مندرجات کا رخ کریں

عبد اللہ شاہ غازی

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 16:00، 29 جون 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) (Saeedi نے صفحہ مسودہ:شاہ عبد اللہ غازی کو عبد اللہ شاہ غازی کی جانب منتقل کیا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
عبد اللہ شاہ غازی
پورا نامسید ابو محمد عبداللہ الاشتر
دوسرے نامحضرت عبداللہ شاہ غازی
ذاتی معلومات
پیدائش98ھ
پیدائش کی جگہمدینہ منورہ
وفات151ھ
وفات کی جگہسندھ پاکستان
مذہباسلام، شیعہ
مناصباولیاء اللہ میں سے ایک

شاہ عبد اللہ غازی، حضرت سید ابو محمد عبد اللہ الاشتر (المعروف) عبد اللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ 98ھ میں حضرت سید محمد نفس ذکیہ کے ہاں اسلام کے ایک درخشاں ستاری نے مدینہ منورہ میں آنکھ کھولی۔ یہ تھے حضرت عبد اللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ۔ آپ حسنی حسینی سید ہیں۔ یہ بات آپ کے شجرہ مبارک سے ثابت ہے۔

شجرہ نسب

آپ کے شجرہ مبارک پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کتنی قدیم ہستیوں میں سے ہیں۔ آپ ہیں سید ابو محمد عبداللہ الاشتر (عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ) بن سید محمد ذوالنفس الزکیہ بن سید عبداللہ المحض بن سید مثنیٰ بن سیدنا حضرت امام حسن علیہ السلام بن حضرت سیدنا امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام حضرت سیدنا حسن مثنیٰ کی شادی حضرت سیدہ فاطمہ صغریٰ بنت سیدنا حضرت امام حسین سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔

پہلی صدی ہجری یعنی آج سے تیرہ سو سال قبل کے آخر میں بنو اُمیہ کی سلطنت اپنی آخری ہچکیاں لے رہی تھی ، ہر طرف انتشار پھیلا ہوا تھا۔ انہی دنوں میں سید محمد نفس ذکیہ کے گھر ایک لڑکے کی پیدائش ہوئی۔

بچے کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم کے زیرِ سایہ حاصل کی۔ دوسری صدی ہجری کے آغاز میں بنو امیہ کی حکومت ختم ہوچکی تھی سید عبداللہ اپنے والد بزرگوار کی پیروی میں علومِ ظاہری حاصل کرنے کے بعد ریاضت و مجاہدے میں مشغول ہوگئے۔

تعلیم

تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ آپ کی تعلیم و تربیت آپ کے والد صاحب کے زیر سایہ مدینہ منورہ میں ہی ہوئی۔ آپ علم حدیث پر عبور رکھتے تھے۔ اور کچھ مورخین نے تو آپ کو محدث تک بھی لکھا ہے۔

سندھ آمد

بنو امیہ کی حکومت زوال پذیر ہوچکی تھی جب 138ھ میں آپ کے والد صاحب نے مدینہ منورہ سے علوی خلافت کی تحریک شروع کی اور اپنے بھائی حضرت ابراہیم بن عبداللہ کو اس ضمن میں بصرہ روانہ کیا اس زمانے میں سادات کے ساتھ انتہائی ظلم کا رویہ روا رکھا گیا تھا۔

اس ظلم کے کئی ایک واقعات معروف ہیں جن میں حضر ت بن ابراہیم کا واقعہ خاص طور پر مشہور ہے۔ جب آپ کو انتہائی بے دردی کے ساتھ دیوار میں زندہ چن دیا گیا۔ یہ دیوار آج بھی بغداد میں مشہور ہے۔

حضرت بن ابراہیم انتہائی وجیہ اور حسین و جمیل تھے جس کی وجہ سے آپ کا لقب دیباج مشہور ہوا۔ عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے والد صاحب نے آپ کو اپنے بھائی حضرت ابراہیم کے پاس بصرہ بھیجا اور آپ وہاں سے ہوتے ہوئے سندھ کی جانب روانہ ہوئے۔

تاریخ الکامل’ جلد پنجم میں لکھا ہے کہ آپ خلیفہ منصور کے دور میں سندھ تشریف لائے۔ تحفتہ الکریم کے مصنف شیخ ابو تراب نے آپ کی سندھ میں موجودگی خلیفہ ہارون رشید کے دور سے منسوب کی ہے۔

آپ کی سندھ آمد کے ضمن میں دو قسم کے بیان تاریخ سے ثابت ہیں۔ ایک یہ کہ آپ تبلیغ اسلام کیلئے تشریف لائے تھے اور دوسرے یہ کہ آپ علوم خلافت کے نقیب کی حیثیت سے (ملاحظہ ہو تاریخ الکامل لا بن الشت’ ابن خلدون’ طبری اور میاں شاہ مانا قادری کی تحریریں) تاجر کے روپ میں آئے تھے۔

تاجر اس لئے کہا گیا کہ آپ جب سندھ آئے تو اپنے ساتھ بہت سے گھوڑے بھی لائے تھے۔ آپ نے یہ گھوڑے اپنے کم و بیش بیس مریدوں کے ہمراہ کوفہ سے خریدے تھے۔

ابن خلدون کے بقول خلیفہ ابو جعفر منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔ محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازی کے نام سے جانا جاتا ہے، 400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے تو اس نے انھیں خاصے احترام سے نواز گیا۔

عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانیقی کو جب اس کی خبر پہنچی تو اس نے ہشام بن عمر ثعلبی کو ان کا تعاقب کرنے کے لیے سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور ان کے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبد اللہ شاہ غازی شہید ہوئے اور ان کے ساتھی اس علاقے میں بکھرگئے [1]۔ ذہبی اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے [2]۔ طبری نے یہ واقعات 768ء (151 ہجری) میں نقل کیے ہیں [3]۔

اُس وقت عباسیوں اور علویوں کے درمیان خلافت کے سلسلے میں شدید کشمکش جاری تھی اور سادات کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا تھا ۔

تبلیغی سرگرمیاں

آپ کی آمد پر یہاں کے مقامی لوگوں نے آپ کو خوش آمدید کہا اور سادات کی ایک شخصیت کواپنے درمیان پاکر بہت عزت اور احترام کا اظہار کیا۔ آپ بارہ برس تک اسلام کی تبلیغ میں سرگرداں رہے اور مقامی آبادی کے سینکڑوں لوگوں کو مشرف با اسلام کیا۔

یہ تو ہے کہانی ظاہری حالات کی جن کو تاریخ الکامل لابن الشتر اور ابن خلدون’ طبری وغیرہ میں قلمبند کیا ہوا ہے لیکن ایک عظیم ہستی جو حسنی حسینی سید ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی اولاد ہے باطنی شاہسواری سے کیسے خالی ہوسکتی تھی۔

ایک زمانہ کب سے ان کے فیض سے سیراب ہورہا ہے۔ ان کی باطنی زندگی پر ابھی کسی نے کچھ نہیں لکھا شاید اس وجہ سے کہ ان کی اپنی تحریریں یا ان کے کسی ہم عصر کی ان کے بارے میں کوئی تحریریں دستیاب نہیں ہیں اور شاید اس وجہ سے کہ وہ بہت پہلے کے اولیائے کرام میں سے ہیں اور دوسرے اس وجہ سے بھی کہ اس زمانے میں سلسلہ ہائے تصوف آج کی طرح نہیں تھی۔

تصوف کے سلسلوں کی زیادہ شہرت اور تشہیر حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت معین الدین چشتی رحمتہ اللہ علیہ اور دیگر بزرگوں کے آنے کے بعد ہوئی۔

ان کا مزار پر انوار مرجع خلائق بنا ہوا ہے یہ ویسے تو نہیں ہے ولایت تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مرہون منت ہے۔ وہی اس کا منبع ہیں یہ کسی نے نہیں لکھا اور نہ کہا کہ وہ جو امانت حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سینہ بسینہ چلی وہ ان کے حصہ میں نہیں آئی۔

شہادت ان کے آباؤ اجداد میں چلی آرہی ہے ۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے لے کر غازی شاہ رحمتہ اللہ علیہ صاحب کے والد اور چچا شہید ہوئے۔ خود آپ نے بھی شہادت کا رتبہ پایا اپنی جان سے زیادہ کیا چیز ہے۔

جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کی جاسکتی ہے یہ تو شہادت جلی ہے مگر کیا کسی نے لکھا ہے کہ وہ شہید خفی بھی ہیں؟ جب وہ حق ہوچکے تو راہ حق میں شہید ہوئے دولت سرمدی کا متحمل وہی ہوسکتا ہے جس کو فطرت اس کا اہل سمجھتی ہے۔

سید محمد نفس زکیہ کا قیام

ہجری میں آپؒ کے والدِ گرامی سید محمد نفس ذکیہ نے اس ظلم کے خلاف احتجاج کیا۔ اس کی ابتداء مدینہ منورہ سے کی اور اپنے بھائی حضرت ابراہیم بن عبداللہ کو اس سلسلے میں بصرہ روانہ کیا۔

لیکن عباسی حکمرانوں نے سادات کی بیخ کنی شروع کردی کیونکہ وہ اِن سے خطرہ محسوس کرتےتھے۔ سادات کے قتلِ عام میں کوئی کسر باقی نہ رکھی گئی۔ اس دور میں سادات کے کئی بچے یتیم ہوئے اور کئی خواتین بیوہ ہوئیں۔

سید نفس ذکیہ نے اپنے بیٹے حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کو اپنے بھائی حضرت ابراہیم کے پاس بھیج دیا۔ لیکن جب حضرت عبداللہ کے چچا حضرت ابراہیم دیباج کو زندہ دیوار میں چنوادیا گیا….

تو حضرتِ عبداللہ شاہ غازیؒ اس انتشار سے اس سے محفوظ رہنے کے لیے عراق سے ہوتے ہوئے سرزمینِ سندھ کی جانب روانہ ہوگئے۔ آپ اپنے بیس رفقاء کے ساتھ پہلے کوفہ گئے ۔ وہاں کئی گھوڑے تجارت کی غرض سے خریدے اور طویل مسافت طے کرتے ہوئے سندھ پہنچے۔ آپؒ بحیثیت تاجر سندھ میں داخل ہوئے ۔

سندھ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ یہاں سب سے پہلے اسلام کا سورج طلوع ہوا

برصغیر میں خطہ سندھ کو یہ سعادت حاصل ہے کہ یہاں سب سے پہلے اسلام کا سورج طلوع ہوا…. اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اسلام اہل اللہ کے پاکیزہ کردار اور حسنِ اخلاق سے پھیلا….

اس سلسلے میں ابتدائی کرن حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ ہیں۔ اس لحاظ سے آپ سندھ کی دھرتی پر پہلے صوفی تھے جس نے اسلام کی شمع روشن کی۔ آپؒ نے اسلام کی ترویج کے لئے کوششیں کیں اور صدہا لوگوں کو اسلام سےآشنا کرایا….

