سید محمد حسین شہریار
| سید محمد حسین شہریار | |
|---|---|
| پورا نام | سید محمد حسین |
| دوسرے نام | بہجت تبریزی، شہریار |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1285 شء |
| یوم پیدائش | 11 دی |
| پیدائش کی جگہ | تبریز |
| وفات | 1367 ش |
| یوم وفات | 27 شہریور |
| وفات کی جگہ | تبریز |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | ادیب اور شاعر |
سید حسین شهریار، شہریار ایران کے مقبول شاعر اور تبریز کے باشندے تھے۔ انہیں حیدر بابائے سلام نامی منظومے سے عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ یہ منظومہ دنیا کی 80 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
سوانح حیات
سید محمد حسین بہجت تبریزی، جو شہریار کے تخلص سے مشہور تھے، حاج میر آقا خشگنابی کے فرزند تھے اور 1285 شمسی میں تبریز میں پیدا ہوئے۔ شہریار کا بچپن تبریز کے عوام کی محمد علی شاہ کی مستبد حکومت کے خلاف تحریک اور شہر میں ہونے والی جھڑپوں کے دنوں میں گزرا۔
اسی صورت حال کے باعث ان کے والد نے جان کی حفاظت کے لیے خاندان کو اپنے آبائی علاقے خشگناب بھیج دیا۔ چنانچہ شہریار نے اپنے بچپن کا زمانہ اس علاقے کے دیہات میں گزارا اور ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب اور اپنے والد سے حاصل کی۔ ان کے دانا والد طلبہ میں سے تھے اور اجتہاد کا درجہ رکھتے تھے۔
تعلیم
ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد محمد حسین شهریار نے فیوضات اور متحدہ اسکولوں میں ثانوی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد 1300 شمسی میں تہران ہجرت کرکے دارالفنون میں اپنی تعلیم جاری رکھی۔
1303 شمسی میں وہ طب کے مدرسے میں داخل ہوئے اور پانچ سال تک پزشکی کی تعلیم حاصل کی، لیکن ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے سے صرف ایک سال پہلے روحانی اور ذہنی پریشانیوں کے باعث انہوں نے یہ شعبہ ترک کردیا۔
استاد شہریار اس بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شعبہ ان کی طبیعت کے مطابق نہیں تھا اور ہر جراحی کے بعد انہیں کمزوری محسوس ہوتی تھی اور طبیعت خراب ہوجاتی تھی۔
طب کی تعلیم ترک کرنے کے بعد 1310 شمسی میں انہوں نے تہران کے محکمہ ثبت میں ملازمت شروع کی۔ اس کے بعد ان کا تبادلہ نیشاپور اور پھر مشہد ہوگیا اور وہ 1314 شمسی تک اس صوبے میں رہے۔
اس کے بعد دوبارہ تہران واپس آئے اور زرعی بینک میں ملازمت اختیار کی۔ آخرکار 1332 شمسی میں اپنے آبائی شہر تبریز واپس آگئے۔ 1333 شمسی میں انہوں نے شادی کی جس کے نتیجے میں ہادی، شہرزاد اور مریم نامی تین بچے پیدا ہوئے۔ شہریار اس کے بعد کبھی بھی تہران میں مستقل قیام کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
محمد حسین شهریار کی جائے پیدائش
خشگناب مشرقی آذربائیجان میں واقع ایک گاؤں ہے جو ایران کے آذری زبان کے معروف شاعر محمد حسین شهریار کی جائے پیدائش ہے۔ خشگناب بزقوش کے پہاڑوں کے دامن میں واقع ہے اور یہاں کی آب و ہوا نہایت خوشگوار ہے۔
شاید اس ماحول کی لطافت کو استاد شهریار کی حساس طبیعت اور شعری ذوق کی ایک وجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ موجودہ دور میں آذربائیجان کے شناختی گاؤں کا عنوان اسی گاؤں کو حاصل ہے۔ استاد کا آبائی گھر جہاں ان کا بچپن اور نوجوانی گزری تھی آج بھی قائم ہے اور اسے ایک ثقافتی عجائب گھر میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
محمد حسین بہجت تبریزی کا تخلص
استاد محمد حسین بہجت تبریزی نے ابتدا میں بہجت تخلص اختیار کیا اور اپنی شاعری میں اسے استعمال کرتے تھے لیکن ایک دن انہوں نے اپنے اشعار کے لیے ایک نیا تخلص منتخب کرنے کا ارادہ کیا۔
