اسلامی تاریخ

اسلامی تاریخجزیرہ نمائے عرب سے اسلام کی تاریخ کا آغاز ساتویں صدی عیسوی میں حضرت محمد کے بعثت سے ہوا۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق، محمد خدا کے رسول ہیں اور قرآن ایک معجزہ ہے جو آپ نےلایا۔ اسلام کی تاریخی ترقی نے اسلامی دنیا کے باہر اور اندرون ملک سیاسی، اقتصادی اور فوجی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔

قبل از اسلام عرب کی مذہبی ، اخلاقی اور سیاسی حالت

حضرت ابراہیم نے مکہ میں سب سے پہلا اللہ کا گھر بنایا خانہ کعبہ سارے عرب کا مرکز تھا۔ حج کے موقع پر ہزاروں آدمی آتے تھے ( نوٹ حضور سے پہلے بھی مکہ میں حضرت ابراہیم کی یاد میں حج ہوتے تھے لوگ ہزاروں میل کی مسافت طے کر کے حرم کی زیارت کے لئے آتے تھے اور ان کی میزبانی کے فرائض قریش ادا کرتے تھے منی میں حجاج کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔ عرب گو دین ابراہیمی کے پیرو تھے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی صورت بالکل مسخ ہو چکی تھی اور توحید کا رخ زیبا شرک اور بت پرستی کے ادھام میں چھپ کر رہ گیا تھا ۔ خدائے واحد کے ساتھ اور بہت سے کارساز شریک ہو گئے تھے۔ فرشتوں کو خُدا کی بیٹیاں کہتے تھے بتوں کو مظہر خدا مان کر ان کی پرستش کرتے تھے۔ سینکڑوں بتوں کی پوجا ہوتی تھی ان میں لات، منات ہبل اور عزی زیادہ با عظمت تھے ۔ ہبل خاص خانہ کعبہ کی چھت پر نصب تھا تمام عرب اس کی پرستش کرتے تھے ۔ عزی کی پرستش ارکان حج میں داخل تھی ان بتوں کے نام پر سانڈ چھوڑے جاتے تھے ان پر انسانوں کی قربانیاں ہوتی تھیں ۔ بتوں کے نام سے تیروں کے ذریعے قرعہ اندازی ہوتی تھی۔ ان کے علاوہ سینکڑوں لکڑی اور مسالے کے خانہ ساز (بت ) اور خانگی خدا تھے۔ سیرۃ ابن ہشام ج اول اور کتاب الاصنام، تجلی وغیرہ میں ان بتوں کی پوری تفصیل ہے [1]۔

عرب

عرب کے لفظی معنی فصیح اللسان اور زبان آور کے ہیں چونکہ عرب اپنی فصاحت اور زبان آوری کے مقابلہ میں ساری دنیا کی زبانوں کو ہیچ سمجھتے تھے اس لیئے عرب کو فصیح اللسان یعنی سب زبانوں سے افضل زبان سمجھتے ہیں۔

وجہ تسمیہ

اہل لغت کے نزدیک عرب اعراب سے مشتق ہے جس کے معنی فصاحت اور زبان آوری کے ہیں۔ چونکہ عرب فصیح اللسان اور زبان آور تھے اس وجہ سے انہوں نے اپنا نام عرب رکھا اور باقی تمام دنیا کی اقوام کو عجم کے نام سے پکارا۔

عرب کے معنی

ژولیدہ بیان اور گونگے کے بھی ہیں عرب مشتق ہے عربہ سے جس کے معنی دشت و صحرا کے ہیں چونکہ عرب کا بڑا حصہ دشت و صحرا پر مشتمل ہے اس لئے سارے ملک کو عرب کہنے لگے ۔ اہلِ جغرافیہ کے نزدیک عرب کا پہلا نام عربہ تھا اور چونکہ عربہ سامی زبان کا لفظ ہے ۔ سامی زبان میں عربہ کو صحرا یا باد یہ بھی کہتے ہیں چونکہ عرب کا ملک زیادہ تر بیابان اور ریگستانی ہے اس لئے اس کا نام عربہ پڑ گیا پھر آہستہ آہستہ وہاں کے رہنے والوں کو بھی عرب کہا جانے لگا۔

حدود و وسعت عرب

عرب تین براعظموں یعنی ایشیا ، یورپ اور افریقہ میں مرکز کے طور پر ہے۔ تین طرف سے سمندر سے گھرا ہوا ہے مشرق میں خلیج فارس اور بحر عمان، جنوب میں بحر ہند مغرب میں بحر احمر، عرب خشکی اور تری دونوں راستوں سے دنیا کو اپنے دائیں اور بائیں ملا کر ایک کر رہا ہے۔

