اہم اور بڑی مخالف تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔

ابتدا میں “حسن المشیمع”، جو بحرینی اپوزیشن کے نمایاں رہنما ہیں، اس تحریک کے سیکریٹری جنرل تھے اور “عیسیٰ الجودر” ان کے نائب سمجھے جاتے تھے، بعد میں “مشیمع” کو تحریک کا سربراہ منتخب کیا گیا۔ تحریکِ حق 11 نومبر 2005 (1384) میں قائم ہوئی اور اسے جمعیت “الوفاق الاسلامی” سے الگ ہونے والی شاخ سمجھا جاتا ہے۔

“حسن المشیمع”، تحریکِ حق کے رہنما، نے بحرینی عوام کے حالیہ احتجاجات کے دوران اپنی تحریک سمیت ان احتجاجات میں شمولیت اور آل خلیفہ حکومت کے خلاف قیام کا اعلان کیا، اور الوفاق الاسلامی کی طرح ان کے مطالبات میں حکومت، پارلیمان اور آل خلیفہ حکومت کا خاتمہ شامل ہے۔

63 سالہ “مشیمع” کو 2010 (1385) میں 25 دیگر بحرینی مخالف شخصیات کے ساتھ حکومت گرانے کی کوشش کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ انہیں اسلامی جمہوریہ ایران کے حامی علاقائی شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔

د) جمعیت الوعد (العمل الوطنی و الدیمقراطی)

یہ بحرین کی پہلی سیاسی جماعت تھی جس نے 2001 میں اپنے وجود کا اعلان کیا، اور اسے بحرین کی عوامی محاذ (بائیں بازو کے گروہوں) کا تاریخی تسلسل سمجھا جاتا ہے۔ یہ جماعت اب بھی بائیں بازو کے کارکنوں، قوم پرستوں، اور آزاد بحرینی شخصیات کے اتحاد پر مشتمل ہے۔

اس جماعت نے 2002 (1381) کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، لیکن 2006 (1385) کے انتخابات میں حصہ لیا اور 2010 کے حالیہ انتخابات میں تین امیدواروں کے ساتھ شریک ہوئی۔

م) جمعیت العمل الاسلامی (جمعیة العمل الإسلامی)

یہ تحریک 1970 کی دہائی کے اواخر میں قائم ہوئی اور اس وقت “شیرازیوں” کے نام سے مشہور تھی، جو مرجعِ تشیع آیت اللہ “محمد شیرازی” سے منسوب تھی، اور بحرین کی “اسلامی محاذِ آزادی” کا تسلسل سمجھی جاتی ہے، جس پر 1981 (1362) میں بحرینی حکومت کے خلاف انقلاب کی کوشش کا الزام لگایا گیا تھا۔

اس تحریک نے 2002 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، لیکن 2006 کے انتخابات میں حصہ لیا، جبکہ 2010 کے انتخابات کا دوبارہ بائیکاٹ کیا۔

ن) جمعیت التجمع القومی الدیموقراطی

یہ بحرین میں بعثی نظریے کی نمائندہ جماعت سمجھی جاتی ہے۔ اس جماعت نے 2002 کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا، لیکن 2006 کے انتخابات میں حصہ لیا اور 2010 کے انتخابات میں بھی امیدوار کھڑے کیے۔

و) جمعیت المنبر الدیموقراطی التقدمی

یہ بحرین میں بائیں بازو کی نمائندہ جماعت اور بحرین کی قومی آزادی محاذ کا تسلسل ہے، جو 1955 (1334) میں خلیج فارس کے خطے میں قائم ہونے والی پہلی کمیونسٹ جماعت تھی۔ اس جماعت نے 2002 (1381) کے انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمان میں تین نشستیں حاصل کیں، لیکن 2006 کے انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکی۔

ه) جمعیت الوسط العربی الاسلامی

یہ جماعت ناصری نظریے (جمال عبدالناصر سے منسوب) اور بحرینی اسلام پسندوں پر مشتمل ہے۔ اس نے 2002 کے انتخابات میں حصہ لیا، لیکن اس کے کوئی امیدوار پارلیمان میں کامیاب نہ ہو سکے۔

ی) جمعیت المنبر الوطنی الاسلامی

یہ جماعت “جمعیت الاصلاح” کی سیاسی شاخ اور نمائندہ ہے، جو 1940 کی دہائی میں بحرین میں قائم ہوئی۔ اس جماعت نے 2002 کے انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمان میں آٹھ نشستیں حاصل کیں۔

2006 کے انتخابات میں اس نے جمعیت الاصالہ (سلفی تحریک) کے ساتھ اتحاد کیا اور سات نشستیں حاصل کیں، جبکہ 2010 کے انتخابات میں آٹھ امیدواروں کے ساتھ شریک ہوئی۔

ح) جمعیت الاصالہ

یہ جماعت “جمعیت تربیت اسلامی” کی سیاسی شاخ اور نمائندہ ہے۔ اس نے 2002 کے انتخابات میں حصہ لیا اور پارلیمان میں 6 نشستیں حاصل کیں۔ 2006 کے انتخابات میں بھی اس نے المنبر الوطنی الاسلامی کے ساتھ اتحاد کر کے 6 نشستیں حاصل کیں۔

خ) تحریکِ العدالہ الوطنیہ

جمعیت التجمع الوطنی الدیموقراطی میں اختلافات پیدا ہونے کے بعد یہ جماعت قائم ہوئی۔ یہ ایک چھوٹی جماعت ہے، جس میں بائیں بازو کے کارکن اور آزاد شخصیات شامل ہیں، اور خاص طور پر “المحرق” شہر میں سرگرم عمل ہے۔ اس جماعت نے 2006 کے انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا اہم فعال شیعہ تحریکیں

الف۔ الوفاق

یہ تنظیم 65 ہزار سے زائد اراکین کے ساتھ سب سے بڑی شیعہ سیاسی تنظیم ہے۔ بہت سے تاجر، کامیاب سرمایہ دار اور غریب دیہاتی اس گروہ کے رکن ہیں۔ اس کے زیادہ تر اراکین آیت اللہ خامنہ ای ـ موجودہ رہبرِ ایران ـ، آیت اللہ سید محمد حسین فضل اللہ اور آیت اللہ شیرازی کے مقلد ہیں۔ اس تنظیم نے حالیہ برسوں میں بڑی تیزی سے ترقی کی ہے اور مجموعی طور پر “حرکت احرار الاسلامیہ” کی جگہ لے لی ہے۔

اس جماعت کے سربراہ شیخ علی سلمان کئی برس ایران میں مقیم رہے۔ وہ کچھ عرصہ لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے بعد فروری 2001 میں بحرین واپس آئے۔

ب۔ جمعیت العمل الاسلامی

یہ تنظیم بحرین کی دوسری بڑی شیعہ سیاسی جماعت ہے جس کی قیادت شیخ محمد علی محفوظ کے ہاتھ میں ہے۔

اس تنظیم کے رہنماؤں میں سے ہادی العلوی نے کہا ہے کہ اس گروہ کے 20 ہزار رجسٹرڈ اراکین ہیں اور یہ بحرین کے 45 سے 55 فیصد شیعوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ج۔ الاخاء

تیسری اور جدید ترین شیعہ سیاسی تنظیم “الاخاء” ہے، جو بحرین کے ایرانی النسل شیعوں کو متحد کرتی ہے۔ اس گروہ کا ایران کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور اس نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہرگز خود کو دیگر بحرینیوں سے الگ نہیں کرنا چاہتا بلکہ اپنے ہم نسل افراد اور ان کے خلاف امتیاز کے خاتمے کی حمایت کرتا ہے۔

اگرچہ بحرینی شیعہ مختلف گروہوں میں منظم ہیں، لیکن بنیادی مسائل جیسے سیاسی، سماجی اور اقتصادی اصلاحات اور امتیازی سلوک کے خاتمے کے حوالے سے وہ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون رکھتے ہیں [5]۔

جریان الوفاق

جمعیت الوفاق الاسلامی بحرین ایک بحرینی شیعہ اسلامی سیاسی جماعت ہے جو 2001 (1380) میں قائم ہوئی اور بحرین کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ تاریخی لحاظ سے اسے “تحریک احرار بحرین” کا وارث سمجھا جاتا ہے، جو 1994 (1373) اور 1998 (1377) کے احتجاجات کی اصل محرک تھی۔

اس جماعت کی قیادت اس وقت شیخ “علی سلمان” کے پاس ہے اور اس جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ ایک ترقی یافتہ ملک کی تعمیر کے لیے تمام حکومتی اداروں میں عوامی حاکمیت قائم ہونی چاہیے، اسی لیے یہ “اسلامی اصولوں اور مبادیات کی بنیاد پر آزادی، انصاف اور مساوات” کا نعرہ بلند کرتی ہے۔

اہم فعال سنی تحریکیں

  • جمعیت العمل الاسلامی
  • جمعیت الوسط العربی الاسلامی
  • جمعیت المنبر الوطنی الاسلامی

اہم نمایاں شخصیات

شیخ عبدالامیر الجمری؛

انہوں نے 1990 کی دہائی میں بحرین کے شیعوں کی تحریک میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور کئی مرتبہ سیاسی سرگرمیوں کے جرم میں قید کیے گئے۔ یہ مجاہد عالم 2006 میں وفات پا گئے۔

جمعیت الوفاق کے سیکریٹری جنرل شیخ علی سلمان کا کہنا ہے کہ شیخ عبدالامیر الجمری نے قوم کے جسم میں انقلاب کی روح پھونک دی۔

شیخ عیسیٰ احمد قاسم؛

وہ 1940 میں پیدا ہوئے اور نجف و قم کے تعلیم یافتہ ہیں۔ وہ 2001 میں بحرین واپس آئے اور اپنے قیام کے دوران شیعوں کے امور کی تدبیر، دینی سرگرمیوں اور نماز جمعہ کے قیام میں مصروف رہے۔

وہ بحرین کی علماء کونسل کے سربراہ بھی رہے اور حالیہ برسوں کے شیعہ احتجاجات میں ایک طرح سے ان کی قیادت سنبھالے ہوئے تھے۔ اسی وجہ سے آل خلیفہ حکومت کی فورسز نے 2013 میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔

31 فروردین 1393 کو امیر کبیر یونیورسٹی میں ان کی خدمات کے اعتراف میں “مسیح بحرین” کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی۔ [83] جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ نے بھی 9 دی 1394 کو “آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم” کے اعزاز میں چوتھا عالمی مصطفیٰ ایوارڈ تہران میں منعقد کیا، جس میں عالم اسلام کے متعدد علماء شریک ہوئے۔

اس تقریب میں آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی 45 جلدوں پر مشتمل تصانیف کی رونمائی کی گئی اور ان کے نمائندے کو عالمی مصطفیٰ ایوارڈ اور تعریفی لوح پیش کی گئی۔

آل خلیفہ حکومت نے 31 خرداد 1395 کو ان کی بحرینی شہریت منسوخ کر دی۔ اس اقدام پر بحرین کے اندر اور بین الاقوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا۔

سید عبداللہ غریفی؛

وہ بحرین کے جلاوطن علماء میں سے ہیں، نجف میں تعلیم حاصل کی اور سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے بحرینی حکومت نے انہیں دبئی جلاوطن کر دیا۔ وہ چند برس قبل بحرین واپس آئے۔

شیخ محمد سنقور؛

انہوں نے ایران میں تعلیم حاصل کی ہے اور اس وقت بحرین میں مقیم ہیں۔ وہ شیعہ علماء کونسل کے نمایاں اراکین میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی زیادہ تر سرگرمیاں دینی مدارس اور قرآنی امور سے متعلق ہیں۔

شیخ حسین نجاتی؛

وہ بحرین کے غیر عرب شیعہ علماء میں سے ہیں جنہیں عرب شیعہ بہت احترام دیتے ہیں۔ وہ آیت اللہ سیستانی کے نمائندے ہیں۔ بحرینی حکومت نے 2012 میں ان سمیت 31 افراد کی بحرینی شہریت قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے کر منسوخ کر دی۔

اس کے باوجود وہ بحرین میں مقیم رہے یہاں تک کہ منگل 27 فروردین 1393 کو بحرینی حکومت نے انہیں اطلاع دی کہ وہ 48 گھنٹوں کے اندر بحرین چھوڑ دیں، ورنہ ان کے خاندان کو ہراسانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آل خلیفہ کی اس دھمکی پر جبل عامل کے علماء نے احتجاج کیا۔ آخرکار 3 اردیبهشت 1393 کو وہ بحرین چھوڑ کر بیروت جانے پر مجبور ہو گئے۔

شیخ محمد سند

بحرین کے شیعہ علماء کی ایک تنظیم “المجلس الاسلامی العلمائی” کے نام سے موجود ہے، جس کے سربراہ سید مجید مشعل ہیں۔ اس تنظیم میں تقریباً ستر شیعہ علماء شامل ہیں۔ اس تنظیم کی نمایاں شخصیات میں شیخ عادل الشعلة، شیخ باقر الحواج اور شیخ علی سلمان شامل ہیں۔

بحرینی عدالت نے 1392 شمسی کے اوائل بہمن میں وزارتِ انصاف کی شکایت پر اس تنظیم کو تحلیل کرنے اور اس کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم جاری کیا۔ اس فیصلے پر شیعہ گروہوں نے شدید مخالفت کی۔

بعض شیعہ علماء حکومت کے ساتھ تعاون بھی کرتے ہیں، جن میں شیخ محسن آل عصفور شامل ہیں۔

اہم شیعہ شخصیات

شیخ عیسیٰ قاسم

شیخ عیسیٰ قاسم 1317 شمسی میں بحرین کے علاقے الدراز میں ایک عام مگر مذہبی اصولوں کی پابند خاندان میں پیدا ہوئے۔ 1350 شمسی میں بحرین کی آزادی کے بعد بحرینی عوام کے اصرار پر اپنے وطن واپس آئے اور بحرین کے آئین کی تدوین میں کردار ادا کیا۔ عوامی ووٹ سے مجلسِ مؤسسان میں منتخب ہوئے اور اسی دوران بحرین کی قومی اسمبلی کے بھی رکن منتخب کیے گئے اور اسمبلی کے تحلیل ہونے تک اس کے رکن رہے۔

جب عوامی تحریک شروع ہوئی تو شیخ عیسیٰ قاسم نے بحرین میں عوامی اور پُرامن احتجاجات کی قیادت اور رہنمائی سنبھالی تاکہ آل خلیفہ کے ظلم و ستم کو واضح کیا جا سکے اور عوام کے جائز حقوق کا مطالبہ کیا جا سکے۔

الدراز کے علاقے میں ان کے جمعہ کے اجتماعات میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوتے تھے۔ اپنی ممتاز شخصیت، علم اور تقویٰ کی بنا پر وہ بحرینی عوام میں خاص مقبولیت رکھتے ہیں۔

1395 میں آیت اللہ عیسیٰ قاسم کی شہریت منسوخ کر دی گئی۔ شہریت کی منسوخی کے ایک سال بعد، 1396 کے موسمِ بہار میں آل خلیفہ کی فوجوں نے ان کے گھر پر حملہ کر کے انہیں نظر بند کر دیا۔ اس حملے کے خلاف عوامی احتجاجات ہوئے جن میں 1397 تک 6 افراد شہید اور 200 زخمی ہوئے۔

حوالہ جات

  1. نگاهي به تاريخچه "بحرين"-شائع شدہ از: 2 فروردین 1392ش- اخذ شدہ بہ تاریخ:28 مئی 2026ء
  2. تحولات سیاسی دربحرین: تاثیر گذاری جغرافیا، سیاست، مذهب-اخذ شدہ بہ تاریخ:28 مئی 2026ء
  3. محمدی، علی، سیمای بحرین، و جعفریان، رسول، اطلس شیعه، ص 19
  4. برگرفته از مقاله ی نگاهی به وضعیت شیعیان در بحرین
  5. اسمی، صفت اللہ، جنبش‌های سیاسی اجتماعی، ص 153۔