مندرجات کا رخ کریں

ابراہیم مکاری

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 11:01، 30 مئی 2026ء از Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) («'''ابراہیم مکاری'''، جامعہ (یونیورسٹی) اور مدرسے کے استاد، ابوجا کی قومی مسجد (نیشنل مسجد) کے امامِ اول، مجلسِ مسلمانان کے نمائندے اور نائیجیریا کی سپریم کونسل برائے اسلامی امور کے رکن ہیں۔ انہوں نے 2026ء میں حمله آمریکا و اسرائیل به ایر...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

ابراہیم مکاری، جامعہ (یونیورسٹی) اور مدرسے کے استاد، ابوجا کی قومی مسجد (نیشنل مسجد) کے امامِ اول، مجلسِ مسلمانان کے نمائندے اور نائیجیریا کی سپریم کونسل برائے اسلامی امور کے رکن ہیں۔ انہوں نے 2026ء میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے دوران متعدد بیانات جاری کر کے جنگ رمضان میں ایران کے عوام کی حمایت میں واضح اور دوٹوک موقف اختیار کیا۔ امام خامنہ ای کی شہادت کے بعد انہوں نے ابوجا میں ایرانی سفارت خانے کا دورہ کیا اور موجودہ صورتحال پر اپنی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے ایرانی عوام کے لیے دعا کرتے ہوئے جمہوری اسلامی ایران کے شہید رہبر کو ایک “ہیرو” (عظیم مجاہد) کے طور پر یاد کیا۔