کعبہ

کعبہ ایک مکعب نما عمارت ہے جو مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔ یہ مسلمانوں کے قبلہ کے طور پر مشہور ہے اور دینِ اسلام میں اسے انتہائی فضیلت حاصل ہے۔ اس کا طواف حج کی قبولیت کے واجب شرائط میں سے ایک ہے۔ کچھ روایات میں اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ جس مقام پر کعبہ واقع ہے، وہ پہلی جگہ ہے جو پانی کے نیچے سے خشکی نمودار ہونے (دحو الارض) کے وقت ظاہر ہوئی۔ مسلمان مناسکِ حج کے دوران کعبہ کا طواف کرتے ہیں۔ قرآن پاک کی آیات میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی مدد سے کعبہ کی دیواریں بلند کیں اور لوگوں کو حج کے مناسک کے لیے دعوت دی۔ بعض دیگر روایات میں آیا ہے کہ کعبہ کی بنیاد ابتدا میں حضرت آدم (علیہ السلام) نے رکھی تھی اور بعد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کی تعمیرِ نو کی۔ کعبہ سے متعلق اہم اور قابلِ توجہ واقعات میں سے ایک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی جانب سے حجرِ اسود کو نصب کرنے کے لیے کی گئی تدبیر، اور امام علی (علیہ السلام) کی کعبہ میں ولادت ہے۔
کعبہ کا جغرافیائی محلِ وقوع
کعبہ کے جغرافیائی محلِ وقوع کو سمجھنے کے لیے ہمیں مسجد الحرام کی جغرافیائی پوزیشن جاننا ضروری ہے، جس کے اندر کعبہ واقع ہے۔ مسجد الحرام مکہ شہر کے اندر اور جبل ابو قبیس، جیاد، ہندی اور عمر نامی پہاڑوں کے درمیان واقع ہے۔ کعبہ کا عرضِ بلد ۲۱ ڈگری ۲۵ منٹ ۲۱ سیکنڈ شمالی اور طولِ بلد ۳۹ ڈگری ۴۹ منٹ ۳۴.۲۵ سیکنڈ مشرقی ہے [1]۔
کعبہ کے نام
کعبہ لغوی طور پر مربع شکل والی جگہ کے معنی میں ہے، اسی لیے اللہ کے گھر کو کعبہ کہا جاتا ہے [2]۔ البتہ کعبہ کا سب سے مشہور نام "بیت اللہ" یعنی اللہ کا گھر ہے۔ قرآن کریم میں کعبہ کے لیے کچھ اور نام بھی استعمال ہوئے ہیں؛ جیسے: البیت، [3] البیت الحرام، [4]۔ اور البیت العتیق [5]۔ البیت المحرم [6]۔
کعبہ کے ارکان
اللہ کے گھر کے چار رکن (کونے) ہیں: رکنِ شرقی (رکنِ اسود): یہ رکن کعبہ کے دروازے کے پاس اور تقریباً چاہِ زمزم کے سامنے واقع ہے۔ چونکہ یہ تقریباً مشرق کی جانب ہے، اس لیے اسے رکنِ شرقی کہا جاتا ہے۔ حجرِ اسود اسی رکن میں ہے، اسی لیے اس کا دوسرا نام رکنِ اسود ہے۔ کعبہ کا طواف اسی رکن سے شروع ہوتا ہے۔ رکنِ شمالی یا عراقی: طواف کی حرکت کی سمت کے مطابق، یہ رکن شرقی کے بعد واقع ہے۔ چونکہ یہ تقریباً شمال کی سمت ہے، اس لیے اسے رکنِ شمالی کہا جاتا ہے، اور چونکہ یہ عراق کی جانب ہے، اس لیے اسے رکنِ عراقی بھی کہتے ہیں۔ یہ رکن حجرِ اسماعیل کے مشرق میں ہے۔ رکنِ غربی یا شامی: طواف کی سمت کے مطابق یہ رکنِ شمالی کے بعد واقع ہے۔ چونکہ یہ تقریباً مغرب کی سمت ہے اسے رکنِ غربی، اور چونکہ یہ شام کی سمت میں ہے اس لیے اسے رکنِ شامی کہا جاتا ہے۔ یہ رکن حجرِ اسماعیل کے مغرب میں ہے۔ رکنِ جنوبی یا یمانی: طواف کی سمت کے مطابق یہ رکنِ غربی کے بعد واقع ہے۔ اسے "مستجار" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ رکن حجرِ اسود والے رکن کے متوازی ہے۔ چونکہ یہ تقریباً جنوب کی سمت ہے، اسے رکنِ جنوبی کہا جاتا ہے، اور چونکہ عرب جنوبی سمت کی ہر چیز کو (یمن کے اعتبار سے) یمانی کہتے تھے، اس لیے اسے رکنِ یمانی کہا جاتا ہے [7]۔
کعبہ کی تعمیر کی تاریخی پس منظر
روایات میں آیا ہے کہ کعبہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی مدد سے تعمیر کیا [8]۔
قرآن کریم نے بھی اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہے [9]۔ تاہم، کچھ لوگوں نے مذکورہ آیت کی بنیاد پر اس بات میں بحث کی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کو شروع سے تعمیر کیا ہے، اور کہا ہے کہ آپ صرف کعبہ کی بنیادوں کو بلند کرنے کے مامور تھے۔
بہرحال، کعبہ کی تعمیر کے بعد یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل کا مسکن بن گیا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد کے آباد ہونے کے بعد رفتہ رفتہ جرہم، خزاعہ اور پھر مشہور قبیلہ قریش مکہ میں آباد ہوئے اور ہر ایک نے اپنے اپنے حصے کے مطابق کعبہ کی تولیت اور کلید برداری کی ذمہ داری سنبھالی۔ کعبہ دور کے کچھ حصوں میں عبادت گاہ سے نکل کر بت کدہ بن گیا تھا [10]۔
اسلام میں کعبہ کا مقام
کعبہ مسلمانوں کے لیے عبادت کی مقدس ترین جگہ کے طور پر جانی جاتی ہے اور یہ پہلی عمارت ہے جو لوگوں کی عبادت کے لیے بنائی گئی [11]۔ اللہ کے گھر کی زیارت، مناسکِ حج کی صورت میں، ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر عمر میں ایک بار واجب ہے [12]۔ خدا نے ہجرت کے دوسرے سال کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ مقرر کیا[13]۔ اور اس کے بعد مسلمان نماز کو کعبہ کی طرف رخ کر کے پڑھنے کے مکلف ہوئے۔
قرآن میں کعبہ کا نام
قرآن کریم میں کعبہ کا نام سورہ مائدہ کی آیات ۹۵ اور ۹۷ میں آیا ہے۔
کعبہ سے متعلق تکلیفی آداب
مسلمانوں کی فقہی کتب میں تکلیفی احکام کی فہرست ذکر کی گئی ہے جس کا محور کعبہ ہے، ان میں سے کچھ یہ ہیں:
- واجب: جو مسلمان موت کے قریب ہو، اسے کمر کے بل لٹانا چاہیے اور اس کے پاؤں قبلہ کی طرف ہونے چاہئیں، اور موت کے بعد بھی میت کو دائیں کروٹ پر اس طرح لٹانا چاہیے کہ اس کا چہرہ اور پیٹ قبلہ کی طرف ہو
- حرام:جو شخص بیت الخلاء میں بیٹھے، اس کا رخ یا پشت قبلہ کی طرف نہیں ہونی چاہیے، ورنہ یہ حرام ہے [14]۔
- مستحب:تلاوتِ قرآن کے وقت قبلہ رخ ہونا مستحب ہے [15]۔
- مکروہ:بیوی کے ساتھ ہم بستری کے دوران رخ یا پشت قبلہ کی طرف ہونا مکروہ ہے۔
حوالہ جات
- ↑ قاضیعسکر سید علی، موقعیت جغرافیایی مکه و مسجدالحرام، میقات حج، دوره 14، شماره 54، زمستان 1384
- ↑ ابن منظور، لسان العرب، ج ۱، ص۷۱۸
- ↑ سوره بقره، آیه ۱۲۵
- ↑ سوره قریش، آیه ۳
- ↑ سوره مائده، آیہ ۹۷
- ↑ سوره ابراہیم آیہ 37
- ↑ أركان الكعبة المشرفة»، سایت منهل
- ↑ ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج۱، صص ۸۱ و ۸۲؛ ابن کثیر، البدایة و النهایة، ج۱، ص۳۷۸؛ طبری، تاریخ الطبری، ج۱، ص۲۵۱
- ↑ سوره بقره، آیه 127
- ↑ خرمشاهی بهاءالدین، کعبه، در دانشنامه قرآن و قرآنپژوهی، ج۲، ص.۱۸۸۳
- ↑ سوره آل عمران، آیه ۹۶
- ↑ سوره آل عمران، آیه 97
- ↑ سوره بقره آیه 8
- ↑ فرهنگ فقه مطابق با مذهب اهل البیت علیهمالسّلام، ج1، ص476
- ↑ سید روحالله خمینی، رسالۀ نجاة العباد، نشر مؤسسه تنظیم و نشر آثار امام خمینی (س)، سال 1385 شمسی، ص 15