اخلاق

حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ اپنے حسن اخلاق سے بہت جلد لوگوں کے دلوں میں گھر کرگئے اور آپؒ کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہونے لگا ۔ کیونکہ سادات اور اہلِ بیت میں آپؒ ہی واحد ہستی تھے جن کی آمد سب سے پہلے یہاں ہوئی لہٰذا کچھ حاسدین بھی پیدا ہوگئے۔

ان لوگوں نے یہاں کے گورنر عمر بن حفص جو کہ عباسی خلیفہ کی طرف سے مقرر تھا ، کو حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ اور جھوٹی اطلاعات فراہم کیں اور کہا کہ تجارت تو ایک بہانہ ہے اصل میں سندھ میں خلیفہ کے خلاف محاذ قائم کرکے تختہ اُلٹنا مقصود ہے۔

لیکن عمر بن حفص پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا کیونکہ وہ ان سے بہت اُنس رکھتا تھا اور اُن کا بے حد احترام کرتا تھا اس لیے اس نے لوگوں کی بات سنی اَن سنی کردی بلکہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کی خدمت میں حاضر ہوکر شرفِ بیعت حاصل کی اور درپردہ آپؒ کی حمایت کرتا رہا۔

عمر بن حفص بہت دن اس معاملے کو ٹالتا رہا اور اس کوشش میں رہا کہ خلیفہ کے ذہن سے حضرت کا خیال نکل جائے مگر ایسا نہ ہوسکا…. جب حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کو اس کی اطلاع ملی تو آپؒ مسکرا کر خاموش ہوگئے۔

لیکن آپؒ کی تبلیغ و ترویج میں رکاوٹ آگئی، عمر بن حفص نے احتیاطاً آپؒ کو ایک ساحلی ریاست میں بھیج دیا اور وہاں کے راجہ جو اسلامی حکومت کا اطاعت گزار تھا، کو ہدایت کی کہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کا ہر طرح سے خیالرکھا جائے ۔

تاریخ الکامل لابن اثیر عربی کے مصنف جلد پنجم صفحہ 20 پر ،آپؒ کی تبلیغ کے اثر سے مسلمان ہونے والوں کے بارے میں تحریر کرتے ہیں کہ ‘‘اہلِ بصیرت و دانش میں سے تقریباً چار سو لوگ آپؒ کے ساتھ ہوگئے’’ [4]۔

تقریباً چارسال تک آپؒ راجہ کے مہمان رہے اور اس عرصہ میں مسلسل پیغمبرانہ تعلیمات کی تبلیغ کرتے رہے۔ آپؒ کی کاوش سے ریاست میں کافی لوگوں نے اسلام قبول کیا۔ اُدھر خلیفہ منصور کی پریشانی برابر بڑھتی رہی۔ وہ سندھ میں آپؒ کی موجودگی کو خلافت کے لئے بہت بڑا خطرہمحسوس کر رہا تھا….

عمر بن حفض کو سندھ کی گورنری سے معزول کرنا

آخر خلیفہ منصور نے 151ھ میں عمر بن حفص کو سندھ کی گورنری سے معزول کرکے افریقہ بھیج دیا اور اس کی جگہ ہشام بن عمر تغلبی کو سندھ کا گورنر مقرر کردیا۔

عمر بن حفص کے معزول ہونے کے بعد خلیفہ منصور عباسی نے ہشام بن عمر کو خط لکھا کہ سندھ کی جس ریاست میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ سکونت پذیر ہیں، اس کے راجہ کو لکھا جائے کہ عبداللہ شاہ غازیؒ کو ہمارے حوالے کردے ورنہ اس پر حملہ کردیا جائے گا۔

والد کی شہادت

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے سندھ قیام کے دوران گورنر سندھ کو خبر آئی کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد صاحب نے مدینہ منورہ میں اور ان کے بھائی حضرت ابراہیم نے بصرہ میں عباسی خلافت کے خلاف بغاوت کردی ہے۔

145ھ میں یہ اطلاع آئی کہ آپ کے والد حصرت سید محمد نفس ذکیہ مدینہ منورہ میں 15 رمضان المبارک کو اور اسی سال آپ کے چچا حضرت ابراہیم بن عبداللہ 25 ذیقعد (14فروری 763ء) کو بصرہ میں شہید کردیئے گئے۔

گورنر سندھ کی بیعت اور آپ کی تعظیم

حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کے والد صاحب اور چچا کی شہادت کے بعد عباسی خلافت کے مرکز (خلیفہ منصور) سے آپ کی گرفتاری کے احکامات بھی صادر ہوئے۔

مگر چونکہ آپ کے حصے میں میدان جنگ میں شہادت لکھی گئی تھی لہذا آپ کی گرفتاری تو عمل میں نہیں آسکی۔ حضرت حفص بن عمر گورنر سندھ آپ کی گرفتاری کے معاملے کو مسلسل ٹالتے رہے۔

ان کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ وقت گزر جائے گا اور خلیفہ منصور غازی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی گرفتاری کے معاملے کو بھول جائے گا مگر جو لوگ اقتدار سے لگاؤ رکھتے ہیں وہ کسی طرح کا خطرہ مول نہیں لیتے بلکہ چھوٹے سے چھوٹے خطرے کو بھی برداشت کرسکتے۔

چنانچہ خلیفہ منصور کے دل سے ہرگز بھی عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی گرفتاری کا خیال ماند نہیں پڑا۔ حالانکہ گورنر سندھ حضرت حفص بن عمر نے اہل بیت سے محبت کے جذبے کے تحت یہ بھی خلیفہ کو کہا کہ حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ میری مملکت کی حدود میں نہیں ہیں لیکن خلیفہ کو اس پر بھی اطمینان نہیں ہوا [5]۔

ساحلی ریاست آمد

گورنر سندھ حضرت حفص نے اپنی محبت’ عقیدت اور سادات سے لگاؤ اور بیعت کرلینے کے بعد آپ کو بحفاظت ایک ساحلی ریاست میں بھیج کر وہاں کے راجہ کا مہمان بنایا۔ یہ راجہ اسلامی حکومت کا اطاعت گزار تھا۔

اس نے آپ کی آمد پر آپ کو خوش آمدید کہا اور انتہائی عزت اور قدر و منزلت سے دیکھا۔ آپ کو چار سال یہاں ان کے مہمان رہے۔ اس عرصہ میں آپ نے پہلے کی طرح اسلام کی تبلیغ جاری رکھی اور سینکڑوں لوگوں کو اسلام سے روشناس کرایا۔ لاتعداد لوگ آپ کے مریدین بن کر آپ کے ساتھ ہوگئے۔

