مندرجات کا رخ کریں

سید محمد حسین شہریار

ویکی‌وحدت سے
(سید حسین شہریار سے رجوع مکرر)
سید محمد حسین شہریار
پورا نامسید محمد حسین
دوسرے نامبہجت تبریزی، شہریار
ذاتی معلومات
پیدائش1285 شء
یوم پیدائش11 دی
پیدائش کی جگہتبریز
وفات1367 ش
یوم وفات27 شہریور
وفات کی جگہتبریز
مذہباسلام، شیعہ
مناصبادیب اور شاعر

سید حسین شهریار، شہریار ایران کے مقبول شاعر اور تبریز کے باشندے تھے۔ انہیں حیدر بابائے سلام نامی منظومے سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ یہ منظومہ دنیا کی 80 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

سوانح حیات

سید محمد حسین بہجت تبریزی، جو شہریار کے تخلص سے مشہور تھے، حاج میر آقا خشگنابی کے فرزند تھے اور 1285 شمسی میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ شہریار کا بچپن تبریز کے عوام کی محمد علی شاہ کی مستبد حکومت کے خلاف تحریک اور شہر میں ہونے والی جھڑپوں کے دنوں میں گزرا۔

اسی صورت حال کے باعث ان کے والد نے جان کی حفاظت کے لیے خاندان کو اپنے آبائی علاقے خشگناب بھیج دیا۔ چنانچہ شہریار نے اپنے بچپن کا زمانہ اس علاقے کے دیہات میں گزارا اور ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب اور اپنے والد سے حاصل کی۔ ان کے دانا والد طلبہ میں سے تھے اور اجتہاد کا درجہ رکھتے تھے۔

تعلیم

ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد محمد حسین شهریار نے فیوضات اور متحدہ اسکولوں میں ثانوی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1300 شمسی میں تہران ہجرت کرکے دارالفنون میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔

1303 شمسی میں وہ طب کے مدرسے میں داخل ہوئے اور پانچ سال تک پزشکی کی تعلیم حاصل کی، لیکن ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے سے صرف ایک سال پہلے روحانی اور ذہنی پریشانیوں کے باعث انہوں نے یہ شعبہ ترک کردیا۔

استاد شہریار اس بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شعبہ ان کی طبیعت کے مطابق نہیں تھا اور ہر جراحی کے بعد انہیں کمزوری محسوس ہوتی تھی اور طبیعت خراب ہوجاتی تھی۔

طب کی تعلیم ترک کرنے کے بعد 1310 شمسی میں انہوں نے تہران کے محکمہ ثبت میں ملازمت شروع کی۔ اس کے بعد ان کا تبادلہ نیشاپور اور پھر مشہد ہوگیا اور وہ 1314 شمسی تک اس صوبے میں رہے۔

اس کے بعد دوبارہ تہران واپس آئے اور زرعی بینک میں ملازمت اختیار کی۔ آخرکار 1332 شمسی میں اپنے آبائی شہر تبریز واپس آگئے۔ 1333 شمسی میں انہوں نے شادی کی جس کے نتیجے میں ہادی، شہرزاد اور مریم نامی تین بچے پیدا ہوئے۔ شہریار اس کے بعد کبھی بھی تہران میں مستقل قیام کے لیے تیار نہیں ہوئے۔

محمد حسین شهریار کی جائے پیدائش

خشگناب مشرقی آذربائیجان میں واقع ایک گاؤں ہے جو ایران کے آذری زبان کے معروف شاعر محمد حسین شهریار کی جائے پیدائش ہے۔ خشگناب بزقوش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے اور یہاں کی آب و ہوا نہایت خوشگوار ہے۔

شاید اس ماحول کی لطافت کو استاد شهریار کی حساس طبیعت اور شعری ذوق کی ایک وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں آذربائیجان کے شناختی گاؤں کا عنوان اسی گاؤں کو حاصل ہے۔ استاد کا آبائی گھر جہاں ان کا بچپن اور نوجوانی گزری تھی آج بھی قائم ہے اور اسے ایک ثقافتی عجائب گھر میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

