مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/دوسرا اسلامی دنیا" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(4 صارفین 163 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:آیت‌الله تسخیری.jpg|175px|بدون_چوکھٹا|بائیں|محمد علی تسخیری]]
[[فائل:کتیبه چهلم امام شهید.jpg|بدون_چوکھٹا|وسط]]
 
'''[[آپریشن وعدۂ صادق 4]]'''، [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی|سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی]] کی جانب سے، [[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] کی فوج اور وزارتِ دفاع کی حمایت و پشتیبانی کے ساتھ، [[اسرائیل]] اور امریکا کے خلاف چوتھا فضائی و میزائل حملہ تھا۔
'''محمد علی تسخیری''' فرزند اسلامی امت وحدت تحریک کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور [[عالمی اسمبلی برائے تقرب اسلامی]] کے دوسرے سیکرٹری جنرل ہیں۔  انہوں نے اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم شہر نجف اشرف میں مکمل کی اور عظیم پروفیسروں کی موجودگی میں غیر ملکی علوم کے مرحلے تک مدرسے کے کورسز حاصل کیے۔ انہوں نے [[سید محمد باقر صدر]]، [[سید ابوالقاسم خوئی]]، [[سید محمد تقی حکیم]]، [[شیخ جواد تبریزی]]، شیخ کاظم تبریزی، سدرہ بدکوبی اور شیخ مجتبیٰ لنکرانی کی عظیم آیات کا مطالعہ کیا اور عربی ادب، فقہ اور اصولوں کے یونیورسٹی کورسز بھی حاصل کیے۔ انہوں نے [[نجف]] فیکلٹی آف فقہ میں تعلیم حاصل کی۔ ایرانی اسلامی انقلاب کی شاندار فتح کے ساتھ ہی انہوں نے اپنا سارا وقت ثقافتی امور اور ملک کے اندر اور باہر اسلامی تبلیغات پر صرف کیا۔
*  '''[[امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026]]'''، ہفتہ 1 مارچ 2026ء کو تہران کے پاستور کمپلیکس، یونیورسٹی اسٹریٹ اور جمہوریہ کے اطراف، مہرآباد اور ملک کے دیگر شہروں جیسے [[قم]]، تبریز، اصفہان، کرج، کرمانشاہ اور لرستان وغیرہ میں شروع ہوا۔
 
*  '''[[جنگ رمضان|جنگِ رمضان]]'''، [[امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026|امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے]] کے جواب میں، ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ھ ش، مطابق 30 فروری 2026 ء اور10 رمضان 1447 ھ ق کو تہران میں واقع بیتِ رہبری پر شروع ہوئی۔
<span id="mp-more">[[محمد علی تسخیری|'''جاری رہے...''']]</span>
* '''[[آبنائے ہرمز]]''' دنیا کی تیسری مصروف ترین آبنائے اور عالمی سطح پر تیل کی بحری ترسیل کی اہم ترین گزرگاہوں میں سے ایک ہے۔ یہ [[خلیج فارس]] میں داخلے کا واحد راستہ اور خطے کے ممالک تک بحری رسائی کا بنیادی ذریعہ شمار ہوتی ہے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:59، 13 اپريل 2026ء