علی بن الحسین (علی اکبر)

    ویکی‌وحدت سے
    علی بن الحسین (علی اکبر)
    علی بن الحسین (علی اکبر).jpg
    تاریخ ولادت11 شعبان33 ق
    جائے ولادتمدینہ
    شهادت61 ہجری
    القاب
    • شبیہ پیمبر
    والد ماجدامام حسین علیہ السلام
    والدہ ماجدہام لیلی
    مدفنکربلا عراق

    علی بن الحسین (علی اکبر) امام حسین (ص) کا سب سے بڑا بیٹا تخلیق ، اخلاقیات، کردار اور گفتار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے زیادہ ملتا جلتا تھا۔ اس کی بہادری ، مذہبی اور سیاسی بصیرت ، شجاعت اور خاص طور پر عاشورہ کے دن سرزمین میں جلوہ گر ہوئی ۔ آپ کربلا میں تقریبا 25 سال کا تھا۔ روز عاشور آپ بنی ہاشم کا پہلا شہید تھے۔

    ولادت

    جناب علی اکبر ؑ کی تاریخ ولادت کو ۱۱ شعبان سن ۳۳ ہجری قمری قرار دیا ہے[1]۔ حضرت علی اکبر (ع) بن ابی عبد اللہ الحسین (ع) 11 شعبان سن43 ھ کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے [2]۔

    حضرت علی اکبر ؑ امام حسین ؑ کے فرزند ارجمند ہیں آپ کی تاریخ ولادت کے بارے میں مورخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اسی وجہ سے آپ کی عمر شریف بھی معلوم نہیں ہے۔ اکثر مورخین نے صرف کربلا کے مصائب بیان کرتے ہوئے آپ کے حالات کا تذکرہ کیا ہے اور فقط آپ کی شہادت کے واقعہ کو بیان کیا ہے [3]۔

    آپ امام حسین بن علی بن ابی طالب (ع) کے بڑے فرزند تھے اور آپ کی والدہ ماجدہ کا نام لیلی بنت مرّہ بن عروہ بن مسعود ثقفی ہے ـ لیلی کی والدہ میمونہ بنت ابی سفیان جو کہ طایفہ بنی امیہ سے تھیں [4]۔

    اس طرح علی اکبر (ع) عرب کے تین مہم طایفوں کے رشتے سے جڑے ہوئے تھے

    آپ والد کی طرف سے طایفہ بنی ہاشم سے کہ جس میں پیغمبر اسلام (ص) حضرت فاطمہ (س) ، امیر المؤمنین علی بن ابیطالب (ع) اور امام حسن (ع) کے ساتھ سلسلہ نسب ملتا ہے اور والدہ کی طرف سے دو طایفوں سے بنی امیہ اور بنی ثقیف یعنی عروہ بن مسعود ثقفی ، ابی سفیان ، معاویہ بن ابی سفیان اور ام حبیبہ ہمسر رسول خدا (ص) کے ساتھ رشتہ داری ملتی تھی

    اسی وجہ سے مدینہ کے طایفوں میں سب کی نظر میں آپ خاصا محترم جانے جاتے تھے۔ ابو الفرج اصفہانی نے مغیرہ سے روایت کی ہے کہ: ایک دن معاویہ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ : تم لوگوں کی نظر میں خلافت کیلیے کون لایق اور مناسب ہے ؟ اسکے ساتھیوں نے جواب دیا : ہم تو آپ کے بغیر کسی کو خلافت کے لایق نہیں سمجھتے ! معاویہ نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے ـ بلکہ خلافت کیلیے سب سے لایق اور شایستہ علی بن الحسین (ع) ہے کہ اسکا نانا رسول خدا (ص) ہے اور اس میں بنی ہاشم کی دلیری اور شجاعت اور بنی امیہ کی سخاوت اور ثقیف کی فخر و فخامت جمع ہے [5]۔

