انور العولقی
| انور العولقی | |
|---|---|
![]() | |
| دوسرے نام | ابراہیم حسین شاذلی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1971 ء |
| پیدائش کی جگہ | یمن |
| وفات | 2011ء |
| اساتذہ |
|
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | القاعدہ کے بااثر ارکان میں سے |
انور العولقی (انگریزی: Anwar al-Awlaki) (پیدائش: 22 اپریل 1971ء - وفات: 30 ستمبر 2011ء)[1] القاعدہ کے بااثر ارکان میں سے تھے جو امریکی اور یمنی دونوں نسلوں سے تعلق رکھتے تھے۔
پس منظر اور موت
بارک اوباما نے اپریل 2010ء میں انہیں ان افراد کی فہرست میں شامل کر لیا جنہیں دہشت گردانہ سرگرمیوں کی وجہ سے سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) ہلاک کرنے کا مجاز تھا۔ کسی امریکی شہری کا "ہدف بنا کر قتل" اس سے قبل کبھی نہیں ہوا تھا۔ وہ ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔ دو ہفتے بعد ان کا سولہ سالہ بیٹا عبدالرحمن العولقی، جو ڈینور میں پیدا ہونے والا امریکی شہری تھا، یمن میں سی آئی اے کے ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا[2].
نتائج
امریکہ کی جانب سے انور العولقی کے قتل نے امریکی حکام میں پوری دنیا میں امریکی شہریوں یا امریکی مفادات کے خلاف "امریکہ مخالف حملوں" کے خدشات کو بیدار کر دیا اور امریکہ نے اپنے شہریوں کو خبردار کیا[3].
