"بارہ امام اور بارہ خلیفے" کے نسخوں کے درمیان فرق

کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
ٹیگ: بصری ترمیم موبائل ترمیم موبائل ویب ترمیم
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 2 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 4: سطر 4:


* عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة ؛قال: سمعت النبی(ص)یقول: یکون اثنیٰ عشرامیرا، فقال کلمة، لم اسمعها،فقال ابی: انه قال: کلهم من قریش-عبد الملک نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ہے:
* عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة ؛قال: سمعت النبی(ص)یقول: یکون اثنیٰ عشرامیرا، فقال کلمة، لم اسمعها،فقال ابی: انه قال: کلهم من قریش-عبد الملک نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ہے:
میں نے رسول خدا(ص) سے سنا : آپ نے فرمایا: (میرے بعد میرے) بارہ امیر و خلیفہ ہوں گے، جابر کھتے ہیں : دوسرا کلمہ میں نے ٹھیک سے نہیں سنا لیکن بعد میں میرے پدر بزگوار نے مجھ سے کہا: وہ جملہ جو تم نے نہیں سنا وہ یہ تھا کہ وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔ <ref>صحیح بخاری ج9، کتاب الاحکام، باب(52)”استخلاف“ حدیث6796۔ صحیح مسلم ج6، کتاب الامارة، باب(11) الناس تبع القریش و الخلافة فی قریش،،حدیث 1821</ref>
میں نے رسول خدا(ص) سے سنا : آپ نے فرمایا: (میرے بعد میرے) بارہ امیر و خلیفہ ہوں گے، جابر کہتے ہیں : دوسرا کلمہ میں نے ٹھیک سے نہیں سنا لیکن بعد میں میرے پدر بزگوار نے مجھ سے کہا: وہ جملہ جو تم نے نہیں سنا وہ یہ تھا کہ وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔ <ref>صحیح بخاری ج9، کتاب الاحکام، باب(52)”استخلاف“ حدیث6796۔ صحیح مسلم ج6، کتاب الامارة، باب(11) الناس تبع القریش و الخلافة فی قریش،،حدیث 1821</ref>
* مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ہے:
* مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ہے:
جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول(ص) اللّٰہ ومعی ابی، فسمعته، یقول: لایَزَالُ هذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْها الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلهم من قریش <ref>صحیح مسلم ج 6 ،کتاب الامارہ ،باب1حدیث1821۔(کتاب الامارة کی حدیث نمبر9)</ref>
جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول(ص) اللّٰہ ومعی ابی، فسمعته، یقول: لایَزَالُ هذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْها الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلهم من قریش <ref>صحیح مسلم ج 6 ،کتاب الامارہ ،باب1حدیث1821۔(کتاب الامارة کی حدیث نمبر9)</ref>
سطر 32: سطر 32:
'''قندوزی حنفی''' اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد بعض محققین کے نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہتے ہیں: جب ہم ان احادیث  کے متعلق غور و فکر کرتے ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اکرم(ص) کے بعد بارہ خلفاء ہوں گے، تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان احادیث میں رسول اکرم(ص) کی مراد [[شیعہ|اہل تشیع]] کے بارہ امام ہیں جو سب کے سب پیغمبر اکرم کے اہل بیت میں سے ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول اس حدیث کو کسی طرح بھی خلفائے راشدین پر منطبق کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ ان کی تعداد بارہ سے کم ہے، اسی طرح اسے بنی امیہ یا بنی عباس کے سلاطین پر بھی منطبق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان دو سلسلوں میں سے ہر ایک میں بارہ سے زیادہ حکمران رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ ان میں بعض افراد نہایت ہی ظالم اور سفاک قسم کے لوگ تھے اور بعض تو بالکل اسلامی احکام کے پابند  نہیں تھے سوائے عمر بن عبدالعزیز کے۔علاوہ  از ایں  بنی امیہ، بنی ہاشم میں سے بھی نہیں ہیں جبکہ  پیغبر اکرم(ص) نے ان احادیث میں ان سب کے قبیلہ بنی ہاشم میں سے ہونے پر تاکید فرمائی ہیں۔
'''قندوزی حنفی''' اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد بعض محققین کے نظریات کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہتے ہیں: جب ہم ان احادیث  کے متعلق غور و فکر کرتے ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ رسول اکرم(ص) کے بعد بارہ خلفاء ہوں گے، تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ان احادیث میں رسول اکرم(ص) کی مراد [[شیعہ|اہل تشیع]] کے بارہ امام ہیں جو سب کے سب پیغمبر اکرم کے اہل بیت میں سے ہیں۔ کیونکہ ان کے بقول اس حدیث کو کسی طرح بھی خلفائے راشدین پر منطبق کرنا ممکن نہیں ہے اس لئے کہ ان کی تعداد بارہ سے کم ہے، اسی طرح اسے بنی امیہ یا بنی عباس کے سلاطین پر بھی منطبق نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان دو سلسلوں میں سے ہر ایک میں بارہ سے زیادہ حکمران رہ چکے ہیں، اس کے علاوہ ان میں بعض افراد نہایت ہی ظالم اور سفاک قسم کے لوگ تھے اور بعض تو بالکل اسلامی احکام کے پابند  نہیں تھے سوائے عمر بن عبدالعزیز کے۔علاوہ  از ایں  بنی امیہ، بنی ہاشم میں سے بھی نہیں ہیں جبکہ  پیغبر اکرم(ص) نے ان احادیث میں ان سب کے قبیلہ بنی ہاشم میں سے ہونے پر تاکید فرمائی ہیں۔


پس ناچار اس حدیث کو شیعوں کے بارہ اماموں پر منطبق کرنا پڑے گا جو سب کے سب پیغمبر اکرم(ص) کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ اشخاص اپنے زمانے کے سب سے زیادہ دین سے آشنا تھےاور علم و آگاہی میں کوئی بھی ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور فضل و کرم اور تقوی و پرہیزگاری میں یہ ہستیاں ہر زمانے میں زبان زد عام و خاص تھیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ان ہستیوں کو یہ کمالات اپنے نانا پیغمبر اکرم(ص) سے ورثہ میں ملے ہیں۔ اسی طرح [[حدیث ثقلین]] اور اس طرح کی دوسری احادیث اس نظریے کی تائید کرتی ہیں <ref>نابیع المودۃ، ج2، ص535</ref>
پس ناچار اس حدیث کو شیعوں کے بارہ اماموں پر منطبق کرنا پڑے گا جو سب کے سب پیغمبر اکرم(ص) کے اہل بیت میں سے ہیں کیونکہ یہ اشخاص اپنے زمانے کے سب سے زیادہ دین آشنا تھےاور علم و آگاہی میں کوئی بھی ان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا اور فضل و کرم اور تقوی و پرہیزگاری میں یہ ہستیاں ہر زمانے میں زباں زد عام و خاص ہیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ ان ہستیوں کو یہ کمالات اپنے نانا پیغمبر اکرم(ص) سے ورثہ میں ملے ہیں۔ اسی طرح [[حدیث ثقلین]] اور اس طرح کی دوسری احادیث اس نظریے کی تائید کرتی ہیں <ref>نابیع المودۃ، ج2، ص535</ref>


شیعہ احادیث میں ایک ہی موضوع کو دو طرح سے منعکس اور داخل کیا گیا ہے:
شیعہ احادیث میں ایک ہی موضوع کو دو طرح سے منعکس کیا گیاہے:
* خلفاء کی تعداد درج ذیل ہے:[[جعفر بن محمد |جعفر بن محمد (ع)]] سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ امام ہیں۔ ان میں سے پہلے [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]] ہیں اور ان میں سے آخری قائم (ع) ہیں۔ پس یہ لوگ میرے جانشین، ولی اور سرپرست ہیں اور میری امت پر خدا کی طرف سے حجت ہیں۔ مومن ان کی امامت کا اقرار کرتا ہے اور کافر ان کے فضل اور مقام کا انکار کرتا ہے <ref>شیخ صدوق، من ‏لا یحضره‏ الفقیه، ج۴، ص ۱۸۰</ref>
* خلفاء کی تعداد دربیان کی گئی:[[جعفر بن محمد |جعفر بن محمد (ع)]] سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میرے بعد بارہ امام ہوں گے۔ ان میں پہلے [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]] ہیں اور آخری قائم (ع) ہیں۔ پس یہ لوگ میرے جانشین، وصی اور سرپرست ہیں اور میری امت پر خدا کی طرف سے حجت ہیں۔ ان کی امامت کا اقرار کرنے والا مومن  اور ان کے فضل اور مقام کا انکار کرنے والا کافر ہے <ref>شیخ صدوق، من ‏لا یحضره‏ الفقیه، ج۴، ص ۱۸۰</ref>
* بارہ خلفاء میں سے ہر ایک کے نام ذکر کیے گئے ہیں: جابر بن عبدالله عنہ کی روایت، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آیت اطاعت میں سب سے پہلی چیز سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: وہ میرے بعد جانشین اور سردار ہیں۔ ان میں سے سب سے پہلے علی بن ابی طالب، پھر [[حسن بن علی|حسن]]، پھر [[حسین بن علی|حسین ]]، پھر [[علی بن حسین|علی بن الحسین]] ، پھر [[محمدبن علی|محمد بن علی]]، جو تورات میں باقر کے نام سے مشہور ہیں، اور آپ۔ جب آپ اس سے ملیں گے تو اسے دیکھیں گے۔ اسے سلام کہیں۔ پھر صادق [[جعفر بن محمد]] پھر [[موسی بن جعفر|موسیٰ بن جعفر]]  پھر [[علی بن موسی]]  پھر [[محمد بن علی بن موسی|محمد بن علی]]  پھر [[علی بن محمد]]  پھر [[حسن بن علی بن محمد|حسن بن علی]]  پھر نام اور لقب دونوں میں ہوں۔ زمین پر خدا کا ثبوت اور حسن بن علی کے بعد لوگوں کے درمیان خدا کی باقیات، جس کے ذریعے خدا مشرق اور مغرب کو فتح کرتا ہے <ref>مجلسی،‌ بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج ۲۳،ص ۲۹۰</ref>۔
* بارہ خلفاء میں سے ہر ایک کے نام ذکر کیے گئے ہیں: جابر بن عبدالله کی روایت، جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ آیت اطاعت میں اولی الامر سے مراد کون ہیں؟ تو آنحضرت(ص) نے فرمایا:ائے جابر !  وہ میرے جانشین اور میرے بعد مسلمانوں  کےامام  ہیں۔ ان میں سب سے پہلے علی بن ابی طالب، پھر [[حسن بن علی|حسن]]، پھر [[حسین بن علی|حسین ]]، پھر [[علی بن حسین|علی بن الحسین]] ، پھر [[محمدبن علی|محمد بن علی ہیں]] جو توریت میں باقر کے نام سے مشہور ہیں، اور ائے جابر تم ان  کا زمانہ درک کروگے جب ان  سے ملنا  تو انہیں میرا سلام کہنا۔ پھر [[جعفر بن محمد]] پھر [[موسی بن جعفر|موسیٰ بن جعفر]]  پھر [[علی بن موسی]]  پھر [[محمد بن علی بن موسی|محمد بن علی]]  پھر [[علی بن محمد]]  پھر [[حسن بن علی بن محمد|حسن بن علی]]  پھر وہ  جو میرا ہم نام اور ہم کنیت ہوگا جو  زمین پر خدا کی حجت اور بندوں کے درمیان بقية الله  ہوگا، جس کے ذریعے خدا مشرق اور مغرب کو فتح کرے  گا<ref>مجلسی،‌ بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج ۲۳،ص ۲۹۰</ref>۔


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
{{حوالہ جات}}
[[زمرہ:اسلامی تصورات]]
[[زمرہ:اسلامی تصورات]]
confirmed
821

ترامیم