    حضرت علی اکبر (ع) کی شخصیت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کافی خوبصورت ، شیرین زبان پر کشش تھے ، خلق و خوی ، اٹھنا بیٹھنا ، چال ڈال سب پیغمبر اکرم (ص) سے ملتا تھا ـ جس نے پیغبر اسلام (ص) کو دیکھا تھا وہ اگر دور سے حضرت علی اکبر کو دیکھ لیتا گمان کرتا تھا کہ خود پیغمبر اسلام (ص) ہیں ۔ اسی طرح شجاعت اور بہادری کو اپنے دادا امیر المؤمنین علی (ص) سے وراثت میں حاصل کی تھی اور جامع کمالات ، اور خصوصیات کے مالک تھے [6]۔

    تربیت

    حضرت علی اکبر (ع) نے اپنے دادا امام علی ابن ابی طالب (ع) کے مکتب اور اپنے والد امام حسین (ع) کے دامن شفقت میں مدینہ اور کوفہ میں تربیت حاصل کر کے رشد و کمال حاصل کر لیا۔ امام حسین (ع) نے ان کی تربیت اور قرآن ، معارف اسلامی کی تعلیم دینے اور سیاسی اجتماعی اطلاعات سے بھرپور کرنے میں نہایت کوشش کی جس سے ہر کوئی حتی دشمن بھی ان کی ثنا خوانی کرنے سے خود کو روک نہ پاتا تھا۔

    بہر حال ، حضرت علی اکبر (ع) نے کربلا میں نہایت مؤثر کردار نبھایا اور تمام حالات میں امام حسین (ع) کے ساتھ تھے اور دشمن کے ساتھ شدید جنگ کی [7]۔ قابل ذکر ہے کہ حضرت علی اکبر (ع) عرب کے تین معروف قبیلوں کے ساتھ قربت رکھنے کے باوجود عاشور کے دن یزید کے سپاہیوں کے ساتھ جنگ کے دوران اپنے نسب کا بنی امیہ اور ثقیف کی طرف اشارہ نہ کیا ، بلکہ صرف بنی ہاشمی ہونے اور اہل بیت (ع) کے ساتھ نسبت رکھنے پر افتخار کرتے ہوئے یوں رجز خوانی کرتے تھے :

    أنا عَلي بن الحسين بن عَلي نحن و بيت الله اَولي بِالنبيّ

    أضرِبكُم بِالسّيف حتّي يَنثني ضَربَ غُلامٍ هاشميّ عَلَويّ

    وَلا يَزالُ الْيَومَ اَحْمي عَن أبي تَاللهِ لا يَحكُمُ فينا ابنُ الدّعي

    عاشور کے دن بنی ہاشم کا پہلا شہید حضرت علی اکبر (‏ع) تھے اور زیارت معروفہ شہداء میں بھی آیا ہے :

    السَّلامُ عليكَ يا اوّل قتيلٍ مِن نَسل خَيْر سليل [8]۔

    میدان جنگ میں

    حضرت علی اکبر (ع) نے عاشور کے دن دو مرحلوں میں عمر سعد کے دو سو سپاہیوں کو ہلاک کیا اور آخر کار مرّہ بن منقذ عبدی نے سر مبارک پر ضرب لگا کر آنحضرت کو شدید زخمی کیا اور اسکے بعد دشمن کی فوج میں حوصلہ آيا اور حضرت پر ہر طرف سے حملہ شروع کر کے شہید کر دیا۔ امام حسین (ع) انکی شہادت پر بہت متاثر ہوئے اور انکے سرہانے پہنچ کر بہت روئے اور جب خون سے لت پت سر کو گود میں لیا ، فرمایا: عَلَي الدّنيا بعدك العفا [9]۔

    شہادت

    شہادت کے وقت حضرت علی اکبر (ع) کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے ـ بعض نے 18 سال ، بعض نے 19 سال اور بعض نے 25 سال کہا ہے [10]۔ مگر یہ کہ امام زین العابدین (ع) سے بڑے تھے یا چھوٹے اس پر بھی مورخوں اور سیرہ نویسوں کا اتفاق نہیں ہے ـ البتہ امام زین العابدین (ع) سے روایت نقل کی گی ہے کہ جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سن کے اعتبار سے علی اکبر (ع) سے چھوٹے تھے ـ امام زین العابدین (ع) نے فریایا ہے:

