سلطان قابوس
| سلطان قابوس | |
|---|---|
| دوسرے نام | قابوس بن سعید بن تیمور البوسعید |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1940ء |
| پیدائش کی جگہ | عمان |
| وفات | 2020 ء |
| مذہب | اسلام، خوارج |
| مناصب | تحریک جعفریہ پاکستان کے 1991سے لیکر1995تک مرکزی جنرل سیکرٹری |
قابوس بن سعید بن تیمور البوسعید 18 نومبر 1940ء کو ملک عمان کے شہر صلالہ میں پیدا ہوئے، ان کا سرکاری لقب عربی میں جلالة السلطان المعظم قابوس بن سعید آل سعید (بمعنی: اعلیٰ حضرت سلطان بزرگ قابوس فرزند سعید از خاندان سعید) تھا۔ شاہی خاندان آل بو سعید کی بنیاد سن 1741ء میں امام احمد بن سعید نے رکھی تھی۔ امام احمد بن سعید کو عمانیوں کے ہاں خاص مقام حاصل ہے؛ کیونکہ انہوں نے ایک سلسلہ طویل جنگوں کے بعد، باغیوں پر غلبہ پا کر پورے ملک عمان میں امن و امان قائم کیا تھا۔
تعلیم
سلطان قابوس نے تعلیم کے ابتدائی مراحل اور بچپن اپنے آبائی شہر صلالہ میں گزارا اور پھر 16 سال کی عمر میں اپنے والد سلطان سعید بن تیمور کے حکم پر برطانیہ بھیج دیے گئے۔
انہوں نے دو سال تک رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ میں تعلیم حاصل کی۔ پھر ایک سال برطانوی فوج میں شمولیت کے بعد جرمنی میں گزارا۔ قابوس کی تعلیم کا سلسلہ انگلستان میں ایک سالہ پرائیویٹ ٹیوشن کورس مکمل کرنے کے بعد پورا ہوا اور وہ 1964ء کے آخر میں عمان واپس آ گئے۔
قابوس بن سعید نے سن 1349 (1970ء) میں اپنے والد سلطان سعید بن تیمور آل بو سعید کو ایک پرسکون اور خون ریزی کے بغیر فوجی بغاوت میں ہٹا دیا اور انہیں جلاوطن کرنے کے بعد؛ وہ اپنے والد کی جگہ تخت نشین ہوئے اور لقب سلطان قابوس بن سعید؛ سلطان عمان اختیار کیا۔
وہ اقتدار میں آتے ہی صلالہ سے مسقط منتقل ہو گئے۔ سلطان قابوس کے والد بھی 1972ء میں انتقال کر گئے۔ سلطان قابوس بن سعید نے اپنی زندگی میں کبھی شادی نہیں کی اور نہ ہی ان کی کوئی اولاد تھی۔
دور حکومت
سلطان قابوس نے ملک عمان کو، جو ان کے دور حکومت کے آغاز میں انتہائی پسماندہ اور دنیا سے کٹا ہوا تھا، معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔ انہوں نے تیل اور سیاحت کی آمدنی سے حاصل ہونے والے زرمبادلہ کے ذخائر کا استعمال کرتے ہوئے بنیادی ڈھانچے تعمیر کیے اور رہائش، اسکول اور بندرگاہیں بنوائیں۔
خود بھی ان ذرائع سے عظیم ذاتی دولت جمع کی، اتنی کہ مغربی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق، وہ دنیا کے دس امیر ترین بادشاہوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ اپنے لوگوں میں سب سے مقبول بادشاہوں میں سے ایک تھے۔
عمان میں طبقاتی اور سماجی تفاوت بہت سے عرب ممالک کے مقابلے میں کم ہے اور جدید سازی کا عمل شدید سماجی محرومیوں اور نقصانات کے ساتھ نہیں ہوا۔ عمان کے تعلیمی نظام کی جدید سازی نے قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اس ملک میں 26 لاکھ افراد (19 لاکھ مقامی اور 7 لاکھ غیر ملکی) کے لیے تعلیم تک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔
حکومت ہر سال اپنے بجٹ کا ایک چوتھائی تعلیمی امور پر خرچ کرتی ہے۔ قانونی طور پر مرد و زن کی مساوات کے معاملے میں بھی عمان خطے کے تمام عرب ممالک سے آگے ہے۔
سیاسی اور سماجی سرگرمیاں
مجموعی طور پر سلطان قابوس نے سماجی اور سیاسی میدان میں محافظانہ اصلاحات کے ساتھ استحکام کی پالیسی اپنائی اور اپنی مطلق العنانی کے باوجود عمان کے محافظانہ معاشرے میں یہاں وہاں پیدا ہونے والے محدود مطالبات کے ساتھ ہم آہنگی اور ساتھ دکھایا تاکہ ملک اور تخت و تاج بحران کا شکار نہ ہو۔
