مندرجات کا رخ کریں

انسانی حقوق

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 15:06، 4 ستمبر 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (Saeedi نے صفحہ مسودہ:انسانی حقوق کو انسانی حقوق کی جانب منتقل کیا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

انسانی حقوق (human rights) ایک نسبتاً جدید اصطلاح ہے اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد اور اقوام متحدہ کے قیام (۱۹۴۵ء) کے بعد ہی روزمرہ گفتگو میں رائج ہوئی۔ اس اصطلاح نے فطری حقوق (Natural Rights) اور حقوقِ انسان (Rights of Man) کی جگہ لی ہے، جو اس سے قدیم اصطلاحات ہیں۔

اعلامیۂ عالمی حقوقِ انسانی اور دیگر بین الاقوامی دستاویزات کے مطابق، انسانی حقوق کی متعدد خصوصیات ہیں، جن میں عالمگیریت، ناقابلِ سلب ہونا، عدمِ امتیاز، مساوات، ناقابلِ انتقال ہونا، ناقابلِ تجزیہ ہونا، مساوات پسندی، باہمی وابستگی اور باہم مربوط ہونا شامل ہیں۔[1] اس لیے یہ حقوق دنیا کے ہر خطے میں تمام افراد کو حاصل ہیں اور کسی شخص کو ان حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نیز تمام افراد نسل، قومیت، جنس، مذہب، جنسی رجحان، رنگ، زبان اور دیگر عوامل سے قطعِ نظر ان حقوق سے بہرہ‌مند ہونے میں برابر ہیں اور ان حقوق کے حصول میں کسی قسم کا امتیاز، ترجیح، تحدید یا محرومی روا نہیں۔ یہ حقوق ناقابلِ نقض بھی سمجھے جاتے ہیں۔

انسانی حقوق کے تصور کی تاریخ

کوروش بزرگ کا منشورِ حقوقِ انسانی، جسے دنیا کا ’’پہلا منشورِ حقوقِ انسانی‘‘ کہا جاتا ہے،[2] شہرِ بابل کی بنیادوں میں رکھا گیا تھا اور اب برٹش میوزیم میں محفوظ ہے۔

اقوام متحدہ کے قیام کے بعد اس ادارے نے بین الاقوامی حقوقِ انسانی کے میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ اقوام متحدہ نے قانونی اداروں اور ذیلی تنظیموں کی تشکیل و توسیع کے ذریعے بین الاقوامی انسانی حقوق کے مباحث کو فروغ دیا۔[3]

انسانی حقوق کی تعریفیں

حقوق کی ماہیت سے متعلق دو عمومی نظریات کے بیان کے بعد ایرانی حقوق دانوں کی تحریروں میں پائی جانے والی چند تعریفیں درج ذیل ہیں:

  • ’’حقوق، حق کی جمع ہے اور اس اختیار کو کہتے ہیں جسے قانون کسی فرد کے لیے تسلیم کرتا ہے، تاکہ وہ کوئی عمل انجام دے سکے یا اسے ترک کر سکے۔‘‘[4]
  • ’’لوگوں کے باہمی تعلقات کو منظم کرنے اور معاشرے میں نظم برقرار رکھنے کے لیے، موضوعہ قانون ہر فرد کے لیے دوسروں کے مقابلے میں کچھ امتیازات تسلیم کرتا ہے اور اسے ایک خاص صلاحیت عطا کرتا ہے، جسے حق کہا جاتا ہے؛ اس کی جمع حقوق ہے اور اسے حقوقِ فردی بھی کہا جاتا ہے۔‘‘[5]
  • حق سے مراد ’’وہ قدرت ہے جو قانون کی طرف سے کسی شخص کو عطا کی گئی ہو۔‘‘[6]

انسانی حقوق کا فلسفہ

انسانی حقوق کا فلسفہ انسانی حقوق کے تصور کی بنیادی اساس کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کے محتوا کو تنقید کا موضوع بناتا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد نظریاتی رجحانات پائے جاتے ہیں، جن کا مقصد یہ وضاحت کرنا ہے کہ انسانی حقوق کس طرح اور کیوں معاشرتی توقعات کا حصہ بنے۔ انسانی حقوق کے بارے میں مغرب کے قدیم ترین فلسفوں میں سے ایک فطری حقوق کا نظریہ ہے، جو مختلف فلسفیانہ یا دینی مباحث سے نکلا ہے۔ اس سلسلے کا ایک دوسرا نظریہ یہ ہے کہ انسانی حقوق اخلاقی طرزِ عمل کا تعین کرتے ہیں اور انسان کی اجتماعی اخلاقیات حیاتیاتی و سماجی ارتقا کے عمل کے ذریعے ترقی کرتی ہیں؛ یہ نظریہ ڈیوڈ ہیوم سے منسوب کیا جاتا ہے۔

