مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے منتخب اثر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 9 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:درآمدی بر جریان شناسی مذهبی سوریه.png|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل: تسلیحات کشتار جمعی از دیدگاه اسلام و حقوق بین الملل بشر دوستانه – بررسی تحقیقی حقوق بشر دوستانه.png |بدون_چوکھٹا|بائیں]]
'''[[شام کے مختلف فکری گروہوں کی شناخت(کتاب)|درآمدی بر جریان‌شناسی مذہبی سوریہ]]'''ایک ایسا علمی اثر ہے جو [[شام]] میں سرگرم مذہبی رجحانات اور تحریکوں کا جائزہ لیتا ہے۔ چونکہ جمہوریۂ عربی شام خلافتِ عثمانیہ کا ایک اہم حصہ رہا ہے اور مغربی ایشیا کے خطے میں خصوصی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل رہا ہے، اس لیے عثمانی سلطنت کے زوال نے گزشتہ ایک صدی کے دوران اس ملک کو نہایت سنگین حالات سے دوچار کیا ہے۔ شام میں رونما ہونے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں نے اس ملک کی مذہبی صورتِ حال پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، اور معاصر دور میں شام کے سماجی و سیاسی حالات نے مذہبی تحریکوں کو بھی شدید طور پر متاثر کیا ہے۔ یہ کتاب ذبیح‌الله نعیمیان کی تصنیف ہے۔
'''[[اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار(کتاب)|اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار]]''' یہ کتاب، جو کہ تحقیقی و دستاویزی طریقۂ کار پر مبنی ہے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کے مختلف عناصر کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا جامع تعریف پیش کرتی ہے۔ [[جنگ|جنگوں]] میں سب سے زیادہ ظلم و تشدد ان ہتھیاروں سے جنم لیتا ہے جو انسانی عظمت اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں اور جنہیں عالمی سطح پر اقوام بھی نعرے کے طور پر مذمت کرتی ہیں۔

حالیہ نسخہ بمطابق 14:56، 13 اپريل 2026ء

اسلام اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی روشنی میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار یہ کتاب، جو کہ تحقیقی و دستاویزی طریقۂ کار پر مبنی ہے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (Weapons of Mass Destruction) کے مختلف عناصر کا جائزہ لیتے ہوئے ان کا جامع تعریف پیش کرتی ہے۔ جنگوں میں سب سے زیادہ ظلم و تشدد ان ہتھیاروں سے جنم لیتا ہے جو انسانی عظمت اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہیں اور جنہیں عالمی سطح پر اقوام بھی نعرے کے طور پر مذمت کرتی ہیں۔