مکروه
مکروہ ایک فقہی اور دینی اصطلاح ہے جس کے معنی اور استعمالات مختلف اور متغیر ہیں، لیکن عام تعریف کے مطابق یہ ایک ایسا عمل ہے جس کا ارتکاب اگرچہ حرام نہیں، لیکن شارع (شریعت) کی نظر میں ناپسندیدہ ہے۔ کراہت کا تعلق کبھی عبادات سے ہوتا ہے تو کبھی کسب و کار اور معاملات سے۔ عبادات میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ اس عبادت کا ثواب مشابہ دیگر عبادات کے مقابلے میں کم ہو جاتا ہے، جبکہ معاملات میں کراہت کا مطلب یہ ہے کہ شارع اس عمل کے ارتکاب کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔
مفہوم شناسی مکروہ
لغت میں مکروہ
«کُرہ» کے مادے سے ماخوذ «مکروہ» لغت میں اس سختی یا ناپسندیدگی کو کہتے ہیں جو انسان پر وارد ہوتی ہے۔[1]
فقہی اصطلاح میں مکروہ
فقہ کی اصطلاح میں «مکروہ» ایسے عمل کو کہتے ہیں جس کا ترک کرنا اس کے ارتکاب سے بہتر ہو۔[2] یعنی ایسا عمل جس کا ارتکاب حرام تو نہیں، لیکن اس سے اجتناب کرنا افضل ہے۔[3]
مکروہات کی تعداد
اگر مکروہات کو شمار کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ شمار سے باہر ہوں گے، کیونکہ ہر مستحب عمل کا ترک بذات خود مکروہ کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ ذیل میں بطور مثال کچھ مصادیق پیش کیے جا رہے ہیں:
پانچ احکام میں سے ایک
مکروہ، احکامِ پنج گانہ (واجب، حرام، مستحب، مباح) میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔[7]
عبادات میں مکروہ
عبادات کے ضمن میں «مکروہ» مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً، حمام میں نماز پڑھنا[8]، یا حالتِ جنابت میں قرآن پڑھنا[9]، یا حیض کی حالت میں خواتین کا قرآن پڑھنا[10] مکروہ ہے۔ یہاں کراہت کا مطلب یہ نہیں کہ عمل ترک کرنا بہتر ہے، بلکہ یہ کہ ایسا عمل ثواب کو کم کر دیتا ہے۔ یعنی، حمام میں نماز پڑھنے کا ثواب، باہر نماز پڑھنے سے کم ہے، یا حالتِ جنابت میں تلاوت کا ثواب، حالتِ طہارت کے مقابلے میں کم ہے۔
کراہت تشکیکی ہے
تمام مکروہات کی شدت یکساں نہیں ہوتی، بعض دوسروں سے زیادہ مکروہ ہوتے ہیں۔
اقسام مکروہ
مکروہ تحریمی
یہ ایسا عمل ہے جس سے شارع کی کراہت شدید ہو۔ مثلاً، مؤکد مستحبات کو ترک کرنا۔[11]
مکروہ تنزیہی
یہ ایسا عمل ہے جس سے شارع نے منع تو کیا ہے، لیکن اس کے ارتکاب پر کوئی خاص سزا یا گناہ نہیں، بلکہ اس کے ترک پر زیادہ ثواب ہے۔[12] عاشورہ کے دن روزہ رکھنا (اگر توہین کی نیت نہ ہو) یا سامنے تصویر اور مجسمہ ہونے کی صورت میں نماز پڑھنا اس کی مثالیں ہیں۔
مکروہ مطلق اور مقید (حالت کے اعتبار سے)
- مکروہ مطلق: ایسا فعل جس کی کراہت کسی شرط یا امر پر موقوف نہ ہو۔ مثال: گھوڑے اور مرغی کے انڈے کا گوشت کھانا۔[13]
- مکروہ مقید: ایسا فعل جس کی کراہت کسی خاص حالت یا شرط پر موقوف ہو۔ مثال: حمام میں نماز پڑھنا۔
مکروہ اصلی اور تبعی (تعلق کے اعتبار سے)
- مکروہ اصلی: جس فعل کو شارع نے مستقل طور پر مکروہ قرار دیا ہو۔ مثال: حمام میں نماز پڑھنا۔
- مکروہ تبعی: جس فعل کی کراہت کسی دوسرے فعل کے ضمن میں سمجھی جائے۔ مثال: نماز کے لیے حمام جانے سے منع کرنا، اس سے یہ بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ حمام جانا بظاہر مکروہ ہے۔[14]
مکروه نفسی اور غیری (کیفیت کے اعتبار سے)
- مکروہ نفسی: جس کی کراہت ذاتی ہو۔
- مکروہ غیری: جس کی کراہت کسی دوسرے مکروہ فعل کا مقدمہ ہونے کی وجہ سے ہو۔ مثال: حمام جانے کی کراہت، جو ممکن ہے نماز کے لیے حمام جانے کی وجہ سے ہو۔[15]
