مندرجات کا رخ کریں

انقلابِ اسلامی ایران کی بقا کا راز (نوٹس اور تجزیے)

ویکی‌وحدت سے

انقلابِ اسلامی ایران کی بقا کا راز ایک ایسا عنوان ہے جو انقلابِ اسلامی ایران کی پائیداری، دوام اور استمرار کے رمز و راز پر روشنی ڈالتا ہے [1]. بقا کا راز خدا اور عوام کے درمیان اتحاد میں مضمر ہے۔ جب تک یہ اتحاد قائم رہے گا، یہ انقلاب باقی رہے گا۔ اس انقلاب کے شہداء اور وہ افراد جو اس کے اہداف کی تکمیل کے لیے جان نچھاور کرنے کے لیے آمادہ ہیں، اس انقلاب کے دوام کی ضمانت دے چکے ہیں۔ جب تک عوام اور خداوندِ متعال کے درمیان یہ معادلہ موجود ہے، یہ انقلاب جاری رہے گا۔ اس کے علاوہ کہ متعدد آیات اس مفہوم کی تائید کرتی ہیں، قرآنِ کریم نے اس معادلے کو ایک ایسی الٰہی سنت کے طور پر بیان کیا ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی یا انحراف ممکن نہیں۔

خدا کی نصرت

قرآنِ کریم متعدد آیات میں مؤمنین سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر تم خدا کی مدد کرو — یعنی ان احکام و نواہی پر عمل کرو جن کا خدا نے حکم دیا ہے — تو خداوند متعال بھی سازشوں اور مشکلات کے مقابلے میں تمہاری مدد کرے گا۔

بعض آیات میں فرمایا گیا ہے کہ اگر تم ایک قدم خدا کی طرف بڑھاؤ گے تو خدا دس قدم تمہاری طرف بڑھے گا۔ بعض دیگر آیات میں خداوند متعال ان مؤمن عوام سے، جو کلمۂ حق کو بلند کرنے اور کلمۂ باطل کو پست کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں، فرماتا ہے کہ میں تمہاری مدد قدرتی عوامل جیسے ہوا کے ذریعے اور معنوی عوامل جیسے فرشتوں کے ذریعے، اور ایک کلمے میں ایسے لشکروں کے ذریعے کروں گا جنہیں تم نہیں دیکھتے۔

جب مؤمنین کلمۂ حق کی سربلندی اور کلمۂ باطل کی سرنگونی کے لیے پختہ ارادے کے ساتھ میدان میں اترتے ہیں، راستے کی سختیوں اور مشکلات سے نہیں گھبراتے، اور خداوند متعال اپنی قطعی اور بار بار دہرائی گئی وعدوں کے مطابق ان کی مدد کرتا ہے۔

تو پھر حق کے محاذ کی باطل کے محاذ کے مقابلے میں شکست کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا، چاہے دشمن کی کثرتِ تعداد اور سازوسامان بعض لوگوں کو خوف زدہ کر دے اور غلط تجزیوں کی طرف لے جائے۔

یہاں خداوند متعال ایک ایسی سنت — ایک قطعی اور ناقابلِ تخلف فارمولا — کی طرف اشارہ فرماتا ہے:

﴿إِنْ يَنْصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ وَإِنْ يَخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِي يَنْصُرُكُمْ مِنْ بَعْدِهِ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ [2]۔

یعنی: اگر اللہ تمہاری مدد کرے تو کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا، اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرے؟ اور مؤمنوں کو چاہیے کہ صرف اللہ ہی پر توکل کریں۔

قرآنِ کریم کی متعدد آیات میں اس حقیقت کے اسباب بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً سورۂ فتح میں فرمایا گیا ہے:

﴿وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا﴾ [3]۔ یعنی: آسمانوں اور زمین کے تمام لشکر اللہ ہی کے ہیں، اور اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔

اب تصور کریں کہ اگر مؤمنین کی تعداد بہت کم ہی کیوں نہ ہو — لیکن وہ پُرعزم، تیار اور میدان میں موجود ہوں — اور دنیا بھر کے تمام افراد اپنی پوری قوت، سازوسامان اور وسائل کے ساتھ انہیں مٹانے کے لیے متحد ہو جائیں۔

تب بھی حق کے محاذ کی فتح اور باطل کے محاذ کی شکست قطعی ہے۔ یہ ایک ایسی الٰہی سنت ہے جس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں۔

تاریخی شواہد

ہمارے پاس بے شمار تاریخی شواہد اور مثالیں موجود ہیں۔ ہمیشہ انبیائے الٰہی کے گرد جمع ہونے والا گروہ تعداد میں کم رہا ہے، اس کے باوجود حالات کا رخ انہی کے حق میں رہا ہے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کے اصحاب جنگوں کے دوران عموماً دشمن کے مقابلے میں تعداد میں کم تھے، لیکن جب صبر اور جہاد ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے تو ہمیشہ کامیابی حاصل کی۔