محمد حسین بہجت تبریزی کا تخلص

استاد محمد حسین بہجت تبریزی نے ابتدا میں بہجت تخلص اختیار کیا اور اپنی شاعری میں اسے استعمال کرتے تھے لیکن ایک دن انہوں نے اپنے اشعار کے لیے ایک نیا تخلص منتخب کرنے کا ارادہ کیا۔

چونکہ استاد شهریار بچپن ہی سے حافظ اور ان کی شاعری سے خاص شغف رکھتے تھے اس لیے اس کام میں بھی انہوں نے حافظ سے مدد لی۔ انہوں نے نیت کی اور دیوان حافظ کھولا تو یہ مصرع سامنے آیا کہ چرخ سکہ دولت به نام شهریاران زد۔

یعنی گردش کرتے ہوئے آسمان نے دولت کا سکہ شهریاروں کے نام پر ضرب کیا۔ نوجوان شاعر کو شهریار کا لقب اپنے لیے بہت بڑا محسوس ہوا تو انہوں نے دوبارہ حافظ سے فال لی۔

اس مرتبہ یہ مصرع سامنے آیا کہ روم به شهر خود و شهریار خود باشم۔ یعنی میں اپنے شہر کی طرف جاؤں اور اپنے ہی شہر کا شهریار بنوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا تخلص بہجت سے تبدیل کرکے شهریار رکھ لیا۔

اپنی محبوبہ ثریا ابراہیمی سے ملاقات اور عشق کی داستان

شهریار جوانی کے زمانے میں جب ابھی طب کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ایک روز استاد ملک الشعرائے بہار اور استاد صبا کے ہمراہ ایک دکان میں بیٹھ کر آتش بازی کا نظارہ کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک خوبصورت لڑکی پر پڑی جو بڑے جوش و خروش کے ساتھ آتش بازی دیکھ رہی تھی اور اسی ایک نظر میں وہ اس لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوگئے۔

وہ لڑکی ثریا تھی جو عبداللہ امیر طہماسبی کی بیٹی تھی۔ عبداللہ امیر طہماسبی قاجار کے محافظ دستے کے ایک کمانڈر تھے۔ شهریار اپنی شاعری میں ثریا کو پری کے نام سے یاد کرتے تھے

اس زمانے میں شهریار کو زیادہ شہرت حاصل نہیں تھی۔ وہ ثریا کے گھر رشتہ لے کر گئے لیکن چونکہ ان کے مالی حالات زیادہ اچھے نہیں تھے اس لیے انہیں انکار کا سامنا کرنا پڑا۔

شهریار اس عشق پر قائم رہے اور سینتالیس سال کی عمر تک شادی نہیں کی۔ تاہم ثریا نے رضا شاہ کے چچا زاد بھائی چراغ علی سالار حشمت سے شادی کرلی اور شهریار کی محبت ناکام رہ گئی۔

اس عشق کی وجہ سے شهریار نے طب کی تعلیم مکمل ہونے سے ایک سال پہلے ہی تعلیم ترک کردی اور ان کی زندگی اور ذہنی و روحانی کیفیت میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا ہوگئی۔

آخرکار 1314 شمسی میں جب شهریار بیماری کے باعث تہران کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے ثریا ان سے دوبارہ ملاقات کے لیے ہسپتال آئیں اور یہ ان دونوں کی آخری ملاقات تھی۔ اسی موقع پر شهریار نے اپنی مشہور غزل کا یہ شعر کہا:

آمدی جانم به قربانت ولی حالا چرا

بی وفا حالا که من افتاده ام از پا چرا

تم آئیں میری جان تم پر قربان لیکن اب کیوں

اے بے وفا اب آئی ہو جب میں بالکل بے حال ہوچکا ہوں

استاد شهریار کی ازدواج اور اولاد

استاد محمد حسین شهریار نے کئی سال تک ایک ناکام عشق کے بعد تنہائی کی زندگی گزاری اور آخرکار 1333 شمسی میں اڑتالیس سال کی عمر میں اپنی پھوپھی کی نواسی محترمہ عزیزہ عبدالخلقی سے شادی کی۔

عزیزہ اس وقت اکیس سال کی تھیں اور معلمہ تھیں لیکن شادی اور پہلے بچے کی پیدائش کے بعد انہوں نے اپنی ملازمت ترک کردی اور گھر اور بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئیں۔ شهریار اور عزیزہ کی ازدواجی زندگی کا ثمر دو بیٹیاں شہرزاد اور مریم اور ایک بیٹا ہادی ہیں۔

علی اے ہمای رحمت شعر کی تخلیق کی داستان

شهریار کی مشہور ترین نظموں میں سے ایک علی اے ہمای رحمت ہے اور اس کی تخلیق کی داستان بھی قابل سماعت ہے۔ آیت اللہ مرعشی نجفی نے نقل کیا ہے کہ ایک رات میں نے خواب میں اللہ کے ایک ولی کی زیارت کی۔

اس رات میں نے خواب دیکھا کہ میں مسجد کوفہ کے ایک گوشے میں بیٹھا ہوں اور امام علی علیہ السلام ایک جماعت کے درمیان موجود ہیں۔ امام نے فرمایا کہ اہل بیت کے شاعروں کو لاؤ۔

چنانچہ عربی اور فارسی زبان کے متعدد شاعر وہاں حاضر ہوئے۔ امام نے فرمایا ہمارا شهریار کہاں ہے اور شهریار سے مخاطب ہوکر فرمایا اپنا شعر پڑھو۔ شهریار نے اپنا شعر پڑھا:

"علی ای همای رحمت تو چه آیتی خدا را،

که به ماسوا فکندی همه سایه‌ی هما را"

علی اے ہمای رحمت تو خدا کی کیا نشانی ہے کہ تو نے تمام مخلوقات پر ہما کا سایہ ڈال دیا ہے کو آخر تک امام اور وہاں موجود لوگوں کے سامنے پڑھا

آیت اللہ مرعشی نجفی جب خواب سے بیدار ہوئے تو انہوں نے شهریار کی شخصیت کے بارے میں دریافت کیا کیونکہ وہ انہیں نہیں جانتے تھے۔ پھر انہوں نے شهریار کو قم آنے کی دعوت دی۔

ملاقات کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ یہی وہ شخص ہے جسے انہوں نے خواب میں امام علی علیہ السلام کی خدمت میں دیکھا تھا۔ انہوں نے شهریار سے شعر لکھنے کے وقت کے بارے میں پوچھا تو شهریار نے بتایا کہ انہوں نے اب تک یہ شعر کسی شخص کے سامنے نہیں پڑھا تھا اور نہ ہی کسی کو اس کی تخلیق کے بارے میں علم تھا۔

جب شهریار نے شعر کہنے کی تاریخ اور وقت بتایا تو معلوم ہوا کہ یہ وہی وقت تھا جب آیت اللہ مرعشی نجفی نے مذکورہ خواب دیکھا تھا۔ اس روایت کے مطابق یہ شعر شهریار کے دل میں الہام ہوا تھا اور یہ ان کے بزرگ جد کی توجہ اور عنایت کی علامت تھی۔

سید محمد حسین شهریار کے اشعار

استاد شهریار نے اپنی پہلی شاعری چار سال کی عمر میں کی تھی جو ان کی غیر معمولی ذہانت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شهریار کی پہلی مطبوعہ منظوم تصنیف مثنوی روح پروانہ ہے جسے 1310 شمسی میں خیام کتب خانہ نے شائع کیا تھا