مکروه معلق اور منجز (دستور کے اعتبار سے)
- مکروہ معلق: جس کی کراہت کا تعلق مستقبل سے ہو، اگرچہ کراہت کا حکم فعلی ہو۔
- مکروہ منجز: جس کی کراہت اور ارتکاب دونوں حال میں ہوں۔[16]
معروف مکروہات
عبادات مکروہ
وہ عبادات جن کا ثواب مشابہہ عبادات سے کم ہو، جیسے عاشورہ کا روزہ (دیگر دنوں کے روزوں کے مقابلے میں کم ثواب رکھتا ہے)۔ غیر عبادات میں کراہت کا مطلب خود عمل میں ناپسندیدگی ہے۔[17] چند مکروہ عبادات:
- حمام میں نماز پڑھنا۔
- کسی شخص کے سامنے نماز پڑھنا۔
- کھلے دروازے کے سامنے نماز پڑھنا۔
- راستے یا گلی جیسے عوامی گزرگاہ میں نماز پڑھنا۔
- آگ کے سامنے نماز پڑھنا۔
- باورچی خانے میں نماز پڑھنا۔
- تصویر یا مجسمے کے سامنے نماز پڑھنا۔
- قبرستان میں قبر پر، یا دو قبروں کے درمیان نماز پڑھنا۔[18]
- اونگھ یا نیند کی حالت میں نماز پڑھنا۔
- تنگ جراب پہن کر نماز پڑھنا۔[19]
- عاشورہ کا روزہ رکھنا۔
- ایسے دن روزہ رکھنا جس میں شک ہو کہ وہ عرفہ ہے یا عید قربان۔[20]
معاملات مکروہ
بعض کاروبار اور لین دین مکروہ قرار دیے گئے ہیں، جن میں سے اہم ہیں:
- قصابی (ذبیحہ کرنا)۔
- کفن فروشی۔
- کمینے اور پست لوگوں کے ساتھ لین دین کرنا۔
- اذان و اقامت اور طلوع آفتاب کے درمیان خرید و فروخت۔
- گندم و جو کا خرید و فروخت (اگر یہ ذریعہ معاش ہو)۔[21]
- صرافہ (کرنسی کا تبادلہ)۔[22]
حوالہ جات
- ↑ ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۴ھ، ج ۱۲، ص ۸۰، ذیل مادہ «کُره»؛ دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ، ذیل واژہ «مکروہ»؛ صاحب بن عباد، المحیط فی اللغة، بیروت، عالم الکتاب، ۱۴۱۴ھ، ج ۳، ص ۳۵۵۔
- ↑ ملکی اصفہانی، مجتبیٰ، فرہنگ اصطلاحات اصول، قم، ۱۳۷۹ شمسی، ج ۲، ص ۹۴۔
- ↑ زحیلی، وهبه، اصول الفقه الاسلامی، دمشق، دار الفکر، ۱۴۰۶ھ، ج ۱، ص ۴۵۔
- ↑ موسوی خمینی، روح الله، توضیح المسائل، قم، نشر جامعه مدرسین، ۱۳۹۲ شمسی، ج ۱، ص ۸۰۔
- ↑ فلاحزاده، محمد حسین، آموزش فقه، قم، نشر الہادی، ص ۲۲۔
- ↑ فلاحزاده، محمد حسین، آموزش فقه، قم، نشر الہادی، ص ۲۲۔
- ↑ زحیلی، وهبه، اصول الفقه الاسلامی، ج ۱، ص ۴۵۔
- ↑ یزدی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۹ھ، ج ۱، ص ۵۹۳۔
- ↑ یزدی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی، ج ۱، ص ۲۹۲۔
- ↑ یزدی، سید محمد کاظم، العروۃ الوثقی، ج ۱، ص ۳۴۹۔
- ↑ ملکی اصفہانی، مجتبیٰ، فرہنگ اصطلاحات اصول، ج ۲، ص ۲۰۴۔
- ↑ https://hadana.ir/%D9%85%DA%A9%D8%B1%D9%88%D9%87-%D8%A8%D9%87-%DA%86%D9%87-%D9%85%D8%B9%D9%86%D8%A7%D8%B3%D8%AA/
- ↑ اصفہانی، محمد حسین، الفصول الغرویة فی الاصول الفقهیة، قم، دار احیاء العلوم الاسلامیه، ۱۴۰۴ھ، ص ۸۲۔
- ↑ فاضل لنکرانی، محمد، شرح کفایة الاصول، قم، نشر نوح، ۱۳۸۵ شمسی، ج ۲، ص ۴۲۱۔
- ↑ اصفہانی، محمد حسین، الفصول الغرویة، ص ۸۲۔
- ↑ اصفہانی، محمد حسین، الفصول الغرویة، ص ۸۲۔
- ↑ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں: خمینی، روح الله، نجاة العباد، تہران، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۴۲۲ھ، ص ۲۲۵؛ جوادی آملی، عبداللہ، مفاتیح الحیات؛ مجلسی، محمد تقی، حلیۃ المتقین۔
- ↑ بنی ہاشمی خمینی، رسالہ سولہ مرجع، مسئلہ ۸۹۸۔
- ↑ بنی ہاشمی خمینی، رسالہ سولہ مرجع، مسئلہ ۱۱۵۸۔
- ↑ بنی ہاشمی خمینی، رسالہ سولہ مرجع، مسئلہ ۱۱۴۷۔
- ↑ بنی ہاشمی خمینی، رسالہ تیرہ مرجع، مسئلہ ۲۰۵۴۔
- ↑ خمینی، سید روح الله، نجاة العباد، ص ۲۲۵۔