مندرجات کا رخ کریں

"سودارنوطو حکیم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا)
سطر 78: سطر 78:
== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
== مآخذ ==


[[زمرہ:شخصیات]]   
[[زمرہ:شخصیات]]   
[[زمرہ:سیاسی شخصیات]]   
[[زمرہ:سیاسی شخصیات]]   
[[زمرہ:انڈونیشیا]]
[[زمرہ:انڈونیشیا]]
[[fa:سودارنوطو حكيم]]

حالیہ نسخہ بمطابق 02:13، 14 مئی 2026ء

سودارنوطو حکیم
پورا نامسودارنوطو حكيم
دوسرے نامڈاکٹر سودارنوطو حكيم
ذاتی معلومات
پیدائش1959 ء
یوم پیدائش3 فروری
پیدائش کی جگہانڈونیشیا
مذہباسلام، اہل سنت
مناصبانڈونیشین علما کونسل کے صدر، رکن، کمیشن برائے تعلیم و تربیتِ اراکین کے سربراہ، اور شعبۂ خارجہ تعلقات و بین الاقوامی تعاون کے سربراہ

سودارنوطو حکیم، سیاست دان، کمیشن برائے تعلیم و تربیتِ اراکین کے چیئرمین اور انڈونیشین علما کونسل (MUI) کے شعبۂ خارجہ تعلقات و بین الاقوامی تعاون کے سربراہ، انسانی ہمدردی کے امور کے سرگرم کارکن اور عالمی امن خصوصاً مسئلۂ فلسطین کے ایک بااثر چہرے ہیں۔ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فلسطین انسانی ہمدردی کی جدوجہد کی علامت ہے، اور اگر اسرائیل کو اپنے جرائم جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو بین الاقوامی قانونی نظام منہدم ہو جائے گا۔ ان کے مطابق اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کو اسرائیلی جارحیت کو عالمی سلامتی اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھنا چاہیے اور اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

سوانحِ حیات

سودارنوطو حکیم 3 فروری 1959ء کو انڈونیشیا کے علاقے کومان، بانجارنگارا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کی رہنمائی میں شروع کی، پھر تعلیم کے لیے پاسوروان کے قریب واقع اسلامی رہائشی مدرسہ پرسیس بنگیل گئے، جہاں کبھی صدر احمد سوکارنو بھی تدریس کر چکے تھے۔ اس رہائشی مدرسے سے فراغت کے بعد انہوں نے جکارتہ یونیورسٹی (IAIN) کے کلیۂ ادب میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔

بعد ازاں انہوں نے کینیڈا کی بین الاقوامی ترقیاتی ایجنسی (CIDA) کے وظیفے کے ذریعے اپنی تعلیم کو آگے بڑھایا، جس کے نتیجے میں وہ کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

اس کے بعد انہوں نے جکارتہ یونیورسٹی (IAIN) سے ڈاکٹریٹ مکمل کی۔ ان کے مقالۂ ڈاکٹریٹ کا موضوع ملائیشیا کی اسلامی نوجوانوں کی تنظیم (ABIM) تھا، جس کی قیادت ایک زمانے میں موجودہ وزیر اعظم ملائیشیا انور ابراہیم نے کی تھی۔

ثقافتی سرگرمیاں

ڈاکٹر سودارنوطو ایک علمی و ثقافتی کارکن کے طور پر جامعہ محمدیہ میں جنوب مشرقی ایشیا کی اسلامی تاریخ اور سیاست کے بارے میں اپنی وسیع تحریروں اور تجزیات کے سبب معروف ہیں۔ وہ زمانۂ طالب علمی ہی سے اس جامعہ میں سرگرم رہے ہیں۔

ذمہ داریاں

  • جامعہ محمدیہ کے ادارۂ خارجہ تعلقات و بین الاقوامی تعاون کے نائب سربراہ؛
  • انڈونیشین علما کونسل (MUI) کے سربراہ اور رکن؛
  • 2016ء سے 2022ء تک (MUI) کے کمیشن برائے تعلیم و تربیتِ اراکین کے چیئرمین؛
  • (MUI) کے کمیشن برائے تعلیم و تربیتِ اراکین کے شعبۂ خارجہ تعلقات و بین الاقوامی تعاون کے سربراہ۔

