"خلیج فارس" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «تصغیر|بائیں| '''خلیج فارس،''' بحیرۂ عمان کے پانی کی ایک پیش رفتہ شاخ کا نام ہے جو ایران کے جنوب اور جزیرۂ عرب کے درمیان واقع ہے۔ اس خلیج کی لمبائی 990 کلومیٹر ہے اور اپنی سب سے زیادہ چوڑائی میں تقریباً 340 کلومیٹر تک پہنچتی ہے، جو آ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:خلیج فارس کو خلیج فارس کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[[فائل:خلیج_فارس.jpg|تصغیر|بائیں|]] | [[فائل:خلیج_فارس.jpg|تصغیر|بائیں|]] | ||
'''خلیج فارس،''' بحیرۂ عمان کے پانی کی ایک پیش رفتہ شاخ کا نام ہے جو ایران کے جنوب اور جزیرۂ عرب کے درمیان واقع ہے۔ اس خلیج کی لمبائی 990 کلومیٹر ہے اور اپنی سب سے زیادہ چوڑائی میں تقریباً 340 کلومیٹر تک پہنچتی ہے، جو آبنائے ہرمز میں کم ہو کر 55 کلومیٹر سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 35 میٹر ہے اور بعض مقامات پر اس کی گہرائی 90 سے 100 میٹر تک پہنچتی ہے۔ یونانی اس خلیج کو پرسیکوس کہتے تھے اور عرب قدیم زمانے سے اسے بحرالفارس کے نام سے جانتے تھے۔ آج خلیج فارس کو دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے، جو اس کے اطراف میں یا اس کی تہہ میں واقع ہیں۔ | '''خلیج فارس،''' بحیرۂ عمان کے پانی کی ایک پیش رفتہ شاخ کا نام ہے جو [[ایران]] کے جنوب اور جزیرۂ عرب کے درمیان واقع ہے۔ اس خلیج کی لمبائی 990 کلومیٹر ہے اور اپنی سب سے زیادہ چوڑائی میں تقریباً 340 کلومیٹر تک پہنچتی ہے، جو آبنائے ہرمز میں کم ہو کر 55 کلومیٹر سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 35 میٹر ہے اور بعض مقامات پر اس کی گہرائی 90 سے 100 میٹر تک پہنچتی ہے۔ یونانی اس خلیج کو پرسیکوس کہتے تھے اور عرب قدیم زمانے سے اسے بحرالفارس کے نام سے جانتے تھے۔ آج خلیج فارس کو دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے، جو اس کے اطراف میں یا اس کی تہہ میں واقع ہیں۔ | ||
== خلیج فارس کے نام گذاری کی تاریخ == | == خلیج فارس کے نام گذاری کی تاریخ == | ||
| سطر 12: | سطر 12: | ||
استرابن، یونانی جغرافیہ دان جو پہلی صدی عیسوی میں زندہ تھا، نے بھی اسی نام کو استعمال کیا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے لاطینی کتب میں پرسیکوس سینوس (Persicus Sinus) یا پرسیکوم ماره (Persicus Mare) کے نام ملتے ہیں۔ دنیا کی دیگر زندہ زبانوں میں بھی لفظ پرسیکوس معمولی تبدیلی کے ساتھ رائج رہا ہے۔ | استرابن، یونانی جغرافیہ دان جو پہلی صدی عیسوی میں زندہ تھا، نے بھی اسی نام کو استعمال کیا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے لاطینی کتب میں پرسیکوس سینوس (Persicus Sinus) یا پرسیکوم ماره (Persicus Mare) کے نام ملتے ہیں۔ دنیا کی دیگر زندہ زبانوں میں بھی لفظ پرسیکوس معمولی تبدیلی کے ساتھ رائج رہا ہے۔ | ||
مسلمان علماء، خواہ وہ عرب النسل ہوں یا ایرانی النسل، نے اپنی تمام جغرافیائی اور تاریخی کتابوں میں اس خلیج کا ذکر بحرِ فارس، البحر الفارسی یا خلیج فارس کے نام سے کیا ہے۔ | [[مسلمان]] علماء، خواہ وہ عرب النسل ہوں یا ایرانی النسل، نے اپنی تمام جغرافیائی اور تاریخی کتابوں میں اس خلیج کا ذکر بحرِ فارس، البحر الفارسی یا خلیج فارس کے نام سے کیا ہے۔ | ||
مسعودی، عرب مؤرخ اور جغرافیہ دان جو چوتھی صدی ہجری میں زندہ تھا اور جس نے بغداد سے خلیج فارس، پھر کرمان، ماوراءالنہر اور چین تک سفر کیا، لکھتا ہے کہ: | مسعودی، عرب مؤرخ اور جغرافیہ دان جو چوتھی صدی ہجری میں زندہ تھا اور جس نے بغداد سے خلیج فارس، پھر کرمان، ماوراءالنہر اور چین تک سفر کیا، لکھتا ہے کہ: | ||
| سطر 19: | سطر 19: | ||
اسی رائے کا اظہار چوتھی صدی ہجری کے ایرانی جغرافیہ دان اصطخری اور بغدادی جغرافیہ دان ابنِ حوقل نے بھی کیا ہے، اور انہوں نے اپنی تصانیف میں ہمیشہ بحرِ فارس کا ہی نام استعمال کیا ہے۔ | اسی رائے کا اظہار چوتھی صدی ہجری کے ایرانی جغرافیہ دان اصطخری اور بغدادی جغرافیہ دان ابنِ حوقل نے بھی کیا ہے، اور انہوں نے اپنی تصانیف میں ہمیشہ بحرِ فارس کا ہی نام استعمال کیا ہے۔ | ||
مسلمان علما اور محققین میں سے، جنہوں نے اپنی تصانیف میں خلیج فارس کے نام کا ذکر کیا ہے، محمدجواد شکور کی تحقیق کے مطابق درجِ ذیل شخصیات قابلِ ذکر ہیں: | [[مسلمان]] علما اور محققین میں سے، جنہوں نے اپنی تصانیف میں خلیج فارس کے نام کا ذکر کیا ہے، محمدجواد شکور کی تحقیق کے مطابق درجِ ذیل شخصیات قابلِ ذکر ہیں: | ||
{{کالم کی فہرست|2}} | |||
* ابنِ فقیہ، کتاب البلدان (تصنیف 279 ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* ابنِ رُستہ، کتاب الاعلام النفیسہ (تصنیف 290 ہجری)؛ الخلیج الفارسی | |||
* ابنِ خردادبہ، کتاب المسالک و الممالک (تیسری صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* سہراب، کتاب عجائب الاقالیم السبعة (تیسری صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* بزرگ بن شہریار، کتاب عجائب الہند (تصنیف 342 ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* اصطخری، کتاب المسالک و الممالک اور کتاب الاقالیم (چوتھی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* ابنِ مطہر، کتاب البدء و التاریخ (تصنیف 355 ہجری)؛ خلیج الفارس | |||
