جوزف حرب
| جوزف حرب | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | جوزف حرب |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1944 ء |
| پیدائش کی جگہ | جنوبی لبنان |
| اثرات | درخت اقاقیا، بادشاہِ نان و گل سرخ |
جوزف حرب لبنان کے ممتاز ترین مسیحی شعراء میں سے ایک ہیں جن کی شاعری نے لبنان کی سرحدوں کو عبور کر لی ہے۔
پیدائش
وہ 1944 میں جنوبی لبنان کے علاقے زہرانی کے گاؤں المماری میں ایک مسیحی باپ اور سنی ماں کے گھر پیدا ہوئے[1]، انہوں نے مدرسہ انتونی میں تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی آف لبنان سے عربی ادبیات اور قانون کی تعلیم حاصل کی، تعلیم مکمل کی اور ریڈیو لبنان میں ملازمت کی۔
کاوشیں
ان کی مشہور نظموں میں سے، جنہیں مشہور عرب گلوکاروں نے گایا ہے، درج ذیل ہیں: "لی بیروت" جو مطلع "لی بیروت من قلبی سلامٌ" سے شروع ہوتی ہے، "حبیتک نسیت النوم"، "لما على الباب"، "ورقه الاصفر"، "اسامینا"، "اسوارہ العروس"، "زعلی طول"، "بلیل و شتی"، "خلیک بالبیت"، "رح نبقی سوا"، "فیکم تنسو"، "البواب"، "یا قونة شعبیة"۔ انہوں نے 1998 سے 2002 تک "اتحاد مصنفین لبنان" کی صدارت کی اور کئی اعزازی ایوارڈز حاصل کیے، جن میں: عربی فکر فاؤنڈیشن کی طرف سے ادبی تخلیق کا ایوارڈ اور متحدہ عرب امارات میں لبنان کونسل آف کامرس کی طرف سے پہلا لبنانی ادبی ایوارڈ شامل ہیں۔ پھر انہوں نے ریڈیو لبنان میں 1966 سے کام شروع کیا، جب انہوں نے پروگرام "غروب آفتاب کے ساتھ" لکھا۔ انہوں نے پروگرام "صبح کے ساتھ" لکھا اور ٹیلی ویژن کے لیے کئی ڈرامے لکھے، جن میں: "آخری دن"، "سانس بیچو"، "عرب سعید"، "قریش"، "کڑے وقت کے ورق" اور "راکھ اور نمک" شامل ہیں۔
آثار و کتب
انہوں نے 1960 میں اپنی پہلی کتاب "معبدوں کی کنواریاں" شائع کی۔
ان کے کئی شعری مجموعے ہیں، جن میں شامل ہیں:
درخت اقاقیا
بادشاہِ نان و گل سرخ
حضرت امام حسینؑ سے محبت
انہوں نے 35 سال قبل ایام محرم میں ریڈیو لبنان کے لیے مصیبت نامہ رأس الحسینؑ لکھا تھا۔ اس نظم میں انہوں نے شاعرانہ، بہت بھاری اور خوبصورت نثر میں کربلا کی زمین پر سید الشہداءؑ کے مصیبے کا ذکر کیا ہے۔ یہ ٹکڑا یوں شروع ہوتا ہے:
«اے کربلا! پودوں کے ٹکڑے بکھیر دے اور پلیکان کے نرم پروں اور کبوتروں کے سفید بازوؤں سے کفن کا تانے بانے تیار کر اور پلکوں کو آنسوؤں کی گہرائی تک کھود کر گھر بنا۔ رات قریب آ گئی ہے اور حسینؑ کا پیکر یہ آسمانی جملہ فرشتوں کے دو ہلال بازوؤں کے درمیان پرسکون نیند کا خواہاں ہے۔»
جوزف حرب لکھتے ہیں: «مسیح کے سرِ دار اور حسینؑ کے سرِ کٹ شدہ کے درمیان ایسا تعلق ہے گویا دونوں ایک ہیں۔ یحییٰؑ کا سر طشت میں اور حسینؑ کا سر نیزے پر؛ صلیب پر تشنگی کا سرکہ اور عاشورا میں تشنگی کا نمک؛ حسینؑ کی زینبؑ اور عیسیٰؑ کی مریمؑ، اور جنہوں نے جلجتہ پر مسیحؑ کا لباس اتارا، وہی تھے جنہوں نے کربلا میں حسینؑ کی قمیض لوٹی۔ ہیرودس کی گندی ذات میں جو شہوت تھی، وہی یزید کی ذات میں ابل رہی تھی اور جس رقاصہ نے یحییٰؑ کا سر مانگا، وہی ریاست تھی جس نے حسینؑ کا سر کاٹنے کا حکم دیا۔ ریاست اور رقاصہ، ریاست کی رقاصہ، ریاست رقاص!»
اس شاعر نے اپنی ایک نظم کے حصے میں لکھا: «جناب والا! میری مسیحیت حسینؑ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی! اور ہر مذہب -چاہے آسمانی ہو یا غیر آسمانی- اگر اس میں حسینی مقام نہ ہو، تو وہ زمینی مذہب ہے جسے آسمانی بہشت سے کم نصیب ہے اور ہر حق کا انجام سرگشتگی اور گمراہی کے سوا کچھ نہیں مگر یہ کہ اس کا ذریعہ حسینی ہو، یعنی یا حق یا شہادت۔»