انسانی حقوق کو قوانین کی تنظیم کے ایک عمرانیاتی تصور کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ قانون کے عمرانیاتی نظریے اور میکس ویبر کے کام میں اس کی وضاحت ملتی ہے۔ اس سلسلے کے دیگر نظریات کے مطابق معاشرے کے افراد قوانین کے اختیار اور مشروعیت کو اس کے بدلے قبول کرتے ہیں کہ انہیں سلامتی اور معاشی فوائد حاصل ہوتے ہیں؛ یہ تصور جان راولز کے نظریے سے متعلق ہے۔ اس موضوع پر دو دیگر معاصر نظریات بھی ہیں جنہیں مفاد کا نظریہ اور کوشش کا نظریہ کہا جاتا ہے۔ مفاد کا نظریہ یہ استدلال پیش کرتا ہے کہ انسانی حقوق کا بنیادی کام انسانی مفادات کا تحفظ اور فروغ ہے، جبکہ کوشش کا نظریہ انسانی آزادی کی صلاحیت کی بنیاد پر انسانی حقوق کو معتبر قرار دیتا ہے۔[7]

انسانی حقوق کا سرچشمہ

جیسا کہ بیان ہوا، انسانی حقوق کی اصطلاح نسبتاً جدید ہے۔ اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ عبارت روایتی اور معروف ادیان میں اسی مخصوص اصطلاح کے ساتھ موجود نہیں تھی۔ تاہم، دینیات انسانی حقوق کے ایسے نظریے کی بنیاد فراہم کرتی ہے جو ریاستی قانون سے برتر کسی قانون سے ماخوذ ہوتا ہے اور جس کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ ہے۔

دین کے انسانی حقوق کے نظریے کی بنیاد فراہم کرنے کی وضاحت یہ ہے کہ تمام ادیان میں انسان کو ایک باارزش، صاحبِ کرامت اور ایک اعتبار سے مقدس مخلوق سمجھا گیا ہے۔ عہد نامہ قدیم میں آیا ہے کہ آدم خدا کی صورت پر پیدا کیا گیا ہے؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی مخلوقات پر ایک الٰہی نشان موجود ہے جو انہیں اعلیٰ قدر و منزلت عطا کرتا ہے۔

قرآن میں بھی ارشاد ہے:

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَاهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَاهُمْ مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَفَضَّلْنَاهُمْ عَلَىٰ كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلًا. سورہ = اسراء/آیه = 70

’’اور یقیناً ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی، انہیں خشکی اور تری میں سواریاں عطا کیں، انہیں پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر انہیں نمایاں فضیلت دی۔‘‘

بھگود گیتا میں بھی آیا ہے:

’’جو شخص اپنے پروردگار کو ہر مخلوق کے اندر دیکھتا ہے، جو فنا اور زوال سے محفوظ ہے اور فانی دنیا کے درمیان زندگی بسر کرتا ہے، وہی حقیقت کو دیکھتا ہے۔‘‘[8]

ادیان کے نقطۂ نظر سے تمام انسان اس امر میں شریک ہیں کہ وہ خدا کی مخلوق ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، الٰہی تخلیق ایک مشترک انسانی وحدت کا سبب بنتی ہے۔ تخلیق و آفرینش میں یہ اشتراک ان بعض حقوق کی عالمگیریت کی طرف لے جاتا ہے جو ایک ملکوتی سرچشمے سے پھوٹتے ہیں۔ یہ حقوق کسی زوال پذیر طاقت اور دنیوی اقتدار کے ذریعے انسان سے سلب نہیں کیے جا سکتے۔ یہ تصور یہودی، مسیحی اور اسلامی روایت، نیز دیگر الٰہی مذاہب میں بھی پایا جاتا ہے۔[9]

متن اعلامیۂ عالمی حقوقِ انسانی

دفعہ ۱

تمام انسان انسان آزاد پیدا ہوتے ہیں اور عزت و حقوق کے اعتبار سے ایک دوسرے برابر ہیں۔ سب کو عقل اور ضمیر عطا کیا گیا ہے اور کو عقل اور ضمیر عطا کیا گیا ہے اور انہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چاہیے۔

دفعہ ۲

ہر شخص کو کسی بھی امتیاز کے بغیر، خصوصاً نسل، رنگ، جنس، زبان، مذہب، سیاسی یا کسی دوسرے عقیدے، قومی یا سماجی حیثیت، دولت، پیدائش یا کسی اور حالت کے اعتبار سے، اس اعلامیے میں بیان کردہ تمام حقوق اور تمام آزادیوں سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے۔

اس کے علاوہ کسی شخص کے ملک یا علاقے کی سیاسی، انتظامی، عدالتی یا بین الاقوامی حیثیت کی بنیاد پر بھی کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا، خواہ وہ ملک آزاد ہو، زیرِ قیمومت ہو، خود مختار نہ ہو، یا اس کی حاکمیت کسی بھی طرح محدود ہو۔

دفعہ ۳

ہر شخص کو زندگی، آزادی اور ذاتی تحفظ کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۴

کسی شخص کو غلامی میں نہیں رکھا جا سکتا اور غلاموں کی خرید و فروخت ہر صورت میں ممنوع ہے۔

دفعہ ۵

کسی شخص کو تشدد، ظالمانہ یا غیر انسانی سلوک، یا ایسی سزا کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا جو انسانی وقار کے منافی یا توہین آمیز ہو۔

دفعہ ۶

ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ ہر جگہ قانون کے سامنے ایک انسان کی حیثیت سے اس کی قانونی شخصیت کو تسلیم کیا جائے۔

دفعہ ۷

تمام افراد قانون کے سامنے برابر ہیں اور انہیں بلاامتیاز قانون کے یکساں تحفظ کا حق حاصل ہے۔ سب کو اس اعلامیے کی خلاف ورزی کرنے والے ہر امتیاز کے خلاف، نیز ایسے امتیاز پر اکسانے والی ہر تحریک کے خلاف، قانون کے یکساں تحفظ کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۸

ہر شخص کو ایسے اعمال کے خلاف مؤثر قانونی چارہ جوئی کے لیے اپنے ملک کی بااختیار عدالتوں سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے جو اس کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کریں، جبکہ یہ حقوق آئین یا کسی دوسرے قانون کے ذریعے اسے تسلیم کیے گئے ہوں۔

دفعہ ۹

کسی شخص کو من مانے طور پر گرفتار، نظربند یا جلاوطن نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ ۱۰

ہر شخص کو مکمل مساوات کے ساتھ یہ حق حاصل ہے کہ اس کے مقدمے کی سماعت ایک آزاد اور غیر جانب دار عدالت کے ذریعے منصفانہ اور علانیہ طور پر کی جائے، اور وہ عدالت اس کے حقوق و فرائض یا اس کے خلاف عائد کیے گئے کسی بھی فوجداری الزام کے بارے میں فیصلہ کرے۔

دفعہ ۱۱

  1. ہر شخص جس پر کسی جرم کا الزام عائد کیا گیا ہو، اس وقت تک بے گناہ تصور کیا جائے گا جب تک کسی علانیہ مقدمے میں، جس میں اسے اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری ضمانتیں حاصل ہوں، قانون کے مطابق اس کا جرم ثابت نہ ہو جائے۔
  2. کسی شخص کو کسی ایسے فعل کے ارتکاب یا ترکِ فعل کی بنا پر سزا نہیں دی جائے گی جو اس وقت قومی یا بین الاقوامی قانون کے تحت جرم نہ تھا۔ اسی طرح کسی جرم کے ارتکاب کے وقت اس جرم کے لیے مقررہ سزا سے زیادہ سخت سزا بھی عائد نہیں کی جا سکتی۔

دفعہ ۱۲

کسی شخص کی نجی زندگی، خاندانی امور، رہائش گاہ یا خط و کتابت میں من مانے طور پر مداخلت نہیں کی جائے گی، نہ ہی اس کی عزت اور شہرت پر حملہ کیا جائے گا۔ ہر شخص کو ایسے مداخلتوں اور حملوں کے خلاف قانون کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۱۳

  1. ہر شخص کو ہر ملک کی حدود کے اندر آزادانہ نقل و حرکت اور اپنی رہائش گاہ منتخب کرنے کا حق حاصل ہے۔
  2. ہر شخص کو کسی بھی ملک، بشمول اپنے ملک، کو چھوڑنے اور اپنے ملک واپس آنے کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۱۴

  1. ہر شخص کو ظلم و ستم سے بچنے کے لیے دوسرے ممالک میں پناہ طلب کرنے اور پناہ حاصل کرنے کا حق حاصل ہے۔
  2. اس حق سے ایسے مقدمات میں فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا جو حقیقتاً غیر سیاسی جرائم یا ایسے اعمال کے نتیجے میں قائم کیے گئے ہوں جو اقوامِ متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے خلاف ہوں۔

دفعہ ۱۵

  1. ہر شخص کو قومیت رکھنے کا حق حاصل ہے۔
  2. کسی شخص کو من مانے طور پر اس کی قومیت سے یا قومیت تبدیل کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ ۱۶

  1. بالغ مرد اور عورت کو نسل، قومیت یا مذہب کی بنا پر کسی پابندی کے بغیر شادی کرنے اور خاندان تشکیل دینے کا حق حاصل ہے۔ شادی کے دوران اور اس کے اختتام کے وقت مرد اور عورت کو ازدواجی امور میں مساوی حقوق حاصل ہوں گے۔
  2. شادی مرد اور عورت کی آزادانہ اور مکمل رضامندی سے ہی عمل میں آنی چاہیے۔
  3. خاندان معاشرے کی فطری اور بنیادی اکائی ہے اور اسے معاشرے اور ریاست کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۱۷

  1. ہر شخص کو تنہا یا دوسروں کے ساتھ مل کر ملکیت رکھنے کا حق حاصل ہے۔
  2. کسی شخص کو من مانے طور پر اس کے حقِ ملکیت سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ ۱۸

ہر شخص کو فکر، ضمیر اور مذہب کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں مذہب یا عقیدہ تبدیل کرنے کی آزادی، نیز اپنے عقیدے اور مذہب کے اظہار کی آزادی شامل ہے۔ اس میں مذہبی تعلیم اور مذہبی رسومات ادا کرنے کی آزادی بھی شامل ہے۔ ہر شخص کو یہ حقوق انفرادی یا اجتماعی طور پر، نجی یا علانیہ، استعمال کرنے کا حق حاصل ہے۔