اعزازات

23 نومبر 2024ء کو اس تقریب کی سڑسٹھویں سالگرہ کے موقع پر، غزہ کی پٹی میں فلسطینی عوام کے انسانی حقوق اور امن کے دفاع میں ڈاکٹر سودارنوطو حکیم کی جدوجہد اور قربانیوں کے اعتراف میں انہیں یوہمکا امن ایوارڈ سے نوازا گیا۔

نقطۂ نظر

قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت

ڈاکٹر سودارنوطو، انڈونیشین علما کونسل (MUI) کے سربراہ، نے قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج نے منگل، 9 ستمبر 2025ء کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے فلسطینی مزاحمتی گروہ حماس کی قیادت کو نشانہ بنایا ہے، جو اطلاعات کے مطابق جنگ بندی کی تجویز پر بات چیت کر رہی تھی۔ انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی کی حمایت کے لیے عملی اور واضح اقدامات کرے۔ انہوں نے صہیونیوں کے فضائی حملے کو اشتعال انگیز، دھمکی آمیز، غیر قانونی اور غیر انسانی قرار دیا۔ لہٰذا انہوں نے اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہوں اور اجتماعی اور دوٹوک انداز میں اسرائیلی اقدامات کا جواب دیں۔ انہوں نے اسرائیل کی ان لاپرواہ کارروائیوں کی طرف اشارہ کیا جو بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرتی ہیں اور خودسرانہ طور پر خود مختار ممالک کی سرزمین پر حملہ کرتی ہیں، جیسا کہ قطر پر حالیہ حملہ جس نے اس ملک کی خودمختاری کو پامال کیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مختلف ممالک پر اسرائیلی حملے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور بنیادی انسانی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں، اور اسرائیل خودسرانہ طور پر عمل کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اسے ہمیشہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے تحفظ حاصل رہے گا، بالخصوص اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کے طریقۂ کار کے ذریعے۔ ڈاکٹر سودارنوطو نے کہا کہ دوحہ پر اسرائیلی حملہ اس سیاسی مایوسی کی علامت ہے جو عالمی سطح پر صہیونی حکومت کی بڑھتی ہوئی تنہائی کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے، خاص طور پر غزہ پر جارحیت اور قبضے کے سبب، جس کے نتیجے میں 63,700 سے زیادہ ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ صورتِ حال اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو پیدا اور مضبوط کرے گی اور انہیں فلسطین کی جدوجہد کی حمایت میں متحد ہو کر واضح اور فیصلہ کن اقدامات کرنے پر آمادہ کرے گی۔ انہوں نے کہا: مجھے یقین ہے کہ یہ حملہ اسلامی تعاون تنظیم اور اس کے رکن ممالک کے لیے ایک محرک ثابت ہو سکتا ہے تاکہ وہ فلسطین کے مؤثر دفاع کے لیے اپنی سیاسی، سفارتی اور حتیٰ کہ اقتصادی قوت کو مزید مضبوط کریں۔

لہٰذا اسلامی تعاون تنظیم کو متحد رہنا چاہیے؛ تفرقے کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ فلسطین کو صرف بیانات کے ذریعے ہمدردی نہیں بلکہ حقیقی حمایت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری، بشمول غیر مسلم ممالک، سے بھی اپیل کی کہ وہ اسرائیلی جارحیت کو عالمی سلامتی اور عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھیں۔ سودارنوطو نے کہا: فلسطین انسانی جدوجہد کی علامت ہے، اور اگر اسرائیل کو اپنے جرائم جاری رکھنے کی اجازت دی گئی تو بین الاقوامی قانونی نظام منہدم ہو جائے گا۔ [۲]