عرب کی پیمائش

عرب کی پیمائش حقیقی طور سے نہیں ہوئی عرب ہندوستان سے بڑا ہے اور ملک جرمن اور فرانس سے چار گنا بڑا۔ طول تقریباً چودہ سو میل اور عرض میں زیادہ اور شمال میں کم ہوتا گیا مجموعی رقبہ تقریبا بارہ لاکھ مربع میل ہے۔ عرب کا بڑا حصہ ریگستانی ہے شمالی حد میں شام اور عرب کے درمیان ریگستان ہے جس کو بادیہ شام یا بادیہ عرب کہا جاتا ہے۔ جنوبی حد میں عمان اور یمامہ کے درمیان ایک وسیع صحرا ہے جس کو الدھنا یا ربع الخالی کہا جاتا ہے عرب کا سب سے بڑا اور طویل سلسلہ پہاڑ جبل السراۃ ہے جو جنوب میں یمن سے شروع ہو کر شمال میں شام تیک پھیلا ہوا ہے۔ اس کی اونچائی آٹھ ہزارفٹ ہے حجاز کا سب سے بڑا پہاڑ جبل الہدی طائف کا جبل الکر ا، نجد کا جبل عارض وطریق ہے۔ عرب میں کوئی دریا نہیں ہے پہاڑوں سے چشمے جاری رہتے ہیں کبھی کبھی یہ چشمے پھیل کر دُور دُور تک ایک مصنوعی دریا بن جاتے ہیں پھر ریگستان میں جذب ہو جاتے ہیں۔ یا سمندروں میں گر جاتے ہیں جو حصے سمندر کے نزدیک ہیں سرسبز و شاداب اور زرخیز ہیں عمان نجد یمن کا صوبہ بہت زرخیز ہے۔

عرب کی پیداوار

عرب کی پیداوار زیادہ تر کھجور اور سیب ہیں۔

عربوں کے پیشے

عربوں کے پیشے تجارت ، زراعت اور گلہ بانی تھے۔

نجد

وسط عرب میں ایک سرسبز و شاداب زرخیز اور بلند قطعہ ہے تین طرف صحراؤں پہ محیط ہے۔ نجد کے عربی گھوڑے اور اونٹ بہت مشہور ہیں ہر قسم کے میوے پیدا ہوتے ہیں۔

احقاف

یہاں پر کبھی عاد کی زبردست قوم آباد تھی جس کی تباہی کا ذکر قرآن میں ہے۔

حجاز

حجاز مستطیل ہے اور بحر احمر کے ساحل کے پاس ہے حجاز پہاڑی علاقہ ہے جس میں مکہ، مدینہ اور طائف کے مشہور شہر آباد ہیں۔ اس کی دو بڑی بندرگا ہیں ہیں:

  • جدہ جہاں سے مکہ معظمہ کو جاتے ہیں۔
  • ینبوع جہاں سے مدینہ منورہ کو جاتے ہیں۔

مکہ

حجاز مکہ کا دارالخلافہ ہے یہ ایک بے آب و گیاہ وادی میں واقع ہے اس کے چاروں طرف خشک پہاڑیاں ہیں اس آبادی کی ابتدا حضرت اسماعیل کے زمانہ سے ہوئی تھی اسی شہر میں حضور پیدا ہوئے اس شہر میں خانہ کعبہ ہے جس کے معمار حضرت ابراہیم تھے یہی وہ پہلا اسلام کا چشمہ ہے۔

مدینہ

مدینہ کا پرانا نام یثراب ہے جب حضرت محمد ﷺ یہاں آئے تو اس کا نام مدینہ پڑ گیا۔

طائف

حجاز کی جنت ہے بہت زرخیز علاقہ ہے یہ مکہ معظمہ سے مشرق کی طرف واقع ہے۔

قدیم تاریخ

عرب لسانی اعتبار سے سامی ہیں مورخین نے انہیں تین طبقات پر تقسیم کیا ہے۔ (۱) عرب با نده (۲) عرب عاربه (۳) عرب مستعربه

عرب بائدہ

یہ وہ قدیم طبقہ ہے جو تاریخی دور سے ہزاروں سال پہلے مٹ چکا تھا عاد و ثمود کی قومیں اسی طبقہ سے تھیں۔ اشعار عرب اور بعض الہامی صحیفوں کے علاوہ کسی تاریخ سے ان کے حالات کا پتہ نہیں چلتا ۔

عرب عاربہ

یہ طبقہ قحطانی کہلاتے ہیں تاریخ موجود ہے یہ لوگ یمن کے آس پاس آباد تھے۔ یہی لوگ عرب کے اصلی باشندے ہیں اور عرب کی قدیم تاریخ ان ہی سے وابستہ ہے عرب میں ان کی بڑی بڑی اور ترقی یافتہ حکومتیں تھیں ۔ ان کے عظیم الشان محلات کے کھنڈرات اب تک عرب میں پائے جاتے ہیں جو ان کے نیاوی جاہ و جلال کے شاہد ہیں۔

عرب مستعربه

یہ طبقہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ظاہر ہوا ہے ظہور اسلام کے وقت یہی دو طبقے عرب میں تھے اسلام کی ابتدا ان ہی وابستہ ہے۔ عرب کی دینی تاریخ کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوتا ہے حضرت ہاجرہ کے شکم سے حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے حضرت سارہ نے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی تھیں مجبور کیا کہ حضرت ابراہیم دونوں کو ان کی نگاہ سے دور کر دے اس لئے حضرت ابراہیم نے حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو لے جا کر عرب میں آباد کیا ۔ حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کے لئے مکہ میں خدائے واحد کی پرستش کے لیئے بے چھت کا ایک چھوٹا سا گھر بنایا اور حضرت اسماعیل کو اس کا متولی بنا کر اس گھر کی آبادی و مرکزیت اور نسل اسماعیل کی برومندی کے لئے خُدا سے دُعا کی اسلام کے مطابق روئے زمین پر یہ پہلا گھر تھا جو خالص خدائے واحد کی عبادت کے لئے بنایا گیا۔ جہرم کا قبیلہ مکہ میں آکر آباد ہوا حضرت ابراہیم کی زندگی ہی میں کعبہ کو عرب میں مرکزیت حاصل ہو گئی تھی۔