* ابنِ حوقل، کتاب صورة الارض (تصنیف 367 ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* مسعودی، کتاب مروج الذہب اور کتاب التنبیہ و الاشراف (چوتھی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* ابوریحان بیرونی (وفات 440 ہجری)، کتاب التفہیم میں خلیج پارس اور دریائے پارس؛ کتاب قانون مسعودی میں دریائے فارس؛ اور کتاب تحدید نهایات الامانی میں بحرِ فارس | |||
* نامعلوم مصنف، کتاب حدود العالم من المشرق الی المغرب (تصنیف 372 ہجری)؛ خلیج فارس اور دریائے پارس | |||
* مقدسی، کتاب احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم (تصنیف 375 ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* محمد بن نجیب، کتاب جہان نامہ (چوتھی صدی ہجری)؛ بحرِ پارس | |||
* ابنِ بلخی، کتاب فارس نامہ (تصنیف 500 ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* طاہر مروزی، کتاب طبائع الحیوان (تصنیف 514 ہجری)؛ الخلیج الفارسی | |||
* شریف ادریسی، کتاب نزہۃ المشتاق (چھٹی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* یاقوت حموی، کتاب معجم البلدان (چھٹی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* زکریای قزوینی، کتاب آثار البلاد (چھٹی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* انصاری دمشقی، کتاب نخبۃ الدہر (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* ابوالفداء، کتاب تقویم البلدان (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* شہاب الدین احمد نویری، کتاب نہایۃ الادب (آٹھویں صدی ہجری)؛ خلیج فارس | |||
* حمداللہ مستوفی قزوینی، کتاب نزہۃ القلوب (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* ابوحفص ابن الوردی، کتاب خریدۃ العجائب (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* ابنِ بطوطہ، کتاب رحلہ (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* قلقشندی، کتاب صبح الاعشی (نویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس | |||
* حاجی خلیفہ، کتاب جہان نما (گیارھویں صدی ہجری) | |||
* شمس الدین محمد سامی، کتاب قاموس الاعلام (تیرھویں صدی ہجری)؛ خلیج بصرہ | |||
* البستانی، دائرۃ المعارف البستانی (انیسویں صدی عیسوی)؛ الخلیج العجمی | |||
{{اختتام}} | |||
== خلیج فارس میں ملاحی کی تاریخ == | == خلیج فارس میں ملاحی کی تاریخ == | ||
خلیج فارس میں دریانوردی کی تاریخ نہایت قدیم ہے اور کم از کم دو ہزار سال قبلِ مسیح تک جاتی ہے۔ سومر، اکاد اور عیلام جیسی قدیم تہذیبوں کے لوگ ہمیشہ بینالنہرین (میسوپوٹیمیا) اور وادیٔ سندھ کے شہر موہنجو داڑو کے درمیان اسی سمندری راستے سے آمد و رفت کرتے رہے۔ | خلیج فارس میں دریانوردی کی تاریخ نہایت قدیم ہے اور کم از کم دو ہزار سال قبلِ مسیح تک جاتی ہے۔ سومر، اکاد اور عیلام جیسی قدیم تہذیبوں کے لوگ ہمیشہ بینالنہرین (میسوپوٹیمیا) اور وادیٔ سندھ کے شہر موہنجو داڑو کے درمیان اسی سمندری راستے سے آمد و رفت کرتے رہے۔ | ||
حالیہ دہائیوں میں ہونے والی کھدائیوں اور تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فینیقی، جو آریائی نسل کے لوگ تھے اور بحیرۂ روم کے ساحلی علاقوں (موجودہ | حالیہ دہائیوں میں ہونے والی کھدائیوں اور تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فینیقی، جو آریائی نسل کے لوگ تھے اور بحیرۂ روم کے ساحلی علاقوں (موجودہ [[لبنان]]، [[شام]] کے کچھ حصے اور [[فلسطین]]) میں آباد تھے، ابتدا میں خلیج فارس کے جزیروں اور آس پاس کے علاقوں میں رہتے تھے اور دریانوردی کرتے تھے۔ | ||
ایران میں ہخامنشی سلطنت کے قیام کے بعد، داریوشِ اوّل نے نئے علاقوں کی دریافت کے لیے ممتاز ایرانی، فینیقی اور فارسی سلطنت کے یونانیالنسب صوبوں کے ماہر ملاحوں کو مامور کیا تاکہ وہ ایشیا اور دیگر سرزمینوں کو بہتر طور پر جان سکیں۔ غالباً اسی بادشاہ کے دور میں ایرانیوں کی خلیج فارس کے بارے میں معلومات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ | [[ایران]] میں ہخامنشی سلطنت کے قیام کے بعد، داریوشِ اوّل نے نئے علاقوں کی دریافت کے لیے ممتاز ایرانی، فینیقی اور فارسی سلطنت کے یونانیالنسب صوبوں کے ماہر ملاحوں کو مامور کیا تاکہ وہ ایشیا اور دیگر سرزمینوں کو بہتر طور پر جان سکیں۔ غالباً اسی بادشاہ کے دور میں ایرانیوں کی خلیج فارس کے بارے میں معلومات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ | ||
اس کے باوجود، خلیج فارس میں دریانوردی سے متعلق قدیم ترین تحریری دستاویز چوتھی صدی قبلِ مسیح سے تعلق رکھتی ہے۔ اس زمانے میں نیارخوس نامی ایک ملاح نے سکندرِ مقدونی کے حکم پر ان علاقوں کی کھوج کے لیے سمندری سفر کیا جو اس وقت کم معروف تھے۔ اس نے اپنا سفر سکندر کی حکومت کے گیارھویں سال میں شروع کیا، دریائے سندھ کے دہانے سے روانہ ہوا، آبنائے ہرمز تک پہنچا، وہاں سے خلیج فارس کے پانیوں میں داخل ہوا اور بالآخر دریائے کارون کے ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ | اس کے باوجود، خلیج فارس میں دریانوردی سے متعلق قدیم ترین تحریری دستاویز چوتھی صدی قبلِ مسیح سے تعلق رکھتی ہے۔ اس زمانے میں نیارخوس نامی ایک ملاح نے سکندرِ مقدونی کے حکم پر ان علاقوں کی کھوج کے لیے سمندری سفر کیا جو اس وقت کم معروف تھے۔ اس نے اپنا سفر سکندر کی حکومت کے گیارھویں سال میں شروع کیا، دریائے سندھ کے دہانے سے روانہ ہوا، آبنائے ہرمز تک پہنچا، وہاں سے خلیج فارس کے پانیوں میں داخل ہوا اور بالآخر دریائے کارون کے ساحل پر لنگر انداز ہوا۔ | ||
