"ابومصعب زرقاوی" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ابومصعب زرقاوی کو ابومصعب زرقاوی کی جانب منتقل کیا |
||
| (2 صارفین 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{خانہ معلومات شخصیت | |||
| title = ابومصعب الزرقاوی | |||
| image = ابومصعب زرقاوی.jpg | |||
| name = احمد فاضل الخلایہ | |||
| other names = عبد العزیز علی عبد العزیز شاہین | |||
| brith year = 1966 ء | |||
| brith date = | |||
| birth place = اردن | |||
| death year = 2006 ء | |||
| death date = | |||
| death place = عراق | |||
| students = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[خوارج]] | |||
| works = | |||
| known for = عراق مین القاعده کا شاخ جماعت توحید وجہاد کا بانی ۔}} | |||
'''ابومصعب زرقاوی''' اصل نام احمد فاضل الخلایہ تھا، جس نے 1990ء میں ''جماعت [[توحید]] و [[جہاد]]'' کی بنیاد رکھی اور اپنی موت (جون 2006ء) تک اس کی قیادت سنبھالے رکھی<ref>[https://www.hamshahrionline.ir/news/75208/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%A7%D8%A8%D9%88-%D9%85%D8%B5%D8%B9%D8%A8-%D8%A7%D9%84%D8%B2%D8%B1%D9%82%D8%A7%D9%88%DB%8C-%DB%B1%DB%B9%DB%B6%DB%B6-%DB%B2%DB%B0%DB%B0%DB%B6 ہم شہری آن لائن]</ref>۔ | |||
== پیدائش == | == پیدائش == | ||
احمد فاضل الخلایہ، ملقب ابومصعب الزرقاوی، 20 دسمبر 1966ء کو اردن کے دوسرے بڑے شہر ''زرقاء'' میں پیدا ہوا، جو عمان سے 25 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ وہ شہر کے غریب ترین محلے ''معصوم'' میں پیدا ہوا۔ اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس کا کوئی خاص خاندانی پس منظر نہیں تھا اور وہ ایک غریب فلسطینی خاندان کا فرد تھا جو اردن میں مقیم تھا۔ | احمد فاضل الخلایہ، ملقب ابومصعب الزرقاوی، 20 دسمبر 1966ء کو اردن کے دوسرے بڑے شہر ''زرقاء'' میں پیدا ہوا، جو عمان سے 25 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ وہ شہر کے غریب ترین محلے ''معصوم'' میں پیدا ہوا۔ اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس کا کوئی خاص خاندانی پس منظر نہیں تھا اور وہ ایک غریب [[فلسطین|فلسطینی]] خاندان کا فرد تھا جو اردن میں مقیم تھا۔ | ||
== سلفی فکر == | == سلفی فکر == | ||
زرقاوی کا نام سب سے پہلے اردن کے دارالحکومت عمان میں ریڈیسن ہوٹل پر ناکام حملے کے سلسلے میں سامنے آیا۔ تاہم، بعض کا ماننا ہے کہ | زرقاوی کا نام سب سے پہلے اردن کے دارالحکومت عمان میں ریڈیسن ہوٹل پر ناکام حملے کے سلسلے میں سامنے آیا۔ تاہم، بعض کا ماننا ہے کہ القاعدہ [[عراق]] کا ظہور ابومصعب زرقاوی کی انتہا پسندی کا نتیجہ تھا۔ | ||
انہیں انکے والد کی وفات کے بعد سترہ سال کی عمر میں ہائی اسکول سے نکال دیا گیا اور تشدد، منشیات اور شراب نوشی پر مبنی زندگی گزارتا رہا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں منشیات رکھنے اور جنسی زیادتی کے الزام میں جیل گیا، لیکن چند ماہ بعد اردن حکومت کی عمومی معافی کے تحت رہا ہو گیا۔ | |||
جیل میں اس کی ملاقات جہادی سلفیوں سے ہوئی اور رہائی کے بعد اس نے [[افغانستان]] میں جہاد میں شرکت کے لیے اردن چھوڑ دیا۔ تاہم، ابوالیمان البغدادی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، جو داعش سے وابستہ ادارہ الفرقان نے شائع کیا، زرقاوی نے القاعدہ سے اپنی شناسائی کا ذکر یوں کیا: | |||
