محمد الجماصی
محمد الجماصی | |
---|---|
![]() | |
پورا نام | محمد الجماصی |
دوسرے نام | محمد داوود الجماصی، أبو عبیده |
ذاتی معلومات | |
پیدائش | 1968 ء، 1346 ش، 1387 ق |
پیدائش کی جگہ | غزه فلسطین |
وفات | 2025 ء، 1403 ش، 1446 ق |
وفات کی جگہ | غزه پٹی فلسطین |
مذہب | اسلام، سنی |
مناصب | حماس تحریک کے سیاسی دفتر کا رکن، غزہ کی پٹی میں ہنگامی کمیٹی کے صدر۔ 1988 ءسے غزہ شہر میں حماس تحریک کے سربراه اور 2017 ءسے 2021ء تک پناہ گزینوں اور بیت المقدس کے معاملات کے ذمہ دار |
محمد الجماصی، جو "ابوعبیدہ" کے لقب سے بھی مشہور ہیں، حماس تحریک کے سیاسی دفتر کے ارکان میں سے ایک تھے اور غزہ کی پٹی میں حماس کے ہنگامی کمیٹی کے صدر رہے۔ وہ 1988 ءسے غزہ شہر میں حزب اللہ کے سربراه تھے اور 2017 ءسے 2021ء تک پناہ گزینوں اور بیت المقدس کے معاملات کے ذمہ دار رہے۔ الجماصی نے بین الاقوامی قانونی مطالعات کے مرکز کی صدارت بھی کی۔ وہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر حملے اور غزہ 2025 کے فائر بندی کی خلاف ورزی کے بعد 18 مارچ 2025ء کی صبح هونے والے ظالمانه حملے میں شہید ہوئے۔ ان کے ہمراہ عصام الدعالیس (غزہ میں حکومتی امور کے سربراه)، احمد الحته (غزہ میں وزارت انصاف کے نائب وزیر)، محمود ابو وطفہ (غزہ میں وزارت داخلہ کے نائب وزیر) اور بهجت ابوسلطان (غزہ میں داخلی سیکیورٹی کے جنرل ڈائریکٹر) بھی شہید ہوئے۔
زندگی نامه
محمد داوود الجماصی 5 اکتوبر 1967 ء کو شہر غزہ میں ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئے۔
تعلیم
وہ 1999 ءمیں اسلامی یونیورسٹی غزہ سے سول انجینئرنگ میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
جهادی سرگرمیاں
الجماصی فوراً حماس کی تاسیس کے فورا بعد اس کے ساتھ منسلک هوئے اور اس جماعت بهت ساری اهم سرگرمیوں میں شریک رهے اور اهم ذمه داریاں بھی قبول کی۔ وہ 1988 ءسے غزہ شہر میں حماس کی ذمہ داری سنبھالتے تھے، سوائے الشجاعیہ اور الدرج کے علاقوں کے۔ 2010 ءسے 2012ء تک، وہ حماس کی سیاسی قیادت کے رکن کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور 2017 ءسے 2021ء تک، پناہ گزینوں اور بیت المقدس کے معاملات کی ذمہ داری بھی سنبھالی۔ علاوہ ازیں، انہوں نے بین الاقوامی قانونی مطالعات کے مرکز کی صدارت بھی کی۔ انہیں 1986 ءسے اسرائیلی قابضین کے ذریعہ کئی بار گرفتار کیا گیا اور انہوں نے کچھ وقت اسرائیل کی جیلوں میں گزارا۔
شهادت
محمد الجماصی 18 مارچ 2025 ءبروز منگل کی صبح، بمطابق 17 رمضان 1446 ہجری، اسرائیل کی طرف سے غزہ جنگ بندی 2025 ءکی خلاف ورزی کے بعد اسرائیلی حکومت کی جانب سے غزہ کی پٹی پر ایک بڑے حملے میں، شہید ہو گئے۔[1]
ان کی شهادت سے متعلق بیانات اور ردعمل
غزه پٹی میں فلسطینی حکومت کے میڈیا آفس کا بیان
