Jump to content

"محمد بن علی بن موسی" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 9: سطر 9:


بعض روایات کے مطابق جواد الائمہ کی ولادت سے پہلے بعض وقوفیوں نے کہا تھا کہ علی بن موسیٰ امام کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ چنانچہ جب جواد الامام کی ولادت ہوئی تو امام رضا علیہ السلام نے انہیں شیعوں کے لیے مبارک ولادت قرار دیا۔ تاہم، آپ کی ولادت کے بعد بھی، بعض وقفوں نے امام رضا علیہ السلام کی طرف ان کی انتساب کا انکار کیا۔ وہ کہتے تھے کہ جواد علیہ السلام چہرے کے لحاظ سے اپنے والد سے مشابہت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ وہ چہرے کے ماہرین کو لے آئے اور وہ امام جواد علیہ السلام کو امام رضا علیہ السلام کا بیٹا سمجھتے تھے۔
بعض روایات کے مطابق جواد الائمہ کی ولادت سے پہلے بعض وقوفیوں نے کہا تھا کہ علی بن موسیٰ امام کیسے ہوسکتے ہیں جب کہ ان کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ چنانچہ جب جواد الامام کی ولادت ہوئی تو امام رضا علیہ السلام نے انہیں شیعوں کے لیے مبارک ولادت قرار دیا۔ تاہم، آپ کی ولادت کے بعد بھی، بعض وقفوں نے امام رضا علیہ السلام کی طرف ان کی انتساب کا انکار کیا۔ وہ کہتے تھے کہ جواد علیہ السلام چہرے کے لحاظ سے اپنے والد سے مشابہت نہیں رکھتے، یہاں تک کہ وہ چہرے کے ماہرین کو لے آئے اور وہ امام جواد علیہ السلام کو امام رضا علیہ السلام کا بیٹا سمجھتے تھے۔
== ازواج ==
امام محمد تقی کی شادی مامون عباسی کی بیٹی ام فضل سے سنہ 202 ھ یا سنہ 205 ھ میں ہوئی۔ بعض مآخذ کے مطابق احتمالا امام رضاؑ کے سکونتِ خراسان کے دوران ایک بار آپؑ نے ان سے ملنے کی غرض سے خراسان کا سفر کیا تھا۔ اسی وقت مامون نے اپنی بیٹی کا نکاح آپؑ سے کیا۔ اہل سنت مورخ ابن کثیر کے مطابق امام محمد تقی کے ساتھ مامون کی بیٹی کا خطبۂ نکاح 8 سال سے بھی کم عمر میں حضرت امام رضاؑ کی حیات میں پڑھا گیا تھا لیکن شادی اور رخصتی سنہ 215 ہجری میں تکریت میں ہوئی  <ref>مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷۳؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۹۱</ref>.
یہ شادی مامون کی درخواست پر ہوئی۔ مامون کا مقصد یہ تھا کہ ان سے پیدا ہونے والا بچہ پیغمبر اکرم (ص) و امام علی کی نسل سے ہو۔ کتاب الاشاد میں شیخ مفید کے نقل کے مطابق، مامون نے امام محمد تقی کی علمی شخصیت و اپنے شوق کی وجہ سے اپنی بیٹی کا عقد امام سے کیا۔  البتہ بعض محققین کا ماننا ہے کہ اس شادی کا مقصد سیاسی تھا، منجملہ ایک مقصد یہ تھا کہ وہ چاہتا تھا کہ اس کے ذریعہ امام (ع) اور شیعوں سے ان کے رابطے کو کنٹرول کرے۔ یا خود کو علویوں کا چاہنے والا پیش کرے اور انہیں اپنے خلاف قیام سے روک سکے۔ مامون کے قریبی بعض عباسیوں نے اس شادی کے خلاف اعتراض کیا انہیں ایسا لگا کہ کہیں ایسا نہ ہو حکومت عباسیوں کے ہاتھ سے نکل کر علویوں کے ہاتھ میں نہ چلی جائے۔ امامؑ نے اس کے لئے حضرت زہراءؑ کا مہر یعنی 500 درہم قرار دے کر اس رشتے کو منظور کیا۔ اس شادی سے امامؑ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی<ref>یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۴۵۵</ref>.
آپؑ کی دوسری زوجہ سمانہ مغربیہ تھیں۔ وہ ایک کینز تھیں جنہیں خود امام کے حکم سے خریدا گیا تھا۔ امام کی تمام اولاد کی والدہ یہی زوجہ ہیں۔
== حواله جات ==
== حواله جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
[[fa:امام جواد علیه السلام]]
[[fa:امام جواد علیه السلام]]
[[زمرہ: شیعہ آئمہ]]
[[زمرہ: شیعہ آئمہ]]