مسجد میں دوستوں کے ساتھ آمد و رفت کے دوران مجھے افغانستان میں جہاد کی خبریں ملتی تھیں جو دوست سناتے تھے۔ کچھ سی ڈیاں جو عبداللہ عزام کی تھیں، نیز المجاہد رسالہ اور جنگ کے مناظر پر مشتمل کچھ ویڈیوز ہمارے پاس بھیجی جاتی تھیں، جن کا جہاد کے میدان میں داخل ہونے پر گہرا اثر پڑا اور افغانستان جانے کی میری خواہش کو دوچند کر دیا<ref>[https://www.alwahabiyah.com/fa/questionview/4213/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D9%85%D8%B5%D8%B9%D8%A8-%D8%B2%D8%B1%D9%82%D8%A7%D9%88%DB%8C-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%AA ابومصعب کون ہے؟]</ref>۔ | |||
== القاعدہ میں شمولیت == | == القاعدہ میں شمولیت == | ||
2003ء کے آغاز کے ساتھ ہی زرقاوی عراق میں تھا اور عراقی اور امریکی اہداف کے خلاف سخت حملوں کی قیادت کر رہا تھا۔ اس کے تحت کام کرنے والے گروپ کو ''عراق میں القاعدہ تنظیم'' کا نام دیا گیا۔ آخرکار 2006ء میں امریکی افواج کے منظم حملے میں وہ مارا گیا، اور اس کے بعد وہ دہشت گرد جو | 2003ء کے آغاز کے ساتھ ہی زرقاوی عراق میں تھا اور عراقی اور [[امریکہ|امریکی]] اہداف کے خلاف سخت حملوں کی قیادت کر رہا تھا۔ اس کے تحت کام کرنے والے گروپ کو ''عراق میں القاعدہ تنظیم'' کا نام دیا گیا۔ آخرکار 2006ء میں امریکی افواج کے منظم حملے میں وہ مارا گیا، اور اس کے بعد وہ دہشت گرد جو ''داعش'' کے رہنما ہیں، نے زرقاوی کے راستے کو جاری رکھا۔ | ||
== داعش پر اثرات == | |||
بہت سے لوگ زرقاوی کو داعش کا روحانی باپ مانتے ہیں۔ مائیکل فلن کہتے ہیں: ''داعش کی تخلیق کا زرقاوی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے۔ | |||
جب میں آج کی صورتحال کو دیکھتا ہوں تو ہر اضطراب اور جھگڑے میں زرقاوی کو دیکھتا ہوں۔ وہ داعش کا روحانی باپ ہے''۔ | |||
جنرل اسٹینلے میک کرسٹل، جو عراق میں [[امریکہ]] کی جنگ کے دوران معروف کمانڈر تھے، کہتے ہیں: ''زرقاوی نے ایک چھوٹی دہشت گرد تنظیم سے کہیں زیادہ کچھ تخلیق کیا... وہ ایک تحریک کا آغاز کرنے والا ہے۔ اس نے لوگوں کو قائل کر دیا کہ ''داعش'' کا وجود ممکن ہے''۔ | جنرل اسٹینلے میک کرسٹل، جو عراق میں [[امریکہ]] کی جنگ کے دوران معروف کمانڈر تھے، کہتے ہیں: ''زرقاوی نے ایک چھوٹی دہشت گرد تنظیم سے کہیں زیادہ کچھ تخلیق کیا... وہ ایک تحریک کا آغاز کرنے والا ہے۔ اس نے لوگوں کو قائل کر دیا کہ ''داعش'' کا وجود ممکن ہے''۔ | ||
== زرقاوی کا اسامہ بن لادن سے موازنہ == | == زرقاوی کا اسامہ بن لادن سے موازنہ == | ||
11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ کا زرقاوی کے اس نقطہ نظر سے اختلاف تھا جس کے تحت وہ دیگر [[مسلمانوں]] پر حملہ کرتا تھا۔ میک کرسٹل زرقاوی کے بارے میں کہتے ہیں: ''اس کا ہدف [[اہل سنت و جماعت|اہل سنت]] اور [[شیعیان]] کے درمیان مذہبی جنگ کا آغاز کرنا تھا''۔ | 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ کا زرقاوی کے اس نقطہ نظر سے اختلاف تھا جس کے تحت وہ دیگر [[مسلمان|مسلمانوں]] پر حملہ کرتا تھا۔ میک کرسٹل زرقاوی کے بارے میں کہتے ہیں: ''اس کا ہدف [[اہل سنت و جماعت|اہل سنت]] اور [[شیعہ|شیعیان]] کے درمیان مذہبی جنگ کا آغاز کرنا تھا''۔ | ||