      1. غزہ کے محاصرے کی مذمت

انڈونیشین علما کونسل (MUI) کے سربراہ، ڈاکٹر سودارنوطو عبدالحکیم، نے اسرائیل کے اس فیصلے کی سخت مذمت کی جس کے تحت درجنوں بین الاقوامی انسانی امدادی تنظیموں، بشمول ڈاکٹروں اور غزہ میں طبی عملے، کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی۔ انہوں نے اسے ظالمانہ، غیر انسانی اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے بنیادی اصولوں کے منافی قرار دیا۔ ہفتہ، 3 جنوری 2026ء کو جاری ایک تحریری بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ میں امدادی کارکنوں اور طبی عملے کے داخلے پر پابندی نہ صرف انسانی اقدار سے مکمل بے اعتنائی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ یہ بھی دکھاتی ہے کہ اسرائیل جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر شہریوں کے دکھ درد کو سیاسی اور عسکری پالیسی کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

سودارنوطو نے کہا کہ غزہ کی موجودہ صورتِ حال، جو اسرائیل کی طویل مدتی جارحیت کے نتیجے میں تباہ ہو چکی ہے، کے پیش نظر انسانی امداد کو روکنا ایک قسم کی اجتماعی سزا ہے، جس پر بین الاقوامی قوانین میں صراحت کے ساتھ پابندی عائد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وہ سیکورٹی منطق جس کا اسرائیل مسلسل سہارا لیتا ہے، اخلاقی یا قانونی جواز سے محروم ہے۔ اس کے برعکس، زمینی حقائق ظاہر کرتے ہیں کہ اس بہانے کو انسانیت کے خلاف منظم جرائم پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جن میں طبی مراکز کی تباہی، طبی عملے کا قتل، اور شہریوں کی خوراک، دوا اور بنیادی خدمات تک رسائی منقطع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا: یہ اقدام ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ غزہ پر اسرائیلی جارحیت مسلح تنازعے کی حدود سے تجاوز کر چکی ہے اور سنگین جرائمِ انسانیت بلکہ نسل کشی کے مترادف ہو گئی ہے۔

غزہ کے حوالے سے جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری

سودارنوطو نے کہا کہ غزہ میں طبی عملے اور انسانی بنیادوں پر کام کرنے والی تنظیموں کو جنیوا کنونشنز اور بین الاقوامی انسانی قوانین کے تحت مکمل تحفظ حاصل ہونا چاہیے، اور ان کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے، انہیں مجرم قرار دینے یا انہیں علاقے سے بے دخل کرنے کی ہر کوشش ایک جنگی جرم ہے

جس کا جواب دہ ہونا ضروری ہے۔ محمدیہ انسٹیٹیوٹ برائے بین الاقوامی تعلقات و تعاون (LHKI) کے نائب سربراہ نے کہا کہ اسرائیل کی کارروائیوں کو برداشت کرنا صرف یہ ثابت کرتا ہے کہ سزا سے بچ نکلنے کی ثقافت اور بین الاقوامی قانون کے نفاذ میں دوہرے معیار مضبوط ہو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے چند اہم مطالبات پیش کیے:

  • انہوں نے اقوام متحدہ (UN) اور تمام متعلقہ بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ تک انسانی امداد کی مکمل اور غیر مشروط رسائی کو یقینی بنانے کے لیے صرف بیانات جاری نہ کریں بلکہ فوری اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔
  • انہوں نے انڈونیشیا کی حکومت سے کہا کہ وہ عالمی سطح پر اسرائیل کو اس کے انسانیت سوز جرائم کے لیے جواب دہ ٹھہرانے کے لیے اپنی مضبوط اخلاقی اور سفارتی قیادت کا کردار جاری رکھے۔
  • انہوں نے عالمی برادری، مذہبی اداروں اور عالمی شہری معاشرے سے اپیل کی کہ وہ فلسطین میں ہونے والے انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معمول سازی، جواز تراشی یا خاموشی کو مسترد کریں۔
  • انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کا دفاع ایک عالمی اخلاقی فریضہ اور انڈونیشی قوم کی ایک آئینی ذمہ داری ہے۔

آخر میں سودارنوطو نے کہا کہ جب تک اسرائیل غزہ کے لوگوں کے حقِ زندگی، عزت و وقار اور انسانیت کو پامال کرنے والے اقدامات جاری رکھے گا، انڈونیشین علما کونسل (MUI) اپنی مذمت جاری رکھے گی اور تمام قومی و بین الاقوامی فورمز میں عدل کے لیے جدوجہد کی حمایت کرتی رہے گی

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات