مندرجات کا رخ کریں

اتحاد ا ہل بیت کی سیرت میں

ویکی‌وحدت سے

اتحاد اهل بيت کی سيرت میں ، ایک طرف قرآن كريم نے مسلمانون كو متحد هو كر رهنے اور وحدت كي لڑي ميں پرونے كي طرف دعوت دي هے تو دوسري طرف تفرقه اور نزاع كي سخت مذمت كي هے ۔ اختلاف اور نزاع كي جتني صورتين وحدت كے مقابلے ميں بن سكتے هيں ان سب كي ايك ايك كر كے مذمت كي هے كه اختلاف مت كرو جگڑا مت كرو نزاع مت كرو ورنه دشمن تم پر غالب آجائے گا تمهاري حيثيت ختم هو جائے گئي تمھارى هيبت اور ابوهت ٹوٹ جائے گي تم كمزور هو جاؤ گئے تم برباد اور نابود هو جاؤ گئے۔ اسي طرح پيغامبر اعظم اورائمه معصومين صلوات الله وسلامه عليهم اجمعين كي بابركت سيرت جو كه حقيقت مين ترجمان قرآن هے انكے اقوال ورفتار ميں همين هرقدم پر وحدت كي بے مثال نمونے ديكھنے ميں ميسىر آتا هے اور ايسے موارد ديكھنے ميں آتے هيں جهان مسلمانون كے درمىان اتحاد و اتفاق كے تحفظ اور انهين اختلاف و انتشار سے بچانے كے خاطر اپنے مسلم شرعى حقوق سے دسبردار هوئے هيں۔ يهان هم اختصار كي بنا پر صرف رسول گرامي اسلام اور اپكے ابن عم بھائي امير المؤمنين ٬ خليفة المسلمين علي ابن ابي طالب كي سيرت طيبه سے وحدت كے چند نمونے پيش كرتے هيں تاكه همين يه معلوم هو جائے كه انھون نے وحدت كي راه مين كيا كيا قربانيان دي هے اور هم انكے نقش قدم پر چلنے كا دم بھرتےهيں وحدت كي راه ميں كيا قدم اٹھائے هيں ۔

پيغامبر اعظم كي پاك سيرت اور وحدت

آنحضرت كي سيرت طيبه قرآني تعليمات كي روشني ميں تمام كلمه گو مسلمانون كے لئے اسوه حسنه اور واجب اتباع هے۔ اگر اپ انكے الهي سيرت اٹھا كر ديكھين تو انكي زندگي كے هر قدم پر وحدت كى سينكڑون اىسے نمونمے نظر آتيں هيں جو نه صرف همارے لئے اسوه حسنه هے بلكه تمام بشر كے لئے نمونه عمل هے ۔ اپكي پاك سيرت ميں وحدت واتحاد كي ايسےنمونے پائےجاتے هىں جسكى مثال سابقه امتون ميں نهين ملتى۔ حد يه هے كه آپ نے مدينه تشريف لانے كے فوراُ بعد چند اهم اور بنيادي اقدامات انجام دئے ان ميں سے ايك اقدام مختلف گروهوں و امتون اور اقوام كي درميان وحدت اور اتحادو اتفاق كا ايجاد كرنا هے جو اپني جگه بے سابقه هے هم يهان چند نمونه ذكركرتے هيں ۔

امت واحده كي تشكيل مين تاريخي دستاويز

اسلام كا نوراني پيام مدينه آنےكے بعد اس شهر ميں مختلف قسم كے لوگ بسنے لگےتھے٬ نو مسلم آبادي بستے تھے يهودي قوم بھى چند قوموں كى شكل مىں رهتے تھے بت پرست اور مشركين اقوام بھى آباد تھىں ۔جب سرورگائنات مدينه تشريف لائے تو آپنے يه احساس كيا كه اس شهر كى اجتماعي زندگي ٹھيك نهيں هے نا منظم هےهر گروه دوسري گروه كے ساتھ دشمني ركهتا هے مختلف قبيلون كے درميان سخت قسم كے اختلاف اور نزاع پاىا جاتا هے ؛ سب سے بڑے دو قبيلے اوس وخزرج كے درميان ديرنه خوني دشمني پائي جاتي هے ايك دوسري كي خون كے پىاسے هيں ؛ اپ اس حالت ميں هر لمحه ممكن تھا كه كوئي نا گوار واقعه پيش آئے ۔ چنانچه پيغمبر اكرم نے مدينه ميں رهنے والےتمام گروهون كے درميان باهمي تعاون اور يكجهتي كا مشتركه عهد نامه لكھا -جو بعد ميں اسلام كا سب سے پهلے اور سب سے بڑے دستاويز نام ركها گيا ؛ اور مورخين كے كهنے كے مطابق يه قرارداد آپ نے اپني پهلي خطبے كے فوراُ بعدپاس كيا -


رسالت مآب نے اس قرار داد ميں مدينه شهر ميں رهنے والے مختلف گروهون كے حقوق معين كئے اور يه قرارداد مسالمت آميز زندگي گزارنےاور هر طرح كے هنگامے اور اختلافات كے جنم لينے اور انكے درميان نظم وعدالت كو بر قرار ركهنے كا ضامن بنا اس تاريخي قرارداد كے چند اهم نكات يه تھي : (1) مسلمان اور يهود ايك امت هيں – (2) مسلمان اور يهود اپني دين كي پيروي كرنے ميں آزاد هيں – (3) اس عهد نامے پر دسخط كرنے والون كي ذمداري هے كه سب ملكر شهر مدينه كا دفاع كرين – (4) مدينه ايك مقدس شهر هے جس مين هر طرح كي حربو خرابه حرام هو گا (5) اس عہد نامہ پر دسخط کرنے والون میں اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں حل وفصل کرنے والا محمد ہوں گئے ۔ اس قرارداد کی تفصیلی آگاہی کے لئے رجوع کرین [1]. اس تاریخی قرارداد سے دو اہم نکتے ہمارے ذہن میں آتی ہے جو کسی قوم یا جماعت کے درمیان اتحاد برقرار رکھنے اور یجہتی پیدا کرنے میں کلیدی کردار اداکرتی ہے -

(1)مذہبی آزادی : امت مسلمہ کے درمیان اتحاد اور یجہتی پیدا کرنے کے لئے اہم ترین چیز مذہبی آزادی ہے خواہ اسلامی فرقون کے درمیان ہو یا اس سے بھی زیادہ وسیع سطح پر مختلف ادیان کے درمیان ہو کہ جس کے خوبصورت ترین نمونہ پیغمبر اکرم کی سیرت طیبہ میں ہمین نظر آتا ہے ۔ چونکہ ایک دین میں مختلف فکری مذاہب شریعت میں فکری اور عملی احکام میں علماء کی اجتہادات اور قرآن وسنت سے استنباط کی وجہ سے وجود میں آتی ہیں کہ جسکے ہم سب اجازت دیتے ہیں اب اس صورت میں ایک مسلم فردکوکامل طور پر یہ اختیار حاصل ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مرضی سے ان اسلامی فرقون اور مذاہب میں سے اپنی نظر میںجو سب سے افضل اور کل پروردگار عالم کے حضور میں جواب گو ہو گا اور اس کے ذمداری پوری ہو گئی اسی مذہب کے پیروی کرے اور کسی کو یہ حق نہین ہو گا کہ اسے کسی خاص مذہب کے انتخاب پر برا بہلا کہے یا اسکی مذمت کرئے ؛ اس طرح کسی کو یہ حق نہین پہنوچتاکہ وہک سی دوسرے شخص کوکسی خاص مذہب کے انتخاب کرنے پر مجبور کرئے چونکہ مذہب کا انتخاب ایمان اور قلبی اطمینان کے حصول کے ساتھ وابسطہ ہے جو صرف اور صرف حجت اور دلیل کے ذریعے حاصل ہوتا ہے۔ اور اسی طرح ہر مذہب کو اپنی آرا ء نظریات خواہ عقیدتی میدان میں ہو یا فقہی اور عملی میدان میں پیش کرنے اور اس پر دلیل لے کر آنے کا پورا حق حاصل ہے اور یہ اس وقت تک مطلوب ہے جب بے فائدہ جدل ودشمنی اور ایک دوسرے کی اہانت تک پہنچا نہ دیے-

