جنگ احد

جنگِ اُحد، یا غزوۂ اُحد ، رسولِ خدا حضرت محمد مصطفیٰ صلّیالله علیہ وآلہ وسلم کے مشہور غزوات میں سے ایک ہے۔ یہ جنگ کوہِ اُحد کے دامن میں، مدینہ سے تقریباً 4 کلومیٹر شمال کی جانب، ہفتہ کے دن 7 شوال، سنہ 3 ہجری کو مشرکینِ قریش اور اسلامی لشکر کے درمیان پیش آئی۔ قریش نے جنگ بدر میں اپنی شکست کا بدلہ لینے اور اپنے مقتولین کا انتقام لینے کے لیے ابوسفیان کی قیادت میں تین ہزار جنگجو، دو سو گھوڑے اور ایک ہزار اونٹ، نیز عورتوں کے ایک گروہ کے ہمراہ، جن میں ہند جگر خوار بھی شامل تھی، مسلمانوں سے جنگ کرنے کے ارادے سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔ وہ دس دن کے سفر کے بعد مدینہ کے شمال میں واقع کوہِ اُحد کے دامن میں، جو ایک خوش آب و ہوا مقام تھا، خیمے لگا کر ٹھہر گئے۔ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے ذریعے قریش کی نقل و حرکت کی اطلاع مل چکی تھی۔ آپؐ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کرنے کے بعد جنگ کی تیاری فرمائی اور ایک ہزار مسلمانوں کے ہمراہ مدینہ سے باہر تشریف لے گئے۔ لیکن راستے میں مدینہ کے منافقین کے سردار عبداللہ بن اُبی اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ مسلمانوں کی صفوں سے الگ ہوگئے اور مدینہ واپس لوٹ گئے۔
مشرکین کی مدینہ کی طرف لشکر کشی
سنہ 3 ہجری میں، غزوۂ بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکین کو ہونے والی سخت شکست کے ایک سال بعد، قریش نے ابوسفیان کی قیادت میں بدر میں مارے جانے والے اپنے مقتولین کا بدلہ لینے کے لیے رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف ایک اور جنگ کی تیاری شروع کی۔ ابوسفیان نے عمرو بن عاص، ابن زبعری اور ابوعزّہ جیسے افراد کو دوسرے قبائل کی حمایت حاصل کرنے کے لیے آمادہ کیا [1]۔
اس جنگ کے لیے وہ تقریباً تین ہزار افراد پر مشتمل لشکر کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ واقدی کی روایت کے مطابق، رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبا میں، جو مدینہ کے قریب ایک مقام ہے، تشریف فرما تھے کہ آپؐ کو اپنے چچا عباس بن عبدالمطلب کے ایک خفیہ خط کے ذریعے مشرکین کے جنگ کے لیے روانہ ہونے کی اطلاع ملی۔
البتہ دیگر روایات میں اس خط کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ پانچ شوال کو مشرکین عُریض پہنچے، جو اُحد کے قریب ایک علاقہ تھا۔ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک صحابی کے ذریعے ان کی تعداد اور جنگی سازوسامان کے بارے میں معلومات حاصل کر لیں۔
اوس و خزرج کے بعض بزرگ، جیسے سعد بن معاذ، اسید بن حضیر اور سعد بن عبادہ، ایک گروہ کے ساتھ مشرکین کے حملے کے خوف سے جمعہ کی صبح تک مسجد میں پہرہ دیتے رہے [2]۔
جنگِ اُحد کے بارے میں رسولِ خدا کا خواب
واقدی لکھتے ہیں کہ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک مضبوط زرہ میں محفوظ ہوں، میری تلوار ذوالفقار قبضے کے مقام سے ٹوٹ گئی اور اس میں شگاف پڑ گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ ایک بیل ذبح کیا گیا اور میں اپنے پیچھے ایک مینڈھا کھینچ رہا ہوں۔
لوگوں نے پوچھا: آپ اس خواب کی کیا تعبیر فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا: مضبوط زرہ سے مراد مدینہ کا شہر ہے، لہٰذا تم اسی میں رہو۔ میری تلوار کا ٹوٹنا اس غم اور مصیبت کی علامت ہے جو مجھے پہنچے گی۔ جس بیل کو ذبح کیا گیا۔