استاد شهریار کے کلیات تین جلدوں میں شائع ہوئے ہیں اور ان کے مجموعہ کلام میں پندرہ ہزار سے زیادہ اشعار بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی تمام شاعری میں حساس روح، شاعرانه طبیعت، ذوق اور جدت پسندی کے آثار نمایاں ہیں۔

اگرچہ شهریار ایک گوشہ نشین اور تنہائی پسند شخصیت رکھتے تھے لیکن ان کے مختلف ادبی آثار اور ترکی اور فارسی زبانوں میں شاعری کی غیر معمولی صلاحیت نے انہیں معاصر فارسی شاعری میں ایک معروف اور معتبر مقام عطا کیا۔

استاد شهریار کا انتقال

استاد شهریار کچھ عرصے سے پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور جب انہیں صحت یابی کی امید باقی نہ رہی تو انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر میری وفات کے بعد مجھے تہران میں دفن کرنا چاہیں تو حضرت عبدالعظیم کے حرم کے قریب دفن کریں اور اگر میرے آبائی علاقے آذربائیجان میں دفن کرنا چاہیں تو مجھے حیدر بابا پہاڑ کے دامن میں یا تبریز کے مقبرۃ الشعراء میں سپرد خاک کریں۔

استاد شهریار بیس آذر 1366 کو طویل علالت کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔ بیماری کے علاج اور مسلسل طبی نگہداشت کے باوجود یہ محبوب شاعر ہفتہ کے روز 26 شہریور 1367 شمسی کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ محمد حسین بہجت کو 27 شہریور کو تبریز شہر کے مقبرۃ الشعراء میں ان کے ابدی گھر میں آسودہ خاک کیا گیا۔

محمد حسین شهریار کا مزار

محمد حسین شهریار کا مزار تبریز کے مقبرۃ الشعراء کی یادگاری عمارت میں واقع ہے جو سرخاب کے علاقے میں ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے یہ مقام دیگر شعرا کی تدفین کے لیے بھی معروف ہے جن میں حکیم اسدی طوسی، نظامی گنجوی، خاقانی شروانی، ظہیر الدین فارابی، قطران تبریزی اور دیگر شعرا شامل ہیں۔

اس آٹھ سو سال قدیم قبرستان میں چار سو سے زیادہ شاعر، عارف اور ادیب مدفون ہیں لیکن شهریار کی قبر کو سنگ مرمر کے ایک مخصوص ٹکڑے سے نمایاں کیا گیا ہے۔ اس سنگ مرمر پر استاد شهریار کی ترکی زبان میں کہی گئی ایک نظم کا شعر کندہ ہے۔

آخری بات

ہر سال 27 شہریور کو استاد شهریار کی برسی کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اس دن کو فارسی شعر و ادب کا دن قرار دیا گیا ہے۔ مناسب ہے کہ ایران کے عظیم شعرا خصوصاً استاد محمد حسین شهریار کی زندگی، ادبی اسلوب اور طرز زندگی سے آگاہی حاصل کرکے اسے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں اور ایرانی ثقافت اور ادب کو زندہ رکھیں[1]۔

شہید آیت اللہ خامنہ ای نے شهریار سے ملاقات کے لیے جو شرط رکھی تھی

رہبر شہید نے اپنے دور صدارت میں تبریز کے سفر کے دوران استاد شهریار سے ملاقات کے لیے ایک خصوصی شرط رکھی تھی۔

میں شهریار کے نام اور ان کی شاعری سے کیسے آشنا ہوا

میں شهریار کے نام اور ان کی شاعری سے کیسے آشنا ہوا۔ ایک مذہبی ذاکر یعنی ایک روضہ خواں جس کی آواز بہت خوبصورت تھی ایک مجلس میں نہایت خوبصورت انداز میں علی اے ہمای رحمت نامی شعر پڑھ رہا تھا۔

اس مجلس میں موجود ہر شخص جو زیادہ بڑی مجلس بھی نہیں تھی اس شعر کے شاعر کے بارے میں متوجہ ہوگیا کہ یہ شعر کس کا ہے۔ ہم نے امیرالمؤمنین کی مدح میں اور مختلف شعر پڑھنے والوں کی زبان سے بہت سے اشعار سنے تھے لیکن اس شعر کا انداز اور کیفیت بالکل مختلف تھی۔ اس سے پہلے ہم نے امیرالمؤمنین کے بارے میں اس طرح کا شعر نہیں سنا تھا۔ اس کے الفاظ بھی بہت خوبصورت تھے:

علی ای همای رحمت تو چه آیتی خدا را

که به ماسوا فکندی همه‌ی سایه‌ی هما را

یہ الفاظ نہایت شیریں رواں اور ذہن کو متاثر کرنے والے ہیں اور اس کے مضامین بھی نئے اور منفرد تھے۔

به جزء از علی که گوید به پسر که قاتل من‌

چو اسیر توست اکنون به اسیر کن مدارا

به خدا که در دو عالم اثر از فنا نماند

چو علی گرفته باشد سرِ چشمه‌ی بقا را

سوائے علی کے کون اپنے بیٹے سے کہہ سکتا ہے کہ میرا قاتل جب اس وقت تیرے قید میں ہے تو اس قیدی کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا

خدا کی قسم دونوں جہانوں میں فنا کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا جب علی سرچشمہ بقائے حیات کو اپنے قبضے میں لے لیتے ہیں

بتایا گیا کہ یہ شعر شهریار نامی شاعر کا ہے۔ یعنی میں تقریباً چودہ یا پندرہ سال کی عمر میں شهریار کے نام سے آشنا ہوا اور پھر میں نے شهریار کا دیوان تلاش کیا۔ آستان قدس کی لائبریری میں ان کا دیوان موجود تھا جو ابھی نیا شائع ہوا تھا۔

میرے خیال میں وہ تین یا چار جلدوں پر مشتمل تھا۔ میں نے اس میں یہ شعر تلاش کیا اور پھر ان کی دوسری شاعری سے بھی آشنا ہوا

آذربائیجان کے معروف شعرا اور مداحوں میں سے محسن عسکری نے تبریز میں صدارتی دور کے دوران استاد شهریار اور انقلاب کے رہنما کی ملاقات کے بارے میں روایت بیان کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبر معظم انقلاب شہید آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے دور صدارت میں تبریز کا سفر کیا تھا اور ان کا پروگرام بہت مصروف تھا۔

شعرا کے لیے ایک شعری نشست کا اہتمام کیا گیا تھا اور یہ ان کی انتہائی مہربانی تھی کہ مداحوں اور شعرا کو بھی اس میں شرکت کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے شرط رکھی تھی اگرچہ ہمیں بعد میں ان کی شرط کا مقصد سمجھ آیا کہ ایک مجلس منعقد کی جائے شعرا کو دعوت دی جائے اور ضروری ہے کہ استاد شهریار بھی موجود ہوں۔

انہوں نے کہا تھا کہ میری مجلس میں آمد استاد شهریار سے پہلے ہو اور پروگرام اس طرح ترتیب دیا جائے کہ استاد شهریار میرے بعد مجلس میں داخل ہوں مجھے اس مجلس میں موجود ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ سب سے پہلے حضرت آقا تشریف لائے اور ہمارے لیے باعث افتخار ہوا کہ وہ تشریف فرما ہوئے اور ہم بیٹھ گئے۔

اعلان کیا گیا کہ حضرت آقا کی آمد کے پانچ یا چھ منٹ بعد استاد شهریار بھی تشریف لا رہے ہیں اور لوگ انہیں لینے گئے تھے۔ جب حضرت آقا کو معلوم ہوا کہ استاد شهریار مجلس میں پہنچ گئے ہیں تو وہ نہایت بزرگواری کے ساتھ کھڑے ہوئے اور دروازے کی طرف گئے اور شهریار کا استقبال کیا