(2) قومی انسجام : اسے پہلے بھی عرض ہواکہ وحدت انسانیت اور اسلامیت کی بقا کا ضامن ہے یہ کسی خاص قوم یا کسی خاص زمان ومکان تک محدود نہین بلکہ انسانی معاشرے کی بقا کے لئے ایک دائمی اصل ہے - جس طرح اسلام اور مسلمانون کی بقا وتحفظ اور ترقی وتمدن کے لئے اسلامی اتحاد کی ضرورت ہے اسیطرح کسی قوم کسی ملک کی بقا کے لئے اسکی ترقی وتمدن کے لئے بھی اس ملک کے اندر بسنے والے مختلف گروہون قومون اور مختلف طبقات اور مختلف مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے لوگون کے درمیان قومی اور ملی انسجام واتحاد شہ رگ کی مانند ہے -


اسیلئے ہم دیکہتے ہین استعماری اور طاغوتی اجندے اسلامی ممالک میں نہ صرف مسلم فرقون گروہون کو آپس میں لڑوانے کے پیچہے ہیں بلکہ مختلف قومون اور نژادون کو قومیت اور نژادیت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے جدا ر کے ایک دوسرے کے مقابلے میں لانے کی بر پور کوشش کررہیں ہیں - چنانچہ پیغبر اکرم نی بھی اسی اہم نکتے کو مد نظر رکھتے ہوے ایک معاشرتی اور اجتماعی زندگی کی تشکیل اور اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنے سے پہلے ہی مدینہ شہر کے رہنے والے مختلف مکاتب فکر سے وابستہ لوگون کے درمیان قومی اور ملی اتحاد واتفاق کا قرارداد پاس کیا جس عہد نامیے میں مسلمانون اور یہودیون کو ایک ملت قرار دیا گیا سبک ی جان ومال کو محترم شمار کیا گیا اور مدینہ شہر کی دفاع سب کی ذمداری ڈالی گئی اس طرح مدینہ کی اجتماعی زندگی میں رونق آگیا اور سب کے حقوق محفوفظ ہو گے۔

انصارومہاجرین کے درمیان ا خوت کا معاہدہ

پیغمبر اعظم نے ہجرت کے چھے ىا آٹھ مہینے کے اندر اتحاد کے راہ میں دوسرا قدم اٹھایا اور وہ مہاجرین اور انصار کے درمیان رشتہ اخوت اور بہائی چارگی بر قرار کرنا تھا ۔ چونکہ اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں دو بڑے گروہون میں پیشہ اور نسل کے لحاظ میں تفاوت اورکشمکش پائی جاتی تھی ؛ کیونکہ انصار جنوب عرب (یمن )سے ہجرت کر کے آئے تھے اور نسب کے اعتبار سے انکا تعلق قحطان سے تھا جبکہ مہاجرین شمالی حصے سے آئے تھے اور انکا تعلق عدنانی نسل سے تھا - اور دوسری طرف انصار کا مشغلہ کاشتکاری باغبانی تھا ؛ جبکہ مہاجرین اور اہل مکہ تجارت کرتے تھے اور کاشکاری کو ایک پست مشغلہ سمجہتے تھے ؛ اس سے قطع نظر یہ دونون گروہ الگ ماحول کے پروردہ تھے ؛ لیکن اب نوراسلام کی بدولت آپس میں بائی بہائی ہو گئے تھےـ [2].

لیکن ان دونون گروہون میں گذشتہ افکار و خیالات اورکلحر کی اثرات ابھی بھی بعض لوگون کے ذہنون میں رہ گئے تھے اور ہر لحظہ یہ اندیشہ تھا کہ کہین قدیمی عصبیت بڑک نہ اٹھے اب ان اختلافات کے ہوتے ہو ئے ایک عالم گیر الہی حکومت کی بنیاد ڈالنا ناممکن تہا اور مکتب اسلام کو دوسرے مکاتب فکر اور مشرکین کے مقابلے میں مضبوط بنانے کے لئے آپنے اپنی حکمت با لغہ سے ان کے درمیان - تآخوا فی اللہ اخوین - کی شعارکے ساتھ اخوت اور بہائی چارگی کا رشتہ برقرار کیا اور ہر مہاجر و انصار میں سے ایک کو دوسرے کا بہائی بنایا اور علی علیہ السلام کو اپنا بہائی بنا یا اور فرمایا - انت اخي فد الدنيا واللاخرة ....... [3]. جس کے نتیجے میں مسلمانون کے درمیان اخوت وبرادری اور وحدت ویکجہتی کے ایک نیی لہر ڈور اٹھی ایک دوسرے کے درمیان سالون سال پرانی دشمنی دوستی اور اخوت مین تبدیل ہوگی کہ جس کے کوئی نظیر سابقہ امتون مین نہین ملتا ۔

اتحاد ووحدت کی راہ مین اس جسیی سینکڑون نمونے آپکے بابرکت زندگی میں ملنے میں آتی ہے اور اپ اپنے آخری دم تک لوگون کو اتفاق ووحدت کے ساتھ زندگی گزارنے کی طرف دعوت دیتے رہیں اور فرمایا کرتے تھے – ايها الناس عليكم بالجماعة واياكم والفرقة [4]. لوگو! خبردار تفرقہ بازی اور گروہ بندی سے بچو اور ہمیشہ متحد ہو کے رہو اسی طرح کسی اور مقام پر آپ فرماتے ہیں تم میں سے کون عقلمند ہے جو اتحاد اور انسجام کی ضرورت کا احساس نہ کرئے ؟ لیکن اسکے باوجود یہ سننے میں آتا ہے کہ بعض تنگ نظر جاہل ومقدس مآب اور خشن افراد مختلف اسلامی فرقون اور گروہون کے درمیان وحدت برقرارکرنے کو پسند نہین کرتے اورکهلم کہلا وحدت کی ضرورت کا انکا ر کرتے ہیں یقینا اسکی علت سیر ت رسول ااعظم سے لاعلمی و دوری اور اپنی منگھڑٹ عقائد اورافکار پر اصرارکر نے کے سواکچھ نہیں ہے. چنانچه شاعر مشرق جناب محمد اقبال اسى نقطے كى طرف اشاره كرتے هوے فرماتے هىں ما كه از قىد وطن بىگانه اىم چون نگه نور دوچشمىم وىكىم از حجاز وچىن واىرانىم ما شبنم ىك صبح خندانىم ما سىد حمىد جاوىد : [5].

هم مسلمانوں كو هر قسم كى وطنىت وقومىت و ۔۔۔ كى قىد سے راه هو كر پىغمبىر گرامى اسلام كى ذات اقدس اور انكى پاك سىرت كو محور ومركز قرار دىنا چاهىے كىون آپكى ذات هم سب كى آنكھوں كا نور هے اور هم سب كى آنكھىں آپكى نورانىت سے روشن هىں هاں اگر چه كوئى حجاز كے سر زمىن مىں كوئى اىران وچىں ۔۔۔ ىعنى دىنا كے مختلف جگوں پر بكھرے هوئے هىں لىكن هم سب كى مثال ان شبنم كے قطرون كى مانند هىں جو اىك هىں صبح كو بدولت وجود مىں آئىں هىں اگر چه مختلف جگوں پر بكھرے هوے هىں لهذا هر قسم كى قومى ؛نژادى؛عرقى؛ زبانى ؛ طائفى اورمذهبى امتىازات كے چھوڑ كر انكى ذات اقدس كے سامنے سر تسلىم خم هو كر انكى سىرت طىبه پر عمل پىرا هو جائىں ۔ خدایا ہم سب و سرورکائنات کی سیرت طیبہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما آمین

امیر المومنین مظہر وحدت واتحاد

رسول اللہ ۖ کے بعد امیر المومنین امام المتقین ساقی کوثر حضرت علی ابن ابی طالب کی ہستی وہ واحد ذات ہے کہ جس کی خلافت ؛ امامت ؛ تمام صحابیون پر اپکی افضلیت واعلمیت اور ذہد وتقوی اور علم حکمت پر تمام اسلامی مذاہب اور دوست ودشمن سب متفق ہیں؛ اور سب کو اعتراف ہے لہذا آپکی ذات تمام مسلمانون کے لئے محور وحدت ہے اور آپکی سیرت ہم سب کے لئے بہترین نمو نہ عمل ہے اور آپ رسول اللہ ۖ کی رحلت کے بعد جس چیز کے بارے مین زیادہ فکر مند تھے اسے بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور اسی کے خاطر ہر قسم کی رنج وستم برداشت کئے اور اسی راہ میں اپنے مسلم شرعی حقوق سے دستبردار ہوئے اوراسی کے محافظت کے خاطر صبر وسکوت اور خاموشی اختیار کی بے شک وہ قیمتی شئی ا میر المؤمنین کی نگاہ میں مسلمانون کا اتحاد اور انکے شیرازہ بندی تھی؛ کیونکہ آپ جانتے تھے کہ مسلمانون کی طاقت اور قوت جو نئی نئی دوسرے سپر پاور طاقتون پر غالب آرہی ہے اور اسلام کے مقابلے میں شکست کھانے پر مجبور ہو رہے ہیں تو یہ سب اسی وحدت اور وحدت کلمہ کی بدولت ہے - چنانچہ آپ اسلام اور مسلمانوں کے مشترکہ مصلحت کو مد نظر رکہتے ہوئے مدتوں تک خاموشی اختیار کی اور گوشہ نشین ہوئے؛ اور اس راہ مین جتنی بڑی قربانی اور فداکاری انجام دی ہے اسکی مثال تاریخ مین نہین ملتی ہم یہان اس بی مثال ایثار و فداکاری کے چند نمونے ذکر کرتے ہیں جہان آپ مسلمانو ن کے درمیان اتحاد اور وحدت کلمہ کی محافظت کے خاطر اپنے مسلم اور خدادادی حق سے دستبردار ہوتے ہیںاور اپنی عزیز ترین زوجہ سیدہ کونین کی توہین کوتحمل کر لیتے ہیں۔

پہلا موقف  : رحلت پیغمبر اور رہبری کا مسئلہ

جس طرح خود امیر المومنین علیہ السلام نہج البلاغہ مین آہل بیت اطہار کی عظمت اور جلالت اور عالم اسلام کی قیادت کے لئے انکی لیاقت اور رشادت بیان کرتئے ہوئے فرماتے ہیں -هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهِ وَ لَجَأُ أَمْرِهِ وَ عَيْبَةُ عِلْمِهِ وَ مَوْئِلُ حُكْمِهِ وَ كُهُوفُ كُتُبِهِ وَ جِبَالُ دِينِهِ بِهِمْ أَقَامَ انْحِنَاءَ ظَهْرِهِ وَ أَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصِه ........ َ لَا يُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ ص مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَحَدٌ وَ لَا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيْهِ أَبَداً هُمْ أَسَاسُ الدِّينِ وَ عِمَادُ الْيَقِينِ إِلَيْهِمْ يَفِي‏ءُ الْغَالِي وَ بِهِمْ يُلْحَقُ التَّالِي وَ لَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَايَةِ وَ فِيهِمُ الْوَصِيَّةُ وَ الْوِرَاثَةُ الْآنَ إِذْ رَجَعَ الْحَقُّ إِلَى أَهْلِهِ وَ نُقِلَ إِلَى مُنْتَقَلِه‏ [6]. وہ ہیں سر الہی کے امین اور اس کے دین کی پناہ گاہ وہ ہین علم خدا کے مخزن وحکمتوں کی مرجع وکتب آسمانی کے گہائیمان اور دین کے پہار انہین کے ذریعے سے خدا نے اس دین کی پشت کا خم سیدہا كیا اور اسکے پہلو سے ضعف وبپی دورکیا ...... اس امت کے کسی فرد پر آل محمدکو قیاس نہین کیا جا سکھتا -جو انکے ترون پر پلے ہیں وہ آل محمد کے ہم پلہ نہین ہو سکھتا ؛ وہ ہیں دین کے اساس وبنیاد اور علم ویقین کے محکم ستون ؛ غالیون کو چاہیے ان تک آئین اور جو ان سے پیچہے رہ گئے ہیں وہ انکے ساتھ ہو جائین ولایت کی شرائط انہی مین جمع ہین ؛ اور پیغمبر نے انکے حقوق کے بارے میںاس امت کو وصیت کی ہے ۔ اسی طرح کسی اور مقام پر آپ فرماتے ہیں -ٍ لَا تَصْلُحُ عَلَى سِوَاهُمْ وَ لَا تَصْلُحُ الْوُلَاةُ مِنْ غَيْرِهِمْ [7]. نہ امامت انکے علاوہ کسی اورکو زیب دیتا ہے اور نہ ہی انکے علاوہ کوئی اس منصب کا اہل بن سکھتا ہے -

مولائے کائنات کی ان جملات سے یہ بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ آل محمد روحانیت ومعنویت اور علم وعمل کے اس منزل پر فائز ہین جو عام انسانون کی سطح سے بلند ہے ایسی سطح کے افراد ا سی اور سی تقابل کرنا غلط اندر غلط ہے ؛ اور اسی لیاقت ؛ فضلت ؛قرابت ؛ عظمت اور رسول اللہ کی وصیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اہل بیت علیہم السلام من جملہ امیر المو منین علی علیہ السلام خلافت کے سب سے بڑکر حقدار تھے اور انکے جسے عظیم ہستی کے ہوتے ہوئے دوسرون کے بارئے مینں سوچنا ہے لغو تھا ؛ لیکن ان سب کے باوجود ایسے حوادث پیش آئی اور آپکو مسلمانون کے رہبریت اورقیادت سے دور رکھا گیا اور خلافت اپنی اصلی راستے سے منحرف ہو گئی کہ جسکے بارے میں آپ فرماتے ہیں ـ- أما بعد فإنه لما قبض الله نبيه ص قلنا نحن أهله و ورثته و عترته أولياؤه دون الناس لا ينازعنا سلطانه أحد و لا يطمع في حقنا طامع إذ انبرى لنا قومنا فغصبونا سلطان نبينا فصارت الإمرة لغيرنا و صرنا سوقة يطمع فينا الضعيف و يتعزز علينا الذليل فبكت الأعين منا لذلك و خشنت الصدور و جزعت النفوس و ايم الله لو لا مخافة الفرقة بين المسلمين و أن يعود الكفر و يبور الدين لكنا على غير ما كنا لهم عليه فولي الأمر ولاة لم يألوا الناس خيراَ [8]. پیغمبر اعظم کی رحلت کے بعد ہم سوچ بھی نہین سکتے تھے کہ امت ہمارے حق کی اس طرح لالچی بن جائے گے جس کی توقع نہین تھی ؛ وہ سب کچھ ہوا ہمارے حق کو غصب کر لیا ہمین عام انسانون کی صف میں لا کھڑاکیا ہم میں سے بہت سے لوگون کی آنکھون میں آنسو آگئی اور سخت صدمہ پہونچا ؛ خداکی قسم اگر مسلمانون کے درمیان اختلاف کا خدشہ کفر کی بازگشت اور دین کی تباہی وویرانی کا خطرہ نہ ہوتا تو میں ان لوگون کے ساتھ دوسرے طریقے سے پیش آتا لیکن میں نے انھی مصلحت کی بنا پر خلافت کو رہاکیا-