چونکہ استاد شهریار بچپن ہی سے حافظ اور ان کی شاعری سے خاص شغف رکھتے تھے اس لیے اس کام میں بھی انہوں نے حافظ سے مدد لی۔ انہوں نے نیت کی اور دیوان حافظ کھولا تو یہ مصرع سامنے آیا کہ چرخ سکہ دولت به نام شهریاران زد۔
یعنی گردش کرتے ہوئے آسمان نے دولت کا سکہ شهریاروں کے نام پر ضرب کیا۔ نوجوان شاعر کو شهریار کا لقب اپنے لیے بہت بڑا محسوس ہوا تو انہوں نے دوبارہ حافظ سے فال لی۔
اس مرتبہ یہ مصرع سامنے آیا کہ روم به شهر خود و شهریار خود باشم۔ یعنی میں اپنے شہر کی طرف جاؤں اور اپنے ہی شہر کا شهریار بنوں۔ چنانچہ انہوں نے اپنا تخلص بہجت سے تبدیل کرکے شهریار رکھ لیا۔
اپنی محبوبہ ثریا ابراہیمی سے ملاقات اور عشق کی داستان
شهریار جوانی کے زمانے میں جب ابھی طب کی تعلیم حاصل کر رہے تھے ایک روز استاد ملک الشعرائے بہار اور استاد صبا کے ہمراہ ایک دکان میں بیٹھ کر آتش بازی کا نظارہ کر رہے تھے کہ اچانک ان کی نظر ایک خوبصورت لڑکی پر پڑی جو بڑے جوش و خروش کے ساتھ آتش بازی دیکھ رہی تھی اور اسی ایک نظر میں وہ اس لڑکی کے عشق میں مبتلا ہوگئے۔
وہ لڑکی ثریا تھی جو عبداللہ امیر طہماسبی کی بیٹی تھی۔ عبداللہ امیر طہماسبی قاجار کے محافظ دستے کے ایک کمانڈر تھے۔ شهریار اپنی شاعری میں ثریا کو پری کے نام سے یاد کرتے تھے
اس زمانے میں شهریار کو زیادہ شہرت حاصل نہیں تھی۔ وہ ثریا کے گھر رشتہ لے کر گئے لیکن چونکہ ان کے مالی حالات زیادہ اچھے نہیں تھے اس لیے انہیں انکار کا سامنا کرنا پڑا۔
شهریار اس عشق پر قائم رہے اور سینتالیس سال کی عمر تک شادی نہیں کی۔ تاہم ثریا نے رضا شاہ کے چچا زاد بھائی چراغ علی سالار حشمت سے شادی کرلی اور شهریار کی محبت ناکام رہ گئی۔
اس عشق کی وجہ سے شهریار نے طب کی تعلیم مکمل ہونے سے ایک سال پہلے ہی تعلیم ترک کردی اور ان کی زندگی اور ذہنی و روحانی کیفیت میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا ہوگئی۔
آخرکار 1314 شمسی میں جب شهریار بیماری کے باعث تہران کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے ثریا ان سے دوبارہ ملاقات کے لیے ہسپتال آئیں اور یہ ان دونوں کی آخری ملاقات تھی۔ اسی موقع پر شهریار نے اپنی مشہور غزل کا یہ شعر کہا: آمدی جانم به قربانت ولی حالا چرا
بی وفا حالا که من افتاده ام از پا چرا
تم آئیں میری جان تم پر قربان لیکن اب کیوں
اے بے وفا اب آئی ہو جب میں بالکل بے حال ہوچکا ہوں
استاد شهریار کی ازدواج اور اولاد
استاد محمد حسین شهریار نے کئی سال تک ایک ناکام عشق کے بعد تنہائی کی زندگی گزاری اور آخرکار 1333 شمسی میں اڑتالیس سال کی عمر میں اپنی پھوپھی کی نواسی محترمہ عزیزہ عبدالخلقی سے شادی کی۔
عزیزہ اس وقت اکیس سال کی تھیں اور معلمہ تھیں لیکن شادی اور پہلے بچے کی پیدائش کے بعد انہوں نے اپنی ملازمت ترک کردی اور گھر اور بچوں کی دیکھ بھال میں مصروف ہوگئیں۔ شهریار اور عزیزہ کی ازدواجی زندگی کا ثمر دو بیٹیاں شہرزاد اور مریم اور ایک بیٹا ہادی ہیں۔
علی اے ہمای رحمت شعر کی تخلیق کی داستان
شهریار کی مشہور ترین نظموں میں سے ایک علی اے ہمای رحمت ہے اور اس کی تخلیق کی داستان بھی قابل سماعت ہے۔ آیت اللہ مرعشی نجفی نے نقل کیا ہے کہ ایک رات میں نے خواب میں اللہ کے ایک ولی کی زیارت کی۔
اس رات میں نے خواب دیکھا کہ میں مسجد کوفہ کے ایک گوشے میں بیٹھا ہوں اور امام علی علیہ السلام ایک جماعت کے درمیان موجود ہیں۔ امام نے فرمایا کہ اہل بیت کے شاعروں کو لاؤ۔
چنانچہ عربی اور فارسی زبان کے متعدد شاعر وہاں حاضر ہوئے۔ امام نے فرمایا ہمارا شهریار کہاں ہے اور شهریار سے مخاطب ہوکر فرمایا اپنا شعر پڑھو۔ شهریار نے اپنا شعر پڑھا:
"علی ای همای رحمت تو چه آیتی خدا را،
که به ماسوا فکندی همه سایهی هما را"
علی اے ہمای رحمت تو خدا کی کیا نشانی ہے کہ تو نے تمام مخلوقات پر ہما کا سایہ ڈال دیا ہے کو آخر تک امام اور وہاں موجود لوگوں کے سامنے پڑھا
آیت اللہ مرعشی نجفی جب خواب سے بیدار ہوئے تو انہوں نے شهریار کی شخصیت کے بارے میں دریافت کیا کیونکہ وہ انہیں نہیں جانتے تھے۔ پھر انہوں نے شهریار کو قم آنے کی دعوت دی۔
ملاقات کے بعد انہوں نے محسوس کیا کہ یہی وہ شخص ہے جسے انہوں نے خواب میں امام علی علیہ السلام کی خدمت میں دیکھا تھا۔ انہوں نے شهریار سے شعر لکھنے کے وقت کے بارے میں پوچھا تو شهریار نے بتایا کہ انہوں نے اب تک یہ شعر کسی شخص کے سامنے نہیں پڑھا تھا اور نہ ہی کسی کو اس کی تخلیق کے بارے میں علم تھا۔
جب شهریار نے شعر کہنے کی تاریخ اور وقت بتایا تو معلوم ہوا کہ یہ وہی وقت تھا جب آیت اللہ مرعشی نجفی نے مذکورہ خواب دیکھا تھا۔ اس روایت کے مطابق یہ شعر شهریار کے دل میں الہام ہوا تھا اور یہ ان کے بزرگ جد کی توجہ اور عنایت کی علامت تھی۔
سید محمد حسین شهریار کے اشعار
استاد شهریار نے اپنی پہلی شاعری چار سال کی عمر میں کی تھی جو ان کی غیر معمولی ذہانت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شهریار کی پہلی مطبوعہ منظوم تصنیف مثنوی روح پروانہ ہے جسے 1310 شمسی میں خیام کتب خانہ نے شائع کیا تھا
استاد شهریار کے کلیات تین جلدوں میں شائع ہوئے ہیں اور ان کے مجموعہ کلام میں پندرہ ہزار سے زیادہ اشعار بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی تمام شاعری میں حساس روح، شاعرانه طبیعت، ذوق اور جدت پسندی کے آثار نمایاں ہیں۔
اگرچہ شهریار ایک گوشہ نشین اور تنہائی پسند شخصیت رکھتے تھے لیکن ان کے مختلف ادبی آثار اور ترکی اور فارسی زبانوں میں شاعری کی غیر معمولی صلاحیت نے انہیں معاصر فارسی شاعری میں ایک معروف اور معتبر مقام عطا کیا۔
استاد شهریار کا انتقال
استاد شهریار کچھ عرصے سے پھیپھڑوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور جب انہیں صحت یابی کی امید باقی نہ رہی تو انہوں نے اپنے دوستوں سے کہا کہ اگر میری وفات کے بعد مجھے تہران میں دفن کرنا چاہیں تو حضرت عبدالعظیم کے حرم کے قریب دفن کریں اور اگر میرے آبائی علاقے آذربائیجان میں دفن کرنا چاہیں تو مجھے حیدر بابا پہاڑ کے دامن میں یا تبریز کے مقبرۃ الشعراء میں سپرد خاک کریں۔
استاد شهریار بیس آذر 1366 کو طویل علالت کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے۔ بیماری کے علاج اور مسلسل طبی نگہداشت کے باوجود یہ محبوب شاعر ہفتہ کے روز 26 شہریور 1367 شمسی کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ محمد حسین بہجت کو 27 شہریور کو تبریز شہر کے مقبرۃ الشعراء میں ان کے ابدی گھر میں آسودہ خاک کیا گیا۔
محمد حسین شهریار کا مزار
محمد حسین شهریار کا مزار تبریز کے مقبرۃ الشعراء کی یادگاری عمارت میں واقع ہے جو سرخاب کے علاقے میں ہے۔ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے یہ مقام دیگر شعرا کی تدفین کے لیے بھی معروف ہے جن میں حکیم اسدی طوسی، نظامی گنجوی، خاقانی شروانی، ظہیر الدین فارابی، قطران تبریزی اور دیگر شعرا شامل ہیں۔
اس آٹھ سو سال قدیم قبرستان میں چار سو سے زیادہ شاعر، عارف اور ادیب مدفون ہیں لیکن شهریار کی قبر کو سنگ مرمر کے ایک مخصوص ٹکڑے سے نمایاں کیا گیا ہے۔ اس سنگ مرمر پر استاد شهریار کی ترکی زبان میں کہی گئی ایک نظم کا شعر کندہ ہے۔
آخری بات
ہر سال 27 شہریور کو استاد شهریار کی برسی کے موقع پر خصوصی تقریب منعقد کی جاتی ہے۔ اس دن کو فارسی شعر و ادب کا دن قرار دیا گیا ہے۔ مناسب ہے کہ ایران کے عظیم شعرا خصوصاً استاد محمد حسین شهریار کی زندگی، ادبی اسلوب اور طرز زندگی سے آگاہی حاصل کرکے اسے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں اور ایرانی ثقافت اور ادب کو زندہ رکھیں[1]۔
حوالہ جات
- ↑ ناہید حیدری، زندگینامه استاد حسین شهریار شاعر، از تولد، عاشقی تا مرگ-شائع شدہ از:20 شهریور 1400ش -اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 ستمبر 2026ء