آج بھی داعش ان مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے جو اس گروپ کے [[اسلام]] کے خاص تفسیر کی پیروی نہیں کرتے، اور اسی طریقہ کار کو اپناتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف جارجیا کی محققہ امنڈا راجرز کہتی ہیں: ''آج داعش جو کر رہا ہے وہ زرقاوی کے اقدامات کی وسیع تر شکل ہے۔ یہ گروپ سب سے پہلے مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے... داعش کی حکمت عملی وہی اصول ہیں جن کی زرقاوی پیروی کرتا تھا''۔ | آج بھی داعش ان مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے جو اس گروپ کے [[اسلام]] کے خاص تفسیر کی پیروی نہیں کرتے، اور اسی طریقہ کار کو اپناتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف جارجیا کی محققہ امنڈا راجرز کہتی ہیں: ''آج داعش جو کر رہا ہے وہ زرقاوی کے اقدامات کی وسیع تر شکل ہے۔ یہ گروپ سب سے پہلے مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے... داعش کی حکمت عملی وہی اصول ہیں جن کی زرقاوی پیروی کرتا تھا''۔ | ||
== عراق کی جنگ پر اثرات == | |||
جنرل میک کرسٹل کے بقول، زرقاوی وہ شخص تھا جس نے غیر متوقع طور پر ثابت کر دیا کہ امریکہ عراق کی جنگ میں ہار سکتا ہے۔ 2004ء میں امریکی جنرلوں نے جنگ اور فلوجہ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی، | |||
کیونکہ ان کا سامنا صرف عراق کے سابق صدر صدام حسین کے فوجیوں سے نہیں تھا، بلکہ ان کے سامنے زرقاوی کے حامی غیر ملکی جنگجو بھی تھے۔ | |||
پہلی جنگ فلوجہ امریکہ کے چار اتحادیوں کے قتل کے جواب میں شروع ہوئی، جنہیں پل سے لٹکا کر پھانسی دی گئی تھی | |||
اور ان کے چہرے مسخ کر دیے گئے تھے۔ اس دوران جب جنگ کے منصوبہ سازوں نے اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کے لیے لڑائی سے ہاتھ کھینچ لیا، تو 27 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔ جب اتحادی افواج سات ماہ بعد محاذ پر واپس آئیں، تو انہوں نے ویتنام کی جنگ کے بعد اپنی سخت ترین لڑائی کا سامنا کیا۔ | |||
موجودہ دور میں فلوجہ، جو بغداد میں خودکش دہشت گردوں کی روانگی کے لیے | موجودہ دور میں فلوجہ، جو بغداد میں خودکش دہشت گردوں کی روانگی کے لیے القاعدہ کا اڈہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا، 2014ء میں داعش کے قبضے میں آنے والا پہلا عراقی شہر بنا۔ | ||
== زرقاوی کی حکمت عملی: یرغمالیوں کے سر قلم کرنا == | == زرقاوی کی حکمت عملی: یرغمالیوں کے سر قلم کرنا == | ||
زرقاوی نے اغوا اور سر قلم کرنے کے اعمال کے ذریعے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے اپنی وحشیانہ کارروائیوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کیں اور زور دے کر کہا کہ ان تمام اقدامات کی ذمہ داری زرقاوی اور اس کے ماتحت گروہ پر عائد ہوتی ہے۔ | زرقاوی نے اغوا اور سر قلم کرنے کے اعمال کے ذریعے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے اپنی وحشیانہ کارروائیوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کیں اور زور دے کر کہا کہ ان تمام اقدامات کی ذمہ داری زرقاوی اور اس کے ماتحت گروہ پر عائد ہوتی ہے۔ | ||
یہ سلسلہ مئی 2004 میں امریکی ٹھیکیدار نکولاس برگ کے اغوا اور قتل سے شروع ہوا۔ داعش نے بھی اس وحشیانہ طریقہ کار کو جاری رکھا، یہاں تک کہ محمد اموازی، جو "جان جہادی" کے نام سے مشہور تھا، ایک برطانوی شہری جو اپنا چہرہ نقاب کے پیچھے چھپاتا تھا اور داعش کا انگریزی بولنے والا ترجمان مانا جاتا تھا، نے بھی یرغمالیوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیوز جاری کیں۔ ان یرغمالیوں میں سے کچھ دوسروں کی مدد کے لیے مشرق وسطیٰ گئے تھے۔ | |||
== عراق جنگ کے لیے زرقاوی کو عالمی شہرت دینے میں امریکہ کی پالیسی == | == عراق جنگ کے لیے زرقاوی کو عالمی شہرت دینے میں امریکہ کی پالیسی == | ||