اب اس صورت میں آپکے سامنے دو ہی راستے موجود تھے - یا آپ جنکو خلافت کے مسلئے میں نااہل اور اپنے خدا اور رسول کی جانب سے دی ہوئی شرعی منصب کا غاصب اور انکی حکو مت اور خلافت کو شرعی اور قانونی دونون اعتبار سے فاقد اعتبار سمجہتے تھے انکے خلاف اپنے شرعی حقوق کے استرداد کے لئے بنی ہاشم اور دوسرئے باوفا ساتھیون کے ساتھ ملکر مسلحانہ قیام کرتے اور زور بازو سے حکومت اور خلافت پر اپنا قبضہ جماتے جس طرح دوسرون نے زور بازو کے بل بوٹے خلافت پر قضہ کیا تھا ۔ یا اسلام اور مسلمین کے مصلحت شیراز بندی کو اپنی شخصی حقوق پر مقد م کرکے اپنی شرعی حقوق سے دستبردار ہوتے اور ان حوادث کے سامنے صبر وبردبار ی سے کام لیتے ؛ اور دلیل وبرہان کیے ذریعے اپنی امت محمدی کی خلافت اور قیادت کے لئے لیاقت و حقانیت اوردوسرون کے ناہلی اورغیر قانونی ہونے کو بیان کرتے ۔ لیکن امیرالمومنین نے ان دونون مین سے دوسرا راستہ انتخاب کیا چونکہ آپکی نگاہ مین قدرت ومقام ہدف نہین تھا بلکہ ہدف اسے کہیں زیادہ بلند تھا ہدف اسلام کی نو نہال درخت کی حفاظت تھا ؛ ہدف مسلمانون کی شیرازہ بندی کی محفاظت تھا انکے درمیان اتحاد و اتفاق کو حفظ کرنا تھا ؛ آپنے دیکھا اگراس حالت مین احقاق حق اورخلافت کے لئے قیام کرون تو اسلام خطرئے میں پڑھے گا ؛پیغمبر اکرم ۖ کی تمام زحمتین برباد ہو جائی گی مسلمانون مین پہوٹ پڑے گا تفرقہ کا شکار ہو جائین گئے انکی ابوہت ٹوٹ جائے گی قدرت افول کر جائے گی ؛ اب اسے بہتر ہے پیش آمدہ صورت حال پر صبر وشکیبائی سے کام لوں -


چنانچہ آپ اس پیش آمدہ ناقبل تحمل درعین حال ناچار صورت حال کی یون نقشہ کشی کرتے ہوئے فرماتین ہین ؛ ایسا نہین کہ مین انکے مقابلے میں کمزور ہوکر قیام نہ کیا ہو بلکہ میری خاموشی اور صبر وشکیبائی مصلحت آمیز تھی میں نے ان دوراہون مین سے جس مین زیادہ مصلحت تھی اس کو انتخاب کیا جبکہ میری صورت حال یہ تھی-- فَسَدَلْتُ دُونَهَا ثَوْباً وَ طَوَيْتُ عَنْهَا كَشْحاً وَ طَفِقْتُ أَرْتَئِي بَيْنَ أَنْ أَصُولَ بِيَدٍ جَذَّاءَ أَوْ أَصْبِرَ عَلَى طَخْيَةٍ عَمْيَاءَ يَهْرَمُ فِيهَا الْكَبِيرُ وَ يَشِيبُ فِيهَا الصَّغِيرُ وَ يَكْدَحُ فِيهَا مُؤْمِنٌ حَتَّى يَلْقَى رَبَّهُ فَرَأَيْتُ أَنَّ الصَّبْرَ عَلَى هَاتَا أَحْجَى فَصَبَرْتُ وَ فِي الْعَيْنِ قَذًى وَ فِي الْحَلْقِ شَجًا أَرَى تُرَاثِي نَهْباً مین سوچنے لگا کہ ان دونون راہون مین سے کس کو اختیار کرون آ یا اپنی کٹی ہوئی ہاتھون سے حملہ کرون یا اس بہیان تیرگئی پر صبرکرلون کہ جس مین بوڑھے ضعیف اور بچے بوڑھے ہو جاتے ہین اور مومن اپنی پروردگار کے پاس جانے کی تمنا اور اس کے لئے تلاش و کوشش کر تے ہیں ؛ مجھے اس اندہیرے پر صبر ہی قرین عقل نظر آیا تو مین نے صبر کیا جب کہ میری آنہون مین خار اور گلے مین ہڈی پہسی تھی ۔ اسی طرح کسی اور مقام پر جسکا پہلے بھی تذکرہ ہوا ہے آپ فرماتے ہین -- و ايم الله لو لا مخافة الفرقة بين المسلمين و أن يعود الكفر و يبور الدين لكنا على غير ما كنا لهم عليه [9]. «خدا کی قسم اگر مسلمانون کی درمیان اختلاف کا خدشہ کفرکی بازگشت اور دین کی تباہی وویرانی کا خطرہ نہ ہوتا تو مین ان لوگون کے ساتہ دوسرے طریقیے سے پیش آتا ۔

دوسرا موقف: جناب سیدہ کا شکوہ اور آپکا رد عمل

پیغامبر اکرم ۖکی رحلت کے بعد ان تلخ حوادث میں سے ایک بعض مسلمان نما مسلمانون کے خلیفہ وقت کی بیعت کے مسئلے میں آپ کے در اطہر پر آگ لے کر آنا تھا ؛ ابھی باپ کی انتقال کا صدمہ دل پر تھا اورایک ہفتہ بھی نہین گزار تھاکہ چند نفر آپکے دروازئے پر جمع ہوتے ہیں اور یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ علی کو گھر سے باہرنکال لو تاکہ دربار میں آکر خلیفہ وقت کی بیعت کرین ورنہ گھر میں آگ لگا دی جائے گئی - جناب طبری نقل کرتے ہیں -- وبعث اليهم ابوبكر عمراً بن الخطاب وقال لهم : فإن ابو فقاتلهم واقبل عمر بقبسٍِ من نارِ علي ان يضرم عليهم الدّار ، فلقيته فاطمة فقالت يابن الخطّاب أجئت لتُحرق دارنا ؟ قال نعم او تدخلو فيها دخل فيه الأمة [10] «کہتے ہیں ابو بکر نے عمر کو انکے طرف بیجہا (یعنی علی وزبیر وحسن وحسین اور بنی ہاشم )اور کہا اگر یہ لوگ بیعت کرنے سے انکارکرین تو ان سے جنگ کرو اور عمر آگ لے کر جناب فاطمہ کے دروازے پر پہنچا تو جناب سیدہ نے فرمایااے پسر خطاب کیا تم میري دروازے کو آگ لگانے کے لئے آئے ہو ؟ کہا ہان یا وہی انجام دو جسے امت نے انجام دیں ہیں۔ اسی طرح شہر ستانی اور بلاذری دونوں نقل کرتے ہیں_ آنّ عمر ضرب بطن فاطمة يوم البيعة حتى القت الجنين من بطنها وكان يصيح احرقوا دارها بمن فيها وما كان فى الدار غير علي وفاطمة والحسن والحسين [11]. (جب جناب سیدہ نے عمرکا مطالبہ رد کیا اور دروازہ نہیں کھولا ) تو عمر نے اس طرح جناب زہرا کی شکم اطہر پرضربت ماراکہ شکم اطہر سے بچہ سقط ہو گیا اور ساتھ ساتھ چیخ رہا تھا اس گھر کو گھر والے سمیت جلا دو جبکہ گھر کے اندر علی وفاطمہ وحسن وحسین کے علاوہ کوئی نہین تھا۔