نیارخوس نے اس سمندری سفر کے دوران کئی ایرانی ملاحوں کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا، جن میں بَگیوس بن فرناکہ، ہیدارس بلوچ اور مازان قشمی شامل تھے۔ اس نے اپنے 146 دن پر مشتمل سمندری سفر کی روداد ایک سفرنامے میں قلم بند کی، جس کا اصل متن اب موجود نہیں، تاہم اس کا خلاصہ پہلی صدی قبلِ مسیح کے ایک تاریخ دان کی کتاب | نیارخوس نے اس سمندری سفر کے دوران کئی ایرانی ملاحوں کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا، جن میں بَگیوس بن فرناکہ، ہیدارس بلوچ اور مازان قشمی شامل تھے۔ اس نے اپنے 146 دن پر مشتمل سمندری سفر کی روداد ایک سفرنامے میں قلم بند کی، جس کا اصل متن اب موجود نہیں، تاہم اس کا خلاصہ پہلی صدی قبلِ مسیح کے ایک تاریخ دان کی کتاب لشکرکشیِ سکندر میں محفوظ رہ گیا ہے۔ | ||
نیارخوس نے خلیج فارس میں دریانوردی کے دوران عظیم الشان سمندری فانوس (لائٹ ہاؤس) دیکھے، جن کی مثال اس نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے اپنے سفرنامے میں ان فانوسوں کو اپنے سفر کی حیرت انگیز چیزوں میں شمار کیا ہے۔ | نیارخوس نے خلیج فارس میں دریانوردی کے دوران عظیم الشان سمندری فانوس (لائٹ ہاؤس) دیکھے، جن کی مثال اس نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے اپنے سفرنامے میں ان فانوسوں کو اپنے سفر کی حیرت انگیز چیزوں میں شمار کیا ہے۔ | ||
| سطر 93: | سطر 94: | ||
ساسانی دور میں، شاہپور دوم (ذوالاکتاف) نے عرب بدوی قبائل کے حملوں کو روکنے کے لیے خلیج فارس کے تمام جزیروں پر قبضہ کیا اور بحرین کے جزیروں کو فوجی چھاؤنیوں (پادگانوں) میں تبدیل کر دیا۔ | ساسانی دور میں، شاہپور دوم (ذوالاکتاف) نے عرب بدوی قبائل کے حملوں کو روکنے کے لیے خلیج فارس کے تمام جزیروں پر قبضہ کیا اور بحرین کے جزیروں کو فوجی چھاؤنیوں (پادگانوں) میں تبدیل کر دیا۔ | ||
عرب مسلمانوں کے ایران میں داخل ہونے اور ساسانی سلطنت کی شکست کے بعد، پورا خلیج فارس مسلم تاجروں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ تاہم، عباسی خلفا کے اثر و رسوخ میں کمی کے بعد، آلِ بویہ کے حکمرانوں (چوتھی صدی ہجری / دسویں صدی عیسوی) نے ایک بار پھر عمان اور بحرین کو ایران کا حصہ بنا لیا۔ | عرب [[مسلمان|مسلمانوں]] کے ایران میں داخل ہونے اور ساسانی سلطنت کی شکست کے بعد، پورا خلیج فارس مسلم تاجروں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ تاہم، عباسی خلفا کے اثر و رسوخ میں کمی کے بعد، آلِ بویہ کے حکمرانوں (چوتھی صدی ہجری / دسویں صدی عیسوی) نے ایک بار پھر عمان اور بحرین کو [[ایران]] کا حصہ بنا لیا۔ | ||
اس کے بعد عمان، بحرین اور ان کے آس پاس کے جزائر تقریباً ایک صدی تک صوبۂ فارس کا حصہ شمار ہوتے رہے۔ آلِ بویہ کی حکومت ان سمندری علاقوں کے انتظام کے لیے سیراف اور کیش میں اپنے حکمران مقرر کرتی تھی۔ یہ دونوں بندرگاہیں تجارتی اعتبار سے اس قدر اہم ہو گئیں کہ چینی تجارتی جہاز بھی اشیائے تجارت کی خرید و فروخت کے لیے وہاں آ کر لنگر انداز ہوتے تھے۔ | اس کے بعد عمان، بحرین اور ان کے آس پاس کے جزائر تقریباً ایک صدی تک صوبۂ فارس کا حصہ شمار ہوتے رہے۔ آلِ بویہ کی حکومت ان سمندری علاقوں کے انتظام کے لیے سیراف اور کیش میں اپنے حکمران مقرر کرتی تھی۔ یہ دونوں بندرگاہیں تجارتی اعتبار سے اس قدر اہم ہو گئیں کہ چینی تجارتی جہاز بھی اشیائے تجارت کی خرید و فروخت کے لیے وہاں آ کر لنگر انداز ہوتے تھے۔ | ||
| سطر 103: | سطر 104: | ||
== خلیج فارس کی جیوپولیٹکس == | == خلیج فارس کی جیوپولیٹکس == | ||
خلیج فارس جیوپولیٹک (سیاسی جغرافیہ)، اسٹریٹجک، توانائی، تاریخ اور تہذیب کے اعتبار سے دنیا کا ایک نہایت اہم اور منفرد آبی خطہ سمجھا جاتا ہے۔<ref>[https://www.irna.ir/news/83769543/%D8%AE%D9%84%DB%8C%D8%AC-%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%B3-%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%B1-%D8%A7%D8%B2-%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%88-%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7 برگرفته شده از مقاله خلیج فارس فراتر از یک نام و | خلیج فارس جیوپولیٹک (سیاسی جغرافیہ)، اسٹریٹجک، توانائی، تاریخ اور تہذیب کے اعتبار سے دنیا کا ایک نہایت اہم اور منفرد آبی خطہ سمجھا جاتا ہے۔<ref>[https://www.irna.ir/news/83769543/%D8%AE%D9%84%DB%8C%D8%AC-%D9%81%D8%A7%D8%B1%D8%B3-%D9%81%D8%B1%D8%A7%D8%AA%D8%B1-%D8%A7%D8%B2-%DB%8C%DA%A9-%D9%86%D8%A7%D9%85-%D9%88-%D8%AF%D8%B1%DB%8C%D8%A7 برگرفته شده از مقاله خلیج فارس فراتر از یک نام و دریا، اسلامی جمهوریه نیوز ایجنسی](زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۲۹/ اپریل / ۲۰۲۰ء اخذشده ترایخ: ۲/ فروری / ۲۰۲۰۶ء</ref> | ||
<br> | <br> | ||
| سطر 160: | سطر 161: | ||
یہ جزائر خلیج فارس کے جغرافیائی، تجارتی اور سیاسی منظرنامے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر قشم، کیش اور خارک جیسے جزائر نہ صرف ایران کی دریائی معیشت کے اہم مراکز ہیں بلکہ توانائی، بندرگاہی تجارت اور سیاحت میں بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ | یہ جزائر خلیج فارس کے جغرافیائی، تجارتی اور سیاسی منظرنامے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر قشم، کیش اور خارک جیسے جزائر نہ صرف ایران کی دریائی معیشت کے اہم مراکز ہیں بلکہ توانائی، بندرگاہی تجارت اور سیاحت میں بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ | ||
== خلیج فارس اور | == خلیج فارس اور ایرانی تہذیب کا چند ہزار سالہ رشتہ == | ||
بوشہر میں قائم | بوشہر میں قائم [[ایران|ایران]] شناسی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے کہا کہ خلیج فارس ایک نہایت اہم اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے جو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ | ||
یہ آبنائے ایرانی تہذیب کے ساتھ ہزاروں سال پرانا گہرا تعلق رکھتی ہے، اسی بنا پر یہ ہمیشہ ارضیات دانوں، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، مؤرخین اور جغرافیہ دانوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ | یہ آبنائے ایرانی تہذیب کے ساتھ ہزاروں سال پرانا گہرا تعلق رکھتی ہے، اسی بنا پر یہ ہمیشہ ارضیات دانوں، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، مؤرخین اور جغرافیہ دانوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ | ||
| سطر 174: | سطر 175: | ||
تقریباً 13 یونانی اور رومی مؤرخین و جغرافیہ دانوں نے خلیج فارس کا ذکر "سینیوس پرسیکوس" اور "پرسی کوماره" کے ناموں سے کیا ہے۔ | تقریباً 13 یونانی اور رومی مؤرخین و جغرافیہ دانوں نے خلیج فارس کا ذکر "سینیوس پرسیکوس" اور "پرسی کوماره" کے ناموں سے کیا ہے۔ | ||
اسلامی دور میں بھی اکثر مسلم مؤرخین اور جغرافیہ دانوں نے اپنی کتابوں اور ماخذات میں اس آبراہ کو بحرُالفارس | اسلامی دور میں بھی اکثر مسلم مؤرخین اور جغرافیہ دانوں نے اپنی کتابوں اور ماخذات میں اس آبراہ کو بحرُالفارس اور خلیجُ الفارسی کے نام سے یاد کیا ہے۔ | ||
اسلام کے ایران میں داخل ہونے اور نئے فاتحین کی جانب سے دریانوردی پر خصوصی توجہ کے بعد، خلیج فارس کے شمالی ساحلوں اور اس خطے میں—جسے آج صوبۂ بوشہر کہا جاتا ہے—نئی تہذیبوں کے ظہور کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ | اسلام کے ایران میں داخل ہونے اور نئے فاتحین کی جانب سے دریانوردی پر خصوصی توجہ کے بعد، خلیج فارس کے شمالی ساحلوں اور اس خطے میں—جسے آج صوبۂ بوشہر کہا جاتا ہے—نئی تہذیبوں کے ظہور کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ | ||
| سطر 198: | سطر 199: | ||
بوشہر اور ہرمزگان کے عوام کی پرتگالیوں اور ڈچوں کے خلاف مزاحمت، اور اسی طرح صوبۂ بوشہر کے عوام کا بوشہر پر برطانیه کے چار مرتبہ حملوں کے مقابلے میں دلیرانہ دفاع، اس عوامی جدوجہد کی واضح مثالیں ہیں۔ | بوشہر اور ہرمزگان کے عوام کی پرتگالیوں اور ڈچوں کے خلاف مزاحمت، اور اسی طرح صوبۂ بوشہر کے عوام کا بوشہر پر برطانیه کے چار مرتبہ حملوں کے مقابلے میں دلیرانہ دفاع، اس عوامی جدوجہد کی واضح مثالیں ہیں۔ | ||
۱۰ اردیبهشت، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے پرتگالیوں کے اخراج کی سالگرہ ہے، جسے ایران میں خلیج فارس قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پرتگالی، ڈچ اور انگریز اپنے دور کی طاقتور ریاستیں تھے، خصوصاً بحری طاقت کے میدان میں، اور ان میں سے ہر ایک نے مختلف ادوار میں خلیج فارس کے بعض جزائر اور بندرگاہوں پر تسلط قائم کیا، حتیٰ کہ بعض نے ایک سے دو صدیوں تک ان علاقوں پر حکمرانی کی۔ | ۱۰ اردیبهشت، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے پرتگالیوں کے اخراج کی سالگرہ ہے، جسے [[ایران]] میں خلیج فارس قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پرتگالی، ڈچ اور انگریز اپنے دور کی طاقتور ریاستیں تھے، خصوصاً بحری طاقت کے میدان میں، اور ان میں سے ہر ایک نے مختلف ادوار میں خلیج فارس کے بعض جزائر اور بندرگاہوں پر تسلط قائم کیا، حتیٰ کہ بعض نے ایک سے دو صدیوں تک ان علاقوں پر حکمرانی کی۔ | ||
پرتگالی خلیج فارس پر حملہ آور ہونے والے اولین استعمارگر تھے۔ انہوں نے خلیج فارس کے اہم جزائر اور بندرگاہوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے انہیں اپنے فوجی اڈوں اور حکومتی مراکز میں تبدیل کر دیا۔ | پرتگالی خلیج فارس پر حملہ آور ہونے والے اولین استعمارگر تھے۔ انہوں نے خلیج فارس کے اہم جزائر اور بندرگاہوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے انہیں اپنے فوجی اڈوں اور حکومتی مراکز میں تبدیل کر دیا۔ | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:19، 2 فروری 2026ء

خلیج فارس، بحیرۂ عمان کے پانی کی ایک پیش رفتہ شاخ کا نام ہے جو ایران کے جنوب اور جزیرۂ عرب کے درمیان واقع ہے۔ اس خلیج کی لمبائی 990 کلومیٹر ہے اور اپنی سب سے زیادہ چوڑائی میں تقریباً 340 کلومیٹر تک پہنچتی ہے، جو آبنائے ہرمز میں کم ہو کر 55 کلومیٹر سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ اس کی اوسط گہرائی 35 میٹر ہے اور بعض مقامات پر اس کی گہرائی 90 سے 100 میٹر تک پہنچتی ہے۔ یونانی اس خلیج کو پرسیکوس کہتے تھے اور عرب قدیم زمانے سے اسے بحرالفارس کے نام سے جانتے تھے۔ آج خلیج فارس کو دنیا کے تیل کے بڑے ذخائر کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل ہے، جو اس کے اطراف میں یا اس کی تہہ میں واقع ہیں۔
خلیج فارس کے نام گذاری کی تاریخ