اس سے مراد میرے بعض اصحاب کا شہید ہونا ہے، اور جس مینڈھے کو میں اپنے پیچھے کھینچ رہا تھا، اس سے مراد دشمن اور اس کا لشکر ہے، جسے ان شاء اللہ ہم قتل کریں گے۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسولِ خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: میری تلوار میں شگاف پڑنے سے مراد میرے خاندان کے ایک فرد کا شہید ہونا ہے [3]۔
رسولِ خدا کا اصحاب سے مشورہ
رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے دیکھے ہوئے خواب کی وجہ سے مدینہ سے باہر نکلنا پسند نہیں فرماتے تھے۔ چنانچہ آپؐ نے اس بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا اور فرمایا: اگر تم مناسب سمجھو تو ہم مدینہ ہی میں رہتے ہیں اور دشمن کو جہاں اس نے پڑاؤ ڈالا ہے وہیں رہنے دیتے ہیں۔
اگر وہ وہیں ٹھہرتے ہیں تو انہیں دشواری کا سامنا ہوگا، اور اگر وہ مدینہ پر حملہ کرتے ہیں تو ہم شہر کے اندر ان سے جنگ کریں گے۔ عبداللہ بن اُبی بن سلول اور مہاجرین و انصار کے بزرگوں کی بھی یہی رائے تھی [4]۔
لیکن وہ لوگ جو جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھے، اور بعض پرجوش نوجوان جنہوں نے جنگِ بدر کی فتح کا مزہ چکھا تھا، نیز حمزہ بن عبدالمطلب، مدینہ سے باہر نکل کر دشمن سے جنگ کرنے کے خواہاں تھے۔ وہ اپنی رائے پر اصرار کرتے رہے۔
ان میں سے بعض نے کہا: یہ قریش کے گھوڑے اور اونٹ ہیں جو ہماری کھیتیوں اور فصلوں کو کھا رہے ہیں اور ہمارے کھیتوں میں فساد اور تباہی پھیلا رہے ہیں۔ وہ اپنی رائے کی صحت ثابت کرنے کے لیے یہ دلیل بھی دیتے تھے کہ اگر مسلمان شہر کے اندر مقیم رہے تو دشمن یہ سمجھے گا کہ مسلمان خوف زدہ ہو گئے ہیں، جس سے وہ اسلامی لشکر کے مقابلے میں مزید دلیر ہو جائے گا۔
وہ کہتے تھے: بدر کے موقع پر آپ کے پاس صرف تین سو جنگجو تھے، اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے آپ کو دشمن پر فتح عطا فرمائی۔ اب تو آپ کے ماتحت بہت بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔ یہ ایسا موقع ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔
جب اکثر لوگ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کے خواہاں ہوئے تو رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اکثریت کی رائے قبول فرما لی [5]۔
اس کے بعد آپؐ گھر تشریف لے گئے تاکہ جنگی لباس زیب تن کریں۔ اسی دوران وہ لوگ جنہوں نے اپنی رائے منوانے پر اصرار کیا تھا، اس بات پر پشیمان ہوئے کہ انہوں نے اپنی رائے رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر مسلط کیوں کی۔
کیونکہ آپؐ اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے کے مطابق سب لوگوں سے زیادہ علم رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم آسمان سے آپؐ پر نازل ہوتا ہے [6]۔
چنانچہ وہ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمیں یہ حق نہیں تھا کہ ہم رسولِ خدا کو ایسے کام پر مجبور کریں جسے آپ پسند نہیں فرماتے تھے۔ اب اگر آپ چاہیں تو مدینہ ہی میں قیام فرمائیں۔
رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جواب میں فرمایا: کسی نبی کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ جنگی لباس پہن لے اور جنگ کیے بغیر اسے اتار دے۔ اب دیکھو کہ جو کچھ میں کہتا ہوں اسے انجام دو، اور اللہ کا نام لے کر روانہ ہو جاؤ۔ اگر تم صبر کرو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے [7]۔