تو دوسری طرف حکومت وقت نے فدک کو آپکے دست مبارک سے چہین لیا جبکہ پیغمبر اعظم ۖ نے فدک کو صاحبان قرابت کی حق ادا کرنے کے حکم پر جناب سیدہ کو ہبہ کیا تھا ۔اور یہ ایسے تلخ اور ناقابل برداشت حوادث تھے لیکن امیر المو منین نے ان تمام اہانتون اور گستاخیون کو اسلام کی محا فظت اور مسلمانون کے اتحاد کی خاطر تحمل کیا اور جام زہر پی کر صبر کیا اور جناب سیدہ کو بھی برابر صبر اور شکیبائی سے کام لینے اور بعض امتیوں کے نامناسب اور حاسدانہ حرکات کے مقابلے میں عکس العمل نہ دیکھانے کی تلقین کرتے رہیں۔

شہید مطھری انکے اس گستاخیون کے مد مقابل آپکے موقف بیان کرتے ہوے فرماتے ہیں : کبھی نا مساعد حالت میں صبر اور سکوت بہت سے خونی قیام سے زیادہ قوت اور نفس پر تسلط کی محتاج ہوتی ہے ۔ ایک ایسے انسان کو فض کیجہے جو شجاعت وشہامت اور غیرت کا مجسمہ ہو جس نے کبھی دشمن کو پیٹھ نہ دکھا ئی ہو جس کے نام سے بڑے بڑے سورماؤں کے بدن کانپتے ہوں اسکے سامنے ایسے حالات آتے ہین کہ چند سیاسی لوگ موقع سے غلط فائدہ اٹھا کر اسکی زندگی دشوار کر دیتے ہیں اور اسکی عزیز ترین زوجہ کی توہیں کرتے ہیں ۔ اور جب وہ گھر میں غصہ کی حالت میں داخل ہوتا ہے اسکی زوجہ ایسے جملون کے ذریعہ کہ جن کو سن کر پہاڑ لرز اٹھیں اپنے غیرت مند شوہر سے شکوہ کرتی ہیں اور فرماتی ہیں ۔ اے فرزند ابو طالب کیوں گوشہ نشین ہوگئے ہو ؟ آپ وہی تو نہیں کہ جن کے نام سے بڑے بڑے پہاڑوں کی نیندیںحرام ہو جاتی تھیں اوراس وقت ایک کمزور و ناتوان انسان کے مقابلے ماند پڑگئے ہیں ۔ کاش ! میں مر گئی ہوتی اور مجھے یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔

اب ایک طرف مولا حالات سے رنجیدہ تھے اور دوسری طرف ان کی عزیز اور محبوب زوجہ انہین اس طرح جوش دلا رہی تھیں لیکن یہ کون سی طاقت تھی جو عل کو ٹس سے مس نہین ہونے دیتی مولائے کائنات نے جنات زہراء کی بات سنی کے بعد اطمینان اور سکون سے فرماتے ہیں نہیں میں بدلا نہیں ہوں ؛ میں وہی ہوں لیکن مصلحت کوئی اور چیز ہے ۔ ابن ابی الحدید معتزلی کہتے ہیں - أن فاطمة ع حرضته يوما على النهوض و الوثوب فسمع صوت المؤذن أشهد أن محمدا رسول الله فقال لها أ يسرك زوال هذا النداء من الأرض قالت لا قال فإنه ما أقول لك [12]. اتنے میں موذن کی آذان کی آواز بلند ہوئی اور آذان دیتے ہوے اشھد انّ محمد رسول ﷲ پر پہنچے تو آپ جناب سىّدہ كى طرف متوجه هو كر فرمایا کیا آپ چاہتی ہو کہ یہ صدا ختم ہو جائے ؟ فرمایا نہیں فرماىا میرا مقصد یہ نہین ہے ۔

تیسرا موقف : ناکثین کے بیعت شکنی

فتنہ گری کے حادثے میں عثمان کے قتل ہونے کے بعد مسلم پبلك امر المؤمنین کے دروازے پر ہجوم لاتے ہیں اور آپکو بیعت لینے پر مجبور کرتے ہیں لیکن آپ گزشتہ دردناک واقعات اور موجودة زمانہ کی نا معلوم حالات کو دیکھتے ہوئے اس سنگین ذمداری کو قبول نہین کرنا چاہتے تھے لیکن حجت تمام ہونے پر آپ ناخواستہ بیعت قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں چنانچہ آپ اس بارے میں فرماتے ہیں َ لَوْ لَا حُضُورُ الْحَاضِرِ وَ قِيَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النَّاصِرِ وَ مَا أَخَذَ اللَّهُ عَلَى الْعُلَمَاءِ أَلَّا يُقَارُّوا عَلَى كِظَّةِ ظَالِمٍ وَ لَا سَغَبِ مَظْلُومٍ لَأَلْقَيْتُ حَبْلَهَا عَلَى غَارِبِهَا وَ لَسَقَيْتُ آخِرَهَا بِكَأْسِ أَوَّلِهَا [13].


اگر بیعت کرنے والوں کی ہجوم اور مدد کرنے والوں کی موجودگی سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی اور وہ عہد وپیمان نہ ہوتا جو خدا نے علماء سے لے رکھا ہے ؛ کہ وہ ظالم کی شکم پروری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون وطمینان سے نہ بیھٹین رہیں تو میں خلافت کے باک ڈوراسکے کاندھے پر ڈال دیتا اور روز اول کی مانند ایک گوشہ میں بیٹھ جاتا لیکن خلافت کے کچھ دن نہیں گزرے تھے خلافت کے طلبگارریاست پرست افراد آپکی عدالت کے تاب نہ لاسکھا اور جو کل عثمان کے قاتل تھے کل آپکو بیعت لینے پر مجبور کر رہئے تھے آج عثمان کے خون کے وارث بن کر اپنی درینہ ارزوں کو پورا کرنے کے لئے مگرمچھ کے آنسو بہانا شروع کیا اور بے چارہ عوام کو خلیفہ کے خون کے قصاص کا سھارا لے کر بھڑکایا اور مسلمانوں کے درمیان خونریزی شروع کی کہ جسکے خوف سے عل سالوں سال گوشہ نشین رہے تھے ۔ امر المؤمنین آج تک اپنی سکوت کی علت بیاں کرتے ہوئے فرماتے ہیں اگر آج تک میں نے خاموشی اختیار کی اور ا پنے مسلم حق سے دستبردار ہوا ہوں تواسکی علت صرف مسلمانوں کا اتحاد تھا ؛ میں نے مسلمانوں کے تفرقہ اور انکی خونریزی سے صبر وسکوت اور اپنی حق سے محرومیت اور عزیزوں کی ہانت کو تحمل کرنا بہتر سمجھا اور صبر و بردباری سے کام لیا چنانچہ آپ طلحہ وزبیر کے آپکے ساتھ خیانت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہین - طلحہ اور زبیر کو کیا ہو گیا ہے ؛ ایک سال یا کم سے کم چند مہینے صبر کرتے اور میری حکومت کو دیکھتے اس کے بعد کوئی منصوبہ بناتے لیکن وہ برداشت نہ کر سکھے اور میرے خلاف بغاوت شروع کردی اور اس چیز کے بارے میں کہ جس میں خدا نے انکو کوئی حق نہین دیا تھا مجھ سے الجھ گئے ۔