اسی وقت ہمیں معلوم ہوا کہ حضرت آقا نے ایسی شرط کیوں رکھی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ شهریار ان کے احترام میں کھڑے نہ ہو بلکہ آپ ان کے استقبال کے لیے تشریف لے جائیں۔

استاد سے پہلی ملاقات کے موقع پر سلام اور مصافحہ کے بعد حضرت آقا نے جو عین الفاظ فرمائے وہ یہ تھے کہ میری زندگی کی آرزوؤں میں سے ایک آپ کی زیارت تھی اور الحمدللہ آج رات یہ سعادت حاصل ہوگئی

اس کے بعد انہوں نے انتہائی احترام کے ساتھ استاد شهریار کو اپنے برابر بٹھایا اور شعر خوانی کا آغاز ہوا۔

وہ شعر جو شهریار نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان میں پڑھا

عسکری مزید بیان کرتے ہیں کہ آخر میں شهریار سے پوچھا گیا کہ ہم نے امیرالمؤمنین علیہ السلام، سیدالشہداء علیہ السلام اور آقا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے لیے آپ کے اشعار دیکھے ہیں۔ ہماری والدہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے آپ نے کچھ نہیں لکھا۔ ہمیں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے آپ کا کوئی شعر نظر نہیں آیا

استاد نے فرمایا کہ کیوں نہیں، حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے لیے میرے پاس ایک شعر ہے۔ اسی روز انہوں نے حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی خدمت میں اپنا یہ شعر پڑھا

ماه آن شب خموش و سرگردان

روی صحرا و دشت می‌تابید

رنگ غم، رنگ حزن‌پرور ماه

همه‌جا را نموده بود سپید

دانه‌دانه ستاره بر رخ چرخ

همچو اشک یتیم می‌لرزید

خواب گسترده بود خاموشی

بر جهان پرده فراموشی

مرغ شب آرمیده بود آرام

چشم ایام رفته بود به خواب

سایه نخل‌ها به چهره نور

از سیاهی کشیده بود حجاب

باد در جست‌وجوی گمشده‌ای

چرخ می‌زد چو عاشقی بی‌تاب

غرق شهر مدینه سرتاسر

در سکوتی عمیق و رعب‌آور

می‌کشید انتظار خاک آن شب

مقدم تازه میهمانی را

می‌ربود از کف گران‌مردی

آسمان، همسر جوانی را

آتش مرگ مادری می‌سوخت

دل اطفال خسته‌جانی را

مردم آرام، لیک آهسته

نوحه‌گر چهار طفل دلخسته

بر سر دوش جسم بی‌جانی

حمل می‌شد به نقطه‌ای مرموز

همه خواهان به دل درازی شب

گرچه شب بود تلخ و طاقت‌سوز

تا مگر راز شب نگردد فاش

نبرد پی به راز شب دل روز

راز شب بود پیکر زهرا

که شب آغوش خاک گشتش جا

راز شب بود بانویی معصوم

که چو او مردی از زمانه نزاد

هجده‌ساله بانویی پرشور

که سیه کرد چهره بیداد

بانویی که از سخن به محضر عام

ریخت آتش به جان استبداد

بانویی شیردل، دلیر و شجاع

که نمود از حقوق خویش دفاع

گرچه زن بود، لیک مردانه

از قیام آتشی عظیم افروخت

شعله‌ای برکشید از ته دل

که سیاه خرمن ستم را سوخت

درس احقاق حق و دفع ستم

به جهان و جهانیان آموخت.