سندھ میں اسلام کی تبلیغ

کہاں سندھ کہاں سعودی عرب ۔ کتنی مسافت ہے۔ کتنا لمبا سفر ہے۔ صحابہ کرام کے بعد کوئی اسلام کی تعلیم دینے یا تبلیغ کرنے کیلئے سندھ نہیں آیا تھا۔ یہ بات بھی تاریخ ہی سے ثابت ہوتی ہے کہ اس کے بعد سندھیوں کے بنجر دل کی زمین میں سب سے پہلے حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ نے ہی اسلامی بیج بویا پھر اس کی آبیاری کی اور محبت’ اخوت اور بردباری سے دلوں کو گرمایا اور ایمان کی زرخیزی سے روشناس کروایا۔

اس لئے کہ جو کام ان کے ذمہ تھا وہ صرف ظاہر سے نہیں ہوسکتا تھا۔ تاریخ کو رخ عطا کرنے والے ظاہر کے ساتھ باطن کی دنیا کے شاہسوار بھی ہوتے ہیں۔ جن کا ظاہر پر کم اور باطن پر زیادہ زور اور توجہ ہوتی ہے۔

اسباب غیب

دراصل ان ہستیوں کیلئے اس دارلعمل میں جس جگہ کا انتخاب کیا ہوتا ہے وہاں ان کیلئے اسباب بھی مہیا ہوتے ہیں۔ (گورنر سندھ حضرت عمر بن حفص کا مطیع ہونا۔ اور آپ رحمتہ اللہ علیہ کی گرفتاری کے خلیفہ منصور کے احکامات ٹالنا۔

آپ کو بحفاظت دوسری ریاست میں بھیجنا یہ سب غیبی اعانت تھی اور آپ کے عمل کی تائید تھی) اگرچہ عباسی خلیفہ منصور آپ سمیت تمام سادات کے قتل کے در پہ تھا اس نے اطلاع ملنے پر بارہا حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کو گرفتار کرنے کے احکامات دیئے لیکن قدرت نے جو کام آپ سے لینا تھا اس کیلئے پورا پورا اہتمام کیا ہوا تھا۔

ایک ایسا گورنر سندھ میں متعین تھا جو آپ کی تعظیم اور خیال کرتا تھا اور کسی قیمت پر آپ کو تکلیف نہ پہنچانا چاہتا تھا بلکہ ان نیک بخت گورنر یعنی عمر بن حفص نے آپ کے ہاتھ پر بیعت بھی کرلی تھی اور در پردہ آپ کی حمایت کرتا تھا۔

سیر و شکار

تاریخ سے ثابت ہے کہ اس زمانے میں جب آپ سیر اور شکار کی غرض سے کہیں جاتے تھے تو شان و شوکت اور کروفر سے اور سازو سامان بھی ساتھ ہوتا تھا جس سے آپ کی شان و شوکت کا اظہار ہوتا تھا۔ کیوں نہ ہو حضرت عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کس نسب کے چشم و چراغ تھے۔

یہ غالباً اس لئے بھی تھا کہ آپ کی درویشی پر امارت کا پردہ بھی پڑا رہے۔ اورجو امانت آپ کے سپرد تھی آ پ کے سینے میں محفوظ و مخفی رہے۔

بھائی

یہ بھی باور کرانا ضروری ہے کہ آپ کے علاوہ آپ کے ایک دوسرے بھائی بھی ہیں وہ بھی بہت بڑے ولی تھے۔ انہوں نے بھی اسلام کی گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ آپ کا مزار مراکش میں ہے اور وہاں کا سب سے معروف مزار ہے۔ اور وہاں مرجمع’ خلائق بنا ہوا ہے۔ اس کا تذکرہ بھی تاریخ اسلام میں موجود ہے۔

حکمرانی

حکومت دو قسم کی ہوتی ہے ایک خطہ پر اور دوسری حکومت جو حقیقی حکومت ہے وہ قلوب پر ہوتی ہے عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی حکومت ظاہر و باطن دونوں پر قائم ہے۔

سارے دفتر ان کے ہیں جہاں تمام زائرین کی مرادوں اور دعاؤں کی عرضیاں موصول کی جاتی ہیں اور پھر ان پر احکامات صادر ہوتے ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ اگر زائرین کی مرادیں پوری نہ ہورہی ہوں تو پھر یہ جم غفیر کیسا۔

جوہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ جمعرات کو تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے مزار کی سیڑھیاں بھی چڑھنا دشوار ہوتا ہے۔ عام ایام میں بھی زائرین کا تانتا بندھا رہتا ہے ۔ عبداللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ کی باطنی حکومت کا حال کہاں سے معلوم ہوگا کس نے اس پر لکھا ہے کس لائبریری اور دفتر سے یہ تفصیل موصول ہوگی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث مبارک ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے امتی بنی اسرائیل کے نبیوں کے ہم مرتبہ ہونگے۔

یہ وہی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی امت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیلئے وقف کی ہوگی۔ یہ وہی ہیں جن کو غم امت لاحق ہوگا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی میں انہوں نے وہی کچھ کیا ہوگا جو نبیوں نے کیا۔

وفات

۲۰ ذی الحج ١٥١ھ میں آپ علیہ الرحمہ پردہ فرما کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں آپ علیہ الرحمہ کا مزار پر انوار مرجع ہر خاص و عام ہے اور اپنی نورانیت اور برکت سے اس شہر کو خصوصا اور پورے پاکستان کو عموما اپنی رحمت میں لیے ہوئے ہے[6]۔

لیکن ہشام نے حضرت کو گرفتار کرنا مناسب نہ سمجھا۔ ابھی ہشام تعمیل حکم کے سلسلے میں کوئی قدم اُٹھانے نہ پائے تھے کہ سندھ کے ایک علاقے میں حکومت کے خلاف بغاوت شروع ہوگئی جس کو کچلنے کے لیے ہشام نے اپنے بھائی سیفح بن عمر کو بھیجا وہ جب دریائے مہران کے قریب پہنچا تو سامنے سے غبار اُڑتا ہوا نظر آیا….

یہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ تھے جو اپنے رفقاء کے ساتھ ادھر آنکلے تھے۔ سیفح نے انہیں جب مسلح دیکھا تو اپنا حریف سمجھ کر لڑائی شروع کردی۔ فوج کے لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت عبداللہ غازیؒ ہیں لیکن سیفح نے سُنی اَن سُنی کردی ۔

سیفح نے لڑائی کا آغاز کردیا۔ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ تمام حالات کو بغور دیکھتے رہے آپؒ کا ارادہ لڑائی کا نہ تھا۔ آپ تو خونریزی سے حتیُ الامکان بچنا چاہتے تھے لیکن جب آپؒ نے دیکھا کہ سیفح نے اپنی فوج کو حملہ کا اشارہ دے دیا ہے

تو آپؒ میدان میں صف بندی کرکے کھڑے ہوگئے۔ ایک خونریز معرکہ ہوا….آپؒ اپنے رفقاء کے ساتھ دشمنوں پر بے جگری سے ٹوٹ پڑے اور دشمن کے قدم اُکھڑنے لگے اتنے میں ایک ظالم کی تلوار آپؒ کے سرِ مبارک پر پڑی….

آپؒ کی زبان سے ‘‘اللہ اکبر’’ نکلا اور آپؒ اس گہرے زخم کے باوجود دشمنوں کا مقابلہ کرتے رہے بالآخر زخموں سے نڈھال ہوکر میدانِ کارزار میں گرگئے۔ ‘‘اناللہ واناالیہ راجعون’’

میدانِ جنگ کا منظر کچھ اس طرح تھا کہ دشمن کی فوج حواس باختہ ہوکر بھاگ گئی۔ اس وقت جو رفقاء بچ گئے اُنہوں نے دیکھا تو آپؒ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کرچکی تھی۔

رفقاء نے آپؒ کی میت کو اپنے حصار میں لے لیا کہ مبادا دشمن کی منتشر فوج دوبارہ نہ پلٹ آئے پھر جب اطمینان ہوا تو آپ کے جسدِ مبارک کو لے کر ایک چھوٹے سے ساحلی گاؤں میں جاپہنچے۔

وہاں قریب ہی ایک پہاڑ تھا جس کے اوپر لے جاکر آپؒ کے جسدِ مبارک کو سپردِ خاک کیا گیا۔ یہ واقعہ 151ھ میں رونما ہوا۔ حضرت عبد اللہشاہ غازی کا مزار مریدوں نے درختوں کی لکڑیوں وپتوں سے بنایا تھا۔ بعض مریدین آپ کی قبر کے قریب ہی مقیم ہوگئے ۔

مریدوں کو سب سے زیادہ دقت یہ پیش آتی کہ وہاں پینے کا میٹھا پانی میسر نہیں تھا سمندری زمین پر پہاڑی جہاں میٹھے پانی کا ہونا ناممکن تھا ۔مریدوں کی دعاسے حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزار کی پہاڑی کے نیچے سے میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوا جو آج بھی جاری وساری ہے ۔

سمندر سے ملحقہ اس پہاڑی کے دامن سے میٹھے پانی کا چشمہ صدیوں سے بہہ رہا ہے۔ اطراف کے کھارے سمندری پانی کے بیچ میں میٹھے پانی کی موجودگی، یہ عبد اللہشاہ غازی کی ایسی کرامات ہے جس سے آج بھی اللہ کی مخلوق فائدہ اُٹھارہی ہے۔

اس زمانے کے اُجاڑ مقام کا وہ پہاڑ جہاں آپ کا مزار تعمیر کیا گیا، آج بین الاقوامی شہرت کےحامل شہر کراچی کا حصہ ہے۔ کراچی کے ساحلی علاقے کلفٹن میں آپ کا مزار مرجع خلائق ہے۔ 151ہجری سے آج تک آپ کے مزار مقدس پر لوگ جوق در جوق حاضری دیتے ہیں۔

مزار

کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبد اللہ شاہ غازی کا مزار انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ مشہور صوفی بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کو شہر کی قدامت کی دلیل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جس وقت حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کو اس ٹیلے پر دفن کیا گیا، اس وقت بھی اس کے قریبی علاقوں میں بستیاں قائم تھیں، جو کہ انتہائی پابندی کے ساتھ مزار پر حاضری دینے کا فریضہ انجام دیتے تھے۔

اس وقت مغرب کے بعد سمندر کی سطح بلند ہوجایا کرتی تھی، لہٰذا زائرین شام سے پہلے ہی درگاہ پر حاضری دینے اور فاتحہ خوانی کے بعد لوٹ جاتے تھے اور اس علاقے میں ماسوائے اندھیروں اور سمندر کے خوفناک شور کے کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔

تعمیر و توسیع

جہاں تک درگاہ حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کی تعمیر و توسیع کا تعلق ہے، انہیں 1290 سال قبل 151 ہجری میں سمندر میں گھرے ایک ٹیلے پر ان کے ساتھیوں نے دفن کیا اور کیونکہ وہ سندھ میں آنے والے پہلے سادات بزرگ تھے، جنہوں نے اسلامی بیج بویا

اور پھر اس کی آبیاری کی اور محبت، اخوت اور بردباری سے دلوں کو گرمایا اور اس خطے کو ایمان کی ذرخیزی سے روشناس کیا، لہٰذا ان کے ہاتھوں مسلمان ہونے والے لوگوں نے مٹی کے گاروں اور لوندوں کے ذریعے ایک مقبرہ تعمیر کیا اور ان کے مقبرے کو نمایاں رکھنے کےلیے رنگ برنگے جھنڈے لگائے، جو کہ دور سے نظر آتے تھے۔

لوگ انہیں ایک صاحب کرامت بزرگ جان کر بڑی تعداد میں حاضری دینے کےلیے آیا کرتے تھے۔ ان ہی زائرین میں بابابھٹ جزیرے پر رہنے والا ایک شخص کاسودھارا جسے قاسم بھٹی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اپنے خاندان کے ساتھ کشتیوں میں بیٹھ کر مزار پر حاضری دینے کےلیے آتا تھا۔

بالخصوص 20، 21 اور 22 ذی الحج کو جب ان بزرگ کا عرس مبارک ہوتا، تو نہ صرف مزار کی دیکھ بھال کیا کرتا بلکہ عرس پر اس کی جانب سے ہی لنگر کا خصوصی اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔

قاسم بھٹی نامی اس شخص کے حکمراں طبقے سے بہت اچھے تعلقات تھے۔ (اس نے ماضی میں سابق صدر پاکستان اسکندر مرزا کی اہلیہ کو بطور تحفہ ہیروں کا نیکلس پیش کیا تھا۔

مگر اس کو اسمگلر قرار دیتے ہوئے فوج نے ایوب خان کے دور حکومت میں گرفتار کیا تھا) قاسم بھٹی نے سب سے پہلے اس مزار کو پختہ کروانے کا کام کیا اور عرصہ دراز تک اسی کا تعمیر شدہ مزار قائم رہا۔

بیسویں صدی کے اوائل تک یہ مزار، ایک ریتیلے پہاڑی کے ٹیلے پر ایک چھوٹی سی کٹیا کی شکل میں واقع تھا۔ مزار کی تعمیر اور توسیع، مزار کے اس وقت کے متولی اور سیہون شریف سے تعلق رکھنے والے قلندری سلسلے کے صوفی بزرگ سید نادر علی شاہ نے کی [7]۔

مزار کی مشہور عمارت، اس کی سیڑھیاں، جامع مسجد، لنگر خانہ، قوالی ہال اور مہمان خانہ انہی کی زیر نگرانی تعمیر کیے گئےمزار کا سبز اور سفید دھاری دار گنبد کراچی کی شناخت بنا۔

یہ مزار ہر فرقے ، نسل اور معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ لنگر کا دو وقت مفت کھانا اور قوالی، مزار کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ قرار پائیں۔

عرصہ دراز تک درگاہ کے انتظامات مرشد نادر علی شاہ کے زیر نگرانی چلتے رہےسنہ 1962 میں محکمہ اوقاف نے مزار کا انتظامی کنٹرول سنبھالا۔ سنہ 2011 میں، اس مزار کو ایک پاکستانی تعمیراتی کمپنی، بحریہ ٹاؤن کے حوالے کیا گیا، جس نے مزار کے بیرونی حصے کی از سر نو تعمیر کی۔ اس پر کراچی کے رہائشیوں کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا [8]۔

طوفانوں سے بچانے والے بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی

عبداللہ شاہ غازیؒ کے مریدوں اور کراچی کے مقامی لوگوں میں ایک روایت نسل در نسل چلی آرہی ہے۔

ان کے مرید اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ بزرگ کے تحفظ میں ہونے کی وجہ سے اس شہر کو کوئی نقصان نہیں ، اللہ کے ولی بندے عبداللہ شاہ غازی کے کراچی آمد سے پہلے کراچی بہت طوفانوں کی زد میں رہتا تھا، اور ان کی دعاؤں کے طفیل سے یہ شہر کراچی آج تک سمندری طوفان اور ہر قسم کی سمندری بلا ؤں سے بچا ہوا ہے۔

کراچی میں شدید طوفان کی کئی پیش گوئیاں ہوئیں۔ مگر کوئی طوفان ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی مر گیا۔ کسی نے اپنا رخ تبدیل کر لیا ۔ کسی کی شدت کراچی سے ٹکرانے سے پہلے اتنی کم ہوگئی کہ کراچی محفوظ ہی رہا۔

سن 760ء کا ایک دن تھا، جب سمندر کنارے مچھیروں کی ایک چھوٹی سی بستی میں ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ خوف و دہشت کے مارے لوگوں کے چہرے پر ہوائیاں اُڑتی دکھائی دے رہی تھیں، کچھ لوگ اپنی کشتیوں کو باندھنے اور شکار کی گئی مچھلیوں کو محفوظ کرنے کی کوشش میں مصروف تھے، کچھ سہمے ہوئے لوگ اپنے اپنے جھونپڑوں میں اپنے سامان کی حفاظت میں مصروف تھے۔

ان کی نظریں بار بار کبھی سامان اکٹھا کرنے پر اور کبھی دور سمندر کے اوپر اٹھتے ہوئے گہرے اور خوفناک کالے بادلوں کی طرف جاتی تھی ۔ گوکہ ان مچھیروں نے تمام عمر انہیں سمندروں میں مچھلیاں پکڑتے اورکشتیاں چلاتے گزار دی تھی۔

مگر انہوں نے کبھی ہوا اورسمندر کا مزاج اتنا خراب نہیں دیکھا تھا جتنا آج نظر آ رہا تھا۔ آسمان کا رنگ بتارہا تھا کہ اگر یہ طوفان ساحل سے ٹکرا گیا تو یہ پوری بستی تہس نہس ہوسکتی ہے۔

کہتے ہیں کہ جب یہ مچھیرے ساحل سمندر کی اس بستی میں آباد ہوئے تھے تو یہاں کے لوگ میٹھے پانی کے لئے بہت پریشان رہا کرتے تھے۔ جب ایک عرب بزرگ کو ساحل کے قریب پہاڑی پر دفن کیا گیا تو ان کے کچھ مرید کہیں جانے کے بجائے یہیں ٹھہرگئے اور وہ پانی کے حصول میں پریشان تھے کہ ایک مرید کی آنکھ لگ گئی اور دورانِ خواب انہیں خود ان بزرگ نے میٹھے پانی کے چشمے کی نشاندہی کی۔

صاحبِ مزار کی کرامت سے اُسی پہاڑی سے ایک میٹھے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا اور عوام اُس سے فیضاب ہونے لگے۔ تب سے وہاں ارد گرد رہنے والے مقامی لوگ بھی جن کی اکثریت مچھیروں کی تھی ، ان بزرگ کے عقیدت مند ہوگئےتھے۔

بس وہیں رُک جاؤ

طوفان کے آثار دیکھتے ہوئے کچھ بزرگ مچھیرے مل کر اس مزار پر پہنچے اور اللہ کے اس نیک بزرگ کی قبر پر حاضری دے کر اللہ سے دعا کی کہ یہ طوفان ختم ہوجائے ۔

ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ بزرگ اس وقت حیات تھے۔ کچھ دنوں کے لیے یہیں ٹہر گئے تھے، مچھیروں نے جب ان بزرگ سے دعا کی درخواست کی۔ تو وہ اپنی جھونپڑی سے باہر آئے۔

پہاڑی پر چڑھ کر آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھا کر دعا کی یا اللہ اس طوفان کو ختم فرمادیں اور سمندر کی طرف رخ کیا۔ عالم جلال سے سمندر کی لہروں کو دیکھا ہاتھ سے سمندر کی طرف اشارہ کیا اور گرجدار آواز میں فرمایا ‘‘…. بس وہیں رُک جاؤ !….’’

دوسری روایت کے مطابق مچھیروں کی دعا کے بعد ایک غیبی آواز آئی تھی۔ بہر حال ان الفاظ کا سُننا تھا کہ سمندر گویا ٹھہرسا گیا۔ہوا کے منہ زور گھوڑے کو جیسے لگام لگ گئی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر میں بادل چھٹ گئےاور طوفان ختم ہو گیا ۔ لوگ ہنسی خوشی اہنے گھروں کی جانب روانہ ہوگئے۔

760 ء کے اُس عرب بزرگ کو آج لوگ حضرت عبداللہ شاہ غازی ؒ کے نام سے جانتے ہیں ، جنہوں نے سمندر کو اشارہ کرکے کہا تھا کہ بس وہیں رک جا ؤ ! اور جس ساحل پر یہ واقعہ پیش آیا آج وہاں پر پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی آباد ہے۔

عبداللہ شاہ غازی کی دعاؤں سے طوفان ٹھہر جاتے ہیں ، یہ روایت کسی مشہور مستند کتاب میں تو موجود نہیں البتہ عبداللہ شاہ غازی کے عقیدت مندوں اور کراچی کے مقامی لوگوں میں یہ روایت نسل در نسل چلی آرہی ہے۔

اللہ کے ولی بندے عبداللہ شاہ غازی کے کراچی آمد سے پہلے کراچی بہت طوفانوں کی زد میں رہتا تھا، اور ان کی دعاؤں کے طفیل سے یہ شہر کراچی آج تک سمندری طوفان اور ہر قسم کی سمندری بلا سے بچا ہوا ہے۔

بارہ سو سال کی قدیم تاریخ کا تو علم نہیں لیکن گزشتہ ایک صدی کے معلوم ریکارڈز بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اس صدی میں کتنے ہی خطرناک سمندری طوفانوں کا رخ کراچی کی طرف ہوا لیکن اچانک یہ طوفان اپنا راستہ بدل کر نکل گئے۔

گزشتہ صدی میں کراچی کے ساحل پہ بہت سے طوفانوں نے حملہ کیا

گزشتہ صدی میں کراچی کے ساحل پہ بہت سے طوفانوں نے حملہ کیا ۔ مئی1902 ء، جون 1907 ء، جولائی1944 ء ، جون 1964 ء، دسمبر1965 ء، مئی 1985 ء، نومبر 1993 ء، جون 1998 ء، مئی 1999ء، مئی 2001 ء، اکتوبر2004 ء، جون 2007ء ، نومبر 2009 ء ، جون 2010 ء ، نومبر 2010 ء اور اکتوبر 2015ء یہ وہ مہینے ہیں جب کراچی کی جانب خطرناک سمندری طوفانوں جسے سائنسی زبان میں سائیکلون Clycon کہا جاتا ہے، کے آنے کی پیشگوئی ہوئی ۔

مگر بعد میں کوئی طوفان ساحل سے ٹکرانے سے پہلے ہی مرگیا۔ کسی نے اپنا رخ تبدیل کر لیا اور ٹھٹھہ بلوچستان یا گجرات کے ساحلوں سے جا ٹکرایا۔ کسی کی شدت کراچی سے ٹکرانے سے پہلے اتنی کم ہوگئی کہ کراچی محفوظ ہی رہا۔ گزشتہ صدی کے ریکارڈ کے مطابق کراچی کے قریب سمندر میں بننے والا کوئی بھی سمندری طوفان یا سائیکلون کراچی کے ساحل سے نہیں ٹکرایا ہے، اگر کچھ نقصان ہوا بھی ہے تو وہ سائیکلون کے تھم جانے سے پیدا ہونے والے آفٹر ایفیکٹس، طوفانی ہواؤں اور بارشوں سے ہوا ہے۔

گزشتہ صدی کے ریکارڈ کے مطابق اب تک ایک بھی سمندری طوفان یا سائیکلون کراچی کے ساحل سے نہیں ٹکرایا ہے، اگر کچھ نقصان ہوا بھی ہے تو وہ سائیکلون کے تھم جانے سے پیدا ہونے والے اثرات (آفٹر ایفیکٹس)، طوفانی ہواؤں اور بارشوں سے ہوا ہے۔

کراچی میں ہر سال مئی کے آخری ہفتے میں سمندری ہوائیں بہت خطرناک ہوجاتی ہیں۔ کوئی سال ایسا بھی آتا ہے کہ خطرناک سمندری طوفان کی پیش گوئی کی جاتی ہے لیکن آخری لمحوں میں طوفان اپنا رخ بدل لیتا ہے ۔


ذیل میں گزشتہ سو برسوں میں کراچی کی طرف آنے والے خطرناک سمندری طوفانوں (سائیکلون Clycon ) کی فہرست قابل دید ہے جس کا رخ کراچی کی جانب تھا لیکن کوئی بھی طوفان کراچی کے ساحل سے آج تک نہیں ٹکرایا۔

1895ء میں ایک سمندری طوفان مکران کے ساحل سے ٹکراگیا۔ مئی 1902ء میں، ایک سمندری طوفان سائیکلون کراچی سے مڑ کر قریبی ساحل سے ٹکرایا ۔

جون 1907 ء میں، ایک حاری طوفان Tropical Storm کراچی سے مڑ کر قریبی ساحل سے ٹکراگیا ۔ 27، جولائی 1944 ء کو ایک طوفان کی آمد پر دس ہزار سے زائد لوگ کراچی میں گھر چھوڑ کر چلے گئے مگر طوفان نے ٹھٹھہ کی جانب رخ موڑلیا۔ اگرچہ بارش اور ہواؤں کی وجہ سے کچھ اموات ہوئیں ۔

12 جون 1964ء کراچی کی جانب بڑھتا ہوا ایک سائیکلون رخ بدل کر ضلعی ٹھٹھہ کی بندرگاہ کیٹی بندر کے قریبی ساحل سے ٹکرایا ۔

15 دسمبر 1965، میں آنے والا سائیکلون کیرالہ سے ممبئی اور گجرات سے ہوتا ہوا کراچی کے قریب دم توڑ گیا۔ البتہ تیز طوفانی ہواؤں سے ہونے والے لینڈفال اور بارش کا پانی بھرجانے کی وجہ سے جانی نقصان بھی ہوا ۔

مئی 1985 میں، ایک طوفان کراچی کی جانب بڑھا تھا اور کراچی کے جنوب میں 100 کلومیٹر دور ہی کمزور ہوکر ختم ہوگیا۔ نومبر 1993 میں، کیٹیگری 1 کا سائیکلون طوفان مڑ کر سندھ و گجرات سرحد کے قریبی ساحل سے ٹکرایا، یہ طوفان کراچی میں صرف بڑے پیمانے بارش کی وجہ بھی بنا۔

جون 1998 میں، کیٹیگری 3 کا سمندری طوفان سائیکلون کراچی کی جانب آتے آتے جنوبی مشرقی سندھ کی طرف بڑھ گیا، سوائے چند مچھیروں کے کوئی بڑا جانی نقصان نہ ہوا۔

مئی 1999 میں، ایک کیٹیگری 3 کا سمندری طوفان کراچی کے قریب ٹکرایا ؛ اس سمندری طوفان نے سندھ کے ساحلی علاقوں کو کافی نقصان پہنچایا، یہ پاکستان کا ریکارڈ ڈ سخت ترین طوفان تھا۔

مئی 2001 میں، طاقتور کیٹگری 3 کا سائیکلون گجرات کے سرحد سے ٹکرایا ۔ اکتوبر 2004 میں، اونیل Onil نامی سائیکلون کراچی اور سندھ کے ساحل کی جانب لپکا لیکن بعد سمندر کی طرف واپس مڑ گیا، اور کراچی میں تیز بارش کا باعث بنا ۔

جون 2007 کے اوائل میں، گونو Gonu نامی سپر سائیکلون سے کراچی محفوظ رہا۔ جون 2007 ہی میں، یمین Yemyin نام ایک سمندری و ہوائی طوفان کراچی کے قریب گزر ا [9]۔

نومبر 2009 میں، پھائنPhyan نامی سائیکلون پہلے ہی دم توڑ گیا ور اس کی باقیات کراچی سمیت سندھ کے ساحل میں تیز ہواؤں کا باعث بنیں۔ جون 2010 میں، پھیٹ Phet نامی سائیکلون جو کیٹیگری 4 کا طاقتور قسم کا طوفان تھا، کراچی کے قریب کمزور پڑگیا، البتی طوفانی ہوئیں کراچی میں پہنچیں۔ اسی سال نومبر 2010ء میں، جل Jal نامی سمندری و بادی طوفان بھی کراچی پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا اور اس کی باقیات کی وجہ سے کراچی اور جنوب مشرقی سندھ میں گرد آلود ہواؤں کے ساتھ بوندا باندی ہوئی ۔

دو سال قبل بھی 2014ء میں نیلو فر نامی طوفان کا بھی اخبارات میں بہت شور ہوا ، اس سائیکلون کا رخ بھی کراچی کی جانب تھا، لیکن عین موقع پر اس نے اپنا رخ گجرات کی جانب کرلیاور کراچی ایک مرتبہ پھر سمندری طوفان سے محفوظ رہا[10]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. تاریخ ابن خلدون،ابن خلدون، ج 3، صص 198، 199
  2. ذہبی، تاريخ الإسلام، ج 9 ص 352و أبو الفرج الأصفہانی، مقاتل الطالبيين ص 207 - 208
  3. طبری ،تاريخ الطبری، ج 6 ، ص 291
  4. تاریخ الکامل لابن اثیر ج 5 ص 20
  5. محمد كاظم بجنوردي، دايره المعارف بزرگ اسلامي، مقاله اشتر علوي‌، ج ۹، مقاله شماره۳۵۲۳
  6. حضرت سید ابو محمد عبد اللہ الاشتر(المعروف) عبد اللہ شاہ غازی رحمتہ اللہ علیہ- اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 جون 2026ء
  7. علی احمد بروہی (1984)۔ جام، جاموٹ ایں جامڑا۔ کراچی: سندھ سلامت کتاب گھر۔ ص 77–80
  8. 1290 سال پرانا مزار عبداللہ شاہ غازیؒ- شائع شدہ از: 4 اگست 2019ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 جون 2026ء
  9. ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ، ستمبر 2016ء
  10. طوفانوں سے بچانے والے بزرگ حضرت عبداللہ شاہ غازی-اخذ شدہ بہ تاریخ: 29 جون 2026ء