جنگِ خندق میں شدید ترین مشکلات اور وسائل کی کمی کے باوجود، رسولِ اکرم نے نہ صرف کفار، مشرکین اور منافقین پر فتح کی بشارت دی جنہوں نے مؤمنین کو عسکری، اقتصادی اور سیاسی محاصرے میں لے رکھا تھا۔

بلکہ اُس وقت کی دو عظیم عالمی طاقتوں پر بھی غلبے کی نوید سنائی، اور دس سال سے بھی کم عرصے میں اس کا بڑا حصہ حاصل کر لیا گیا۔

قرآنِ کریم کی آیات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر مؤمنین کفار کے مقابلے میں کمزوری دکھائیں، دباؤ اور سازشوں کے سامنے استقامت کے بجائے درمیانی راستوں پر دل خوش کر لیں، اور لایزال الٰہی قدرت کے بجائے دشمن کی مادی طاقت سے مرعوب ہو جائیں۔

تو اسی نسبت سے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے گا، اور پھر دونوں کے درمیان معرکے کا فیصلہ عزم، قوت اور امکانات کی مقدار سے ہوگا۔ کفار کا مؤمنین اور دینِ خدا کے خلاف عزم و غصہ تو واضح ہے اور سب کو معلوم ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کا خیال

حالیہ دو روزہ ہنگاموں (18 اور 19 دی 1404ھ ش) کے دوران ہم نے دیکھا کہ امریکہ، جرمنی اور برطانیہ کے سربراہان نے علانیہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خاتمے کا اعلان کیا، اور بیانات، قراردادوں، ہنگامی اجلاسوں، وسیع نفسیاتی، ابلاغی اور سفارتی اقدامات کے ذریعے اس بڑی خواہش — جو درحقیقت ایک باطل خیال ہے — کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کی۔

یہ دشمن کے عزم کی علامت ہے۔ اب اگر مؤمنین کا محاذ خداوندِ قادر، قاہر، جبّار اور عزیز پر توکل ترک کر دے اور کمزوری یا سمجھوتے کا خیال دل میں لا بیٹھے تو اس معرکے کا انجام بالکل واضح ہو جائے گا۔

البتہ آج امتِ اسلام اور ملتِ ایران نہ تو ایک قلیل گروہ ہے اور نہ ہی کفر، شرک اور نفاق کے مقابلے میں کمزوری اور سمجھوتے کی فضا میں حرکت کر رہی ہے۔ مادی وسائل کے اعتبار سے بھی اس نے باطل کے محاذ کے ساتھ معرکے میں فتح کی کافی استعداد حاصل کر لی ہے۔

ہم نے دیکھا کہ بارہ روزہ جنگ میں ایران کے میزائلوں نے مغرب کے چھ تہوں پر مشتمل دفاعی نظام کو عبور کیا اور ان اہم ترین مقامات کو تباہ کر دیا جو جدید ترین دفاعی آلات کے ذریعے محفوظ کیے گئے تھے، اور دشمن کو اعتراف اور شدید خوف پر مجبور کر دیا۔

یہ کہنا بے جا نہیں کہ اگر دشمن کے پاس 22 خرداد کو وہ ذہنیت ہوتی جو 30 خرداد کو تھی، تو وہ ہرگز 23 خرداد اور اس کے بعد جنگ کا آغاز نہ کرتا۔ آج بھی معادلہ وہی ہے، اور ملتِ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ دشمن کے لیے سب سے مشکل اور پرخطر فیصلہ ہے۔

مؤمنین کی استقامت

آج انقلابِ اسلامی اور اس کے عزیز رہبر کو بغیر کسی شک کے عزم و ارادے سے بھرپور عوام اور خداوندِ قادر و قاہر کی نصرت حاصل ہے۔

رسولِ اکرم کے زمانے کے مسلمان ایک سے دو دہائیوں تک استقامت پر قائم رہے، عظیم محاذوں پر غلبہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، اور خدا نے انہیں ہر اُس چیز سے نجات دی جس کا انہیں خوف تھا۔

آج یہ ملت قریب پچاس سال سے استقامت کے ساتھ کھڑی ہے اور کہیں زیادہ پیچیدہ محاذوں پر غلبے کی مستحق بن چکی ہے، اور ہم نہ صرف اس کی نشانیاں بلکہ خود اس حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔

یہ کفر کے محاذ پر حتمی فتح کی صبح کا آغاز ہے۔ یہ ان لاکھوں عاشق دلوں کا نتیجہ ہے جو تاریخِ بشر میں ابھرے، اپنے الٰہی رہبر امام خمینی اور امام خامنہ‌ای کے گرد جمع ہوئے اور بغیر کسی خوف اور تزلزل کے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔

دشمن کا بن‌بست

دشمن ہر روز خود کو زیادہ تنگنائی میں محسوس کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں جب امریکہ کے صدر نے ایران کو فوجی حملے کی دھمکی دی تو خود امریکہ اور مغرب میں آوازیں بلند ہوئیں کہ ایسے میدان میں قدم نہ رکھا جائے جہاں سے ذلت کے ساتھ نکلنا پڑے۔

وال اسٹریٹ جرنل نے 13 بہمن کو ٹرمپ سے خطاب کرتے ہوئے لکھا کہ پینٹاگون شاید ایران پر محدود فضائی حملہ کر سکے، لیکن ایرانی جوابی کارروائیوں کا مقابلہ کرنے کی مکمل تیاری نہیں رکھتا۔

نیویارک ٹائمز نے 13 بہمن کو لکھا کہ ایران ایک ایسا دشمن ہے جو اسٹریٹجک گہرائی، علاقائی اثر و رسوخ اور جوابی ضرب کی صلاحیت رکھتا ہے، اور یہ امتزاج کسی محدود اقدام کو ناقابلِ کنٹرول بحران میں بدل سکتا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ نے 12 بہمن کو دو مغربی حکام کے حوالے سے لکھا کہ خلیجی عرب ممالک نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ تہران کا میزائل پروگرام خطے میں امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

نیشنل انٹرسٹ نے 12 بہمن کو لکھا کہ اگر امریکہ جنگ کا آغاز کرتا ہے تو ممکن ہے وہ اسے قابو میں نہ رکھ سکے؛ ایران نے پہلے ہی خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے سے پورا خطہ آگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ نیویارک ٹائمز نے 13 بہمن کو لکھا کہ ایران وسیع فوجی، تکنیکی اور علاقائی صلاحیتوں کا حامل ہے۔

یہ صلاحیت ایران کو اسرائیلی شہروں کو نشانہ بنانے اور مغربی ایشیا میں وسیع نفوذ کے قابل بناتی ہے، جس نے اسٹریٹجک معادلے کو بنیادی طور پر بدل دیا ہے۔ کونسل آن فارن ریلیشنز نے 14 بہمن کو اعلان کیا کہ تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کا تصادم امریکہ کے کلیدی اہداف کو درہم برہم کر سکتا ہے۔

سابق برطانوی سفارت کار الیسٹر کروک نے 15 بہمن کو ایک یادداشت میں لکھا کہ ایران نے نہ صرف آبنائے ہرمز بند کرنے کی دھمکی دی ہے بلکہ امریکی بحری بیڑے کے سامنے پورے ساحلی علاقے کو اینٹی شپ میزائلوں سے ڈھانپ دیا ہے، لہٰذا پورا بحری بیڑا اور اس کے اڈے —

جن میں قطر کا بڑا اڈہ الحدید بھی شامل ہے — ایران کی زد میں ہیں۔ ہانگ کانگ کے جریدے ایشیا ٹائمز نے 11 بہمن کو نتیجہ اخذ کیا کہ خلیج فارس میں امریکی بحری موجودگی میں اضافے کی خبریں اگرچہ مغربی ایشیا میں ایک اور جنگ کی تیاری کا تاثر دیتی ہیں۔

لیکن عملی طور پر یہ جنگی تیاری سے زیادہ ایک پرخطر بازدارانہ پالیسی سے مشابہت رکھتی ہیں۔ القدس العربی نے بھی انہی دنوں لکھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو رنگ کے کونے میں لا کھڑا کیا ہے، اور اس کی بڑھتی ہوئی دھمکیاں طاقت کی علامت کے بجائے ایک مہنگا جوا ہیں جو اس کا آخری پتہ ثابت ہو سکتا ہے۔

انقلابِ اسلامی ایران کی سینتالیسویں سالگرہ

انقلابِ اسلامی کی سینتالیسویں سالگرہ پر اس کی یہ قوت حق کے محاذ میں عوام کی استقامت، الٰہی ولی کی قیادت اور اس کے نتیجے میں خداوندِ متعال کی مسلسل امداد کا ثمر ہے۔

یہ الٰہی اور عوامی انقلاب باقی رہے گا، کیونکہ مؤمن عوام اسے اپنی سب سے بڑی معنوی اور مادی سرمایہ سمجھتے ہیں۔ یہ وہ انقلاب ہے جسے امریکی سماجیات کے استاد چارلس کرُزمن نے اپنی کتاب «ایران کا ناقابلِ تصور انقلاب» میں تاریخ کی تمام انقلابات کے مقابلے میں عوامی شرکت کے لحاظ سے سب سے زیادہ، اور آبادی کے تناسب سے دنیا کا سب سے زیادہ جمہوری اور پرجمعیت انقلاب قرار دیا ہے۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. تحریر: سعدالله زارعی.
  2. سورۂ آلِ عمران، آیہ 160
  3. سورۂ فتح آیۂ 7