خلیج فارس کا نام آشوری کتبوں میں آیا ہے، جہاں اسے نارمِرّتو (Nar‑Merratu) کہا گیا ہے، جس کے معنی ہیں کٹھا نمکین سمندر، اور یہ اس سمندر کے پانی کی شدید نمکیات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز میں دارا اوّل کا ایک کتبہ دریافت ہوا ہے، جس میں قدیم فارسی زبان میں یہ مفہوم درج ہے:
"وہ سمندر جو فارس سے نکلتا ہے۔"
ساسانی دور سے اس خلیج کو دریائے فارس کہا جاتا رہا ہے۔[1]
یونانی مورخ فلاویوس آریانوس، جو دوسری صدی عیسوی میں زندہ تھا، نے اپنی تصانیف میں اس خلیج کا ذکر پرسیکوس (Persikon Karitas) کے نام سے کیا ہے، جس کا مطلب ہے خلیج فارس۔ استرابن، یونانی جغرافیہ دان جو پہلی صدی عیسوی میں زندہ تھا، نے بھی اسی نام کو استعمال کیا ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے لاطینی کتب میں پرسیکوس سینوس (Persicus Sinus) یا پرسیکوم ماره (Persicus Mare) کے نام ملتے ہیں۔ دنیا کی دیگر زندہ زبانوں میں بھی لفظ پرسیکوس معمولی تبدیلی کے ساتھ رائج رہا ہے۔
مسلمان علماء، خواہ وہ عرب النسل ہوں یا ایرانی النسل، نے اپنی تمام جغرافیائی اور تاریخی کتابوں میں اس خلیج کا ذکر بحرِ فارس، البحر الفارسی یا خلیج فارس کے نام سے کیا ہے۔
مسعودی، عرب مؤرخ اور جغرافیہ دان جو چوتھی صدی ہجری میں زندہ تھا اور جس نے بغداد سے خلیج فارس، پھر کرمان، ماوراءالنہر اور چین تک سفر کیا، لکھتا ہے کہ: "بحیرۂ عمان، بحرِ فارس کا تسلسل ہے۔"
اسی رائے کا اظہار چوتھی صدی ہجری کے ایرانی جغرافیہ دان اصطخری اور بغدادی جغرافیہ دان ابنِ حوقل نے بھی کیا ہے، اور انہوں نے اپنی تصانیف میں ہمیشہ بحرِ فارس کا ہی نام استعمال کیا ہے۔
مسلمان علما اور محققین میں سے، جنہوں نے اپنی تصانیف میں خلیج فارس کے نام کا ذکر کیا ہے، محمدجواد شکور کی تحقیق کے مطابق درجِ ذیل شخصیات قابلِ ذکر ہیں:
- ابنِ فقیہ، کتاب البلدان (تصنیف 279 ہجری)؛ بحرِ فارس
- ابنِ رُستہ، کتاب الاعلام النفیسہ (تصنیف 290 ہجری)؛ الخلیج الفارسی
- ابنِ خردادبہ، کتاب المسالک و الممالک (تیسری صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- سہراب، کتاب عجائب الاقالیم السبعة (تیسری صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- بزرگ بن شہریار، کتاب عجائب الہند (تصنیف 342 ہجری)؛ بحرِ فارس
- اصطخری، کتاب المسالک و الممالک اور کتاب الاقالیم (چوتھی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- ابنِ مطہر، کتاب البدء و التاریخ (تصنیف 355 ہجری)؛ خلیج الفارس
- ابنِ حوقل، کتاب صورة الارض (تصنیف 367 ہجری)؛ بحرِ فارس
- مسعودی، کتاب مروج الذہب اور کتاب التنبیہ و الاشراف (چوتھی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- ابوریحان بیرونی (وفات 440 ہجری)، کتاب التفہیم میں خلیج پارس اور دریائے پارس؛ کتاب قانون مسعودی میں دریائے فارس؛ اور کتاب تحدید نهایات الامانی میں بحرِ فارس
- نامعلوم مصنف، کتاب حدود العالم من المشرق الی المغرب (تصنیف 372 ہجری)؛ خلیج فارس اور دریائے پارس
- مقدسی، کتاب احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالیم (تصنیف 375 ہجری)؛ بحرِ فارس
- محمد بن نجیب، کتاب جہان نامہ (چوتھی صدی ہجری)؛ بحرِ پارس
- ابنِ بلخی، کتاب فارس نامہ (تصنیف 500 ہجری)؛ بحرِ فارس
- طاہر مروزی، کتاب طبائع الحیوان (تصنیف 514 ہجری)؛ الخلیج الفارسی
- شریف ادریسی، کتاب نزہۃ المشتاق (چھٹی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- یاقوت حموی، کتاب معجم البلدان (چھٹی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- زکریای قزوینی، کتاب آثار البلاد (چھٹی صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- انصاری دمشقی، کتاب نخبۃ الدہر (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- ابوالفداء، کتاب تقویم البلدان (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- شہاب الدین احمد نویری، کتاب نہایۃ الادب (آٹھویں صدی ہجری)؛ خلیج فارس
- حمداللہ مستوفی قزوینی، کتاب نزہۃ القلوب (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- ابوحفص ابن الوردی، کتاب خریدۃ العجائب (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- ابنِ بطوطہ، کتاب رحلہ (آٹھویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- قلقشندی، کتاب صبح الاعشی (نویں صدی ہجری)؛ بحرِ فارس
- حاجی خلیفہ، کتاب جہان نما (گیارھویں صدی ہجری)
- شمس الدین محمد سامی، کتاب قاموس الاعلام (تیرھویں صدی ہجری)؛ خلیج بصرہ
- البستانی، دائرۃ المعارف البستانی (انیسویں صدی عیسوی)؛ الخلیج العجمی
خلیج فارس میں ملاحی کی تاریخ
خلیج فارس میں دریانوردی کی تاریخ نہایت قدیم ہے اور کم از کم دو ہزار سال قبلِ مسیح تک جاتی ہے۔ سومر، اکاد اور عیلام جیسی قدیم تہذیبوں کے لوگ ہمیشہ بینالنہرین (میسوپوٹیمیا) اور وادیٔ سندھ کے شہر موہنجو داڑو کے درمیان اسی سمندری راستے سے آمد و رفت کرتے رہے۔
حالیہ دہائیوں میں ہونے والی کھدائیوں اور تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ فینیقی، جو آریائی نسل کے لوگ تھے اور بحیرۂ روم کے ساحلی علاقوں (موجودہ لبنان، شام کے کچھ حصے اور فلسطین) میں آباد تھے، ابتدا میں خلیج فارس کے جزیروں اور آس پاس کے علاقوں میں رہتے تھے اور دریانوردی کرتے تھے۔
ایران میں ہخامنشی سلطنت کے قیام کے بعد، داریوشِ اوّل نے نئے علاقوں کی دریافت کے لیے ممتاز ایرانی، فینیقی اور فارسی سلطنت کے یونانیالنسب صوبوں کے ماہر ملاحوں کو مامور کیا تاکہ وہ ایشیا اور دیگر سرزمینوں کو بہتر طور پر جان سکیں۔ غالباً اسی بادشاہ کے دور میں ایرانیوں کی خلیج فارس کے بارے میں معلومات میں نمایاں اضافہ ہوا۔
اس کے باوجود، خلیج فارس میں دریانوردی سے متعلق قدیم ترین تحریری دستاویز چوتھی صدی قبلِ مسیح سے تعلق رکھتی ہے۔ اس زمانے میں نیارخوس نامی ایک ملاح نے سکندرِ مقدونی کے حکم پر ان علاقوں کی کھوج کے لیے سمندری سفر کیا جو اس وقت کم معروف تھے۔ اس نے اپنا سفر سکندر کی حکومت کے گیارھویں سال میں شروع کیا، دریائے سندھ کے دہانے سے روانہ ہوا، آبنائے ہرمز تک پہنچا، وہاں سے خلیج فارس کے پانیوں میں داخل ہوا اور بالآخر دریائے کارون کے ساحل پر لنگر انداز ہوا۔
نیارخوس نے اس سمندری سفر کے دوران کئی ایرانی ملاحوں کی رہنمائی سے فائدہ اٹھایا، جن میں بَگیوس بن فرناکہ، ہیدارس بلوچ اور مازان قشمی شامل تھے۔ اس نے اپنے 146 دن پر مشتمل سمندری سفر کی روداد ایک سفرنامے میں قلم بند کی، جس کا اصل متن اب موجود نہیں، تاہم اس کا خلاصہ پہلی صدی قبلِ مسیح کے ایک تاریخ دان کی کتاب لشکرکشیِ سکندر میں محفوظ رہ گیا ہے۔
نیارخوس نے خلیج فارس میں دریانوردی کے دوران عظیم الشان سمندری فانوس (لائٹ ہاؤس) دیکھے، جن کی مثال اس نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس نے اپنے سفرنامے میں ان فانوسوں کو اپنے سفر کی حیرت انگیز چیزوں میں شمار کیا ہے۔
ساسانی دور میں، شاہپور دوم (ذوالاکتاف) نے عرب بدوی قبائل کے حملوں کو روکنے کے لیے خلیج فارس کے تمام جزیروں پر قبضہ کیا اور بحرین کے جزیروں کو فوجی چھاؤنیوں (پادگانوں) میں تبدیل کر دیا۔
عرب مسلمانوں کے ایران میں داخل ہونے اور ساسانی سلطنت کی شکست کے بعد، پورا خلیج فارس مسلم تاجروں کی سرگرمیوں کا مرکز بن گیا۔ تاہم، عباسی خلفا کے اثر و رسوخ میں کمی کے بعد، آلِ بویہ کے حکمرانوں (چوتھی صدی ہجری / دسویں صدی عیسوی) نے ایک بار پھر عمان اور بحرین کو ایران کا حصہ بنا لیا۔
اس کے بعد عمان، بحرین اور ان کے آس پاس کے جزائر تقریباً ایک صدی تک صوبۂ فارس کا حصہ شمار ہوتے رہے۔ آلِ بویہ کی حکومت ان سمندری علاقوں کے انتظام کے لیے سیراف اور کیش میں اپنے حکمران مقرر کرتی تھی۔ یہ دونوں بندرگاہیں تجارتی اعتبار سے اس قدر اہم ہو گئیں کہ چینی تجارتی جہاز بھی اشیائے تجارت کی خرید و فروخت کے لیے وہاں آ کر لنگر انداز ہوتے تھے۔
سلجوقیوں کے دور میں بھی خلیج فارس غیر معمولی اہمیت رکھتی تھی۔ تاہم کرمان کے سلجوقیوں میں سے تورانشاہ سلجوقی نے سمندری تجارت کا مرکز سیراف سے منتقل کر کے کیش بنا دیا۔ رفتہ رفتہ سیراف کی اہمیت کم ہوتی گئی اور کیش کی تجارتی حیثیت بڑھتی چلی گئی۔ بعد ازاں فارس کے اتابکان (ساتویں صدی ہجری / تیرھویں صدی عیسوی) نے کیش کے امراء کی حکمرانی کا خاتمہ کیا اور جزیرۂ ہرمز کو سمندری تجارت کا مرکزی مرکز قرار دیا۔
اس دور میں خلیج فارس کی تجارتی اہمیت اس قدر زیادہ تھی کہ واسکو ڈی گاما، پرتگالی ملاح، کی جانب سے راسِ امیدِ نیک (Cape of Good Hope) کی دریافت سے پہلے، یورپی منڈیوں کے لیے نہایت اہم اشیاء—جیسے مصالحہ جات، ریشم اور دیگر تجارتی سامان—خلیج فارس کے راستے دریائے دجلہ تک پہنچائے جاتے تھے۔ وہاں سے یہ سامان بینالنہرین اور شام کے صحرائی راستوں سے گزرتا ہوا بحیرۂ روم کے مشرقی ساحل پر واقع شامی بندرگاہوں تک پہنچتا، اور وینس کے تاجر ان بندرگاہوں سے مال یورپ منتقل کرتے تھے۔
خلیج فارس کی جیوپولیٹکس
خلیج فارس جیوپولیٹک (سیاسی جغرافیہ)، اسٹریٹجک، توانائی، تاریخ اور تہذیب کے اعتبار سے دنیا کا ایک نہایت اہم اور منفرد آبی خطہ سمجھا جاتا ہے۔[2]
یہ آبنائے مختلف تاریخی ادوار میں غیر معمولی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ قدیم زمانے میں، بالخصوص عیلامیوں کے دورِ اقتدار میں، خلیج فارس مرکزِ توجہ بنی رہی، لیکن اس کی معاشی اور تجارتی ترقی و عروج کا سب سے اہم دور ہخامنشی عہد، خصوصاً داریوشِ کبیر کے زمانے میں، اور اس کے بعد ساسانی دور میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
ساسانی عہد میں سیراف، مہروبان، ریشہر اور ابُلّہ (بصرہ) جیسی بندرگاہیں خلیج فارس کی سب سے اہم بندرگاہیں تھیں۔ ان بندرگاہوں کے تجارتی روابط برصغیرِ ہند، مشرقی افریقہ اور چین تک پھیلے ہوئے تھے۔
اسلام کے بعد کے ادوار میں بھی خلیج فارس کی معیشت اور تجارت میں سب سے نمایاں کردار بندرِ سیراف اور اس کے تاجروں کا رہا۔ سیراف کے تاجر نہ صرف سامانِ تجارت بلکہ ایرانی اور اسلامی ثقافت کو بھی اپنے ساتھ ہندوستان، چین کی بندرگاہ خانفو (Guangzhou) اور مشرقی افریقہ تک لے گئے
خلیج فارس کے جزائر
خلیج فارس میں بے شمار بڑے اور چھوٹے جزیرے واقع ہیں، جن میں سے کچھ—جیسے کیش، خارک اور قشم—تجارتی لحاظ سے نہایت اہم ہیں، اور ان میں بڑی تعداد میں ایرانی اور دیگر اقوام کے لوگ آباد ہیں۔
کچھ جزائر پانی کی قلت کے باعث اب بھی غیر آباد ہیں۔ گزشتہ برسوں میں تین جزائر ابوموسی، تنبِ بزرگ اور تنبِ کوچک سیاسی طور پر خاصی توجہ کا مرکز بنے ہیں، کیوں کہ اماراتِ متحدہ عربی نے ان پر بے بنیاد ملکیتی دعوے کیے، جنہیں مغربی سیاستدانوں اور میڈیا نے زیرِ بحث لایا۔
بوشهر صوبے کے جزائر
- جزیرۂ امالکرم - جزیرۂ جبرین - جزیرۂ خارک - جزیرهٔ خارکو - جزیرهٔ خان - جزیرهٔ شیخ کرامه - جزیرهٔ عباسک - جزیرهٔ شیف - جزیرهٔ فارس - جزیرهٔ گرم - جزیرهٔ مناف - جزیرهٔ نخیلو اور چند دیگر چھوٹے جزائر۔