    کان لی اخ یقال لہ علی ، اکبر منّی قتلہ الناس ـ ـ ـ میرے ایک بڑے بھائی تھے، جنکا نام علی تھا کہ جنکو لوگوں ( شامیوں ) نے قتل کر دیا تھا۔

    [11]۔

    شبیہ رسول اللہ

    علی اکبر علیہ السلام شکل و صورت میں اور رفتار و کردار میں سب سے زیادہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مشابہ تھے آپ کے اخلاق اور چال چلن کو دیکھ کر لوگوں کو پیغمبر یاد آ جاتے تھے۔ اور جب بھی اہلبیت علیہم السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کے مشتاق ہوتے تھے تو جناب علی اکبر کا دیدار کیا کرتے تھے۔ آپ عالم ، پرہیزکار، رشید اور شجاع جوان تھے اور انسانی کمالات اور اخلاقی صفات کے عظیم درجہ پر فائز تھے۔

    اور ان حکمرانوں کو ان سے راضی نہ کر۔ اس لیے کہ اس گروہ نے ہمیں دعوت دی کہ ہماری نصرت کریں لیکن ہمارے مقابلہ میں جنگ کے لیے کھڑے ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے عمر سعد کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: اے ابن سعد خدا تمہاری رشتہ داری کو ختم کر دے۔ اور تمہارے کام میں کامیابی نہ ہو اور ایسے کو تمہارے اوپر مسلط کرے جو بستر پر تمہارا سر کاٹ دے۔ جس طریقے سے تم نے ہمارے ساتھ رشتہ کو کاٹا ہے۔ اور ہمارے رسول خدا [ص] کے ساتھ رشتہ کی رعایت نہیں کی۔ اس کے بعد خوبصورت آواز میں اس آیت کی تلاوت فرمائی:

    إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحاً وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ* ذُرِّيَّةً بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ "بیشک اللہ نے آدم، نوح، آل ابراہیم، اور آل عمران کو تمام عالمین پر منتخب کیا ہے۔ اس حال میں کہ یہ ایسی ذریت ہے جو بعض کی نسل میں سے بعض ہیں۔ اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔"

    آخر کار جناب علی اکبر علیہ السلام خیموں سے رخصت ہوئے اور میدان کارزار میں روانہ ہوئے اس حال میں کہ یہ رجز پڑھ رہے تھے:

    انَا عَلىُ بْنُ الحُسَيْنِ بْنِ عَلى‏ نَحْنُ وَبِيْتُ اللَّهِ اوْلى بالنَّبِى‏

    اطْعَنُكُمْ بالرُّمْحِ حَتَّى يَنْثَنى‏ اضْرِبُكُمْ بالسَّيْفِ احْمى‏ عَنْ ابى‏

    ضَرْبَ غُلامٍ هاشِمِىٍّ عَرَبى‏ وَاللَّهِ لا يَحْكُمُ فينَا ابْنُ الدَّعى‏

    میں علی، حسین بن علی کا بیٹا ہوں خدا کی قسم ہم پیغمبر اسلام کے سب سے زیادہ نزدیک ہیں۔ اس قدر نیزے سے تمہارے اوپر وار کروں گا کہ ٹیرا ہو جائے اور اس قدر تلوار سے تمہاری گردنیں ماروں گا کہ کند ہو جائے تا کہ اپنے بابا کا دفاع کر سکوں۔ ایسی تلوار چلاوں گا جیسی بنی ہاشم اور عرب کا جوان چلاتا ہے۔ خدا کی قسم اے ناپاک کے بیٹے تم ہم پر حکومت نہیں کر سکتے۔

    امام حسین علیہ السلام نے بنی ہاشم کے جوانوں کو بلایا اور فرمایا: علی اکبر کے بدن کو خیموں کی طرف لے چلو۔ اس سلسلے میں کہ جناب علی اکبر کی ماں جناب لیلی کربلا میں موجود تھیں یا نہیں تاریخ کی مشہور کتابوں میں اسکا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ صرف صاحب " ذخیرۃ الدارین" نے لکھا ہے کہ علی اکبر علیہ السلام کی ماں روز عاشور کو ان کے لیے دعا کر رہی تھیں[12]۔