2003 سے قبل زرقاوی زیادہ معروف شخصیت نہیں تھا، لیکن جب کولن پاول، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ، عراق جنگ کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، | 2003 سے قبل زرقاوی زیادہ معروف شخصیت نہیں تھا، لیکن جب کولن پاول، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ، عراق جنگ کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، | ||
تو انہوں نے [[اقوام متحدہ]] میں اپنی تقریر میں کئی بار اس بات پر زور دیا کہ زرقاوی اسامہ بن لادن اور صدام حسین کی حکومت کے درمیان اہم کڑی ہے۔ | |||
تاہم، بعد میں اس تعلق کی درستگی پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے ریٹائرڈ آپریشنز آفیسر سام فادس نے اس حوالے سے کہا: "ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا کہ زرقاوی بغداد میں صدام کے لیے کام کرتا تھا یا اس کا اس سے کوئی تعلق تھا"<ref>[https://www.yjc.news/fa/news/5673916/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D9%85%D8%B5%D8%B9%D8%A8-%D8%B2%D8%B1%D9%82%D8%A7%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%AF%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D9%81%D8%AD%D8%B4%D8%A7-%D8%AA%D8%A7-%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B0%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DB%8C-%D8%AC%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%DB%8C%D8%B3-%D8%A2%DA%98%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D8%A7%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%B9%D8%A7%D8%AA-%D8%AF%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7 باشگاه خبرنگاران جوان]</ref>۔ | تاہم، بعد میں اس تعلق کی درستگی پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے ریٹائرڈ آپریشنز آفیسر سام فادس نے اس حوالے سے کہا: "ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا کہ زرقاوی بغداد میں صدام کے لیے کام کرتا تھا یا اس کا اس سے کوئی تعلق تھا"<ref>[https://www.yjc.news/fa/news/5673916/%D8%A7%D8%A8%D9%88%D9%85%D8%B5%D8%B9%D8%A8-%D8%B2%D8%B1%D9%82%D8%A7%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D8%B2-%D8%AF%D9%84%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D9%81%D8%AD%D8%B4%D8%A7-%D8%AA%D8%A7-%D8%A8%D9%86%DB%8C%D8%A7%D9%86%DA%AF%D8%B0%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4%D8%A7%D9%81%D8%B4%D8%A7%DA%AF%D8%B1%DB%8C-%D8%AC%D9%86%D8%AC%D8%A7%D9%84%DB%8C-%D8%B1%DB%8C%DB%8C%D8%B3-%D8%A2%DA%98%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D8%A7%D8%B7%D9%84%D8%A7%D8%B9%D8%A7%D8%AA-%D8%AF%D9%81%D8%A7%D8%B9%DB%8C-%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7 باشگاه خبرنگاران جوان]</ref>۔ | ||
== وفات == | == وفات == | ||
ابو مصعب الزرقاوی 7 جون 2006 | ابو مصعب الزرقاوی 7 جون 2006 بغداد، عراق کی دارالحکومت کے شمال میں واقع شہر بعقوبہ سے 8 کلومیٹر شمال میں امریکی افواج کے ہاتھوں مارا گیا۔ | ||
== متعلقہ تلاشیں == | |||
* [[عراق]] | |||
* [[حشد الشعبی]] | |||
* [[داعش]] | |||
* [[القاعده]] | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
| سطر 81: | سطر 79: | ||
[[زمرہ:شخصیات]] | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[زمرہ: | [[زمرہ:عراق]] | ||
[[زمرہ:القاعده]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 16:49، 18 مئی 2026ء