حیدر بابایہ سلام شعر حکمت اور منظر نگاری کا حسین امتزاج

شہید امت نے شهریار کی حیدر بابایہ سلام کی ادبی خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حیدر بابایہ سلام ایک غیر معمولی نظم ہے۔ شهریار کی شاعری کی تمام مثبت خصوصیات اس شعر میں موجود ہیں یعنی روانی، صفائی، ذوق اور شاعری سے متعلق دوسری تمام خصوصیات حیدر بابایہ سلام میں جمع ہوگئی ہیں۔

لیکن ان خصوصیات کے علاوہ حیدر بابایہ سلام میں ایک اور خصوصیت بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس شعر میں جو خود شاعر کے ذہنی پس منظر کی ایک تصویر پیش کرتا ہے بہت سے حکمت آموز مطالب موجود ہیں۔

اس لحاظ سے شهریار کو ایک حکیم بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ ہماری نظر میں حیدر بابایہ سلام کی شعری حیثیت بہت بلند ہے۔ ہمارے خیال میں یہ شعر اور حکمت اور خوبصورت زبان اور غیر معمولی قوت تصویر کا نہایت فنکارانہ امتزاج ہے۔

شهریار نے یہ منظومہ اس وقت کہا جب وہ بہت جوان تھے۔ انہوں نے خود اس نسخے میں جو میرے لیے بھیجا تھا پہلے صفحے کے اوپر لکھا ہے کہ میرا خیال ہے کہ میں نے اسے 1324 شمسی میں لکھا تھا۔ اور اس سال شهریار ابھی بہت جوان تھے۔

وہ غزل جو شہید امام کے ذہن میں شهریار کی تھی

انقلاب کے شہید رہنما نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے شهریار کی ایک غزل کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اب میں مجلس کی شیرینی کے طور پر یہ شعر پیش کرتا ہوں۔ شهریار کی یہ غزل میرے ذہن میں ہے جس میں وہ کہتے ہیں۔

در وصل هم ز شوق تو ای گل در آتشم

عاشق نمی‌شوی که ببینی چه می‌کشم

وصال میں بھی اے پھول تیری چاہت کے شوق میں جل رہا ہوں

عاشق نہیں بنتے تاکہ دیکھو کہ میں کیا کچھ سہہ رہا ہوں

دیکھیے یہ شعر حقیقت میں فارسی کے اعلی ترین اشعار میں شمار ہوتا ہے۔

با عقل، آب عشق به یک جو نمی‌رود

بیچاره من که ساخته از آب و آتشم

عقل کے ساتھ عشق کا پانی ایک ندی میں نہیں بہتا

بدقسمت ہوں میں کہ پانی اور آگ سے بنا ہوں

شهریار عرفان اور روحانیت کے راستے کا شاعر

سید علی خامنہ ای نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں شهریار کی شخصیت کے روحانی پہلو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ شهریار کے بارے میں ایک بنیادی نکتہ یہ بھی ہے کہ اگر ہم اس پر توجہ دیں تو میرے خیال میں یہ مناسب ہے۔

وہ نکتہ یہ ہے کہ شهریار نے اپنی زندگی کے ایک اہم دور میں یعنی اپنی زندگی کے تقریباً آخری تیس سالوں میں ایک نہایت خوبصورت عرفانی اور روحانی دور گزارا اور قرآن سے انس اور روحانی امور سے وابستگی اور خود سازی میں مشغول رہے۔

شهریار کی زندگی سے متعلق روایات میں ان کی ادبی صلاحیتوں کے ساتھ ان کی روحانی اور دینی شخصیت کا یہ پہلو بھی ان کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتا ہے اور انقلاب کے رہنما کی نظر میں بھی اس پہلو پر خصوصی زور دیا گیا ہے[2]۔

حوالہ جات

  1. ناہید حیدری، زندگینامه استاد حسین شهریار شاعر، از تولد، عاشقی تا مرگ-شائع شدہ از:20 شهریور 1400ش -اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 ستمبر 2026ء
  2. شرطی که شهید آیت‌الله خامنه‌ای برای دیدار با شهریار گذاشتند-شائع شدہ از: 27 شہریور 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 ستمبر 2026ء