هرمزگان صوبے کے جزائر
- جزیرهٔ ابوموسی - جزیرهٔ تنبِ بزرگ - جزیرهٔ تنبِ کوچک - جزیرهٔ سیری - جزیرهٔ قشم - جزیرهٔ کیش - جزیرهٔ لارک - جزیرهٔ لاوان - جزیرهٔ هرمز - جزیرهٔ هندورابی - جزیرهٔ هنگام - جزیرهٔ شتورا - جزیرهٔ شیخ اندرابی - جزیرهٔ فارورگان - جزیرهٔ مارو اور چند دیگر چھوٹے جزائر۔
خوزستان صوبے کے جزائر
- جزیرهٔ بونه - جزیرهٔ دارا - جزیرهٔ قبر ناخدا - جزیرهٔ مینو اور چند دیگر چھوٹے جزائر جو بعض مواقع پر زیرِ آب آجاتے ہیں۔
یہ جزائر خلیج فارس کے جغرافیائی، تجارتی اور سیاسی منظرنامے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ خاص طور پر قشم، کیش اور خارک جیسے جزائر نہ صرف ایران کی دریائی معیشت کے اہم مراکز ہیں بلکہ توانائی، بندرگاہی تجارت اور سیاحت میں بھی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
خلیج فارس اور ایرانی تہذیب کا چند ہزار سالہ رشتہ
بوشہر میں قائم ایران شناسی فاؤنڈیشن کے سربراہ نے کہا کہ خلیج فارس ایک نہایت اہم اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے جو نہ صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
یہ آبنائے ایرانی تہذیب کے ساتھ ہزاروں سال پرانا گہرا تعلق رکھتی ہے، اسی بنا پر یہ ہمیشہ ارضیات دانوں، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، مؤرخین اور جغرافیہ دانوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔
خلیج فارس کا نام قومِ پارس سے ماخوذ ہے، جو تقریباً 800 سال قبلِ مسیح خوزستان اور فارس کے علاقوں میں حکومت کرتی تھی۔ اس آبی گزرگاہ کا سب سے قدیم تحریری ذکر اُروک کے بادشاہ لوگال زاگاسی سے منسوب ہے، اور بینالنہرین میں حکومت کرنے والی آشوری قوم کی باقی ماندہ تحریروں میں اس آبراہ کو نامِرتو یعنی کڑوا پانی کہا گیا ہے۔
آریائی اقوام کے ایران میں داخل ہونے سے پہلے، عیلامی دور میں بھی اس آبراہ کا استعمال ان لوگوں کے ذریعے ہوتا تھا جو اس زمانے میں خوزستان اور بوشہر کے علاقوں میں، سلطنتِ عیلام کے زیرِ اقتدار رہتے تھے۔
ساحل بوشہر، جسے قدیم زمانے میں لیان کہا جاتا تھا، ایران کے اندرونی علاقوں اور جنوب مشرقی ایشیا و افریقہ کے درمیان ایک اہم رابطہ گاہ تھا۔ ہخامنشی، اشکانی اور ساسانی ادوار میں بھی یہ اہم آبی راستہ حکمرانوں کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ یہاں تک کہ ہخامنشی دور میں بوشہر کے علاقے دشتستان میں تین ہخامنشی محلات—چرخاب، بردکِ سیاه اور جَتوط—تین مختلف مقامات پر تعمیر کیے گئے، جو اس اہم آبی گزرگاہ پر ایرانیوں کی بحری بالادستی کی واضح علامت ہیں۔
تقریباً 13 یونانی اور رومی مؤرخین و جغرافیہ دانوں نے خلیج فارس کا ذکر "سینیوس پرسیکوس" اور "پرسی کوماره" کے ناموں سے کیا ہے۔
اسلامی دور میں بھی اکثر مسلم مؤرخین اور جغرافیہ دانوں نے اپنی کتابوں اور ماخذات میں اس آبراہ کو بحرُالفارس اور خلیجُ الفارسی کے نام سے یاد کیا ہے۔
اسلام کے ایران میں داخل ہونے اور نئے فاتحین کی جانب سے دریانوردی پر خصوصی توجہ کے بعد، خلیج فارس کے شمالی ساحلوں اور اس خطے میں—جسے آج صوبۂ بوشہر کہا جاتا ہے—نئی تہذیبوں کے ظہور کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
خلیج فارس کے نام کی تحریف
خلیج فارس کے بعض ہمسایہ علاقوں کے باشندے، تیل کی اچانک حاصل ہونے والی دولت کو استعمال کرتے ہوئے، مگر مستند تاریخی شواہد کے بغیر اور محض سیاسی مفاد کی بنیاد پر، خلیج فارس کی تاریخ کو مسخ اور الٹ کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ خلیج فارس کے لیے ایک جعلی نام رائج کرنے کے درپے ہیں، حالانکہ اس معاملے میں صرف نام ہی موضوع نہیں، بلکہ اس کے پسِ پردہ سیاسی اور معاشی توسیع پسندی کے عزائم کارفرما ہیں۔
اس کے باوجود، ایرانی عوام نے ہمیشہ خلیج فارس کے ساحلی اور ہمسایہ باشندوں کے ساتھ حسنِ ہمجواری، پرامن بقائے باہمی اور تجارتی روابط کو ترجیح دی ہے اور ایک پُرامن فضا میں باہمی تعلقات کو اہم سمجھا ہے۔
خلیج فارس قومی دن کا پاسداشت ہمارے لیے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہ دن درحقیقت خلیج فارس کے ساحلوں اور جزائر سے پرتگالی استعمار کے اخراج کے لیے ایک قومی عزم اور اجتماعی جدوجہد کی علامت ہے۔ اس واقعے کے بعد بھی، ایران کی معاصر تاریخ میں—بالخصوص ملک کے جنوبی علاقوں میں—غیر ملکی جارح قوتوں کے خلاف متعدد عوامی تحریکیں اور قیام دیکھنے میں آئے ہیں، جو ایرانی عوام کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا واضح ثبوت ہیں۔
خلیج فارس کے نام اور تاریخ کے تحفظ کی ضرورت
بے بنیاد، من گھڑت اور غیر مستند دعووں کا مؤثر جواب دینے کے لیے ضروری ہے کہ طویل المدت، علمی اور بنیادی تحقیقی منصوبوں کے ذریعے خلیج فارس کے اصل نام اور اس کی تاریخ کے تحفظ کے لیے سنجیدہ اور بھرپور کوشش کی جائے۔
خلیج فارس ایرانی فلات کے جنوب میں واقع ایک نہایت اہم اور اسٹریٹجک آبی گزرگاہ ہے، جو قدیم زمانے سے ایرانی اقوام کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی آئی ہے۔ یہ اہمیت نہ صرف آج تک کم نہیں ہوئی بلکہ وقت کے ساتھ مزید بڑھتی چلی گئی ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر خلیج فارس پر تسلط حاصل کرنا ہمیشہ ان مفاد پرست طاقتوں کی خواہش رہا ہے جو خطے سے باہر بیٹھ کر اس اہم سمندر پر غلبہ حاصل کرنے کے درپے رہی ہیں۔
