"سید ساجد علی نقوی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 22: سطر 22:


عراق کے بعد ایران کے شہر قم المقدسہ کے حوزہ علمیہ میں تشریف لا کر جید فقہا اور نامور مجتہدین سے کسب علم کیا۔ عراق اور ایران سے تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے اور درس و تدریس کے ساتھ قومی و ملی اور سماجی و سیاسی امور میں مشغول ہو گئے۔ متعدد ممالک میں بہت ساری بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت اور خطاب کر چکے ہیں
عراق کے بعد ایران کے شہر قم المقدسہ کے حوزہ علمیہ میں تشریف لا کر جید فقہا اور نامور مجتہدین سے کسب علم کیا۔ عراق اور ایران سے تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے اور درس و تدریس کے ساتھ قومی و ملی اور سماجی و سیاسی امور میں مشغول ہو گئے۔ متعدد ممالک میں بہت ساری بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت اور خطاب کر چکے ہیں
== سرگرمیاں ==
===  تحریک نفاظ فقه جعفریه ===
وہ پاکستان کی سب سے بڑی شیعہ تحریک نفاظ فقه جعفریه کے سربراہ بھی تھے۔ 1995 کے دور حکومت میں پابندی کے بعد یہ تحریک اسلامی کے نام سے کام کر رہی ہے۔ ایک بار پھر تحریک اسلامی پر پابندی لگا دی گئی اور شیعہ علماء کونسل کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی گئی۔ نقوی تحریک اسلامی کے مذہبی ونگ یعنی شیعہ علماء کونسل کے سربراہ بھی تھے۔ 1988 میں عارف حسین حسینی کے قتل کے بعد انہیں شیعہ علماء کی سپریم کونسل نے تحریک جعفریہ کا سربراہ منتخب کیا تھا۔


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

نسخہ بمطابق 05:50، 13 ستمبر 2023ء

سید ساجد علی نقوی
سید ساجد علی نقوی.jpg
پورا نامسید ساجد علی نقوی
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہپاکستان
مذہباسلام، شیعہ
مناصب
  • جماعت تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی سپریم کونسل کے سینئر رکن
  • اسلامی تحریک پاکستان کے بانی اور رہنما
  • عالمی اسمبلی کی سپریم کونسل کے رکن تقریب مذاهب اسلامی

سید ساجد علی نقوی راولپنڈی، پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک پاکستانی شیعہ اسلامی اسکالر ہیں۔ وہ اسلامی تحریک پاکستان کے بانی اور رہنما ہونے کے ساتھ ساتھ شیعہ علماء کونسل کے سرپرست اعلیٰ بھی ہیں. وہ عالمی اسمبلی برائے تقریب مذاهب اسلامی کی سپریم کونسل کے رکن ہیں

تعلیم

آپ نے پاکستان میں دینی مروجہ تعلیم کے بعد تعلیم کے مختلف مراحل طے کیے جن میں فاضل عربی اور درس نظامی کے کورس امتیازی پوزیشن سے پاس کیے۔ اس عرصہ میں انہوں نے اپنے حقیقی چچا اور پاکستان کے بزرگ عالم دین علامہ سید گلاب علی شاہ نقوی سے اکتساب علم کیا اور ان کے خصوصی اور لائق شاگرد کے طور پر متعارف ہوئے۔ طالب علمی کے دور سے ہی آپ کو دینی علوم کی عصری تشریح، اجتہاد، سیاسیات اور اصول فقہ کی طرف خصوصی رغبت تھی جس کی عملی شکل آپ کی عملی زندگی میں سامنے آئی۔ پاکستان سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لیے حوزہ علمیہ نجف اشرف عراق تشریف لے گئے جہاں نامور اور ماہر اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ ان شخصیات کی ہمراہی، شاگردی، صحبت اور تعلیمات نے علامہ موصوف کی علمی، فکری اور سیاسی صلاحیتوں کو چار چاند لگا دیے.

عراق کے بعد ایران کے شہر قم المقدسہ کے حوزہ علمیہ میں تشریف لا کر جید فقہا اور نامور مجتہدین سے کسب علم کیا۔ عراق اور ایران سے تعلیمی سلسلہ مکمل کرنے کے بعد واپس پاکستان تشریف لائے اور درس و تدریس کے ساتھ قومی و ملی اور سماجی و سیاسی امور میں مشغول ہو گئے۔ متعدد ممالک میں بہت ساری بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمینارز میں شرکت اور خطاب کر چکے ہیں

سرگرمیاں

تحریک نفاظ فقه جعفریه

وہ پاکستان کی سب سے بڑی شیعہ تحریک نفاظ فقه جعفریه کے سربراہ بھی تھے۔ 1995 کے دور حکومت میں پابندی کے بعد یہ تحریک اسلامی کے نام سے کام کر رہی ہے۔ ایک بار پھر تحریک اسلامی پر پابندی لگا دی گئی اور شیعہ علماء کونسل کے نام سے ایک نئی جماعت بنائی گئی۔ نقوی تحریک اسلامی کے مذہبی ونگ یعنی شیعہ علماء کونسل کے سربراہ بھی تھے۔ 1988 میں عارف حسین حسینی کے قتل کے بعد انہیں شیعہ علماء کی سپریم کونسل نے تحریک جعفریہ کا سربراہ منتخب کیا تھا۔

حوالہ جات