    مکتب حسینی کی تربیت کا اعجاز، حضرت علی اکبر پیغمبر سے مشابہ ترین فرد

    امام حسین (علیه الصلوة والسلام) نے میدان کربلا میں اپنا تربیتی نظریہ، کلام اور سخن کے علاوہ ایک روشن اور درخشاں حقیقت کے قالب اور مجسم مثالی ہستیوں کی شکل میں بھی پیش کیا جو مکتب حسینی کی علامتیں ہیں۔ ان مثالی ہستیوں میں حضرت علی اکبر مکتب و مدرسہ حسینی کی تربیت یافتہ عظیم شخصیت ہیں۔ مشہور روایات کے مطابق چھبیس ستائیس سال اپنے والد گرامی کی نگرانی میں رشد و نمو کی منزلیں طے کیں۔

    قدم بہ قدم حضرت سیدالشہدا (علیه الصلوة والسلام) کی ہدایت، منصوبے اور پروگرام کے مطابق، البتہ خود اپنے ارادے اور فیصلے سے، اپنے انتخاب اور عظیم مجاہدت سے اس منزلت پر پہنچ گئے کہ جب سید الشہدا (علیه الصلوة والسلام) نے آپ کا تعارف کرانا چاہا تو آپ کو پیغمبر اعظم سے مشابہ ترین فرد کہا۔ اس طرح امام حسین (علیه الصلوة والسلام) نے حضرت علی اکبر (علیہ السلام ) کی شکل میں تربیت انسان کے تعلق سے اپنی تمام آرزوؤں کو بیان فرمایا ہے۔

    حضرت علی اکبر (علیہ السلام) کی شخصیت کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم آج یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس ایک ایسا فارمولا ہے کہ جس سے تربیتی علوم کے ہزاروں ماہرین اور وہ لوگ جو انسانوں کے رشد و نمو سے سروکار رکھتے ہیں، آپ کے پیکر رشید اور طرز زندگی سے تا قیامت کروڑوں نوجوانوں کی تربیت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ یہ وہ ہستی ہے جو عنفوان شباب میں شہادت جاودانہ پر فائز ہوئي۔

    مکتب حسینی کا احیاء امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کا عظیم کارنامہ

    ہمارے امام خمینی کبیر کا ایک عظیم کارنامہ نسل جدید کے لئے مکتب و مدرسہ حسینی کا احیاء ہے۔ شجاع اور غیور نوجوانوں کی تربیت امام (خمینی رحمت اللہ علیہ ) کا عظیم کارنامہ ہے۔ اس نے ہمارے اسلامی وطن کے طول و عرض میں اس کے بعد اس پورے علاقے میں اور عالمی سطح پرایک نیا باب کھول دیا۔ ہمارے رہبرعزیز کے بقول ان خصوصیات کے حامل نوجوانوں کی تربیت امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کی 'فتح الفتوح' ہے۔

    مومن، مجاہد اور شجاع نوجوان جن میں سے بہت سوں نے شہادت بھی حاصل کر لی۔ یہ ہمارے عظیم امام (خمینی رحمت اللہ علیہ) کی 'فتح الفتوح' تھی کہ آپ نے یہ راستہ کھولا اور دفاع مقدس نے اس مدرسے کی رونق بڑھا دی۔ (اس مدرسے میں) کتنے وسیع پیمانے پر لوگ داخل ہوئے اور اس مدرسے سے کیسی کیسی عظیم اور درخشاں ہستیاں باہر آئي ہیں۔

    مکتب حسینی کی تین تربیتی خصوصیات

    حضرت علی اکبر (علیہ السلام ) کی شخصیت کی اساس پر اس تربیتی مکتب کی نمایاں خصوصیات کی وضاحت کے لئے میں آپ کی خدمت میں تین نکات بیان کروں گا۔

