مندرجات کا رخ کریں

سنن ابی داؤد(کتاب)

ویکی‌وحدت سے
سنن ابی‌داود
نامسنن ابی‌داود
مؤلفین/ مصنفینابوداود سلیمان بن اشعث سجستانی
زبانعربی
موضوعاتحدیث

سنن ابی داؤد، اہلِ سنت کی حدیث کی کتابوں میں سے ایک اہم کتاب ہے، جو صحاحِ ستہ اور سننِ اربعہ میں شامل ہے۔ اس کتاب کے مؤلف ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی ہیں۔ اسے حدیث کے مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب اہلِ سنت کے نزدیک حدیث کے اہم مصادر میں سے ہے اور ان کے مذہبی ذخیرۂ حدیث میں اسے نمایاں مقام حاصل ہے۔

مقام اور درجہ بندی

یہ کتاب اہلِ سنت کے ہاں صحاحِ ستہ اور سننِ اربعہ کے مجموعوں کا حصہ ہے اور ان کی بنیادی حدیثی کتابوں میں شمار ہوتی ہے۔ تحقیقی منابع کے مطابق، اہلِ سنت کی چھ مشہور حدیثی کتابوں میں سنن ابی داؤد کو اہمیت کے اعتبار سے تیسرا مقام حاصل ہے اور یہ دو دیگر کتابوں کے بعد آتی ہے۔ یہ مقام حدیث کی چھ معروف کتابوں میں اس کتاب کی خصوصی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے [1][2]۔

علمی مراکز کی جانب سے سنن ابی داؤد سمیت حدیث کی چھ کتابوں پر ازسرِنو تحقیق کرنے کی تجاویز بھی پیش کی گئی ہیں۔ اس تجویز کا مقصد یہ ہے کہ ان کتابوں کی تحقیق انفرادی کوششوں کے بجائے سرکاری سطح پر علمی و تحقیقی منصوبوں کے ذریعے کی جائے، تاکہ اہلِ سنت کی بنیادی حدیثی کتابوں کا زیادہ دقیق اور جامع جائزہ لیا جا سکے

مؤلف اور تاریخی پس منظر

اس کتاب کے اصل مؤلف ابو داؤد سلیمان بن اشعث سجستانی ہیں، جن کا انتقال سنہ ۲۷۵ ہجری قمری میں ہوا۔ کتبِ رجال اور کتاب شناسی کے متعدد منابع میں انہیں اس کتاب کا مؤلف قرار دیا گیا ہے اور یہ کتاب انہی کے نام سے مشہور ہے۔ بعض ڈیجیٹل نسخوں یا تحقیقی ایڈیشنوں میں اصل مؤلف کے ساتھ محققین کے نام بھی درج ہوتے ہیں، تاہم کتاب کی بنیادی نسبت ابو داؤد سجستانی ہی کی طرف ہے [3].

کتاب کی ساخت اور منہجِ تحقیق

اس کتاب میں احادیث کی علل و خامیوں کی وضاحت اور ان کے تجزیے کا ایک مخصوص طریقۂ کار اختیار کیا گیا ہے۔ امام ابو داؤد نے اس کتاب میں احادیث کو بیان کرنے اور ان پر تنقیدی نظر ڈالنے کے لیے ایک خاص منہج اپنایا ہے۔ امام ابو داؤد سجستانی کے طریقۂ تحقیق پر ہونے والی علمی تحقیقات میں اس خصوصیت کو خاص توجہ دی گئی ہے۔ یہ اسلوب اور ساخت سنن ابی داؤد کو حدیث کے دیگر مجموعوں سے ممتاز بناتے ہیں۔

اہمیت اور علمی مراجع

سنن ابی داؤد اہلِ سنت کے نزدیک حدیث کے اہم ترین اور بنیادی مصادر میں سے ایک ہے۔ اسے ان کی حدیثی روایت کی بنیادی کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کی علمی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ حدیث کی چھ مشہور کتابوں پر ازسرِنو تحقیق کی تجاویز میں اس کا خصوصی ذکر کیا جاتا ہے۔ متعدد تحقیقی منابع میں اس کتاب کے مقام، اس میں روایات کی قبولیت کے اصول اور حدیث بیان کرنے کے منہج کا جائزہ لیا گیا ہے [4][5][6].

بیرونی روابط

حوالہ جات