غزه پٹی میں فلسطینی حکومت کے میڈیا آفس نے منگل کے روز ایک بیان جاری کیا جس میں غزہ کی پٹی میں حماس کے پانچ ارکان کی شہادت کی اطلاع دی گئی اور عظیم فلسطینی قوم، عرب اور اسلامی امت اور دنیا کے آزاد لوگوں سے ان کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔ شہداء کے نام یہ ہیں: عصام الدعالیس، نوار غزہ میں حکومتی کاموں کی نگرانی کے سربراہ؛ احمد الحتہ، نوار غزہ میں وزیر انصاف کے نائب وزیر؛ محمود ابو وطفہ، نوار غزہ میں وزیر داخلہ کے نائب وزیر؛ بہجت ابو سلطان، نوار غزہ میں اندرونی سلامتی امور کے سربراه؛ محمد الجماصی المعروف "ابو عبیدہ"، ایمرجنسی کمیٹی کے سربراہ[2]
حماس تحریک کا بیان
حماس تحریک نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا: اپنے لوگوں، اپنی زمین اور اپنے مقدسات کے دفاع کے راستے کو تسلیم، ثابت قدمی اور مزید اصرار کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے اور صبر، عزت اور فخر کے حقیقی معنی کے ساتھ، حماس تحریک فلسطین کے اندر اور باہر اپنی عظیم قوم اور عرب اور اسلامی امت اور دنیا کے تمام آزاد لوگوں کو اعلان کرتی ہے کہ ہمارے کئی کمانڈر، جو غزہ کی پٹی میں قومی عمل کی علامت ہیں، منگل کی صبح صیہونی حکومت کے وحشیانہ حملوں میں شہید ہو گئے، جنہوں نے انہیں اور ان کے خاندانوں کو براہ راست اور جان بوجھ کر نشانہ بنایا۔ حماس تحریک نے اعلان کیا کہ یہ شہید کمانڈر عصام الدعالیس، حکومتی کارروائیوں کی نگرانی کے سربراہ، یاسر حرب، حماس کے سیاسی دفتر کے رکن، احمد الحتہ، وزارت انصاف کے نائب وزیر، محمود ابو وطفہ، وزارت داخلہ کے نائب وزیر اور بہجت ابو سلطان، داخلی سلامتی کے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ حماس تحریک نے مزید کہا: حماس تحریک کے کمانڈروں اور قومی عمل کے ذمہ داران اور ہمارے لوگوں کے خلاف دہشت گردانہ جرائم دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کا باعث نہیں بنیں گے۔ یہ حکومت ہمارے لوگوں کے عزم کو نہیں توڑے گی، بلکہ قابض اور اس کے دشمنانہ منصوبوں کا مقابلہ کرنے میں لوگوں کی ثابت قدمی کو بڑھائے گی۔[3]
عالمی مرکز برای بیداری اسلامی کا بیان
فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے ترجمان ابوحمزہ اور فلسطینی مزاحمت کے کمانڈروں اور مجاہدین کے ایک گروپ کی شہادت کے موقع پر عالمی اسلامی بیداری اسمبلی نے اپنے بیان میں کها: ایک بار پھر، مجرم اور وحشی صیہونی حکومت نے ایک وحشیانہ جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے، فلسطینی مزاحمت کے کئی بہادر کمانڈروں اور جنگجوؤں کو شہید کر دیا۔ فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے ترجمان ابوحمزہ کی شہادت، شہید عصام الدعالیس، حماس کے سیاسی دفتر کے رکن شہید یاسر حرب، توپ خانہ یونٹ کے کمانڈر اور تحریک کی فوجی کونسل کے رکن محمد محمود بطران، اور احمد الحتہ، محمود ابو وطفہ، بہجت ابو سلطان جیسے مزاحمتی جنگجوؤں کے ساتھ، مقبوضہ قدس کی غاصب حکومت کی بربریت اور فلسطینی قوم کی مزاحمت کی شعلہ کو بجھانے کی اس کی مایوس کن کوشش کی ایک اور مثال ہے۔ فلسطینی عوام اور مزاحمتی مجاہدین کی استقامت اور ثابت قدمی کے سامنے بے بس اور مایوس ہو کر صیہونی حکومت نے ایک بار پھر غزہ پر وحشیانہ حملے شروع کر دیے ہیں اور رہائشی علاقوں پر بمباری کر کے خواتین، بچوں اور بے دفاع شہریوں کا قتل عام کیا ہے۔ یہ خوفناک جرائم، جو اس حکومت کے مغربی حامیوں اور امریکہ کی شرمناک خاموشی اور حمایت کی روشنی میں کیے جا رہے ہیں، مظلوم فلسطینی عوام کو دبانے میں صیہونیوں کے وحشیانہ کردار اور نسل پرستانہ پالیسیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ عالمی اسلامی بیداری اسمبلی ان وحشیانہ حملوں اور مزاحمتی کمانڈروں کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیتی ہے کہ ان مجاہدین کی شہادت سے نہ صرف مزاحمتی محاذ کمزور نہیں ہوگا بلکہ فلسطینی عوام اور قدس شریف کی آزادی کے تمام جنگجوؤں کے عزم اور ارادے میں صیہونی قبضے کے مکمل خاتمے تک ڈٹے رہنے اور لڑنے کے لیے دوگنا اضافہ ہوگا۔ ہم تمام مسلمان اقوام، اسلامی ممالک اور دنیا کے آزادی پسندوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان خوفناک جرائم پر خاموش نہ رہیں اور مظلوم فلسطینی عوام کی ہر ممکن مدد کریں۔ ہم بین الاقوامی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان بے مثال جرائم کے خلاف اپنی ذمہ داری پوری کریں اور صیہونی حکومت کو ان جنگی جرائم کے لیے جوابدہ ٹھہرائیں۔ ہم شہداء کے عظیم گھرانوں ، مزاحمتی فلسطینی قوم، اسلامی جہاد کے رہنماؤں اور فلسطین کی آزادی کے تمام جنگجوؤں سے ان مزاحمتی کمانڈروں اور جنگجوؤں کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ان قیمتی شہداء کے لیے بلند درجات اور سوگواروں کے لیے صبر و اجر کی دعا کرتے ہیں۔[4]
حوالہ جات
- ↑ أعلنت “حماس” استشهاده.. من هو أبو عبيدة الجماصي؟ ( حماس نے ان کی شهادت کی خبر دی ہے ، ابوعبیده جماصی کون ہیں؟)ar.hibapress.com (زبان عربی)- تاریخ درج شده: 18/مارچ/2025 ء تاریخ اخذ شده:31/مارچ/2025ء
- ↑ شهادت ۵ تن از اعضای جنبش حماس در تجاوز صهیونیستها به غزه ( غزه پر اسرائیلے کے حملے میں حماس تحریک کے 5 ارکان کی شهادت)fa.alalam.ir (زبان فارسی)- تاریخ درج شده: 18/مارچ/2025 ء تاریخ اخذ شده:31/مارچ/2025ء
- ↑ حماس از شهادت تعدادی از فرماندهان خود در حملات رژیم صهیونیستی خبر داد ( حماس تحریک نے اسرائیل کے حملے میں حماس تحریک کے ارکان کی شهادت کی خبر دی)www.mojnews.com (زبان فارسی)- تاریخ درج شده: 18/مارچ/2025 ء تاریخ اخذ شده:31/مارچ/2025ء
- ↑ بیانیه مجمع جهانی بیداری اسلامی در پی شهادت ابوحمزه (ابوحمزه کی شهادت کے موقع پر عالمی مرکز برای بیداری اسلامی کا بیان)farhikhtegandaily.com (زبان فارسی)- تاریخ درج شده: 18/مارچ/2025 ء تاریخ اخذ شده:31/مارچ/2025ء