دفعہ ۱۹

ہر شخص کو رائے اور اظہارِ خیال کی آزادی کا حق حاصل ہے۔ اس حق میں یہ آزادی بھی شامل ہے کہ اسے اپنی رائے رکھنے کی وجہ سے خوف یا اضطراب کا سامنا نہ ہو، اور وہ تمام ممکنہ ذرائع کے ذریعے، سرحدوں کی پابندیوں سے قطع نظر، معلومات اور خیالات حاصل، وصول اور نشر کر سکے۔

دفعہ ۲۰

  1. ہر شخص کو پُرامن اجتماعات اور انجمنیں آزادانہ طور پر قائم کرنے کا حق حاصل ہے۔
  2. کسی شخص کو کسی انجمن میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

دفعہ ۲۱

  1. ہر شخص کو اپنے ملک کے نظمِ عامہ میں براہِ راست یا آزادانہ طور پر منتخب کیے گئے نمائندوں کے ذریعے حصہ لینے کا حق حاصل ہے۔
  2. ہر شخص کو مساوی شرائط کے تحت اپنے ملک کی عوامی ملازمتوں تک رسائی کا حق حاصل ہے۔
  3. حکومت کے اختیار کی بنیاد اور سرچشمہ عوام کی مرضی ہے۔ اس مرضی کا اظہار ایسے انتخابات کے ذریعے ہونا چاہیے جو دیانت دارانہ، باقاعدہ اور متواتر ہوں۔ انتخابات عمومی اور مساوی بنیادوں پر منعقد کیے جائیں اور خفیہ رائے دہی یا اس کے مساوی کسی ایسے طریقے سے کرائے جائیں جو رائے دہی کی آزادی کو یقینی بنائے۔

دفعہ ۲۲

ہر شخص، بحیثیت رکنِ معاشرہ، سماجی تحفظ کا حق رکھتا ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ قومی کوششوں اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے، ہر ملک کی تنظیم اور وسائل کے مطابق، اپنے معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق حاصل کرے؛ یہ حقوق اس کے وقار اور اس کی شخصیت کی آزادانہ نشوونما کے لیے ناگزیر ہیں۔

دفعہ ۲۳

  1. ہر شخص کو کام کرنے، اپنے کام کا آزادانہ انتخاب کرنے، روزگار کی منصفانہ اور تسلی بخش شرائط حاصل کرنے اور بے روزگاری کی صورت میں مدد حاصل کرنے کا حق ہے۔
  2. سب کو مساوی کام کے لیے بلا امتیاز مساوی اجرت پانے کا حق ہے۔
  3. ہر کام کرنے والے کو منصفانہ اور تسلی بخش اجرت پانے کا حق ہے جو اس کی اور اس کے خاندان کی زندگی کو انسانی وقار کے مطابق بنایا اور اگر ضروری ہو تو دیگر ذرائع سے سماجی تحفظ فراہم کیا جائے۔
  4. ہر شخص کو اپنے مفادات کے دفاع کے لیے دوسروں کے ساتھ انجمنیں قائم کرنے اور انجمنوں میں شامل ہونے کا حق ہے۔

دفعہ ۲۴

ہر شخص کو آرام اور تفریح کا حق ہے، جس میں کام کے اوقات کی معقول حد بندی اور تنخواہ کے ساتھ باقاعدہ تعطیلات شامل ہیں۔

دفعہ ۲۵

  1. ہر شخص کو صحت، بہبود اور اس کی اور اس کے خاندان کی زندگی کے لیے خوراک، رہائش، طبی نگہداشت اور ضروری سماجی خدمات کے حصول کا حق ہے۔ اسے بے روزگاری، بیماری، معذوری، بڑھاپے یا اس کے قابو سے باہر کے دیگر حالات میں روزی کمانے کے ذرائع ختم ہونے کی صورت میں بھی تحفظ کا حق حاصل ہے۔
  2. ماؤں اور بچوں کو خصوصی مدد اور نگہداشت کا حق حاصل ہے۔ تمام بچوں کو، خواہ وہ شادی سے پیدا ہوئے ہوں یا بغیر شادی کے، انہیں سماجی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔

دفعہ ۲۶

  1. ہر شخص کو تعلیم کا حق حاصل ہے۔ کم از کم ابتدائی اور بنیادی تعلیم مفت ہونی چاہیے۔ ابتدائی تعلیم لازمی ہے۔ پیشہ ورانہ تعلیم عام کی جانی چاہیے، اور اعلیٰ تعلیم تمام کے لیے مساوی بنیادوں پر دستیاب ہونی چاہیے، تاکہ ہر شخص اپنی استعداد کے مطابق اس سے فائدہ اٹھا سکے۔
  2. تعلیم کو انسانی شخصیت کی مکمل نشوونما، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کو فروغ دینا چاہیے۔ تعلیم کو اقوام متحدہ کے امن کے قیام کے مقاصد کے فروغ کے لیے افہام و تفہیم، رواداری اور مختلف قوموں، نسلی یا مذہبی گروہوں کے درمیان دوستی کو سہولت فراہم کرنی چاہیے۔
  3. والدین کو اپنے بچوں کی تعلیم کی قسم کے انتخاب میں دوسروں پر ترجیح حاصل ہے۔

دفعہ ۲۷

  1. ہر شخص کو معاشرتی اور ثقافتی زندگی میں آزادانہ حصہ لینے، فنون لطیفہ سے لطف اندوز ہونے اور اس کے علمی فوائد میں شریک ہونے کا حق ہے۔
  2. ہر شخص کو اپنی تخلیقات کے اخلاقی اور مادی مفادات کے تحفظ کا حق ہے۔

دفعہ ۲۸

ہر شخص کو ایسے سماجی اور بین الاقوامی نظم و نسق کا حق ہے جس میں اس اعلامیے میں بیان کردہ حقوق اور آزادیوں کو مکمل طور پر نافذ کیا جا سکے۔

دفعہ ۲۹

  1. ہر شخص پر معاشرے کے تئیں ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے اس کی شخصیت کی آزادانہ اور مکمل نشوونما ممکن ہوتی ہے۔
  2. اپنے حقوق اور آزادیوں کے استعمال میں، ہر شخص صرف ان حدود کا پابند ہوگا جو قانون کے ذریعے مقرر کی گئی ہیں، خاص طور پر دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کو تسلیم کرنے اور ان کا احترام کرنے کے لیے، نیز ایک جمہوری معاشرے میں اخلاقیات، عوامی نظم اور سب کی بہبود کے جائز مطالبات کے لیے۔
  3. یہ حقوق اور آزادیاں کسی بھی صورت میں اقوام متحدہ کے مقاصد اور اصولوں کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکتیں۔

دفعہ ۳۰

اس اعلامیے کی کوئی بھی شق اس طرح سے تعبیر نہیں کی جائے گی کہ اس سے کسی ریاست، گروہ یا فرد کو اس اعلامیے میں بیان کردہ حقوق و آزادیوں کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کوئی سرگرمی کرنے کا کوئی حق حاصل ہو۔[10].

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے ہائی کمشنر کا دفتر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سرگرمیوں کی بنیادی ذمہ داری رکھتا ہے۔ ہائی کمشنر کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا جواب دینے اور روک تھام کے اقدامات کرنے کا اختیار ہے۔ دفترِ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کوششوں کا مرکزی نقطہ ہے۔ یہ دفتر انسانی حقوق کی کونسل، معاہدوں کی نگرانی کرنے والی کمیٹیوں اور اقوام متحدہ کے دیگر انسانی حقوق کے اداروں کے سیکرٹریٹ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہ دفتر انسانی حقوق کے شعبے میں زمینی سرگرمیاں بھی انجام دیتا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق کے کئی معاہدوں کے تحت ایک نگرانی کا ادارہ ہے جو ان معاہدوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیتا ہے۔ جن افراد کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے وہ براہ راست انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی کمیٹیوں میں شکایات درج کرا سکتے ہیں اور ان کی پیروی کر سکتے ہیں۔[11]

اسلام کے نقطہ نظر سے انسانی حقوق

اسلام کے نقطہ نظر سے، انسانی حقوق کی تعریف اس طرح کی گئی ہے: "انسانی حقوق وہ مستحکم اور مشترکہ امور ہیں جو تمام انسانوں میں پائے جاتے ہیں، جن کا ہر انسان کو انسان ہونے کی وجہ سے حامل ہونا چاہیے اور وہ رکھتا ہے، اور یہ حق خالقِ انسان نے پیدائش کے وقت ہی اس کے لیے مقرر کیا ہے۔"

اس تعریف میں بیان کردہ مستحکم اور مشترکہ امور، جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہے، "حق" کے تصور سے اخذ کیے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کو تمام انسانوں کے درمیان مشترک کہنے کی بھی ایک وجہ ہے، کیونکہ اسلام کے نقطہ نظر سے، جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے، انسان کی ایک ایسی فطرت ہے جو سب میں مشترک ہے، اور یہ کہ آخر کار، اس تعریف میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ خالقِ انسان نے یہ حق پیدائش کے وقت ہی اس کے لیے مقرر کیا ہے، تاکہ یہ غلط فہمی دور ہو کہ انسانی اور فطری حقوق کے معاملے میں خالق سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ کیونکہ اس قید کے بغیر یہ غلطی ہو سکتی ہے کہ یہ حقوق فطرت نے انسان کو دیے ہیں، حالانکہ فطرت خود مخلوق ہے اور اس کے پاس کچھ نہیں ہے کہ وہ کسی اور کو عطا کر سکے۔[12].

حقوق کے تصور، انسان شناسی اور انسانی حقوق کی تعریف کے پیش نظر، اب یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ آیا محض معاہدوں کی تدوین سے انسان کے لیے کوئی حق بیان کیا جا سکتا ہے، اور اس پر کوئی واجبات عائد کیے جا سکتے ہیں، یا یہ کہ ان واجبات کی تعیین کا ماخذ ان "ہستیوں" میں ہونا چاہیے تاکہ اسے انسانی حقوق کا نام دیا جا سکے؟ اور کیا خود انسان میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ ان "ہستیوں" کو پہچان سکے اور اس کی بنیاد پر اپنے واجبات اور حقوق کا تعین کر سکے؟ یا یہ کہ ہستی آفرین اور انسان آفرین اس کا تعین کر سکتا ہے؟ اور کیا اس نے جو صلاحیت رکھتا ہے، ان حقوق کا تعین کیا ہے یا نہیں؟

یہ واضح ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر سے حقوق کی تعیین صاحب شریعت کا فرض ہے، اور قرآن کریم و سنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں انسانی حقوق کی تفصیل موجود ہے[13]. تو انسانی حقوق کا سب سے بڑا حامی اور ذمہ دار صرف قرآن مجید ہے، جو وحی کا منطق ہے، اور نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ، بحار، کافی اور دیگر اسلامی اصول و مسندوں سے حاصل ہونے والے روائی مجموعے سب قرآن کے ظاہری اور باطنی پہلو ہیں اور ایک معنی میں یہ سب قرآن کے جز ہیں۔[14].

دوسرے الفاظ میں، یقیناً انسان کی ترقی اور اس کے حقوق کی وضاحت کے اصول اور طریقے مافوق الفطرت اور الہی ہونے چاہئیں، اور یہ کام مختلف شریعتوں کے نزول سے ہوا ہے۔ ان سب شریعتوں کا بنیادی متن دین ابراہیمی ہے: وَ مَنْ أَحْسَنُ دیناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَ هُوَ مُحْسِنٌ وَ اتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْراهیمَ حَنیفاً وَ اتَّخَذَ اللَّهُ إِبْراهیمَ خَلیلاً. سوره = نساء/آیه = 125 . قُلْ إِنَّنی هَدانی رَبِّی إِلی صِراطٍ مُسْتَقیمٍ دیناً قِیَماً مِلَّةَ إِبْراهیمَ حَنیفاً وَ ما کانَ مِنَ الْمُشْرِکین. سوره = انعام/آیه = 161 . وَ قالُوا کُونُوا هُوداً أَوْ نَصاری تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْراهیمَ حَنیفاً وَ ما کانَ مِنَ الْمُشْرِکین. سوره = بقره/آیه = 135 جس کی طرف قرآن بلاتا ہے، اور سب سے زیادہ لائق دین اور شریعت جو دین ابراہیمی یعنی حنیف دین اسلام ہے، ہمارے پیغمبر اور ان کے پیروکار ہیں۔ آج اسلام اور قرآن کے نقطہ نظر سے، دین اسلام انسانی حقوق کی وضاحت کے لیے سب سے زیادہ لائق دین ہے۔[15].

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں نقطہ نظر اور حیثیت

انسانی حقوق کا موضوع، جو ہر انسان کے قدرتی اور بنیادی حقوق سمجھے جاتے ہیں، ایک طویل تاریخ رکھتا ہے۔ تاریخی طور پر، یہ زیادہ تر شہری-سیاسی حقوق سے متعلق تھا، لیکن حالیہ دور میں اس کا دائرہ وسیع ہو گیا ہے اور اس میں معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ حقوق، جو روایتی طور پر ملک کے آئین کے ذریعے شہریوں کے لیے ضمانت کیے جاتے تھے، آج کل اقوام متحدہ اور علاقائی تنظیموں کے بین الاقوامی اقدامات کے ذریعے مکمل ہو گئے ہیں اور بعض اوقات ان کی حمایت بھی کی جاتی ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے نقطہ نظر کو سمجھنا اور اس میں انسانی حقوق کی حیثیت کو واضح کرنا اہم ہے، کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران کا نظام، چاہے وہ نظریہ کے لحاظ سے ہو یا قومی تاریخ اور قدیم تہذیب کے لحاظ سے، انسانی حقوق کے معیار سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔

اسی وجہ سے، اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے تصورات اور معیارات کو دینی معیارات کو مدنظر رکھتے ہوئے مناسب توجہ دی گئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مناسب جواب حاصل کرنے کا سب سے بہترین اور مختصر ترین طریقہ یہ ہے کہ اعلامیہ حقوق بشر کے مطابق آئین کو دیکھا جائے۔ اس صورت میں، ہم دیکھیں گے کہ آئین ایک طرف تو انسان کی کرامت اور فطری قدر کو بیان کرتا ہے، اور دوسری طرف، اہم شہری، سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق پر خاص طور پر زور دیتا ہے اور ان پر عمل درآمد کو ضروری قرار دیتا ہے۔ ساتھ ہی، یہ حقوق اور آزادیوں کے نفاذ پر پابندیوں کے عوامل کا ذکر کرنے سے بھی غافل نہیں ہے، کیونکہ اسلامی انسانی حقوق کا الہی ماخذ ہے، یعنی یہ وہ حقوق ہیں جو اللہ نے انسان کو عطا کیے ہیں، لہذا اس کے قدرتی طور پر اس کے کچھ محدودیتیں ہیں، نہ کہ وہ بنیادی حقوق جو کسی بھی صورت میں محدود یا سلب نہیں ہو سکتے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ حقوق اور فرائض کے درمیان ایک لازم تعلق موجود ہے، اور ہر حق کے ساتھ ایک متقابل فرض بھی ہوتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ لہذا، صرف اپنے حق کا مطالبہ کرنے کا نقطہ نظر، بالترتیب فرض کے بارے میں کوئی ذمہ داری نہ ہونے کے، اسلام اور آئین کے مکتب میں قابل قبول نہیں ہے۔ اب ہم مختصراً ہر ایک تین محوروں کا ذکر کریں گے:

انسانی کرامت

بلاشبہ، انسانی کرامت اور قدر پر یقین رکھنا انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کو تسلیم کرنے کے لیے پہلی شرط ہے۔ انسانی کرامت کا خیال الہی ادیان، خاص طور پر اسلام میں، ایک بلند مقام رکھتا ہے[16] اور اس کرامت کا ماخذ انسان کا اللہ سے تعلق ہے[17] اور انسانی حقوق "خدا کی طرف سے انسان کی تکریم" سے اخذ کیے گئے ہیں۔[18]. اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین، جو اسلامی اصولوں اور ضوابط کی بنیاد پر انسانی حقوق کو بیان کرتا ہے، انسانی کرامت اور قدر پر ایمان کو اسلامی جمہوریہ ایران کے نظام کے بنیادی اصولوں میں سے ایک سمجھتا ہے، جو توحید، وحی اور معاد، اور شریعت میں خدا کے عدل وغیرہ کے ساتھ شمار ہوتا ہے[19]. اس کی وجہ واضح ہے: اسلام میں انسانی حقوق کا صحیح عقیدہ، خدا پر ایمان اور الہی شریعت وغیرہ سے گہرا تعلق ہے۔ جو شخص یا نظام خدا کو خالق اور قانون ساز مانتا ہے، وہ نہ صرف اس کے حقوق کا احترام کرتا ہے، بلکہ بندگان خدا کے حقوق کو بھی سمجھتا اور ان کا احترام کرتا ہے، کیونکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ اللہ انسان کا خالق ہے اور تمام انسان اللہ کی مخلوق ہیں اور برابر کے حقوق رکھتے ہیں، اور ان حقوق کی فراہمی ہر مسلمان اور اسلامی نظام پر واجب ہے۔ آئین میں، انسان کی تکریم کے علاوہ، انسان کی اپنی تقدیر کا خود تعین کرنے کا اصول بھی تسلیم کیا گیا ہے اور اس امر پر ایک غیر منقولہ خدادادی حق کے طور پر زور دیا گیا ہے.[20].

شہری حقوق اور بنیادی آزادی

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کے مختلف اصولوں میں، خاص طور پر تیسرے باب میں، "عوام کے حقوق" کے عنوان کے تحت، متعدد شہری حقوق اور بنیادی آزادیوں کا ذکر کیا گیا ہے اور ان پر عمل درآمد کو ضروری قرار دیا گیا ہے:

جن میں سب سے اہم یہ ہیں:

  1. مساوات: متعدد اصولوں میں قانون اور عدالت کے سامنے تمام شہریوں کی مساوات، اور سہولیات کے استعمال میں مساوات اور امتیاز کے خاتمے کی تصریح کی گئی ہے[21].
  2. آزادی: آئین میں آزادی کو بلند مقام حاصل ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ "کوئی بھی ادارہ ملک کی آزادی اور علاقائی سالمیت کے نام پر، یہاں تک کہ قوانین اور ضوابط کے نفاذ کے ذریعے بھی، جائز آزادیوں کو سلب نہیں کر سکتا[22]. آئین کے اصولوں میں مختلف آزادیوں جیسے اظہار رائے کی آزادی[23]، اجتماعات میں شرکت کی آزادی،[24]، عقیدے کی آزادی،[25]، روزگار کے انتخاب کی آزادی وغیرہ کو صراحت سے بیان کیا گیا ہے اور حکومت کی طرف سے ان کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے.[26]. عدلیہ کے فرائض میں جائز آزادیوں کو بحال کرنا شامل ہے.[27].
  3. بے گناہی کا اصول: بے گناہی کا اصول آئین میں تسلیم شدہ اہم ترین انسانی حقوق کے اصولوں میں سے ایک ہے۔
  4. منصفانہ مقدمے کا حق: آئین میں منصفانہ مقدمے اور انصاف کی فراہمی اور عوام پر ظلم سے بچنے کے لیے کچھ انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں شامل ہیں: مقدمہ دائر کرنے اور عدالتوں تک رسائی کا حق[28]، غیر قانونی گرفتاری یا جلاوطنی کی ممانعت[29]، وکیل صفائی کا حق،[30]، مقدمات کی علنی سماعت،[31] جرم اور سزا کے قانونی ہونے کا اصول،[32] قانون کا غیر مؤثر ہونا[33]، خصوصی عدالتوں سے گریز[34]، غلطی سے سزا یافتہ شخص کے لیے ہرجانہ اور عزت کی بحالی[35]. یہ انتظامات اعلامیہ حقوق بشر اور شہری و سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے میں بیان کردہ معیارات اور تصورات کے مطابق ہیں۔
  5. ملک کے نظم عامہ میں شرکت کا حق: آئین میں ملک کی تقدیر کے تعین میں عوام کے کردار پر واضح طور پر زور دیا گیا ہے.[36].
  6. شادی اور خاندان کی تشکیل کا حق: خاندان کی اہمیت اور اس کے بنیادی کردار پر زور آئین کے اہم نکات میں سے ہے۔[37].

معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق

اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین میں ان حقوق کے لیے مخصوص اصول مختص کیے گئے ہیں، اور تعلیم و تربیت کے حق[38]، کام کی آزادی اور مناسب روزگار کے حق اور سماجی بہبود کے حق[39] اور اسی طرح کے دیگر حقوق کی حمایت کی گئی ہے۔

آئین میں، بین الاقوامی دستاویزات کی طرح، انسانی حقوق اور آزادیوں کو محدود کرنے والے وجوہات کا ذکر کیا گیا ہے، اور وہ وجوہات یہ ہیں

دیگر افراد کے حقوق اور آزادیوں کا احترام، عوامی نظم اور سلامتی کو برقرار رکھنا، اور عوامی اخلاقیات کا احترام۔ ان کے علاوہ، اسلامی معیارات اور ضوابط کا احترام[40] جو آئین کی خصوصیات میں سے ہے۔ لہذا، یہ کہا جا سکتا ہے کہ: آئین میں انسانی حقوق کو بہت بلند مقام حاصل ہے، اور انسانی حقوق کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کا نقطہ نظر اسلام کے نقطہ نظر کا عکاس ہے، ایک ایسا دین جس کے ظہور کے ساتھ ہی انسانی حقوق شرعی نصوص کی شکل میں ظاہر ہوئے اور صدیوں کے گزرنے کے بعد، اب اسلامی جمہوریہ کے آئین میں دوبارہ جنم لیا ہے۔ اس تصویر اور خاکہ کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس آئین میں عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیوں اور ان کے نفاذ کے سلسلے میں حکومت کی ذمہ داریوں کے بارے میں دیا گیا ہے، یہ مثبت احساس پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت اور حکومتی نظام انہیں عملی جامہ پہناتے ہیں، تو یقیناً وہ اسلامی معاشرے کو دنیا کے لیے ایک بہترین نمونہ کے طور پر پیش کرے گا۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں رہنا سکون، سلامتی اور اضافی فخر کا باعث ہوگا۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. اعلامیۂ عالمی حقوقِ انسانی؛ بین الاقوامی حقوقِ انسانی کی متعلقہ دستاویزات۔
  2. برٹش میوزیم، ’’کوروش کا منشور‘‘، ۱۵ آبان ۱۳۹۶، دستیابی: ۶ نومبر ۲۰۱۷ء۔
  3. منشورِ حقوقِ انسانی کوروشِ بزرگ، جسے منشورِ کوروش بھی کہا جاتا ہے، ایک مٹی کا استوانہ ہے جو ۵۳۹ قبلِ مسیح میں ہخامنشی بادشاہ کوروش دوم کے حکم سے تیار کیا گیا۔
  4. امامی، سید حسن، حقوقِ مدنی، اسلامیہ، چھٹا ایڈیشن، ج ۴، ص ۲۔
  5. کاتوزیان، ناصر، حقوقِ مدنی، دانشکدۂ علومِ اداری، تیسرا ایڈیشن، ۱۳۴۷ شمسی، ج ۱، ص ۵۔
  6. جعفری لنگرودی، محمد جعفر، ترمینولوژیِ حقوق، گنجِ دانش، چوتھا ایڈیشن، ۱۳۶۸ شمسی، ص ۲۱۶۔
  7. Fagan, 2005.
  8. Shestack، op. cit.، p. ۲۰۵.
  9. Shestack، op. cit.، p. ۲۰۵.
  10. مرکز اطلاعات سازمان ملل متحد تهران https://www.ohchr.org/EN/UDHR/Documents/UDHR_Translations/prs.pdf
  11. سائٹ UNITED NATIONS.
  12. جوادی آملی، تفسیر انسان به انسان، قم: اسراء 1385، ص240.
  13. شعرانی، ابوالحسن(1298ق.)، دائره المعارف لغات قرآن مجید، قم: نشر طوبی، اسلامیه، 1298ق. ، ص84.
  14. تفسیر انسان به انسان، قم: اسراء حسن زاده آملی، 1369، صص 112-110.
  15. جعفری، محمد تقی (1370)، نظام جهانی حقوق بشر، دفتر خدمات حقوقی بین‌المللی جمهوری اسلامی ایران، 1370، صص 88-83.
  16. اسراء/70.
  17. . اسراء/ص/72.
  18. الزحیلی، محمد، حقوق الانسان فی الاسلام، دار بن کثیر، چاپ دوم، 1422ق، ص134-130.
  19. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل دوم.
  20. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل56.
  21. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل20، اصل19، اصل3 بند 9 و 14.
  22. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل .9.
  23. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل .24.
  24. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل23،اصل14،اصل13.
  25. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 3، بند 7.
  26. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 156
  27. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 37.
  28. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 32 و 33.
  29. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 35.
  30. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 165، اصل 168.
  31. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 36.
  32. ، قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل .169.
  33. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل .159.
  34. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 171.
  35. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، بند 8، اصل 3، اصل 6، اصل 7، اصل 59، اصل 100.
  36. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 10، اصل .21.
  37. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، بند 3، و بند 4، اصل 3 و اصل 30.
  38. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 28، اصل 43.
  39. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، بند 12، اصل سوم، اصل 29، اصل 31، ص 43.
  40. قانون اساسی جمهوری اسلامی ایران، اصل 20، اصل 24، اصل 28.