یہی رویہ عرب بہار کے دوران جس کے نتیجے میں عمان کے اندر بھی محدود کشیدگی پیدا ہوئی، کی وجہ سے یہ ملک مجموعی طور پر محدود اثرات اور نتائج کے ساتھ اس بحران سے گزر گیا۔
معاشی حالت کی بہتری اور سرکاری نوکریاں پیدا کرنے کے سلطان قابوس کے زیادہ تر وعدے عملی جامہ پہن چکے ہیں، لیکن مطلق العنان بادشاہت کو آئینی بادشاہت میں تبدیل کرنے کا وعدہ کم و بیش کاغذوں تک محدود رہا ہے۔ درحقیقت عرب بہار کے دیگر ممالک میں منفی تبدیلیاں اور عمان میں مخالفین کی معمولی طاقت کی وجہ سے یاد کردہ اصلاحات زیادہ پیروی نہ کی جا سکیں۔
یہ اس صورت حال میں ہے کہ انتظامی کرپشن اور ملک کی دولت کا بادشاہ کے قریبی لوگوں کے پاس جمع ہونے سے عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ 2014ء کی گرمیوں میں حکومت کی جانب سے 70 اشیاء کی سبسڈی ختم کرنے اور ان کی قیمتوں میں اضافے کے اقدام کا بھی عوام پر کوئی مثبت اثر نہیں ہوا۔
ایران کی پہلوی سلطنت (امریکہ اور برطانیہ کے بعد) خطے کا پہلا ملک تھا جس نے 1970ء میں اپنے والد کے خلاف بغاوت کے بعد سلطان قابوس کی حکومت کو تسلیم کیا۔ ایک سال بعد، سلطان قابوس بن سعید آل سعید نے ایران کے اپنے پہلے دورے میں تخت جمشید میں ایران کی شاہنشاہیت کی 2500 سالہ تقریبات کے خاص مہمانوں کی صف میں شرکت کی۔
ظفار بغاوت میں ظفار کے بائیں بازو کے نیم فوجی گروہوں سے براہ راست مقابلے اور عمان کی فوجی طاقتوں کی حمایت کا اہم کردار ایران کی فوجی طاقتوں کا تھا، جس کی وجہ سے ظفار میں شاہنشاہی ایران کی فوج کی فوجی کارروائی کے نتیجے میں، ایران 1975ء میں معاملات کی باگ ڈور سلطان قابوس کو واپس کرنے میں کامیاب ہو گیا۔
اس وقت سے اب تک کچھ عرب تجزیہ نگاروں کے خیال میں، سلطان قابوس اپنی حکومت کا قرض ان ایرانیوں کا مانتے ہیں جنہوں نے مشکل دنوں میں ان کی مدد کی۔
انقلاب کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات
انقلاب اسلامی ایران|ایران کے 1979ء کے انقلاب]] کے بعد کے پہلے تین دہائیوں میں وہ کبھی تہران نہیں گئے۔ تاہم، خارجہ پالیسی میں ان کے محافظہ کارانہ رجحان کی وجہ سے وہ 2009ء کے صدارتی انتخابات کے دوران ایران کے پہلے دورے کی دعوت منسوخ نہیں کی اور انتخابات کے نتائج کے خلاف احتجاج کے شدت کے دوران تہران تشریف لے گئے۔
قابوس کا تہران کا تیسرا سفر ستمبر 2013ء میں اور حسن روحانی کی صدارت کے آغاز کے کچھ ہی عرصے بعد ہوا۔
انجام کار
2014ء کی گرمیوں اور جرمنی میں قابوس کے قیام میں اضافے اور عید قرباں کے موقع پر بھی مسقط میں ان کی غیر موجودگی کے بعد، ان کی بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا ہونے کی وجہ سے موت کے قریب ہونے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں۔
ان کا کوئی بیٹا یا بھائی نہیں تھا جو ان کا جانشین بن سکتا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک غیر اعلان شدہ معاہدہ موجود ہے کہ کوئی سلطان کی جانشینی کے بارے میں بات نہ کرے، کیونکہ جب بھی اس پر بات ہوتی ہے، فوراً تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے اور اقتدار کی کشمکش شروع ہو جاتی ہے۔
قابوس نے عرب ممالک کے دیگر حکمرانوں کے مقابلے میں سب سے طویل دورِ حکومت کا ریکارڈ قائم کیا۔ بالآخر سلطان قابوس بن سعید، عمان کے بادشاہ، 10 جنوری 2020ء کو 79 سال کی عمر میں انتقال کر گئے اور ان کے چچا زاد بھائی کے نام سے "ہیثم بن طارق آل سعید" کو عمان کا نیا بادشاہ منتخب کیا گیا۔
حوالہ جات
ماخوذ از خبر ایجنسی میزان۔