دوسری جانب، ایرانی حکمران—خواہ مرکزی بادشاہ ہوں یا خلیج فارس سے متصل مقامی حاکم—ہمیشہ اس بات کی کوشش کرتے رہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے خلیج فارس کی حفاظت کریں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ تاہم ایران میں مراکزِ اقتدار کا خلیج فارس سے جغرافیائی طور پر دور ہونا اس مستقل نگرانی اور تحفظ میں رکاوٹ بنتا رہا۔ اسی وجہ سے بعض اوقات موقع پرست طاقتیں عارضی طور پر خلیج فارس کے کچھ ساحلی علاقوں یا جزائر (چاہے وہ ایرانی ہوں یا غیر ایرانی) پر اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔
بہت سے مواقع پر، مرکزی حکومت کی کمزوری یا عدم موجودگی کو خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں آباد عوام نے پُر کیا۔ تاریخ میں بارہا ایسا دیکھا گیا ہے کہ عوام خود میدان میں اترے اور مرکزی حکومت کی مدد کے بغیر، اس سمندر اور اس کے ساحلوں پر حملہ آور غیر ملکی طاقتوں کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت کی۔ یہ عوامی مزاحمت خلیج فارس کے ساتھ ایرانی قوم کے گہرے تاریخی، تہذیبی اور جذباتی تعلق کا واضح ثبوت ہے۔
بوشہر اور ہرمزگان کے عوام کی پرتگالیوں اور ڈچوں کے خلاف مزاحمت، اور اسی طرح صوبۂ بوشہر کے عوام کا بوشہر پر برطانیه کے چار مرتبہ حملوں کے مقابلے میں دلیرانہ دفاع، اس عوامی جدوجہد کی واضح مثالیں ہیں۔
۱۰ اردیبهشت، آبنائے ہرمز اور خلیج فارس سے پرتگالیوں کے اخراج کی سالگرہ ہے، جسے ایران میں خلیج فارس قومی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پرتگالی، ڈچ اور انگریز اپنے دور کی طاقتور ریاستیں تھے، خصوصاً بحری طاقت کے میدان میں، اور ان میں سے ہر ایک نے مختلف ادوار میں خلیج فارس کے بعض جزائر اور بندرگاہوں پر تسلط قائم کیا، حتیٰ کہ بعض نے ایک سے دو صدیوں تک ان علاقوں پر حکمرانی کی۔
پرتگالی خلیج فارس پر حملہ آور ہونے والے اولین استعمارگر تھے۔ انہوں نے خلیج فارس کے اہم جزائر اور بندرگاہوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر کے انہیں اپنے فوجی اڈوں اور حکومتی مراکز میں تبدیل کر دیا۔
ان کی موجودگی خاص طور پر خلیج فارس کے جنوبی جزائر، بالخصوص جزیرۂ ہرمز میں زیادہ رہی۔ پرتگالیوں کا ظلم و ستم اور مقامی آبادی پر ڈھائے گئے مظالم اس حد تک بڑھ گئے کہ لوگ مزید برداشت نہ کر سکے، اور بالآخر ان جابر قابضین اور استعمارگروں کے خلاف متعدد بغاوتوں اور عوامی تحریکوں پر مجبور ہو گئے۔
آخرکار صفوی دور میں شاہ عباسِ صفوی کے زمانے میں ایران کی مرکزی حکومت نے اپنے دلیر سپہ سالار امام قلی خان کو اپنی فوج کے ساتھ جزیرۂ ہرمز میں استعمارگروں کے خلاف جنگ کے لیے روانہ کیا۔ اس بہادر کمانڈر نے عوامی قوتوں کی مدد سے پرتگالی جارح اور استعمارگر طاقتوں کو شکست دی اور انہیں جزیرۂ ہرمز اور خلیج فارس سے باہر نکالنے میں کامیابی حاصل کی۔
۲۲ تیر ۱۳۸۴ (ایرانی شمسی کیلنڈر) کو، کابینہ کے فیصلے کے مطابق، ۱۰ اردیبهشت( شمسی کیلنڈر کا دوسرا مهینه)—جو خلیج فارس سے پرتگالیوں کے اخراج کی سالگرہ ہے—کو باضابطہ طور پر خلیج فارس قومی دن کے طور پر نامزد کیا گیا۔
۱۰ اردیبهشت، ایران کی تاریخ میں ایرانی قوم کی بے مثال قربانیوں اور استقامت کی یاد دلاتا ہے، اور اس دن کو جنوبی ساحلی علاقوں پر ۱۱۷ سالہ ظالمانہ قبضے کے بعد پرتگالی جارح و قابض قوتوں کے فرار کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
خلیج فارس کے نام اور تشخص سے متعلق تیس ہزار سے زائد تاریخی دستاویزات
خلیج فارس کے نام اور تشخص کو تاریخی دستاویزات اور شواہد میں اس قدر مضبوطی سے ثبت کیا جا چکا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شخص یا طاقت اس نام کو تبدیل یا جعل نہیں کر سکتی۔ تاریخی نقشے اور مستند دستاویزات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اگر کبھی خلیج فارس کے لیے کوئی اور نام استعمال کیا گیا ہے تو وہ کسی علمی تحقیق یا سنجیدہ مطالعے کا نتیجہ نہیں، بلکہ محض ایک شرانگیزی اور خطے کے سیاسی تناؤ کا شاخسانہ ہے۔
صوبۂ بوشہر کے عوام، جو خلیج فارس کے ساحلنشین ہیں اور جن کی شناخت اس سمندر سے جڑی ہوئی ہے، پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ خلیج فارس کو اس کے مختلف تاریخی، ثقافتی، اقتصادی اور اسٹریٹجک پہلوؤں سے زیادہ بہتر طور پر پہچانیں اور اس آبی گزرگاہ سے زیادہ مؤثر انداز میں فائدہ اٹھائیں۔
خلیج فارس اگرچہ ایک نیم بند آبی راستہ ہے، لیکن اپنی اسٹریٹجک حیثیت اور منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے اس کی تاریخی اہمیت وقت کے ساتھ مزید بڑھتی چلی گئی ہے۔
اس وقت صرف صوبۂ بوشہر میں ہی خلیج فارس سے متعلق تیس ہزار سے زائد تاریخی دستاویزات موجود ہیں۔ مزید یہ کہ 1950 اور 1960 کی دہائیوں میں، جب نوآبادیاتی طاقت برطانیہ بعض عرب ممالک کے سیاست دانوں کی مہم جوئی کے ساتھ مل کر خلیج فارس کے نام کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تو انہی ممالک کے محققین کی تیار کردہ نقشہ جات بھی واضح طور پر خلیج فارس ہی کے نام پر مبنی تھے، جو اس تاریخی حقیقت کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ برگرفته شده از مقاله خلیج فارس
- ↑ برگرفته شده از مقاله خلیج فارس فراتر از یک نام و دریا، اسلامی جمهوریه نیوز ایجنسی(زبان فارسی) درج شده تاریخ: ۲۹/ اپریل / ۲۰۲۰ء اخذشده ترایخ: ۲/ فروری / ۲۰۲۰۶ء