جولانی کا ارتداد اور کفر اور شام میں نظریاتی زلزلہ (تجزیہ)

"جولانی کا ارتداد اور کفر اور شام میں نظریاتی زلزلہ "یہ ابومحمد المقدسی کے ایک بیان کا تجزیہ ہے جو القاعدہ کے فکری رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔ ابومحمد المقدسی کا بیان ایک نظریاتی بم دهماکہ ہے، جو نہ صرف شام میں امریکی-صیہونی-جولانی منصوبے کو تباہ کر سکتا ہے، بلکہ اس ملک کا مستقبل القاعدہ اور داعش سے منسلک تکفیری گروہوں کے درمیان ایک نئی خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گا۔ آج سے شام کا مستقبل دو خونی آپشنز کے درمیان معلق ہے: یا تو ابومحمد جولانی اپنے مخالفین کا بڑے پیمانے پر قتل عام کرے گا، یا جولانی کی خود ساختہ حکومت کے خلاف ادلب سے القاعدہ کے حامی گروہ اٹھ کھڑے ہوں گے جو جولانی کو گرانے کے لیے اس خطے کو جہنم میں بدلنے پر تیار ہیں۔
ابو محمد مقدّسی کے بیان کی تصاویر



نظریه سازوں کا شامل هونا
ہانی السباعی اور طارق عبدالحلیم جیسے سلفی-تکفیری نظریاتی ماہرین کا المقدسی کے بیان میں شامل ہونا نظریاتی تقسیم کو ایک مکمل جنگ میں بدل دے گا۔ ابو محمود فلسطینی (ابو قتادہ کے بیٹے اور جولانی کے حامی) نے اس بیان کو "خون کا فتویٰ" قرار دیا اور خبردار کیا: "کل سے بہنے والے ہر قطرہ خون کا بوجھ المقدسی اور اس کے حامیوں پر ہو گا!" اس کا مطلب ہے کہ پورے شام میں خانہ جنگی کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
سیکولر قوانین کی بنیاد پر حکومت
جولانی کو "سیکولر قوانین کی بنیاد پر حکومت" کرنے کی وجہ سے واضح طور پر کافر قرار دینا، خفیہ تکفیری گروہوں کے لیے ایک مہلک پیغام ہے کہ: جہادی پس منظر بھی تکفیر سے بچا نہیں سکتا! المقدسی کی ہوشیار تقسیم (عام سپاہیوں کو مستثنیٰ قرار دینا اور جولانی کے قوانین کے حامیوں کو نشانہ بنانا) تحریر الشام میں ایک مہلک دراڑ پیدا کر دے گی۔ جولانی کے 24 ملین شامیوں میں سے 2 ملین حامیوں کی آبادی تیزی سے ختم ہو جائے گی۔
ممکنہ منظرنامہ
جیسے ہی کشیدگی میں اضافہ ہوگا، ادلب اور حلب میں المقدسی کے حامیوں اور ہیئت تحریر الشام کے درمیان مسلح تصادم ناگزیر ہوگا۔ کمانڈروں کے ٹارگٹڈ قتل سے تحریر الشام مفلوج ہو کر رہ جائے گی۔ داعش اور وہابی گروپ جیسے "سرایا انصار السنہ" اس موقع کو غیر مطمئن جنگجوؤں کو بھرتی کرنے کے لیے استعمال کریں گے اور یہ نعرہ لگائیں گے: "ہم نے آپ کو خبردار کیا تھا!" انتہا پسند اور اعتدال پسند طلبہ ، "شامی طالبان" کے نام سے، سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں کو مسلح کارروائیوں میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ کمانڈروں کا ترکی فرار ہونا ایک ممکنہ صورتحال ہے۔
فوجی مداخلت
مغربی ممالک اور ان کے حمایتی میڈیا (تناؤ شروع ہونے کی صورت میں) ممکن ہے تحریر الشام کو "دہشت گردی کا شکار" بنا کر پیش کریں اور ترکی پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی فوجی مداخلت میں اضافہ کرے۔ کیونکہ اردوان کسی بھی صورت میں جولانی سے اپنی حمایت کا ہاتھ نہیں ہٹائیں گے۔ المقدسی کا بیان ایک نظریاتی زلزلے کا آغاز ہے جو شام میں طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ یا تو جولانی مخالفین کا قتل عام کر کے اپنی طاقت برقرار رکھے گا، یا شام القاعدہ، داعش اور تحریر الشام کے درمیان ایک نئی جنگ کا مشاہدہ کرے گا۔ خون اور آگ کے ایک نئے باب کے لیے تیار رہیں۔[1]
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ مطالعات اخوان المسلمین( ایتا) تحریر: علی مقدس ( زبان فارسی) درج شده تاریخ: 31/جولائی/ 2025ء اخذ شده تاریخ: 10/ اگست/ 2025ء