اسی طرح کسی اور مقام پر آپنے پیغمبر اکرم کے بعد اپنے اور ان لوگوں کے موقف کے درمیان متعدد بار موازنہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کے اتحاد کے خاطر اپنے مسلم حق سے چسم پوشی کی ہے تاکہ اتحاد باقی رہے لیکن ان لوگوں نے پہلے خوشی سے بیعت کی اور بعد میں اپنی بیعت توڑ دی اور ان لوگوں نے مسلمانوں کا شیرازہ بکھر جانے کے پرواہ نہ کی ۔ ابن ابی الحدید عبداﷲ بت جنادة سے نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا عل کی خلافت کے ابتدائی ایام مین ؛ میں حجاز میں تھا اور عراق جانے کا قصد تھا مکہ میں عمرہ کرنے کے بعد مدینہ آگیا جب مسجد پیغمبر میں داخل ہوا تو دیکھا لوگ نماز کے لئے جمع ہیں ؛ اور على اس عالم میں کہ ان کے کمر میں تلوار ہھمائل تھی باہر تشریف لائے اور لوگوں سے خطاب فرمایا ۔ آپ نے حمد وثنائے الھی اور رسول خداۖ پر درود بھجنے کے بعد فرمایا ۔ ٲما بعد فإنه لما قبض الله نبيه ص قلنا نحن أهله و ورثته و عترته و أولياؤه دون الناس لا ينازعنا سلطانه أحد و لا يطمع في حقنا طامع إذ انبرى لنا قومنا فغصبونا سلطان نبينا فصارت الإمرة لغيرنا و صرنا سوقة يطمع فينا الضعيف و يتعزز علينا الذليل فبكت الأعين منا لذلك و خشنت الصدور و جزعت النفوس [14]. وفات پیغمبر ۖکے بعد ہم لوگ سوچ بھی نہین سکھتے تھے کہ امت ہمارے حق کی اس طرح لالچی بن جائے گئی جس کی توقع نہین تھی وہ سب کچھ ہوا ہمارے حق کو غصب کرلیا ہمیں عام انسانوں کی صف میں لا کھڑا کیا ۔۔۔۔ پھر فرماتے ہیںــ- بايعني هذان الرجلان في أول من بايع تعلمون ذلك و قد نكثا و غدرا و نهضا إلى البصرة بعائشة ليفرقا جماعتكم و يلقيا بأسكم بينكم الھم فخذہما بما عملا خذا رابية [15] . اسى طرح رجوع کريں [16]. طلحہ اور زبير نے اپنے مرضي سے ميرے ہاتھوں پر بيعت کىے ليکن بعد ميں خىانت كى بنىاد پر انھوں نے بىعت توڑ دے اور عائشہ کو بہکا کر اپنے همراه بصرہ لے گئے تاکہ مسلمانوں کے درميان تفرقہ ڈال سکھين ۔


کسي اور خطبے ميں مسلمانوں کے درميان پيش آمدہ صورت حال پر اپنے نارضگي اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہيں۔ چنانچه آپ اسى كى طرف اشارۃ كرتے هو فرماتے هىں ۔ فرأيت أن الصبر على ذلك أفضل من تفريق كلمة المسلمين و سفك دمائهم و الناس حديثو عهد بالإسلام و الدين يمخض مخض الوطب يفسده أدنى وهن و يعكسه أقل خلف - [17] ميں نے مسلمانون کے آپس ميں تفرقہ اور خونريزي سے صبر کو بہتر سمجھا جبکہ لوگ نئے مسلمان ہوئے تھے دين اس مشک کي طرح ہے ہ جس کو حرکت دي جاتي ہے اور تھوڑي سي تساہلي اس کو برباد کر ديتي ہے ؛اور معمو لي سا انسان اسکو تہس نہس کر ديتا ہے ۔ يہ ہيں امير المؤمنين ناکثين کے فتہ پردازي اور تفرقہ بازي کو ديکھ کر آپکي چيخ اٹھي ہے اور اسکے ناقابل جبران نقصان سے مسلمانوں کو آگاہ کرنے کي کو شش کرتے ہيں کہ اس فتنہ پروري اور خونريزي کا نتيجہ دين کا ضائع ہونا اور اسلام کي بربادي ہے

چوتھا موقف : منافقين کا مطالبہ اور اسکا رد عمل

سقيفہ کے بعد رہبري کے مسئلے ميں جو بحراني حالت پيش آيا تھا جسکے نتيجے ميں مسلمانوں کے درميان شگاف پڑنے کا خطرہ بہت زيادہ تھا اور عملي طور پر دو گرہوں ميں تقسيم ہو چکے تھے بعض نے ابوبکر کے ہاتھوں پر خواستہ يا نا خواستہ بيعت کئے تھے جبکہ بعض افراد انکو اس منصب کا لائق نہيں سمجھتے تھے اور امر المؤمنين کو خدا کا منصوص خليفہ سمجھتے تھے ۔ اورجب سردار منافقين ابو سفيان نے اس بحراني حالت کا جائزہ ليا اور ستون اسلام کو منہدم کرنے اور جر سے اكھاڑ دىنے کا يہي بہترين موقعہ سمجھا چنانچہ اس سوچ ميں امير المؤمنين کے پاس آتا هے اورہم درد بن کر فتنہ برپا کرنا چاہتا ہے اور مولا امیر علیہ السلام کو بھڑکانے کی کوشش کرتا ہے اور کہتا ہے دیکھو انہین تمھارے حق کو پائمال کرتے ہوے اسے غصب کیا هے اگر آپ قيام کرئے تو آپکے لئے سپاہي تيار کرنا ميري ذمداري ہے ميں ہزارون جنگجو تيار کرلوںگا ليکن امير المؤمنين ابوسفيان جيسوں كے ناپاک نيتوں سے بخوبي واقف تھے چنانچہ آپنے فرمايا - أَيُّهَا النَّاسُ شُقُّوا أَمْوَاجَ الْفِتَنِ بِسُفُنِ النَّجَاةِ وَ عَرِّجُوا عَنْ طَرِيقِ الْمُنَافَرَةِ وَ ضَعُوا تِيجَانَ الْمُفَاخَرَةِ أَفْلَحَ مَنْ نَهَضَ بِجَنَاح۔ اے لوگو ! فتنوں کي موجون کو نجات کي کشتيوں سے چير کر نکل جاؤ تفرقہ اور انتشار کي راہوں سے اپنا منھ موڑ لو؛ فخر ومباہات کے تاج اتار دو کہ کاميابي اسي کا حصہ ہے جو اٹھے تو بال وپر کے ساتھ اٹھے ۔پہر آپ فرماتے ہيں - وَ اللَّهِ لَابْنُ أَبِي طَالِبٍ آنَسُ بِالْمَوْتِ مِنَ الطِّفْلِ بِثَدْيِ أُمِّهِ بَلِ انْدَمَجْتُ عَلَى مَكْنُونِ عِلْمٍ لَوْ بُحْتُ بِهِ لَاضْطَرَبْتُمْ اضْطِرَابَ الْأَرْشِيَةِ فِي الطَّوِيِّ الْبَعِيدَةِ [18] خدا کي قسم فرزند ابي طالب موت سے اسي طرح مانوس ہے جس طرح بچہ ماں کے پستان سے مانوس ہوتا ہے ليکن ميرے سينہ کي تہيوں مين ايک ايسا پوشيدہ علم ہے جو مجھے رکئے ہوئے ہے ۔

يعني امير المؤمنين ابو سفيان اور منافقين کو يہ سمجھنا چاہتے ہيں کہ اگر ميں نے خاموشي اختيار کي ہے توموت کي ڈر سے يابے سہارا ہو نے کہ وجہ سے نہيں بلکہ مصلحت کي بناپر ہے اس وقت قيام کرنا اسلام اورمسلمانوں کے وجود کو خطرے ميں ڈالنے کے برابر ہے لہذا مزيد اس فتينے بھڑکانے کے بجائے صبر و بردباري سے کام لو ـ اسي طرح کسي اور مقام پر ابو لہب کے اولاد ميں سے کسي نے آپکي فضيلت اور آپکے مخالفين کي مذمت ميں اشعار پڑنا شروع کيا تو آپنے اسکو ايسے اشعار پڑھنے سے کہ جس ميں حکومت کے خلاف اکسانے کي بوپائي جاتي تھي منع کيا اور فرمايا ۔ سلامة الدين أحب إلينا من غيره مجھے اسلام کي بقاء اور دوام دوسري تمام چيزوں سے زيادہ عزيز ومحبوب ہے۔ [19].

