خلافت ولی فقیہ امت واحدہ کے تحقق کا ذریعہ(کتاب)
| خلافت ولی فقیہ امت واحدہ کے تحقق کا ذریعہ | |
|---|---|
| نام | خلافت ولی فقیہ امت واحدہ کے تحقق کا ذریعہ |
| مؤلفین/ مصنفین | ذبیح الله نعیمیان |
| زبان | فارسی |
| زبان اصلی | فارسی |
| ناشر | پژوہشگاہِ مطالعاتِ تقریبی ، مجمعِ عالمی تقریبِ مذاہبِ اسلامی سے وابستہ ہے۔ |
| موضوعات | ولایت فقیہ،خلیفہ، خلافت، امتِ اسلامی شابک = 2 - 339 - 167 - 964 - 978 |
خلافت ولی فقیہ امت واحدہ کے تحقق کا ذریعہ، ایک کتاب کا عنوان ہے جسے ذبیح اللہ نعیمیان نے تحریر کیا ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں عالم اسلام کے تجربات، صلاحیتوں اور بنیادی اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے ایک بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ خلافت اہل سنت کی دنیا کا ایک فکری تصور، تاریخی تجربہ اور آرمانی نظریہ ہے، جبکہ ولایت فقیہ شیعہ دنیا کے فکری نظام، عملی تجربے اور ایک حد تک اس کے سیاسی و مذہبی نصب العین کا حصہ ہے۔ خلافت اس عنوان اور منصب کو کہا جاتا ہے جو اسلامی معاشروں کے قانون یا شریعت میں امت اسلامی کے قائد کو دیا جاتا ہے۔ ولایت فقیہ سے مراد ایک عادل، دین شناس اور اہل فقیہ کی حکومت و قیادت ہے۔ اسلامی معاشرے کی رہبری اور مسلمانوں کے اجتماعی امور کی مدیریت کے سلسلے میں ولایت فقیہ اثنا عشری مکتب فکر کے بنیادی نظریات میں شمار ہوتی ہے، جس کی بنیاد اصل امامت سے وابستہ ہے۔
امت واحدہ ایک ایسا تصور ہے جو اسلام نے انسانی معاشرے کے اتحاد کے لیے پیش کیا ہے۔ اس نظریے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے تمام انسانیت کو ایک امت قرار دیا ہے:"وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً "[1]۔
اجمالی تعارف
خلافت ولی فقیہ امت واحدہ کے تحقق کا ذریعہ نامی کتاب میں مصنف نے عالم اسلام کے تجربات، صلاحیتوں اور مسلمانوں پر حاکم فکری و سیاسی مبانی کی روشنی میں اس بنیادی سوال کا جائزہ لیا ہے کہ اسلامی امت واحدہ کے حصول کے لیے کون سا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔
مصنف کے مطابق اس مقصد کے لیے عالم اہل سنت اور عالم تشیع کے دو اہم فکری تصورات کے درمیان اشتراک اور تقابل سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ خلافت اہل سنت کی دنیا کا ایک اہم فکری نظریہ، تاریخی تجربہ اور آرمانی تصور ہے، جبکہ ولایت فقیہ تشیع کے فکری و عملی نظام اور اس کے سیاسی و مذہبی آرمان کا ایک اہم حصہ ہے۔
عالم اسلام میں اختیار کیے گئے ان دونوں راستوں کا تقابلی مطالعہ چند بنیادی سوالات سامنے لاتا ہے۔ کیا خلافت اور ولایت فقیہ کو ہمیشہ ایک دوسرے سے جدا تصور کرنا ضروری ہے۔ کیا ان دونوں کے لیے کوئی مشترک اور واحد عملی مصداق تلاش کیا جا سکتا ہے۔ اور کیا اس تقابلی نقطۂ نظر کو عالم اسلام کی پراکندگی سے نجات اور اسلامی اتحاد کی جانب ایک راستہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
پہلے حصے کے ابواب
اسلامی امت واحدہ کی تشکیل کی عقلیت
- مقدمہ
- امت واحدہ کے قیام کے مبانی
- امت واحدہ کی جانب پیش رفت کے اصول
- اسلامی وحدت کے حصول کے مراحل
- عالم اسلام میں وحدت پسند سیاسی حکمت عملیاں
دوسرے حصے کے ابواب
عصر حاضر میں اسلامی خلافت کے احیا کا دینی پس منظر
- مقدمہ
- اسلامی خلافت کے احیا کا دینی پس منظر
- اسلامی خلافت کے احیا کا تاریخی اور سیاسی پس منظر
تیسرے حصے کے ابواب
عصر حاضر میں خلافت کے احیا کی تحریکوں کا جائزہ
- مقدمہ
- حزب التحریر الاسلامی
- جماعت العدل والاحسان
- بعض خود ساختہ خلافتیں
چوتھے حصے کے ابواب
اہل سنت کے نزدیک خلافت کے لیے اجتہاد کی شرط
- مقدمہ
- بعض اہل سنت متکلمین کے نزدیک اجتہاد کی شرط
- فقہائے حنفیہ کے تصور میں اجتہاد بطور شرط اولویت
- اکثر زیدی علما کے نزدیک اجتہاد کی شرط
- معاصر سنی مفکرین کے نزدیک اجتہاد کی شرط کی نوعیت
پانچویں حصے کے ابواب
- مقدمہ
- سنی اجتہادی جمود اور شیعہ اجتہادی کشادگی کے درمیان عالم اسلام کی اجتہاد سے متعلق ضروریات
چھٹے حصے کے ابواب
اسلامی خلافت کے احیا کے لیے عالم اسلام کی صلاحیتوں کا جائزہ
- مقدمہ
- بعض مسلم بادشاہی نظاموں کی صلاحیتوں کا جائزہ
- بعض اسلامی جمہوری نظاموں کی صلاحیتوں کا جائزہ
- بعض سیاسی و اسلامی تنظیموں کی صلاحیتوں کا جائزہ
ساتویں حصے کے ابواب
اسلامی خلافت میں اختیاری شراکت کے لیے نظام جمہوری اسلامی اور ولایت فقیہ کی صلاحیتیں
- مقدمہ
- جمہوری اسلامی ایران کی نظریاتی صلاحیتیں
- جمہوری اسلامی ایران کے ڈھانچے کی عملی اور عینی صلاحیتیں
- جمہوری اسلامی ایران کی ثقافتی اور سیاسی صلاحیتیں
- بعض مسلم مفکرین کی جانب سے ولایت فقیہ کے بارے میں صریح پذیرائی اور حمایت کے امکانات
متعلقہ موضوعات
حوالہ جات
- ↑ سورۂ بقره ،آیۂ 213