آپریشن صاعقہ
| آپریشن صاعقہ | |
|---|---|
| واقعہ کی معلومات | |
| واقعہ کا نام | آپریشن صاعقہ |
| واقعہ کی تاریخ | واقعہ کی تاریخ = 22 تیر 1405 ہجری شمسی، بمطابق 13 جولائی 2026ء، 28 محرم الحرام 1448ھ |
| عوامل | سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ اور ایرو اسپیس فورس کا امریکی جاریحیت کا جواب |
| اہمیت کی وجہ | ریاستہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے ایران کے جنوبی علاقوں پر فوجی حملوں کا جواب؛ خطے میں امریکہ کے اسٹریٹجک فوجی اڈوں کو نشانہ بنانا |
| نتائج | ایران اور امریکہ کے درمیان تصادم کے دائرۂ کار میں توسیع؛ امریکہ کے لاجسٹک اور کمانڈ مراکز کو نشانہ بنایا جانا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی بازدارندگی میں اضافہ |
آپریشن صاعقہ ، اسلامی انقلابی گارڈز (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی) کے آپریشن نصر ۲ کے ساتھ بیک وقت، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج (آرٹیش) کی جانب سے انجام دیا گیا۔ اس آپریشن میں ایرانی فوج نے خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کے خلاف اپنے ڈرون حملوں کا آغاز کیا۔
ساتواں مرحلہ
آپریشن صاعقہ کے ساتویں مرحلے میں اردن کے الازرق فوجی اڈے پر موجود F/A-18 جنگی طیاروں کی تعیناتی کی جگہ، فوجیوں کی رہائشی عمارتیں، اور امریکی فوج کے ساز و سامان کی دیکھ بھال کے لیے استعمال ہونے والے بڑے گودام ایرانی خودکش ڈرونز کا نشانہ بنے۔
آٹھواں مرحلہ
آپریشن صاعقہ کے آٹھویں مرحلے میں اسی فوجی اڈے کو دوسری مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں F/A-18 جنگی طیاروں کے ہینگرز اور ان سے متعلق معاونت و لاجسٹک مراکز پر ایرانی فوج کے ڈرونز نے حملہ کیا۔
کسی ایک مخصوص فوجی اڈے پر مسلسل حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کی عملیاتی صلاحیت کو بتدریج کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ ہینگرز، فوجی ساز و سامان کے ذخیرہ گاہوں اور فوجیوں کی تعیناتی کے مقامات کو نشانہ بنانے سے اس اڈے کی جنگی استعداد کی بحالی اور فضائی یونٹوں کی فوری دوبارہ تعیناتی کے عمل میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
نواں مرحلہ
آپریشن صاعقہ کے نویں مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے خودکش ڈرونز نے دشمن کی جانب سے ایران کے بعض علاقوں اور بمپور، ایرانشہر کی فوجی چھاؤنی پر کیے گئے حملوں، جن کے نتیجے میں ایرانی بری فوج کے سات صوبیداروں اور سپاہیوں نے جامِ شہادت نوش کیا، کے جواب میں اردن کے الازرق فوجی اڈے پر واقع امریکی فوج کے مستقل ریڈار اسٹیشن، مواصلاتی نظام اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔
الازرق فوجی اڈا امریکی میزائل شکن دفاعی نظاموں کی تعیناتی کا مرکز اور مغربی ایشیا میں امریکی افواج کے اہم ترین اسٹریٹجک اور کمانڈ مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایرانی فوج نے ایرانشہر میں مستقل اور وظیفہ پر مامور فوجی اہلکاروں کی رہائش گاہ پر دشمن کے وحشیانہ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں دشمن کی غیر انسانی فطرت کا مظہر قرار دیا۔ فوج نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جرائم کبھی بھی تاریخ کے حافظے سے محو نہیں ہوں گے، اور مزید کہا کہ:
"فوج میں وطن کے فرزند عوام پر اپنی جان نچھاور کرنے والے اور ایران کی سلامتی کے محافظ ہیں۔ وہ ملت اور اسلامی وطن کے دفاع اور اپنے عزیز شہداء کے خون کا انتقام لینے کے مقدس فریضے سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔"[1]۔
دسواں مرحلہ
آپریشن صاعقہ کے دسویں مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج (آرٹیش) کے آرش ڈرونز نے کویت کے علی السالم فوجی اڈے پر امریکی فوج کے ریڈار نظام، پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام اور ایندھن کے ذخائر کو نشانہ بنایا۔ پیٹریاٹ دفاعی نظام اس فوجی اڈے، نقل و حمل کے طیاروں اور جدید ڈرونز، بالخصوص MQ-9، کے دفاع کی ذمہ داری انجام دے رہا تھا۔
اسی دوران حملوں کی ایک اور لہر میں بحرین کے شیخ عیسیٰ فضائی اڈے پر قائم امریکی فوج کے دفاعی مقام میں موجود مواصلاتی اور ریڈار نظام، جن میں سپر ہاک ریڈار اور پیٹریاٹ دفاعی نظام شامل تھے، ایرانی فوج کے ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔
یہ فوجی اڈا امریکی طیاروں کی معاونت اور لاجسٹک سرگرمیوں کا بھی ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے، جسے ایرانی فوج اور سپاہ کے کامیاب ڈرون اور میزائل حملوں کے نتیجے میں نمایاں نقصان پہنچا۔
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن کی جسارت، دھمکیاں اور جارحیت ہمارے دفاعی عزم اور طاقت میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔ فوج کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی فوجی قوت عوام کی حمایت، جنگی صلاحیت، عظیم شہداء کی شجاعت اور قیادت کی رہنمائی پر استوار ہے، اور قومی مفادات و اسلامی جمہوریہ ایران کے حق کے دفاع کے لیے قرآن کریم کے فرمان "أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ"۔ کے مطابق دشمن کے مقابلے میں پوری استقامت کے ساتھ کھڑی ہے۔
گیارھواں مرحلہ
دشمن کی جانب سے شہری بنیادی ڈھانچے اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے جواب میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے آپریشن صاعقہ کے گیارھویں مرحلے میں بحرین کے الصخیر فوجی اڈے پر امریکی فوج کے ہیلی کاپٹروں اور P-8 جاسوس طیاروں کی تعیناتی کی جگہ کو آرش خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے اس بات پر زور دیا کہ اس خداداد وطن کی سلامتی اور آزادی ہماری سرخ لکیر ہے، اور دشمن کی ہر شرارت کا فوری، فیصلہ کن اور متناسب جواب دیا جائے گا۔ فوج نے مزید کہا کہ ایرانی قوم کے عزم، فوج اور سپاہ کی جنگی صلاحیت کا غلط اندازہ دشمن کے لیے نہایت مہنگا ثابت ہوگا[2]۔
بارھواں مرحلہ
ایرانی فوج کے بیان کے مطابق آپریشن صاعقہ کا بارھواں مرحلہ کویت میں واقع امریکی فوج کے اڈوں اور مراکز کے خلاف ڈرون حملوں پر مشتمل تھا۔ اس مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے چند گھنٹے قبل امریکی فوج کے لاجسٹک اور امدادی مراکز کو خودکش ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کارروائی دشمن کی جارحانہ کارروائیوں کے جواب اور وطن کے شہداء کے پاک خون کا انتقام لینے کے لیے انجام دی گئی۔
اس مرحلے میں آرش خودکش ڈرونز نے کویت میں امریکی فوج کے اہلکاروں کی تعیناتی کے مقامات اور لاجسٹک سپورٹ مراکز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے مزید کہا کہ ہم اپنی تاریخی میراث، عوامی حمایت، عسکری تجربے اور مکمل جنگی تیاری کے سہارے ہر قسم کے دباؤ اور دھمکی کا پوری ہوشیاری اور اقتدار کے ساتھ مقابلہ کریں گے، اور ہمیں یقین ہے کہ یہ قدیم سرزمین اور تاریخ ساز و بہادر ایرانی قوم اللہ تعالیٰ کی نصرت سے اپنے مکار دشمن پر غالب آئے گی۔ بیان میں یاد دلایا گیا کہ آپریشن کے گزشتہ مرحلے میں بحرین میں امریکی فوج کے فوجی لاجسٹک ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔
تیرھواں مرحلہ
آپریشن صاعقہ کے تیرھویں مرحلے میں ایرانی بحریہ کے میزائل نظام نے ساحل سے سمندر تک مار کرنے والے کروز میزائل کے ذریعے شمالی بحرِ ہند میں دشمن کے ایک معاند بحری جہاز کو نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے اس کارروائی کو ہمیشہ بہادر رہنے والے جنگی جہاز دنا کے شہداء کی یاد سے منسوب کرتے ہوئے کہا کہ بحریہ کی جانب سے کروز میزائل داغے جانے کے بعد دشمن کے بحری جہاز میں خوف و ہراس پھیل گیا اور وہ ایرانی بحریہ کے جانبازوں کی مار سے دور ہٹنے پر مجبور ہوگیا[3]۔
چودھواں مرحلہ

آپریشن صاعقہ کے چودھویں مرحلے میں اردن اور کویت میں واقع امریکی فوج کے اڈوں اور اسٹریٹجک مراکز کو اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے خودکش ڈرونز نے نشانہ بنایا۔
ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ امریکی فوج کے اسٹریٹجک اثاثوں، کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، لاجسٹک انفراسٹرکچر اور فضائی دفاعی نظاموں پر مؤثر اور بھرپور جواب کے تسلسل میں چودھویں مرحلے کے دوران ڈرونز نے کویت کے العُدیری کیمپ میں امریکی فوج کے اسلحہ ڈپو، علی السالم فوجی اڈے پر قائم ہیڈکوارٹر کی عمارتوں، اسلحہ کے گوداموں اور متعدد مواصلاتی پلوں کو نشانہ بنایا۔
العُدیری کیمپ امریکی افواج کی سپورٹ اور جنگی تنظیمِ نو کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے، جبکہ علی السالم فوجی اڈا خلیج فارس کے خطے میں امریکی فضائی کارروائیوں کی معاونت اور ہم آہنگی کا ایک بڑا مرکز ہے۔
ان حملوں کے تسلسل میں اردن کے الازرق فوجی اڈے پر امریکی فوج کے ایندھن کے ذخائر بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔ الازرق فضائی اڈا اپنی جغرافیائی اہمیت، جدید عسکری تنصیبات اور امریکہ کی وسیع سرمایہ کاری کے باعث امریکہ کے لیے ایک نہایت اہم فوجی مرکز سمجھا جاتا ہے، جو مغربی ایشیا میں فوجی کارروائیوں اور علاقائی نگرانی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
ایرانی فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ عظیم ایرانی قوم کی غیرت، ایثار اور قربانی کی وارث ہے، اور جو بھی طاقت ایرانی قوم کے عزم کو آزمانے کی کوشش کرے گی، اسے مسلح افواج اور اس قدیم سرزمین کے بہادر اور استقامت شعار عوام کے مضبوط ارادے کا سامنا کرنا پڑے گا[4]۔
پندرھواں مرحلہ
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے آپریشن صاعقہ کے پندرھویں مرحلے میں بحرین میں واقع امریکی مراکز اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی اطلاع دی۔ عالمی استکبار کے جرائم کے جواب میں اور شہداء، بالخصوص ملک کے جنوبی علاقوں کے عزیز شہداء کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے، آپریشن صاعقہ کا پندرھواں مرحلہ انجام دیا گیا۔
اس مرحلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے خودکش ڈرونز نے بحرین کے شیخ عیسیٰ فوجی اڈے پر امریکی فوج کے طیاروں کے ہینگر اور پارکنگ ایریا، ایندھن کے ذخائر اور بحرین میں موجود چند مواصلاتی پلوں کو نشانہ بنایا۔
بحرین کے جنوب میں واقع شیخ عیسیٰ فضائی اڈا امریکی فضائیہ اور بحریہ کے اہم ترین عملیاتی اور لاجسٹک مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس اڈے میں موجود اہم تنصیبات اور عسکری سازوسامان کے باعث یہ خطے میں امریکی کارروائیوں، خصوصاً ایران کے خلاف ممکنہ آپریشنز، کے لیے ایک اہم سہارا سمجھا جاتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے حالیہ دشمنانہ حملوں میں شہید ہونے والے مظلوم شہداء کی یاد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ: ایران کا سربلند جنوب، آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران اس خطے کے بہادر عوام کے دفاع و استقامت اور آج دشمن کے جرائم کے مقابلے میں ان کی ثابت قدمی کی روشن علامت ہے۔ ہم ان غیور عوام اور ایران کی عظیم ملت کے ہر فرد پر اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، اور اس سرزمین کے دفاع کے لیے اپنے سپاہی ہونے کے فرض پر فخر کرتے ہیں[5]۔
سولھواں مرحلہ
آپریشن صاعقہ کے سولھویں مرحلے میں کویت کے علی السالم اور العُدیری فوجی اڈے اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے بڑے پیمانے پر کیے گئے خودکش ڈرون حملوں کا نشانہ بنے۔
دشمن کی مسلسل جارحیت، بے گناہ ہم وطنوں کی شہادت، پلوں، بنیادی ڈھانچے اور غیر فوجی علاقوں پر حملوں کے جواب میں، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے چند گھنٹے قبل آپریشن صاعقہ کے سولھویں مرحلے کے دوران العُدیری کیمپ میں امریکی فوج کے اسلحہ ڈپو، اور علی السالم فوجی اڈے پر نصب پیٹریاٹ ریڈار اور فضائی نگرانی کے ریڈار کو بڑے پیمانے پر خودکش ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
العُدیری کیمپ امریکی فوج کے اہم علاقائی اڈوں میں سے ایک ہے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحد سے تقریباً ۱۰۴ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور امریکی افواج کی لاجسٹک معاونت اور دوبارہ تنظیم کا ایک اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس اڈے کی کارکردگی میں خلل امریکی فوج کی علاقائی سپورٹ کارروائیوں پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔
اسی طرح علی السالم فضائی اڈا خطے کے اہم ترین فوجی اڈوں میں شمار ہوتا ہے، جو فضائی نقل و حمل کا مرکزی مرکز اور مغربی ایشیا میں فوجی دستوں کی آمد کا اہم دروازہ ہے، اور امریکی فوج کی علاقائی عسکری و لاجسٹک حکمتِ عملی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے[6]۔
سترھواں مرحلہ
بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور دشمن کی جانب سے غیر فوجی علاقوں میں کیے گئے جرائم کے بعد، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے ڈرون حملوں کے ایک نئے سلسلے اور آپریشن صاعقہ کے سترھویں مرحلے میں آج علی الصبح دوبارہ العُدیری کیمپ میں امریکی فوج کے اسلحہ ڈپو، اور کویت کے علی السالم فوجی اڈے پر امریکی فوج کے سازوسامان اور اہلکاروں کے لیے استعمال ہونے والے بڑے گوداموں کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے زور دے کر کہا کہ: ہماری جنگ ایران کی حقیقی شناخت، اس کی ہزاروں سال پرانی تاریخ، اور ایسے عوام کے دفاع کے لیے ہے جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں نہ ظلم کرتے ہیں اور نہ ظلم قبول کرتے ہیں۔ اسی عقیدے کے تحت فوج کے مجاہدین ایران اور انسانیت کے دشمنوں کے مقابلے میں اپنے معزز عوام کے دفاع کے لیے پوری استقامت اور ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہیں[7]۔
متعلقہ تلاشیں
- امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ (۲۰۲۶ء)
- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
- آپریشن نصر ۲
- آبنائے ہرمز
- بحرین
- کویت
- اردن
حوالہ جات
- ↑ اجرای مرحله نهم عملیات صاعقه ارتش/حمله پهپادی به پایگاه آمریکا در اردن-شائع شدہ از: 25 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 جولائی 2026ء
- ↑ مرحله یازدهم عملیات صاعقه ارتش با موفقیت انجام شد -شائع شدہ از: 26 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 جولائی 2026ء
- ↑ مرحله سیزدهم عملیات صاعقه ارتش؛ شلیک موشک کروز به سمت شناور دشمن متجاوز آمریکایی-26 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 جولائی 2026ء
- ↑ مرحله چهاردهم عملیات صاعقه؛ پایگاههای آمریکا در اردن و کویت، آماج حملات پهپادی ارتش-شائع شدہ از:27 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 جولائی 2026ء
- ↑ مرحله پانزدهم عملیات صاعقه ارتش | مراکز و پایگاه آمریکا در بحرین هدف حملات پهپادی ارتش جمهوری اسلامی ایران قرار گرفت-شائع شدہ از:27 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ: 28جولائی 2026ء
- ↑ مرحله شانزدهم عملیات صاعقه ارتش | ۲ پایگاه مهم آمریکا در کویت آماج حملات پهپادهای انهدامی ارتش-شائع شدہ از:28 تیر 1405ش-اخذ شدہ بہ تاریخ:28جولائی 2026ء
- ↑ مرحله هفدهم عملیات صاعقه ارتش؛ ادامه حملات پهپادهای ارتش به پایگاههای آمریکا در کویت-شائع شدہ از: 28 تیر 1405ش -اخذ شدہ بہ تاریخ: 28 جولائی 2026ء