پانچواں موقف:شوراي اور آپکا رد عمل

ابن ابي الحديدخطبہ شقشقيہ کي شرح ميں تحرير فرماتے ہيں؛ شوراي کے واقعہ ميں چونکہ جناب عباس جانتے تھے کہ کيا نتيجہ نکلے گا اس لئے على سے پيش کش کي کہ آپ شورا کي جلسہ ميں شرکت نہ فرمائيں ليکن آپ باوجود يکہ عباس کے ساتھ متفق تھے اور انکو تائيد فرما رہے تھے ان کي پيش کش قبول نہين کي اور آسکا عذر يہ پىش تھا ـ اني اکرہ الخلاف۔ مجھے اختلاف پسند نہىں ہے اس وقت عباس نے کہا ـ اذن تري ما تکرہ ـپس وہي سامنے آئے گا جسکو آپ ديکھنا نہىں چاہتے ـ [20].


اور جب اس شوراي ميں عبدالرحمن بن عوف جنکو جناب عمر نے ويٹو کا حق عطا کيا تھا وہ يہ کہ چھے آدميون ميں دو دو ايک کے ساتھ ہوجائے تو عبدر رحمن جسکے سائٹ لے گا وہي خليفہ بنے گا ? اور جب عبد الرحمن کي طرف سے عثمان انتخاب ہوا تو آپ نے فرمايا ۔ لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَحَقُّ النَّاسِ بِهَا مِنْ غَيْرِي وَ وَ اللَّهِ لَأُسْلِمَنَّ مَا سَلِمَتْ أُمُورُ الْمُسْلِمِينَ وَ لَمْ يَكُنْ فِيهَا جَوْرٌ إِلَّا عَلَيَّ خَاصَّة « تم سب بہتر جانتے ہو کہ ميں اس خلافت کا سب سے زيادہ حقدار ہوں ليکن خدا گواہ ہے جب تک مسلمانوں کے امور منظم رہے اور صرف ميري ہي ذات ظلم وجور کا نشانہ بنے تو ميں خاموش رہو گا صبر وبردباري سے کام لوں گا جب آپنے يہ فرمايا تو سعد بن ابي وقاص نے کہا اے فرزند ابو طالب آپ خلافت کے لالچي ہيں تو آپ فرماتے ہيں ميں نے اسے کہا -وَ قَدْ قَالَ قَائِلٌ( سعد ابن ابي وقاص ) إِنَّكَ عَلَى هَذَا الْأَمْرِ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ لَحَرِيصٌ فَقُلْتُ بَلْ أَنْتُمْ وَ اللَّهِ لَأَحْرَصُ وَ أَبْعَدُ وَ أَنَا أَخَصُّ وَ أَقْرَبُ وَ إِنَّمَا طَلَبْتُ حَقّاً لِي وَ أَنْتُمْ تَحُولُونَ بَيْنِي وَ بَيْنَهُ وَ تَضْرِبُونَ وَجْهِي دُونَهُ فَلَمَّا قَرَّعْتُهُ بِالْحُجَّةِ فِي الْمَلَإِ الْحَاضِرِينَ هَبَّ كَأَنَّهُ بُهِتَ لَا يَدْرِي مَا يُجِيبُنِي بِهِ [21]– خدا کي قسم تم لوگ خلافت کے لالچي ہو اور تم پيغمبر سے دور ہو جبکہ يہ منصب ميرے لئے مخصوص كىا گىا ہے اور رسول اﷲ سے قريب ترين شخص بھي ہوں ميں نے اپنے حق کا مطالبہ کيا ہوں ليکن تو لوگ میرے اور اس کے درمیان حائل ہو گئے ہو اور مجھے اپنے قطعی حق سے محروم کر رہے ہو ۔کیا وہ انسان جو اپنا حق طلب کرے وہ لالچی ہے یا وہ شخص جو دوسروں کے حق پر آنکھ لگاے ہے وہ لالچی ہے ؟ جب میں نے بھرے مجمع میں حجت ودلیل سے اسکی بولتی بن کر دی تو اس وقت اسکی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ مجھے کیا جواب دے دین ۔

پھر آپ فرماتے ہیں۔ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَعْدِيكَ عَلَى قُرَيْشٍ وَ مَنْ أَعَانَهُمْ فَإِنَّهُمْ قَطَعُوا رَحِمِي وَ صَغَّرُوا عَظِيمَ مَنْزِلَتِيَ وَ أَجْمَعُوا عَلَى مُنَازَعَتِي أَمْراً هُوَ لِي‏ [22]. « پروردگارا ! میں قریش اور انکے ہمنواؤں کے ظلم کے لئے شکایت کنان ہوں ان لوگوں نے مجھ سے قطع رحم کیا میری عظمت ومنزلت کو گٹھا یا اور مجھ سے اس منصب کے لئے جھگڑا کیا کہ جسکا میں واقعاً حقدار تھا ۔ یہ ہے امیر المؤمنین على کی سرت طیبہ ؛ آپکی شخصیّت تاریخ اسلا م میں مظلوم ترین شخصیت ہے لیکن آپنے دیکھ لیا کہ آپ نے ہر موڑ پر ہر قدم پر نہ صرف اپنے آپکو اپنے اہل و عیال کی عزت و آبرو کو اپنے مسلم حق وحقوق کو اتحاد اتقاق کے راہ میں خرچ کیا بلکہ برابر دوسروں کو بھی قولاً اور عملاً اتحاد کی طرف دعوت دیتے رہے ۔ اورهرممکنہ کوشش سے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو حفظ کرنے کے درپے رہیں اور کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا جسے امت مسلمہ کی شیرازہ بکھر جائے ۔اور كبھى بھى ناكثىن قاسطىن اور مارقىن مىں سے كسى كو شرك ونفاق كى نسبت نهىں دىا بلكه برابر فرماتے رهتے تھے ۔۔۔۔۔ هُمْ إِخْوَانُنَا بَغَوْا عَلَيْنَا ۔۔ [23].

همارے دىنى بھىوں نے همارے ساتھ بغاوت كى اور هم پر ظلم كىا ۔ اور لوگوں كو تفرقه اور اختلاف كے نقصانات اور اتحاد اور وحدت كلمه كے فوائد كى طرف متوجه كرتے رهىں آپ كسى قوم و ملت كى ترقى و تمدن اور عزت و سربلندى اور سر فرازى كى علت بىان كرتے هوئے فرماتے هىں ۔فَإِذَا تَفَكَّرْتُمْ فِي تَفَاوُتِ حَالَيْهِمْ فَالْزَمُوا كُلَّ أَمْرٍ لَزِمَتِ الْعِزَّةُ بِهِ شَأْنَهُمْ وَ زَاحَتِ الْأَعْدَاءُ لَهُ عَنْهُمْ وَ مُدَّتِ الْعَافِيَةُ بِهِ عَلَيْهِمْ وَ انْقَادَتِ النِّعْمَةُ لَهُ مَعَهُمْ وَ وَصَلَتِ الْكَرَامَةُ عَلَيْهِ حَبْلَهُمْ مِنَ الِاجْتِنَابِ لِلْفُرْقَةِ وَ اللُّزُومِ لِلْأُلْفَةِ وَ التَّحَاضِّ عَلَيْهَا وَ التَّوَاصِي بِهَا۔ [24]. «  اگر آپنے اقوام كے بُرے اور اچھے دونوں حالات پر غور كر لىا هے تو اب اىسے امور كو اختىار كرو جن كى بنا پر غزت همىشه ان كے ساتھ رهى ۔ دشمن ان سے دور رهے ٬ عافىت كے دامن ان كى طرف پھلا دىا گىا نعمتىں ان كے لئے زىاده هوگئى اور كرامت وشرافت نے انسے اپنا رشته جوڑ لىا ( ىه سارى نعمتىں اس وجه سے ) چونكه انھوں نے تفرقه اور اختلاف سے پرهىز كىا ٬ خود الفت ومحبت پر پاىئدار رهے اور دوسروں كو بھى اسى راه و رسم كى طرف دعوت دىتے رهے ۔

اسى طرح كسى قوم كى ذلت وپستى اور زوال ونابودى كى علت بىان كرتے هوئے فرماتے هىں ۔ وَ اجْتَنِبُوا كُلَّ أَمْرٍ كَسَرَ فِقْرَتَهُمْ وَ أَوْهَنَ مُنَّتَهُمْ مِنْ تَضَاغُنِ الْقُلُوبِ وَ تَشَاحُنِ الصُّدُورِ وَ تَدَابُرِ النُّفُوسِ وَ تَخَاذُلِ الْأَيْدِ« اور جس چىز نے انكے كمر ٹوڑ دى ٬ انكى قوتىں برباد كردى اسے دورى اختىار كر ٬ اور وه چىز جو انكےدلوں مىں كىنه توزى سىنوں مىں دشمنى ٬ نفوس كا اىك دوسرے سے اختلاف اور اىك دوسرے كى مدد سے هاتھوں كا رك جانے كا سبب بنى ۔ اور جسنے انكى شوكت خاك مىں ملا دىا اور انھىں ذلت وپستى كے غار مىں دكھىل دىا ۔وه وحدت و الفت كے اور اختلاف وتفرقه تھى ۔


اىسا هى باقى ائمه كے زندگى مىں بھى ىهى صورت حال تھى اور انكے بھى ىهى سىرت تھى ۔ چنانچه امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علىما السلام اپنے ماننے والوں كو اتحاد اور وحدت كى تحفظ كے خاطر اھل سنت برادران كے ساتھ محبت ودوستى كے ساتھ پىش آنے انكے جمعه وجماعات اور عبادت كے محفلون مىں شرىك هونے كى شفارش كرتے تھے اور وحدت كلمه كى تحفظ كے خاطر تقىه اور مدارات سے پىش آنے كو فرماتے تھے چنانچه امام صادق علىه السلام سے رواىت هے آپ فرماتے هىں ۔ َ مَنْ صَلَّى مَعَهُمْ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ كَانَ كَمَنْ صَلَّى خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ ص فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ [25]. اگر كوئى انكے اهل سنت برادران ) پهلے صف مىں كھڑے هوكر نماز پڑھے تو گوىا اسنے رسول الله كے پىچھے پهلے صفمىں كھڑے هو كر نماز ادا كى هے۔ اور آپكے مجلس درس وحدت اتحاد مسلمىن كے خوب صورت ترىن منظر دكھائى د ىتى هے كه جس مىں مختلف مذاهب كے ائمه اور بنىاد ركھنے والے حضرت شركت كرتے تھے اور منبع فىض آل محمدص سے سىراب هوتے تھے (رجوع كرىن تھذىب التھذىب ج 1 ص 4 ۔) پس اگر ہم اپنے آپ کو انکے نقش قدم پر چلنے والے اور انکو اپنا خلیفہ سمجھتے ہیں تو آئیں دیکھے ہم کس حد تک انکی سیرت طىبه پر چل رہے ہیں اور مسلمانوں کو متحد کرنے کے لئے سعی کرتے ہیں اور اس راہ میں کس حد قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ۔ خدا ہم سب کو پیغمبر گرامی اسلام اور امیر المؤمنین علي کے سیرت طیبہ پر چلنے کی توفیق عطا فرماے ۔

حوالہ جات

  1. ↑ (ابن ہشام : السیرہ النبوی :ج 2 ص 147 - 150 مطبع المصطفی الباقی قاہر ہ)
  2. ↑ (ابن ہشام : السیرہ النبویة ؛ج 2 ص 150 . اورمجلسی : بحار الانوار ج 19 ص 130).
  3. ↑ (ابن هشام : السيره النبوية ؛ج 2 ص 150 . اور عسقلاني : الإصابه؛ج 2 ص 507 طبع بيروت دار ا التراث العربي 1328ق . بحارالأنوار ج : 8 ص :1 .)
  4. ↑ (محمد تقي هندي : كنز العمال ؛ج 1 ص 206 حديث نمبر 1028 . )
  5. ↑ اتحاد اسلامى در آثار مطھرى:ص 18۔).
  6. ↑ (نهج البلاغة خطبه نمبر 2 .)
  7. ↑ (نهج البلاغه خطبه نمبر 144)
  8. ↑ (اس حديث كو نهج البلاغه خطبة نمبر22 كے ذىل مىں ابن ابي الحديد اپنى كتاب :شرح نهج البلاغة ج 1 ص 307 .مىں نقل كىا هے اوراصول كافى : ج 1 ص 223 مىں بھى دىكھ سكھتے هىں ")
  9. ↑ (ابن ابي الحديد :شرح نهج البلاغة ج 1 ص 307 . .اور كافى : ج 1 ص 223 )
  10. ↑ (الطبري تاريخ طبري:ج 2 ص 198 . واعلام النساء ج 3 ص 207 .)
  11. ↑ (عبد الكريم شهرستاني : الملل والنخل ج 1 ص 57 مطبعة دار المعرفه بيروت . اور انساب الاشراف ج 10 ص 404 . )
  12. ↑ (شرح ‏نهج ‏البلاغة ج 11 ص 112 خطبه نمبر 211 ـ)
  13. ↑ (نهج البلاغه خطبه نمبر 3 ۔)
  14. ↑ (نهج البلاغه خطبة نمبر22 . اور ابن ابي الحديد :شرح نهج البلاغة ج 1 ص 307 .)
  15. ↑ (نهج البلاغه خطبة نمبر22 . اور ابن ابي الحديد :شرح نهج البلاغة ج 1 ص 307
  16. ↑ نہج البلا غہ خطبہ نمبر 172
  17. ↑ (شرح‏ نهج ‏البلاغة ج : 1 ص : 308)
  18. ↑ (نهج‏البلاغة خطبه نمبر 5 ص : 53)
  19. ↑ (شہيد مطھري : مطالعہ نہج البلاغہ :ص 2 4 ـ 213 : ترجمہ نثار احمد زينپوري ؛مجمع حھاني اہل البيت طبع دوئم ْ1442 ھ ـ )
  20. ↑ (شہيد مطھري : مطالعہ نہج البلاغہ :ص 2 4 ـ 213 : ترجمہ نثار احمد زينپوري ؛مجمع حھاني اہل البيت طبع دوئم ْ1442 ھ ـ )
  21. ↑ (خطبه نمبر 74)
  22. ↑ (خطبه نمبر: 172)
  23. ↑ (وسائل ‏الشيعة ج : 15 ص : 3).
  24. ↑ (نهج البلاغه خطبه نمبر: 192 ۔)
  25. ↑ (کشف الغمه في معرفة الأئمة ج .1 ص 431 كا مراجعه كرين.)