آل اسماعیل

حضرت اسماعیل نے قبیلہ کے سردار مضماض جرہمی کی لڑکی سے شادی کی اس سے بارہ اولادیں ہوئیں ان میں سے نابت وقیدار کی نسل نے بڑا دنیاوی جاہ و جلال حاصل کیا ۔ حضرت اسماعیل کے بعد کعبہ کی تولیت کا منصب ان کے لڑکے ثابت کے حصہ میں آیا آل اسماعیل میں نسل در نسل کے بعد یہ منصب عدنان تک پہنچا۔ یہ بڑا تاریخی شخص تھا آنحضرت اور اکثر صحابہ کا سلسلہ نسب ان سے ہوتا ہے عدنان کی اولاد بہت پھلی پھولی ان کا خاص پیشہ تجارت تھا۔

خاندان قریش

عدنان کی نسل سے خاندان قریش کی بنیاد پڑی اس نسبت سے اس کی نسل قریشی کہلاتی ہے۔ قریش کی پانچویں پشت میں ایک تاریخی شخص قصی پیدا ہوا ۔ قریش کی اجتماعی اور سیاسی زندگی کا آغاز اس نامور شخص سے ہوتا ہے قصی کا باپ بچپن ہی میں مر گیا تھا اور قصی کی ماں نے قبیلہ بنی عذرہ میں دوسری شادی کر لی تھی۔ اس لئے قصی کا بچپن بی عذرہ میں گذرا قصی بچپن ہی سے نہایت حوصلہ مند عاقل و فرزانہ اور امارت پسند تھا قصی کی چھ اولا دیں تھیں ۔ (۱) عبددار (۲) عبد مناف (۳) عبدالعزی (۴) عبد (۵) تخحر (۶) برہ قصی کے مرتے وقت قصی نے حرم کے تمام منصب عبددار کو دیے اور قریش کی سعادت عبد مناف نے حاصل کی ۔ عبد مناف کے چھ لڑکے تھے ان میں ہاشم جو رسول اللہ کے دادا سب سے زیادہ با اثر تھے ۔

بنی ہاشم کی خدمات

کعبہ کے متولیوں میں قصی کے بعد ہاشم بڑے رتبہ کے آدمی تھے انہوں نے اپنے زمانہ میں خاندان قریش کی بڑی عظمت قائم کی ۔ قریش کا آبائی پیشہ تجارت تھا حجاج کو بڑی فیاضی اور سیر چشمی سے کھانا کھلاتے تھے۔ اُنہوں نے مدینہ کے خاندان بنی نجار میں شادی کی لیکن شادی کے بعد شام جاتے ہوئے انتقال کر گئے بیوہ سے ایک فرزند تولد ہوا جس کا نام شیبہ رکھا گیا۔ ان کے بھائی مطلب کو خبر ہوئی تو وہ مدینہ جا کر یتیم بچے کو لے آئے اور اپنی آغوش شفقت میں ان کی پرورش

کی ان کی پرورش کی وجہ سے شیبہ کا نام عبد المطلب یعنی مطلب کا غلام پڑ گیا۔

حضرت عبد المطلب

حضرت عبدالمطلب مسن شعور کو پہنچنے کے بعد باپ کی جگہ نے منت مانی تھی کہ اگر وہ اپنی پوری زنددگی میں اپنے دس لڑکوں کو جو ان دیکھ لیں گے تو اُن میں سے ایک لڑکا خدا کی راہ میں قربان کریں گے ۔ جب اُن کی آرزو پوری ہوئی تو منت اُتارنے کے لیئے دسوں لڑکوں کو لے کر کعبہ گئے حضرت عبداللہ کے نام جو تمام اولاد میں سے زیادہ محبوب تھے قرعہ نکلا [2]۔

حضرت عبدالله

حضرت عبدالمطلب نے قبیلہ زہرہ کے رئیس وہب بن مناف کی لڑکی آمنہ کے ساتھ حضرت عبداللہ کی شادی کر دی۔ شادی کے تھوڑ ے ہی دنوں بعد حضرت عبداللہ کا مدینہ میں انتقال ہو گیا[3]۔

حضرت محمد کی پیدائش

حضرت عبداللہ کی وفات کے چندمہینوں بعد حضور ۱۲ ربیع الاول کو پیدا ہوئے ۔ تو حضور کے دادا حضرت عبدالمطلب نے پوتے کو لے کر خانہ کعبہ میں دعا مانگی اور ساتویں دن عقیقہ کر کے محمد نام رکھا [4] اور کل قریش کی دعوت کی ۔ قریش نے اس نامانوس نام رکھنے کا سبب پوچھا حضرت عبدالمطلب نے کہا میرا فرزند ساری دُنیا میں مدح وستائش کا سزاوار قرار پائے گا۔

حضور کی پرورش

شرفائے مکہ میں دستور تھا کہ وہ عربی خصوصیات کو محفوظ رکھنے کے لئے اپنے بچوں کو ایام رضاعت ہی میں دیہاتوں میں بھیج دیتے تھے۔ اس دستور کے مطابق چھ مہینے بعد حضرت عبدالمطلب نے اپنے پوتے کو ایک دایہ حلیمہ کو دیا۔ دو برس تک اس بچہ نے حلیمہ سعدیہ کی گود میں پرورش پائی تیسرے سال حلیمہ نے حضور کو حضور کی والدہ آمنہ کو واپس کر دیا۔ ابھی یتیم بچہ چھ سال ہی کا تھا کہ حضرت آمنہ بچہ کو لے کر مرحوم شوہر کی قبر کی زیارت کے لئے مدینہ گئیں راستہ میں مقام ابواء میں حضرت آمنہ کا انتقال ہو گیا۔ تو پھر حضرت عبدالمطلب نے اپنے ہوتے حضرت محمد ﷺ کو حضرت ابو طالب کے سپرد کیا۔ جو حضرت عبدالمطلب کا مبینا رت تھا۔ سن شعور کو پہنچنے کے بعد حضور تھا اور حضور کا چچا تھا حضرت ابو طالب کا پیشہ تجارت تھا حضور نے بھی تجارت کا پیشہ اختیار کیا طور نہایت محنت اور دیانتداری کے ساتھ تجارت کرتے تھے حضور کی دیانتداری کی شہرت دور دور تک پھیل گئی [5]۔

حضورکی ازواج مطہرات

حضور پاک نے عالم شباب میں صرف ایک ہی سن رسید داور بیوہ خاتون پر قناعت فرمائی۔ پھر زوال شباب یعنی پچاس سال کی عمر کے بعد مختلف مصالح کی بنادر مختلف اوقات میں گیارہ شادیاں کیں۔

حضرت خدیجہ سے شادی

حضرت خدیجہ قریش کی ایک معزز پاکیزہ با اخلاق اور دوانند بیوہ تھیں۔ ان کا تجارتی کاروبار نہایت وسیع تھا حضور حضرت خدیجہ کا سامان لے کر بصر ہ تشریف لے گئے اس سفر میں حضرت خدیجہ کا غلام میسر بھی ساتھ تھا۔ اس غلام نے حضور کے اخلاق ، عادات مشاہدہ کئے اور واپس آکر حضرت خدیجہ سے بیان کئے ۔ حضرت خدیجہ نے حضور سے شادی کی درخواست کی آپ نے منظور فرمالیا۔ اس وقت حضور کی عمر ۲۵ سال اور حضرت خدیجہ کی عمر 40 سال تھی پانچویں پشت پر دونوں کا نسب نامہ مل جاتا ہے۔ حضرت خدیجہ کی پہلی شادی ابو ہالہ بن زرارہ تمیمی سے ہوئی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد عتیق ابن عائد کے ساتھ معقد ہوا ان کے انتقال کے بعد آنحضرت کے عقد میں آئیں حضور کو حضرت خدیجہ سے بڑی محبت تھی ان کی زندگی میں حضور نے دوسرا نکاح نہیں کیا ۔ ہجرت سے مدینہ سے کئی سال پہلے مکہ ہی میں حضرت خدیجہ کا انتقال ہو گیا تھا ان کے بعد حضور نے متعدد شادیاں ہیں۔

سودہ بنت زمعہ

سودہ بنت زمعہ سے نکاح کیا یہ بھی بیوہ تھیں ان کے پہلے شوہر کا نام سکران بن عمرتھا آغاز دعوت اسلام میں دونوں میاں ہوئی مسلمان ہو گئے تھے جیشہ سے واپسی کے کچھ دنوں بعد سگر ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کے بعد حضرت سود و حضور کی زوجیت میں آئیں ان کی وفات کے بارے میں بڑا اختلاف ہے۔

عائشہ

عائشہ بنت ابوبکر کی صاحبزادی ہیں آنحضرت نے ان سے مکہ میں نکاح کیا حضرت عائشہ بڑی ذہین زیرک اور فہیم تھیں۔ حضور نے عورتوں کے نسوانی احکام ومسائل کی تعلیم کے لیئے انہیں خاص طور اس کی تعلیم بھی تھی۔ حضرت، صرف امہات المومنین میں نہیں بلکہ بہت سے صاحب علم صحابہ کے مقابلہ میں ممتاز تھیں اور بڑے بڑے صحابہ مہمات ومسائل میں ان کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ عائشہ نے 9 سال حضور کی رفاقت میں گزارے حضور کی وفات کے بعد ۴۵ سال زندہ رہیں ۵۷ ہجری میں ۶۶ سال کی عمر میں وفات پائی [6]۔

حفصہ

یہ عمر کی صاحبزادی تھیں یہ بھی بیوہ تھیں ان کی پہلی شادی حضرت خنیس بن حذافہ کے ساتھ ہوئی تھی خنیس غزوہ بدر میں زخمی ہوئے اور ان کے انتقال کے بعد حضور نے عقد فرمایا ان کے مزاج میں کسی قدر تیزی تھی45 ہجری میں ان کا انتقال ہو گیا۔

ام المساکین زینب

ان کا نام زینب تھا فقراء اور مساکین کو بہت کھلاتی تھیں اس لئے ام المساکین کے نام سے مشہور تھیں۔ ان کے پہلے شوہر حضرت عبد اللہ بن جحش جنگ احد میں شہید ہوئے ان کی شہادت کے بعد حضور نے ان سے نکاح فرمایا۔ لیکن اس شرف کے حصول کے دو یا تین مہینوں کے بعد زینب انتقال کر گئیں۔ حضور نے نماز جنازہ خود پڑھائی اور جنت البقیع میں دفن کیا انتقال کے وقت ۳۰ سال عمر تھی۔

حضرت ام سلمہ

ہند نام تھا ام سلمہ کنیت والد کا نام نہیں تھا۔ ان کی پہلی شادی ان کے چیرے اور آنحضرت کے رضاعی بھائی عبداللہ بن عبد الاسد کے ساتھہ ہوئی تھی عبداللہ غزوہ اُحد میں زخمی ہونے کے بعد انتقال کر گئے ۔ ان کے انتقال کے بعد حضور کے عقد میں آئیں حضور کی وفات کے بعد کافی عرصہ تک زندہ رہیں۔ ان کی سن وفات میں بڑا اختلاف ہے واقعہ کربلا کے چند سال پہلے عائشہ کے بعد انہی کا درجہ تھا۔

زینب

آنحضرت کی پھوپھیری بہن تھیں ان کی شادی خود طور نے اپنے متبنی غلام حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ کر دی تھی۔ لیکن طلاق ہوگئی طلاق کے بعد حضور نے خود نکاح فرمایا یہ بڑی عابدہ، زاہدہ، فیاض اور حسین وجمیل تھیں۔ ان اوصاف کی بنا پر حضور انہیں بہت محبوب رکھتے تھے امہات المومنین میں یہی حضرت عائشہ کی ہمسری کرتی تھیں حضور کے بعد ازدواج مطہرات میں سب یا اسی سال یعنی ۶۱ ہجری میں انتقال ہوا اس وقت اُن کی عمر ۸۴ سال تھی حضرت سے پہلے انہی کا انتقال ہوا ۲۰ ہجری میں ۵۳ سال کی عمر میں وفات پائی۔نوٹ : امہات : جمع کا صیغہ ہے اور یہ اُم کی جمع ہے امہات المومنین کے معنی ہیں مومنوں کی مائیں حضور کی ازدواج مطہرات کو قرآن میں مومنوں کی مائیں کہا گیا ہے لفظ اُمہات اس کا مطلب ہے والدہ جن سے وہ پیدا ہوا ہے۔

جویریہ

یہ قبیلہ بنی مصطلق کے سردار حارث بن ضرار کی بیٹی تھیں۔ ان کی پہلی شادی مسافح بن صفوان سے ہوئی تھی جو غز وہ مرسیع میں مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوا۔ غزوہ میں بہت کی لونڈیاں غلام گرفتار ہوئے انہی میں جو یریہ بھی تھیں یہ ثابت بن قیس انصاری کے حصہ میں پڑیں ۔ ذی وجاہت خاندان کی خاتون تھیں غلامی کو غیرت نے گوارا نہ کیا 19 اوقیہ سونے پر ثابت سے رہائی کی شرط قرار پائی۔ لیکن پاس کچھ نہ تھا حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی گذشتہ عظمت اور موجودہ صورت حال بیان کر کے مدد کی طالب ہوئیں ۔ آپ نے ان کی رضا سے ثابت کی رقم ادا کر کے ان سے شادی کر لی۔ اس رشتہ کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں نے حضور کے ساتھ التعلق کی وجہ سے بنی مصطلق کی تمام لونڈیاں غلام آزاد کردیئے ۵۰ ہجری میں ۶۵ سال کی عمر میں انتقال ہوا۔

ام حبیبہ

اصلی نام رملہ اور ام جیبہ کنیت ہے ۔ یہ بھی قریش کے خاندان سے تمھیں اپنے پہلے شوہر عبد اللہ بن جحش کے ساتھ شادی ہوئی ۔ حبشہ کی دوسری ہجر سے ہیں حبشہ گئیں حبشہ میں ان کے شوہر نے عیسوی مذہب اختیار کر لیا ۔ لیکن یہ خود اسلام پر قائم رہیں اس لئے عبد اللہ بن بخش نے ان سے علیحدگی اختیار کر لی حضور کو یہ واقعات جب معلوم ہوئے تو آپ نے نجاشی شاہ حبش کی وساطت سے ان کے پاس شادی کا پیغام بھیجا۔ اُنہوں نے قبول کر لیا اور ان کی جانب سے مخالد بن سعید اموی اور حضور کی جانب سے نجاشی کی وکالت میں چار سو (۲۰۰) دینار پر عقد ہوا ۔ نجاشی نے حضور کی جانب سے مہر کی رقم ادا کی اور ولیمہ کیا نکاح کے بعد حضرت ام حبیبہ کو شرجیل بن حسنہ کے ساتھ حضور کی خدمت میں مدینہ بھیج دیا اُنہوں نے ۴۴ ہجری میں وفات پائی۔

حضرت میمونہ

ان کے والد کا نام حارث تھا ان کی پہلی شادی مسعود بن عمرو شفی کے ساتھ ہوئی تھی۔ اس نے طلاق دے دی تو ابو در ہم بن عبد العزئی نے نکاح کیا ان کے انتقال کے بعد حضور کے عقد میں آئیں ان کی وفات میں بھی اختلاف ہے صیح اللہ ہجری میں بمقام سرف انتقال ہوا۔

صفیہ

اصل نام زینب ہے یہ غزوہ خیبر میں امام وقت کے پانچویں حصے میں پڑی تھیں جسے صفی بھی کہتے ہیں۔ اس لئے صفیہ کہلا ئیں نسلاً اور مذہبا یہود یہ تھیں ان کے نہال اور دودھیال دونوں میں سرداری تھی ۔ ان کا باپ می بن 40

الطلاب قبیلہ بی نظیر کار میں تھا اور ان کی ماں بنی قریظہ کے رئیس کی بنی تھیں ۔ ان کی پہلی شادی سلام بن مشکم یہودی سے ہوئی تھی اس نے طلاق دے دی حضور حضرت علیہ کی بڑی عزت اور محبت کرتے تھے ازدواج مطہرات میں طور ان کی دلجوئی فرماتے تھے۔ [7]۔

اولا واحفاد

آنحضرت نے کی اولا واحفاد کے بارے میں بڑا اختلاف ہے مختلف روایتوں کی روسے ان کی تعداد بارہ تک پہنچ جاتی ہے۔ لیکن متفق علیہ بیان یہ ہے کہ چھ اولا دیں تھیں دو صاحبزادے قاسم اور ابراہیم اور چار صاحبزادیاں زینب، رقیہ ام کلثوم ، فاطمہ زہرا بعض روایتوں میں دو اور صاحبزادوں طیب اور طاہر کا نام بھی ملتا ہے ان میں ابراہیم ماریہ قبطیہ کے بطن سے تھے باقی کل حضرت خدیجہ سے قاسم سب سے پہلی اولاد تھے۔ ان کی پیدائش نبوت سے گیارہ بارہ سال پیشتر ہوئی تھی لیکن بچپن ہی میں انتقال کر گئے آنحضرت کی کنیت ابو القاسم انہی کے نام پر تھی۔ سب سے آخری اولا د ابراہیم تھے یہ ۸ ہجری میں پیدا ہوئے اور کل سوا دو مہینے زندہ رہے ان کی موت کے دن اتفاق سے سورج گرہن ہوا، لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ ابراہیم کی موت اس کا سبب ہے۔ رسول اللہ نے اس کی تردید فرمائی کہ چاند اور سورج خدا کی نشانیاں ہیں کسی کی موت سے ان میں گر جن نہیں لگتا۔ صاحبزادیوں میں زینب سب سے بڑی تھیں یہ قاسم کے بعد پیدا ہوئیں زینب نے آنحضرت کی حیات ہی میں ۸ ہجری میں انتقال کیا ایک لڑکا علی اور ایک لڑکی امامہ یادگار چھوڑی ۔ سب سے چھوٹی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہرا تھیں ان کا نکاح حضرت علی سے ہوا ان کی پانچ اولا دیں تھیں امام حسن ، امام حسین ، ام کلثوم، زینب محسن محسن کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا [8]۔ حضور تکمیل دین کے آخری فرائض سے سبکدوشی کے بعد ۱۸ یا ۹ اصفر ہجری کو آپ مسلمانوں کے گور غریباں جنت البقیع تشریف لے گئے ۔ وہاں سے واپس ہوئے تو مزاج ناساز ہو گیا بیماری کی حالت میں بھی آپ از راہ عدل باری باری سے ازدواج مطہرات کے گھروں میں بسر فرماتے تھے۔ جب مرض زیادہ بڑھا تو ان سے اجازت لے کر عائشہ کے ہاں مستقل قیام فرمایا۔ وفات سے چار دن پہلے (جمعرات) کو آنحضرت نے فرمایا دوات اور کا غذ لاؤ۔ میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہ ہو گے عمر نے لوگوں سے کہا حضور کومرض کی شدت ہے ہمارے پاس قرآن موجود ہے جو ہمارے لیئے کافی ہے اس پر حاضرین میں اختلاف ہوا بعض کہتے ہیں کہ تعمیل ارشاد کی جائے بعض عمر کی تائید میں تھے ۔ ( یہ واقعہ اہلِ سنت اور شیعوں کے درمیان بڑا معرکہ الاراء بن گیا )۔ شیعوں کا دعوی ہے کہ آنحضرت حضرت علی کی خلافت کا فرمان لکھوانا چاہتے تھے جسے عمر نے رکوا دیا۔ سنی کہتے ہیں کہ آنحضرت کو واقعی مرض کی شدت تھی دین مکمل ہو چکا تھا۔ شریعت کا کوئی حکم تعمیل کے لئے باقی نہ رہ گیا تھا۔ ضروری اور دینی حکم ہوتا تو آنحضرت کسی کے روکنے سے نہ رک سکتے تھے۔ اس دن نماز ظہر کے وقت طبعیت کو کچھ سکون ہوا تو غسل فرما کر حضرت علی اور حضرت عباس کے سہارے مسجد تشریف لے گئے نماز کے بعد خطبہ دیا یہ آپ کی زندگی کا آخری خطبہ تھا۔

تجہیز و تکفین

وفات دوشنبه ۱۲ ربیع الاول 11 ہجری کو ہوئی وفات کے دن شام ہو چکی تھی تجہیز و تکفین اور قبر کنی کے مراحل رات سے پہلے انجام نہ پاسکتے تھے اس لئے دوسرے دن سہ شبینہ کو تجہیز و تکفین عمل میں آئی غسل وغیرہ کی سعادت کا اعزاز خاص حضرت علی فضل بن عباس، قشم بن عباس اور اسامہ بن زیدکے حصہ میں آیا ابوطلحہ نے قبر مبارک کھودی اور باری باری سے مسلمانوں نے بلا امام نماز جنازہ پڑھی اور شنبه ۱۳ ربیع الاول مطابق ۱۱ ہجری (۶۳۲ء ) حضور کو عائشہ کے حجرہ پاک و مظہر زمین کے سپر د کر دیا [9]۔

اسلامی کیلنڈر

اسلامی کیلنڈر سال کے بارہ مہینوں پرمشتمل اور ایک ایک حرف ایک ایک مہینے کے لئے ہوتا ہے۔ اسلامی کیلنڈر کے مطابق اسلامی سال یکم محرم سے شروع ہوتا ہے اور یکم محرم (۱) فروری ۲۰۰۶ ء سے نیا اسلامی سال شروع ہوا ہے اور اسلامی سن ۱۴۲۷ ہجری ہوگا اور آگے جو ۲۰۰۷ ء نیا سال جو یکم محرم کو شروع ہو گا وہ ۱۴۲۸ ہجری ہوگا اور اسلامی کیلنڈر سال کے ۳۵۵ دنوں پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ عیسوی کیلنڈر سال کے ۳۶۵ دنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیپ کا سال ہو تو ۳۶۶ دن ہوتے ہیں اسلامی سال اور عیسوی سال دونوں میں تقریبا دس دنوں کا فرق ہے اسلامی سال عیسوی سال سے دس دن کم ہے۔ نوٹ: اسلامی تہواروں کا انحصار چاند نکلنے پر ہے اسلامی مہینے قمری کہلاتے ہیں اور سال ہجری حضور نے جب مکہ سے مدینہ ہجرت کی اُس وقت سے ہجری سال شروع ہوا ہے سن عیسوی حضرت عیسی کی پیدائش سے شروع ہوا۔

قمری

اُردو لغت میں قمر سے منسوب وہ مہینے یا سال جو چاند کی چال کے مطابق قرار دیئے گئے ہیں۔

قمر : تیسری رات کے بعد کا چاند پہلی اور دوسری رات کے چاند کو ہلال کہا جاتا ہے۔ قمری مہینوں کا آغاز چونکہ چاند نکلنے سے ہوتا ہے اسلامی شریعت نے مہینے اور سال کے سلسلے میں نظام قمری کا اعتبار کیا ہے۔

محرم الحرام

اسلامی قمری سال کا آغاز یکم محرم الحرام کے مہینہ سے ہوتا ہے دس محرم الحرام کا دن بہت برکت والا دن سمجھا جاتا ہے۔ اسلام کے مطابق اسی دن عرش، کرسی ، آسمان، زمین ، سورج ، چاند ستارے اور جنت پیدا کئے گئے ۔

صفر المظفر

اسلامی قمری سال کے دوسرے مہینے کا نام صفر ہے تصوف کے بابا فرید الدین فرماتے ہیں کہ ایک برس میں دس لاکھ اسی ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں اور ماہ صفر میں تو لاکھ ہیں ہزار بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ اسی ماہ صفر میں قابیل نے بابیل کو قتل کیا حضور کا ارشاد اس طرح سے ہے کہ جو کوئی مجھے صفر کا مہینہ گزر جانے کی خبر دے گا میں اسے جنت میں جانے کی بشارت دوں گا۔ ماہ صفر کے آخری چہار شنبہ کے متعلق مشہور ہے کہ اس دن حضور نے بیماری سے صحت پائی تھی اس بنا پر اس جوان کھانے وشیرینی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔

ربیع الاول

اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ہے حضرت محمد ﷺ کی ولادت اس ماہ میں ہوئی تھی حضور کا وصال بھی اس مہینہ میں ہوا تھا۔

ربیع الثانی

اسلامی قمری سال کا چوتھا مہینہ ہے اس ماہ کو ربیع الآخر بھی کہا جاتا ہے۔

جمادی الاولی

اسلامی قمری سال کے پانچویں مہینہ کا نام جمادی الاولی ہے۔ جہادی کے معنی ہیں کسی چیز کا جم جانا چونکہ جن دنوں موسم سرما کی شدت کی وجہ سے پانی جمنے کا آغاز ہوتا ہے اس لیئے اس ماہ کو جمادی الاولی کہا جاتا ہے۔

جمادی الثانیہ

اسلامی سال کے چھٹے مہینہ کا نام جمادی الثانیہ ہے اس کو ابو بکر صدیق کا وصال ہوا تھا۔ جمادی الآخر بھی کہا جاتا ہے۔

رجب المرجب

اسلامی قمری سال کا ساتواں مہینہ ہے ،رجب المرجب کے مہینہ کی پہلی جمعرات کو عبادت الہی کرنے سے بے شمار ثواب حاصل ہوتا ہے۔ حضور نے فرمایا ہے کہ اس مہینہ میں خاص طور پر مغفرت ہوتی ہے ملائکہ اس شب کو لیلتہ الرغائب ( یعنی مقاصد کی شب ) کہتے ہیں اس رات تمام آسمانوں اور زمینوں میں کوئی فرشتہ ایسا باقی نہیں رہتا جو خانہ کعبہ یا اطراف کعبہ میں جمع نہ ہو ۔ اُس وقت پروردگار عالم تمام فرشتوں کو اپنے دیدار سے مشرف کرتا ہے ماہ رجب المرجب کی ستائیسویں شب معراج کو ستر ہزار ملائکہ نور کے طباق لئے ہوئے زمین پر نازل ہوتے ہیں اور ہر گھر میں جاتے ہیں۔

شعبان المعظم

اسلامی سال کے آٹھویں مہینہ کا نام شعبان المعظم ہے رجب اور رمضان کے درمیان شعبان کا مہینہ ہے اس مہینہ میں مرنے والوں کے نام زندوں کی فہرست سے نکال کر مردوں کی فہرست میں شامل کر دیئے جاتے ہیں۔ شعبان کی پندرھویں شب کو عبادت کرنا فضیلت کا باعث سمجھا جاتا ہے اس شب کو شب برات بھی کہا جاتا ہے اس شب کو اللہ تعالیٰ آسمان و دنیا پر جلوہ افروز ہوتا ہے [10]۔

رمضان المبارک

اسلامی قمری سال کے نویں مہینے کا نام رمضان المبارک ہے۔ جب رمضان کا مہینہ شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ شیاطین زنجیروں میں جکڑ دیئے جاتے ہیں شب قدر یا لیلتہ القدر اسی ماہ ہوتی ہے قرآن اسی مہینہ میں حضور پر اتر نا شروع ہوا۔

شوال المکرم

اسلامی سال کا دسوواں مہینہ ہے اس مہینہ میں عرب کے لوگ اپنی اونٹنیوں کو تیز دوڑاتے تھے۔ اس تیزی کے باعث بعض مرتبہ اونٹنیاں اپنی دم اُٹھالیا کرتی تھیں چنانچہ اس نسبت سے اس مہینہ کو شوال کا نام دیا گیا۔ شوال کے مہینے میں چھ روزے رکھتے ہیں اور ثواب حاصل کرتے ہیں۔ یکم شوال کے دن روز دکھا کرہ تاریکی اور نا جائز سمجھا جاتا ہے اس لئے روزہ شوال کی دو تاریخ سے شروع کرتے ہیں۔ (۱۱) ذیقعدہ: اسلامی سال کا گیارہواں مہینہ ہے اس مہینے میں عرب جنگ کو ترک کر دیتے تھے اور اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے تھے۔

ذی الحجہ

اسلامی سال کا بارہواں مہینہ ہے تمام مہینوں کا سردار رمضان کا مہینہ اور تمام مہینوں میں حرمت والا مہینہ ذی الحجہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس مہینے کے دس دنوں کی فضیلت بہت زیادہ ہے اس ماہ سنت ابراہیمی ادا کی جاتی ہے۔ عید قربان ہوتی ہے حج ہوتا ہے ذی الحجہ کے آٹھویں دن حاجی مکہ مکرمہ کی طرف سے منی کی طرف روانہ ہوتے ہیں اور آب زمزم خوب سیر ہو کر پیتے ہیں اس لئے اس دن کو یوم ترویہ بھی کہتے ہیں [11] ۔

حوالہ جات

  1. تاریخ اسلام جلدا صفحه نمبر ۳۰
  2. سیره ابن شام جلد نمبر اول میں ۱۲/۱۳
  3. تاریخ اسلام جلد اول ص 32
  4. سیرۃ ابن ہشام ج ا،ص ۸۷
  5. چوہدری غلام رسول ایم ۔ اے۔، مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ، علمی کتاب خانہ کبیر سٹریٹ اردو بازار لاہور
  6. تاریخ اسلام جلد اول صفحه ۱۲۷
  7. تاریخ سلام ج 1، ص ۱۲۹
  8. تاریخ سلام ج ا ص ۱۳۰
  9. تاریخ سلام ج اص ۱۲۴
  10. شاہ معین الدین احمد ندوی، تاریخ اسلام جلد (۲۰۱) ، مکتبہ رحمانیہ اقر اسنٹر اردو بازار لاہور
  11. محمد الیاس عادل، بارہ مہینوں کی نفلی عبادت ، مشتاق بک کارنرالکریم مارکیٹ اردو بازارلا ہو