    حضرت علی اکبر(علیہ السلام) کی تربیت توحیدی

    نکتہ اول جو اول بھی ہے اور آخر بھی، اصل بھی ہے اور فرع بھی اور سب کچھ یہی ہے، تربیت توحیدی اور خداوند عالم سے اس کا اتصال ہے۔ بنیادی مسئلہ یہی ہے۔ یہ خدائی رنگ اختیار کرنا، صراط بندگی پر چلنا اور ایمان و تقوا کی فضا میں جینا۔ یعنی خدا سے دوستی اور جاذبہ محبت حضرت حق میں گرفتار ہو جانا۔ قرآن کریم نے اس کی بہت ہی خوبصورت تعبیر پیش کی ہے . یُحِبُّهُم و َیُحِبّونَهُ [13] ۔

    اس آیت نورانی میں جس میں فرمایا کہ یا أَیُّهَا الَّذینَ آمَنوا مَن یَرتَدَّ مِنکُم عَن دینِهِ فَسَوفَ یَأتِی اللَهُ بِقَومٍ یُحِبُّهُم وَیُحِبّونَهُ... جنہیں خداوند عالم پسند کرتا ہے اور اس نے انہیں بشارت دی ہے، اس لئے کہ وہ آئيں گے اور دین خدا کی نصرت کریں گے اور خدائی اہداف کو پورا کریں گے۔ ان کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ گرفتار محبت خدا ہیں۔ یُحِبُّهُم و َیُحِبّونَهُ. ان کے اندر کچھ خصوصیات ہیں تبھی تو محبوب خدا ہیں اور خود بھی عاشق خدا ہیں۔

    آپ قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ سورہ توبہ کی اس مشہور آیت (نمبر ایک سو گیارہ ) کے فورا بعد جس میں ارشاد ہوتا ہے: إِنَّ اللَهَ اشتَرى مِنَ المُؤمِنینَ أَنفُسَهُم وَأَموالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الجَنَّةَ یُقاتِلونَ فی سَبیلِ اللَهِ فَیَقتُلونَ وَیُقتَلونَ۔ پھر فرماتا ہے: التّائِبونَ العابِدونَ الحامِدونَ السّائِحونَ الرّاکِعونَ السّاجِدونَ۔ دیکھیں چھے خصوصیات یہاں کتنے خوبصورت انداز میں ترتیب کے ساتھ بیان کی گئي ہیں۔ پہلے مجاہد، شجاع اور شہید مومن کے خطرات کے میدان میں اترنے کی بات کی جاتی ہے اور خداوند عالم فرماتا ہے، میں ان کا خریدار ہوں اور پھر ان کا تعارف اس طرح کراتا ہے کہ پہلے ان کی یہ چھے خصوصیات بیان فرماتا ہے۔

    تحریک کربلا کا ایک منظر بہت پرکشش ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب امام حسین (علیہ الصلوات و السلام) ہلکی نیند کے عالم میں تشریف لے جاتے ہیں اور پھر کلمہ استرجاع زبان پر جاری فرماتے ہیں : انا لله و انا الیه راجعون. حضرت علی اکبر اپنے والد کے پاس کھڑے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح۔ عاشق پدر تھے، ہمیشہ اپنے والد کے ہمراہ، آپ کے محافظ، ناصر اور محبوب تھے۔ امام حسین آپ کو دیکھتے تھے تو دل سے سارا ہم و غم دور ہو جاتا تھا۔ باپ کی نگاہوں میں مجسم پیکر امید تھے۔

    حضرت علی اکبر فورا والد ماجد کے قریب آتے ہیں، باباجان کلمہ استرجاع زبان پر کیوں جاری فرمایا؟ حضرت نے فرمایا: میں نے ایک لمحے کے لئے خواب دیکھا کہ ہمارا کارواں جا رہا ہے کہ ناگہاں ایک سوار آیا اور کہنے لگا، یہ جا رہے ہیں اور موت بھی ان کے پیچھے پیچھے جا رہی ہے۔

    حضرت علی اکبر نے بغیر کسی تامل کے عرض کیا: بابا! أولسنا علی الحق؟ کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟ امام نے فرمایا: بلی یا بنی! والذی الیه مرجع العباد. ہم حق پر ہیں۔ جیسے ہی یہ سنا فرمایا بابا! اذا لا ابالی بالموت تو پھر موت کی کوئی فکر نہیں۔

    یعنی فرماتے ہیں کہ بابا جان آپ نے جس کی ترتیت فرمائی ہے وہ صرف بنیاد حق کی فکر کرتا ہے۔ آپ نے جس کی تربیت کی ہے وہ اپنے سارے امور میں صرف حجت کی فکر میں رہتا ہے۔ خود کو اپنے امام سے ہم آہنگ کرتا ہے، تاکہ اس کی زندگی محور حق پر رہے۔ لہذا آپ کے سامنے ایک ایسی ہستی ہے کہ جس کا محور حق ہے، جو حق کا متلاشی ہے، حق گو ہے، حق پسند ہے، حق پرست ہے اور چاہتا ہے کہ ہر چیز اس طرح رہے جس طرح خدا چاہتا ہے۔ یہ پہلا اور بنیادی نکتہ ہے۔

    مرکز معراج میں میں نے دو سن رسیدہ افراد کو دیکھا۔ یہ وہی تھے جنہیں میں نے کل رات عالم خواب میں دیکھا تھا کہ انھوں نے میرا جنازہ اپنی تحویل میں لیا۔ جناب میں مطمئن ہو گیا۔ لیکن ایک مشکل ہے۔ میری مشکل یہ ہے کہ کل رات اگلے محاذ پر جانے کے لئے تیار تھا کہ مجھے ایک خط ملا۔ یہ خط میری بیوی کا تھا۔ اس نے لکھا تھا کہ تمھارا بچہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کو ایسے ہی رکھوں گی تاکہ تم تھوڑی دیر کے لئے آکے اس کا نام رکھو۔

    یہ ہے مدرسہ توحید حسینی! کون عارف سالک، ایسی تربیت کر سکتا ہے؟ جن لوگوں نے سالہا سال اس راہ میں لوگوں کی تربیت کی ہے، ان میں کون اس چوٹی کو فتح کر سکا ہے؟ یہ اعجاز مدرسہ حسینی ہے۔ الله اکبر. العظمة لله... میں شرم سے پانی پانی ہو گیا۔ میں نے اس سے صرف اتنا کہا کہ بھائي پریشان نہ ہو، یہ صرف پدرانہ جذبات ہیں، اس کی کوئي منفی تاثیر نہیں ہے۔ دل لرز گیا تب بھی پریشان نہ ہو۔ اسی طرح کے مزید دو تین جملے اس سے کہے۔ پہلی بات تربیت توحیدی ہے۔ اور اصل، فرع اور سب کچھ یہی ہے۔

    حسن اخلاق حضرت علی اکبر

    لیکن دوسرا نکتہ جو اساسی ہے، اخلاق کا مسئلہ ہے۔ حضرت اباعبدالله (علیه السلام) نے اپنے اس عزیز جوان کی تربیت میں اپنی تمام صلاحیتوں سے کام لیا، پوری استعداد سے اس کو تیار کیا تو وہ اخلاق میں پیغمبر اعظم کی شبیہ ہو گیا۔ اس کا چہرہ، اس کا اخلاق، اس کا اخلاص، مہربانی، تواضع حتی لکھا ہے کہ اس کے کھڑے ہونے کا انداز، اس کا اٹھنا اور چلنا بھی پیغمبر کی طرح تھا۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ امام حسین ایسی ہستی پر فخر نہ کریں؟

    اس پر دست عنایت الہی نے ایک کام یہ بھی کیا کہ حضرت علی اکبر کا چہرہ مبارک بھی خداوند عالم نے شبیہ چہرہ پیغمبر بنا دیا جس کو دیکھ کے ایسا لگتا تھا کہ خود پیغمبر ہیں۔ خلقت میں، اس لحاظ سے بھی امام حسین کی نصرت ہوئي کہ وہ توحیدی اور ایمانی مدارج، وہ حسن خلق اور اخلاقی فضائل، سب ایک ایسے قالب میں رکھے جائيں جو ہو بہو مطابق اصل ہے۔ ( یعنی آپ کا پیکر بھی مکمل طور پر شبیہ پیکر پیغمبر تھا)

    حضرت علی اکبر کی شجاعت اور جذبہ جہاد

    تیسرا نکتہ جس کا بس اشارتا ذکر کروں گا، جذبہ جہاد، صلابت اور وقار ہے۔ مدرسہ حسینی میں تربیت پانے والے بچے شجاع ہوتے ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں 'اشداء علی الکفار' ہوتے ہیں۔ اپنے آپ میں ایک لشکر ہوتے ہیں۔ رات کے عبادت گزار اور دن کے شیر ہوتے ہیں۔ یہ ولی خدا کی نصرت کر سکتے ہیں، اس صلابت، اس شجاعت، اس عزت اور اس جہادی شخصیت کے ساتھ جن کے ہاں خوف کا کوئی گزر نہیں۔ امیر المومنین (علیہ السلام) نے نہج البلاغہ کے خط نمبر اکتیس میں تحریر فرمایا ہے: وَ خُضِ الْغَمَرَاتِ لِلْحَقِّ حَیْثُ کَانَ۔ فرزند عزیز، حق کے لئے دریائے خطر میں کود پڑو، جاؤ خطرات کے میدان میں کود جاؤ، دلیری دکھاؤ۔' اس طرح اپنے بچوں کی تربیت کرتے تھے۔

    اور علی اکبر (سلام اللہ علیہ) توحید و عرفان کی بلند و بالا چوٹی پر بھی ہیں اور اخلاق وحسن خلق کی بلندیوں پر بھی۔ شجاعت، دلیری اور دلاوری کی رفعتوں پر بھی ہیں۔ بہادر اور شجاع ہیں۔ لشکر امام حسین (علیه الصلوة والسلام) میں حضرت علی اکبر (سلام اللہ علیہ) میں یہ سارے صفات ایک ساتھ جمع ہیں اور ان خصوصیات کا ایک ساتھ اظہار ہوتا ہے۔ آپ کا وجود اہل حرم کے دلوں کے لئے باعث تقویت ہے آور آپ کی ذات گرامی سراپا عشق و محبت اور مرکز امید ہے[14]۔

    حواله جات

    1. حضرت علی اکبر (ع) کی ولادت اور عمر کے بارے میں مختصر تحقیق-شائع شدہ از: اپریل 2020ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 فروری 2025ء۔
    2. مستدرك سفينه البحار (علي نمازي)، ج 5، ص 388
    3. محمد بن جریر طبرى، تاریخ الملوک و الامم، ج 5، ص 446. شیخ مفید ارشاد، ج 2، ص 135.
    4. أعلام النّساء المؤمنات (محمد حسون و امّ علي مشكور)، ص 126؛ مقاتل الطالبيين (ابوالفرج اصفهاني)، ص 52
    5. منتهي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 373 و ص 464
    6. منتهي الآمال، ج1، ص 373
    7. الارشاد (شيخ مفيد)، ص 459
    8. منتهي الآمال، ج1، ص 3
    9. منتهي الآمال، ج1، ص 375
    10. الارشاد، ص 458 منتهي الآمال، ج1، ص 375
    11. نسب قريش (مصعب بن عبدالله زبيري)، ص 85، الطبقات الكبري محمد بن سعد زهري)، ج5، ص 211
    12. ولادت ہمشکل پیغمبر، محمد ثانی، شہزادہ حضرت علی اکبر علیہ السلام- شائع شدہ از: 8 مئی 2017ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 فروری 2025ء۔
    13. سورہ مائدة، آیہ۵۴.
    14. مکتب حسینی کی تربیت کا اعجاز، حضرت علی اکبر پیغمبر سے مشابہ ترین فرد-شائع شدہ از: 3 اگست 2023ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 فروری 2025ء۔