مندرجات کا رخ کریں

وحدتِ مذاہبِ اسلامی در منظومہ فکریِ مقامِ معظم رہبری(کتاب)

ویکی‌وحدت سے
وحدتِ مذاہبِ اسلامی در منظومہ فکریِ مقامِ معظم رہبری(کتاب)
ناموحدت مذاهب اسلامی در منظومۀ فکری مقام معظم رهبری
مؤلفین/ مصنفینتحقیقاتی مرکز برای تقریبی مطالعات
زبانفارسی
زبان اصلیفارسی
ناشرتحقیقاتی مرکز برای تقریبی مطالعات مجمع جهانی تقریب مذاهب اسلامی کا شاخ
شابک7 - 350 - 167 - 964 - 978

وحدتِ مذاہبِ اسلامی در منظومہ فکریِ مقامِ معظم رہبری یہ کتاب اسلامی فرقوں اور مذاہب کے درمیان اتحادِ امتِ مسلمہ کے مسئلے پر گفتگو کرتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام، انقلابیوں اور رہنماؤں کا ایک بنیادی نعرہ امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔ اسی سلسلے میں انقلاب کے رہبرِ شہید امام خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں فرمایا: "اگر کوئی اپنے مذہب کو علمی بنیاد پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اس کی مخالفت نہیں کرتا۔ چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی، یا کسی اور مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو، ہر مؤمن کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے طریقے کو علمی دلائل سے ثابت کرے۔ لیکن جو چیز ہم رد کرتے ہیں وہ ہے دوسروں کے مذہب کی نفی، اہانت یا ان کے وجود کو ختم کرنے کی کوشش۔ یہ عمل غلط ہے۔"وحدت کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شیعہ، سنی بن جائے یا سنی، شیعہ — بلکہ یہ ہے کہ دونوں مذاہب کے پیروکار آپس میں بھائی چارہ رکھیں اور ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ احساس کریں۔"

جمالی تعارف

اسلامی جمہوریہ ایران کے عوام اور انقلابی رہنماؤں کے بنیادی نعروں میں سے ایک امتِ مسلمہ کا اتحاد ہے۔

شاید استکبار ستیزی اور ولایتِ فقیہ کے تصورات کے بعد سب سے زیادہ بار "وحدتِ امتِ اسلامی" کا ذکر انقلابی رہنماؤں کے کلمات میں ملتا ہے۔ امام خمینیؒ کے فرامین اور مختلف اسلامی گروہوں سے ان کا برتاؤ خود اس امر کی گواہی دیتا ہے کہ وہ اس موضوع کو کس قدر اہم سمجھتے تھے۔

مقامِ معظم رہبر (آیت اللہ خامنہ ای) بھی امام خمینیؒ کی طرح انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی سالوں ہی سے امتِ مسلمہ کے اتحاد پر خصوصی توجہ دیتے رہے۔

آپ نے نہ صرف "مجمعِ جہانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی" جیسے ادارے قائم کیے — جو وحدت کے عمل کو ادارہ جاتی شکل دینے کے ذمہ دار ہیں — بلکہ خود بھی ہر موقع پر اس موضوع کی وضاحت، تبیین اور تاکید فرمائی۔

چالیس سال پر مشتمل آپ کے بیانات اس موضوع پر آپ کے فکری نظام کا جامع نقشہ پیش کرتے ہیں۔

پہلی فصل

حصہ اول: شناختِ وحدتِ اسلامی

  • وحدت کا معنی
  • وحدت کا مقام
  • وحدت کے مراتب

دوسری فصل

حصہ دوم: ضرورتِ وحدت

  • آج کی دنیا میں وحدت کی اہمیت و اولویت
  • دینی احکامات سے ظاہر ہونے والی ضرورت

تیسری فصل

حصہ سوم: عواملِ وحدت

  • اسلامی معاشرے کی ذمہ داریاں
  • خواص کی طرف سے مؤثر عوامل

چوتھی فصل

حصہ چہارم: نوین اسلامی تمدن میں وحدت کے محاور

  • اسلامی تمدن؛ وحدت کا محور
  • مشترکہ عقائد؛ وحدت کا محور
  • مشترکہ عملی احکامات؛ وحدت کا محور
  • مشترکہ تاریخی مواقع؛ وحدت کا محور
  • مشترکہ دشمن؛ وحدت کا محور

پانچوی فصل

حصہ پنجم: موانعِ وحدت

  • موانع کا جامع جائزہ
  • داخلی رکاوٹیں
  • خارجی رکاوٹیں

جھٹی فصل

حصہ ششم: وحدت کے نتائج اور تفرقے کے اثرات

  • وحدت کے ثمرات
  • تفرقے کے نقصانات

ساتویں فصل

حصہ ہفتم: اسلامی انقلابِ ایران اور وحدت

  • اسلامی جمہوریہ، وحدت کی منادی
  • اسلامی جمہوریہ ایران کی بنیادوں میں وحدت
  • اسلامی جمہوریہ کی عملی سطح پر وحدت
  • وحدت کی علامات و مظاہر
  • وحدت آفرینی کے مقابل دشمنوں کی سازشیں

اٹھویں فصل

حصہ ہشتم: منادیانِ وحدت

  • استعمار سے لڑنے والے اتحاد کے علَم بردار
  • امام خمینیؒ
  • آیت اللہ العظمیٰ بروجردی اور شیخ محمود شلتوت
  • سید عارف حسین
  • سید جمال الدین اسد آبادی، شیخ محمد عبده، شرف الدین عاملی
  • آیت اللہ ڈاکٹر عبدالهادی الفضلی
  • شیخ مفید اور تفرقے کا تجربہ
  • نمایاں اور متحرک تقریبی شخصیات
  • بیانات و مکتوبات کی فہرست
  • ماخذ و مصادر کی فہرست[1]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات