ماه صفر2.png

صفر (صفر الخیر یا صفر المظفر) اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے۔ صفر کے معنی خالی ہونے کے ہیں۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ مہینہ محرم کے مہینے کے بعد ہے اور زمانہ جاہلیت میں چونکہ لوگ محرم میں جنگ نہیں کرتے تھے اور یہ مہینہ جنگ کے لئے حرام تھا، اس لئے صفر کے شروع ہوتے ہی لوگ جنگ کی طرف رجوع کرتے تھے اور گھر خالی ہو جاتے تھے اس لئے اس مہینے کو صفر کا نام دیا گیا ہے.

شیعوں کے لئے خاص اہمیت

ماہ محرم کے بعد، یہ مہینہ بھی اہل تشیع کے نزدیک غم و حزن کا مہینہ ہے، حضرت پیغمبر اکرم (ص) کی رحلت، امام حسن مجتبی (ع)، امام رضا (ع) کی شہادت اور اربعین حسینی اسی مہینے میں ہیں۔

مشہور ہے کہ صفر کا مہینہ بالخصوص اس مہینے کا آخری بدھ نحس ہے، لیکن اس کے بارے میں کوئی خاص روایت موجود نہیں ہے۔ [1]. کچھ منابع کے مطابق حضرت پیغمبر اکرم (ص) نے ماہ صفر کے بارے میں یوں فرمایا ہے: ’’جو شخص بھی اس مہینے کے ختم ہونے کی خبر مجھے سنائے گا، میں اس کو بہشت کی بشارت دوں گا.‘‘ اس روایت کی کوئی صحیح سند موجود نہیں لیکن عام طور پر اس روایت کو ابوذر غفاری سے نسبت دی گئی ہے.

صفر کی نحوست

شیعہ

کتاب مفاتیح الجنان کے مصنف شیخ عباس قمی نے ماہ صفر کے اعمال کے باب میں کہا ہے: آگاہ رہو کہ یہ مہینہ نحوست اور برائیوں کو دور کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کی نحوست کو دورکرنے کے لئے، صدقہ دینے اور دعاؤں سے بہتر کوئی چیز نہیں، اور اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس مہینے کی آفات سے محفوظ رہے جیسا کہ فیض وغیرہ نے فرمایا ہے۔ روزانہ دس مرتبہ يَا شَدِيدَ الْقُوىٰ کی دعا پڑھے۔ علامہ مجلسی نے بھی اپنی کتابوں میں 28 صفر کا ذکر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے کیا ہے۔

سنی

عبدالہادی مسعودی، قرآن و حدیث یونیورسٹی کے استاد : صفر کا مہینہ گزرنے کی بشارت دینے کی روایت شیعہ روایات کے مجموعوں میں نقل نہیں کی گئی ہے اور یہ صرف دو یا تین معاصر کتابوں میں مذکور ہے۔ ان کتابوں میں سے کسی نے بھی اس کے لیے کوئی دستاویز ذکر نہیں کی اور نہ ہی اس کے لیے کوئی پرانی یا مستند حدیث کا ماخذ پیش کیا ہے۔

اہل سنت میں سے مشہور محدث علماء نے اس خبر کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ اس خبر سے ملتی جلتی ایک حدیث متن کے ساتھ بھی نقل کی گئی ہے (مَنْ بَشَّرَنِی‏ بِخُروجِ آذارَ فَلَهُ الْجَنَّةُ) جسے اہل سنت نے بھی جعلی قرار دیا ہے۔

مولانا روم کی نظموں میں پہلی خبر کا حوالہ بغیر کسی ماخذ یا دستاویز کے نقل کیا گیا ہے لیکن انہوں نے اسے ماہ صفر کے صحیح ہونے کی دلیل نہیں سمجھا۔ مولانانے نبی کی خوشی کی وجہ صفر کا مہینہ ختم ہونا نہیں بلکہ ربیع الاول کی آمد کی بشارت کو ان کی وفات اور معراج کا افر جانا ہے۔ کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا سے ملاقات کے بارے میں ہمیشہ سوچتے ہیں۔ اور خدا کاکے عاشق ہیں ۔

میرزا جواد تبریری نے من بشرنی بخروج صفر بشّرته بالجنّة کا ذکر کیا جو کتاب المراقبات میں مذکور ہے ۔ لیکن ان کا بھی ماننا ہے اس حدیث کی سند معتبر نہیں ہے اور مشہور محدثین بھی جیسے فتنی و ابن جوزی و صغانی و مالعلی قاری اس عبارت کو اصلی نہیں مانتے ، اور بعض نے اسے واضح طور پر جعلی سمجھا ہے۔ یہ روایت اس دعوے کو ثابت کرنے کے قابل نہیں ہے اور اسے دستاویز اور متن دونوں میں سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ یہ حدیث اصلی سنی منابع میں نہیں ملتی اور بہت سے اہل سنت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے یا اسے غیر حقیقی اور من گھڑت قرار دیا ہے۔

یہ حقیقت کہ دن جیسے ہوتے ہیں اس دن ہونے والے واقعات کی وجہ سے ہو سکتے ہیں، شاید یہ عام طور پر درست ہو، لیکن کسی مہینے کے دو نحس دنوں کے حکم کو اس کے تمام دنوں پر نافذ کرنے کے لیے زیادہ مضبوط وجہ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کوئی اور حدیث ہمارے پاس نہیں ہے جس سے اس کی نحوست کو ثابت کیا جا سکتا ہو۔

ماہ صفر کے اہم واقعات

  • اسیران کربلا و شہداء کے سروں کو شام میں داخل کیا گیا۔ (1 محرم سنہ 61 ہجری)
  • شہادت امام حسن مجتبی علیہ السلام (ایک روایت کے مطابق) (7 صفر سنہ 50 ہجری)
  • ولادت امام موسی کاظم علیہ السلام (7 صفر سنہ 128 ہجری)
  • چہلم امام حسین علیہ السلام (20 محرم سنہ 61 ہجری)
  • وفات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (28 صفر سنہ 11 ہجری)
  • شہادت امام حسن مجتبی علیہ السلام (28 صفر سنہ 50 ہجری)
  • شہادت امام علی رضا علیہ السلام (آخر صفر سنہ 203 ہجری)
  • شہادت حضرت زید بن علی (2 صفر سنہ 101 ہجری)
  • بروایتے وفات بی بی فضہ (25 صفر)

حوالہ جات

  1. مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذهب و معادن الجوهر، تحقیق، داغر، اسعد، قم، دار الهجرة، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق