مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے منتخب اثر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 6 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:استغاثه و جایگاه شرعی آن (کتاب).png|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل: تسلیحات کشتار جمعی از دیدگاه اسلام و حقوق بین الملل بشر دوستانه – بررسی تحقیقی حقوق بشر دوستانه.png |بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[استغاثہ اور اس کا شرعی مقام(کتاب)|استغاثہ اور اس کا شرعی مقام]]'''ایک کتاب کا عنوان ہے جو [[ طاہر القادری|محمد طاہر القادری]] کی تصنیف ہے۔ وہ [[اہل السنۃ والجماعت|اہلِ سنت]]، فقہِ [[حنفی]] کے عالم، مفکر، مفسر، استاد اور سماجی مصلح ہیں۔ آپ 1951ء میں [[پاکستان]] کے شہر فتح جنگ میں پیدا ہوئے اور اس وقت کینیڈا میں مقیم ہیں۔
'''[[اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(کتاب)|اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار]]''' یہ کتاب، جو کہ تحقیقی و دستاویزی طریقۂ کار پر مبنی ہے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کے مختلف عناصر کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا جامع تعریف پیش کرتی ہے۔ [[جنگ|جنگوں]] میں سب سے زیادہ ظلم و تشدد ان ہتھیاروں سے جنم لیتا ہے جو انسانی عظمت اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں اور جنہیں عالمی سطح پر اقوام بھی نعرے کے طور پر مذمت کرتی ہیں۔
یہ کتاب فارسی زبان میں سید عبدالحسین رئیس السادات کے ترجمے کے ساتھ شائع ہوئی ہے۔ کتاب کا موضوع [[اسلام]] میں استغاثہ کے مقام اور اس سے متعلق شرعی احکام کی وضاحت ہے۔ یہ کتاب پانچ ابواب پر مشتمل ہے اور سادہ و رواں اسلوب میں [[قرآن]] کی آیات، [[حدیث|احادیث]] اور روایات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔

حالیہ نسخہ بمطابق 14:56، 13 اپريل 2026ء

اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار یہ کتاب، جو کہ تحقیقی و دستاویزی طریقۂ کار پر مبنی ہے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کے مختلف عناصر کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا جامع تعریف پیش کرتی ہے۔ جنگوں میں سب سے زیادہ ظلم و تشدد ان ہتھیاروں سے جنم لیتا ہے جو انسانی عظمت اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں اور جنہیں عالمی سطح پر اقوام بھی نعرے کے طور پر مذمت کرتی ہیں۔