| ابومصعب الزرقاوی | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | احمد فاضل الخلایہ |
| دوسرے نام | عبد العزیز علی عبد العزیز شاہین |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1966 ء |
| پیدائش کی جگہ | اردن |
| وفات | 2006 ء |
| وفات کی جگہ | عراق |
| مذہب | اسلام، خوارج |
| مناصب | عراق مین القاعده کا شاخ جماعت توحید وجہاد کا بانی ۔ |
ابومصعب زرقاوی اصل نام احمد فاضل الخلایہ تھا، جس نے 1990ء میں جماعت توحید و جہاد کی بنیاد رکھی اور اپنی موت (جون 2006ء) تک اس کی قیادت سنبھالے رکھی[1]۔
پیدائش
احمد فاضل الخلایہ، ملقب ابومصعب الزرقاوی، 20 دسمبر 1966ء کو اردن کے دوسرے بڑے شہر زرقاء میں پیدا ہوا، جو عمان سے 25 کلومیٹر شمال مشرق میں واقع ہے۔ وہ شہر کے غریب ترین محلے معصوم میں پیدا ہوا۔ اس کے خاندانی پس منظر کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ اس کا کوئی خاص خاندانی پس منظر نہیں تھا اور وہ ایک غریب فلسطینی خاندان کا فرد تھا جو اردن میں مقیم تھا۔
سلفی فکر
زرقاوی کا نام سب سے پہلے اردن کے دارالحکومت عمان میں ریڈیسن ہوٹل پر ناکام حملے کے سلسلے میں سامنے آیا۔ تاہم، بعض کا ماننا ہے کہ القاعدہ عراق کا ظہور ابومصعب زرقاوی کی انتہا پسندی کا نتیجہ تھا۔
انہیں انکے والد کی وفات کے بعد سترہ سال کی عمر میں ہائی اسکول سے نکال دیا گیا اور تشدد، منشیات اور شراب نوشی پر مبنی زندگی گزارتا رہا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں منشیات رکھنے اور جنسی زیادتی کے الزام میں جیل گیا، لیکن چند ماہ بعد اردن حکومت کی عمومی معافی کے تحت رہا ہو گیا۔
جیل میں اس کی ملاقات جہادی سلفیوں سے ہوئی اور رہائی کے بعد اس نے افغانستان میں جہاد میں شرکت کے لیے اردن چھوڑ دیا۔ تاہم، ابوالیمان البغدادی کے ساتھ ایک انٹرویو میں، جو داعش سے وابستہ ادارہ الفرقان نے شائع کیا، زرقاوی نے القاعدہ سے اپنی شناسائی کا ذکر یوں کیا:
مسجد میں دوستوں کے ساتھ آمد و رفت کے دوران مجھے افغانستان میں جہاد کی خبریں ملتی تھیں جو دوست سناتے تھے۔ کچھ سی ڈیاں جو عبداللہ عزام کی تھیں، نیز المجاہد رسالہ اور جنگ کے مناظر پر مشتمل کچھ ویڈیوز ہمارے پاس بھیجی جاتی تھیں، جن کا جہاد کے میدان میں داخل ہونے پر گہرا اثر پڑا اور افغانستان جانے کی میری خواہش کو دوچند کر دیا[2]۔
القاعدہ میں شمولیت
2003ء کے آغاز کے ساتھ ہی زرقاوی عراق میں تھا اور عراقی اور امریکی اہداف کے خلاف سخت حملوں کی قیادت کر رہا تھا۔ اس کے تحت کام کرنے والے گروپ کو عراق میں القاعدہ تنظیم کا نام دیا گیا۔ آخرکار 2006ء میں امریکی افواج کے منظم حملے میں وہ مارا گیا، اور اس کے بعد وہ دہشت گرد جو داعش کے رہنما ہیں، نے زرقاوی کے راستے کو جاری رکھا۔
داعش پر اثرات
بہت سے لوگ زرقاوی کو داعش کا روحانی باپ مانتے ہیں۔ مائیکل فلن کہتے ہیں: داعش کی تخلیق کا زرقاوی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے۔
جب میں آج کی صورتحال کو دیکھتا ہوں تو ہر اضطراب اور جھگڑے میں زرقاوی کو دیکھتا ہوں۔ وہ داعش کا روحانی باپ ہے۔
جنرل اسٹینلے میک کرسٹل، جو عراق میں امریکہ کی جنگ کے دوران معروف کمانڈر تھے، کہتے ہیں: زرقاوی نے ایک چھوٹی دہشت گرد تنظیم سے کہیں زیادہ کچھ تخلیق کیا... وہ ایک تحریک کا آغاز کرنے والا ہے۔ اس نے لوگوں کو قائل کر دیا کہ داعش کا وجود ممکن ہے۔
زرقاوی کا اسامہ بن لادن سے موازنہ
11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے ماسٹر مائنڈ کا زرقاوی کے اس نقطہ نظر سے اختلاف تھا جس کے تحت وہ دیگر مسلمانوں پر حملہ کرتا تھا۔ میک کرسٹل زرقاوی کے بارے میں کہتے ہیں: اس کا ہدف اہل سنت اور شیعیان کے درمیان مذہبی جنگ کا آغاز کرنا تھا۔ آج بھی داعش ان مسلمانوں کو نشانہ بناتا ہے جو اس گروپ کے اسلام کے خاص تفسیر کی پیروی نہیں کرتے، اور اسی طریقہ کار کو اپناتا ہے۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف جارجیا کی محققہ امنڈا راجرز کہتی ہیں: آج داعش جو کر رہا ہے وہ زرقاوی کے اقدامات کی وسیع تر شکل ہے۔ یہ گروپ سب سے پہلے مسلمانوں پر حملہ کرتا ہے... داعش کی حکمت عملی وہی اصول ہیں جن کی زرقاوی پیروی کرتا تھا۔
عراق کی جنگ پر اثرات
جنرل میک کرسٹل کے بقول، زرقاوی وہ شخص تھا جس نے غیر متوقع طور پر ثابت کر دیا کہ امریکہ عراق کی جنگ میں ہار سکتا ہے۔ 2004ء میں امریکی جنرلوں نے جنگ اور فلوجہ میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی،
کیونکہ ان کا سامنا صرف عراق کے سابق صدر صدام حسین کے فوجیوں سے نہیں تھا، بلکہ ان کے سامنے زرقاوی کے حامی غیر ملکی جنگجو بھی تھے۔ پہلی جنگ فلوجہ امریکہ کے چار اتحادیوں کے قتل کے جواب میں شروع ہوئی، جنہیں پل سے لٹکا کر پھانسی دی گئی تھی
اور ان کے چہرے مسخ کر دیے گئے تھے۔ اس دوران جب جنگ کے منصوبہ سازوں نے اپنی صفوں کو مضبوط کرنے کے لیے لڑائی سے ہاتھ کھینچ لیا، تو 27 امریکی فوجی بھی مارے گئے۔ جب اتحادی افواج سات ماہ بعد محاذ پر واپس آئیں، تو انہوں نے ویتنام کی جنگ کے بعد اپنی سخت ترین لڑائی کا سامنا کیا۔
موجودہ دور میں فلوجہ، جو بغداد میں خودکش دہشت گردوں کی روانگی کے لیے القاعدہ کا اڈہ کے طور پر استعمال ہوتا تھا، 2014ء میں داعش کے قبضے میں آنے والا پہلا عراقی شہر بنا۔
زرقاوی کی حکمت عملی: یرغمالیوں کے سر قلم کرنا
زرقاوی نے اغوا اور سر قلم کرنے کے اعمال کے ذریعے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس نے اپنی وحشیانہ کارروائیوں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر جاری کیں اور زور دے کر کہا کہ ان تمام اقدامات کی ذمہ داری زرقاوی اور اس کے ماتحت گروہ پر عائد ہوتی ہے۔
یہ سلسلہ مئی 2004 میں امریکی ٹھیکیدار نکولاس برگ کے اغوا اور قتل سے شروع ہوا۔ داعش نے بھی اس وحشیانہ طریقہ کار کو جاری رکھا، یہاں تک کہ محمد اموازی، جو "جان جہادی" کے نام سے مشہور تھا، ایک برطانوی شہری جو اپنا چہرہ نقاب کے پیچھے چھپاتا تھا اور داعش کا انگریزی بولنے والا ترجمان مانا جاتا تھا، نے بھی یرغمالیوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیوز جاری کیں۔ ان یرغمالیوں میں سے کچھ دوسروں کی مدد کے لیے مشرق وسطیٰ گئے تھے۔
عراق جنگ کے لیے زرقاوی کو عالمی شہرت دینے میں امریکہ کی پالیسی
2003 سے قبل زرقاوی زیادہ معروف شخصیت نہیں تھا، لیکن جب کولن پاول، امریکہ کے سابق وزیر خارجہ، عراق جنگ کے لیے عالمی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے،
تو انہوں نے اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں کئی بار اس بات پر زور دیا کہ زرقاوی اسامہ بن لادن اور صدام حسین کی حکومت کے درمیان اہم کڑی ہے۔ تاہم، بعد میں اس تعلق کی درستگی پر شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے ریٹائرڈ آپریشنز آفیسر سام فادس نے اس حوالے سے کہا: "ہمیں کوئی ثبوت نہیں ملا کہ زرقاوی بغداد میں صدام کے لیے کام کرتا تھا یا اس کا اس سے کوئی تعلق تھا"[3]۔
وفات
ابو مصعب الزرقاوی 7 جون 2006 بغداد، عراق کی دارالحکومت کے شمال میں واقع شہر بعقوبہ سے 8 کلومیٹر شمال میں امریکی افواج کے ہاتھوں مارا گیا۔
