عبد الرشید دوستم
- دین:** اسلام، اہلِ سنت
- سرگرمیاں / عہدے:**
-
| احمد دستمالچیان | |
|---|---|
![]() | |
| پورا نام | احمد دستمالچیان |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | ۱۳۳۳ ش |
| پیدائش کی جگہ | ضلع خواجہ دوکوہ، ولایت جوزجان، افغانستان |
| وفات | 2006 ء |
| یوم وفات | 2024 ء |
| مذہب | اسلام |
| اثرات | افغانستان کے اولین نائب صدر (2014–2020ء)، رئیسِ ستادِ مشترکِ قوایِ مسلحِ افغانستان ، حزبِ جنبشِ ملیِ اسلامی افغانستان کے رہنما ، شمالی محاذ (اتحادِ شمال) کے کمانڈر |
عبد الرشید دوستم ایک سیاست دان، فوجی کمانڈر (مارشل) اور حزب جنبش ملی اسلامی افغانستان کے رہبر ہیں۔ وہ 2014 سے 2020 تک محمد اشرف غنی کی حکومت میں افغانستان کے پہلے نائب صدر کے طور پر کام کرتے رہے۔ دوستم گزشتہ چار دہائیوں میں افغانستان کی سیاست اور عسکری میدان کی سب سے مؤثر اور متنازع شخصیات میں سے ایک ہیں اور انہوں نے کمیونسٹ حکومت کے ساتھ تعاون، مجاہدین اور طالبان کے ساتھ جنگ، اور غیر ملکی افواج کے ساتھ شراکت سمیت مختلف کردار ادا کیے ہیں۔
سوانح عمری
عبدالرشید دوستم سن 1333 ہجری شمسی میں ولایت جوزجان کے ضلع خواجہ دو کوہ میں ایک دہقان پیشہ خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حاجی عبدالرحیم اور والدہ کا انبار شاہ تھا۔
انہوں نے ساتویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر ترکِ تعلیم کرکے بچپن میں ہی کھیتی باڑی میں مصروف ہوگئے۔ سن 1358 ش میں وہ شبرغان کے تیل و گیس کمپنی میں مزدور بھرتی ہوئے اور وہاں تین سال کام کیا۔ اسی دوران وہ حزبِ دموکراتیک خلق افغانستان (شاخۂ پرچم) میں شامل ہوئے۔
بعد ازاں وہ سرکاری امنتی کے سپاہی کے طور پر کام کرنے لگے اور بتدریج ترقی پاتے گئے۔ سن 1365 ش میں سید اکرام (اُس وقت کے ولایتی منشی) کی مدد اور روسیوں کے حکم پر انہوں نے فرقهٔ ۵۳ پیادہ تشکیل دی اور خود اس کے کمانڈر بنے، جب کہ انہیں جنرل کا رتبہ بھی دیا گیا۔
شوروی یلغار کے دوران، دوستم ایک مزدور یونین لیڈر سے ازبک نسل کے ایک مسلح گروہ کے کمانڈر بنے جو سابق سوویت یونین کی حمایت یافتہ کمیونسٹ حکومت کے دفاع میں لڑتا تھا۔
1360 کی دہائی میں وہ کمیونسٹ فوج کے ایک جنرل کی حیثیت سے مجاہدین کے خلاف برسرِ پیکار تھے۔ کمیونسٹ حکومت کے سقوط کے بعد وہ ایک خودمختار جنگ سالار اور افغانستان کے ازبکوں کے کمیٹی کے سربراہ بن گئے۔
خانہ جنگی اور سقوط کابل
سن 1992 (1371 ش) میں کابل کے سقوط کے بعد، دوستم کے افراد نے اہم کردار ادا کیا۔ وہ اپنے چار سے پانچ ہزار جنگجوؤں کے ساتھ احمد شاہ مسعود تاجک کے ہمراہ گلبدین حکمتیار پشتون کے خلاف لڑے اور اس دوران قلعه بالا حصار، تپۀ مرنجان اور کابل کے ہوائی اڈے پر کنٹرول حاصل کیا۔
تاہم 1994 میں وہ حکمتیار کے ساتھ مل گئے اور برہان الدین ربانی و احمد شاہ مسعود کی تاجک حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں شروع کیں۔ بہت سے افغان عوام نے ان پر جنگی جرائم اور خانہ جنگی کے دوران شہریوں کے قتلِ عام کا الزام لگایا ہے۔
انہی جنگوں میں صرف کابل شہر میں پچاس ہزار سے زائد شہری مارے گئے اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی شروع ہوئی۔
طالبان حکومت اورمریکہ کے ساتھ تعاون
1998 (1377 ش) میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے بعد دوستم افغانستان چھوڑ کر ترکی چلے گئے، پھر واپس آئے اور طالبان کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے لیے احمد شاہ مسعود سے ملاقات کی اور شمالی اتحاد کے اہم کمانڈروں میں شامل ہوگئے۔
انہوں نے مزار شریف کو دوبارہ طالبان کے قبضے سے آزاد کروایا۔ احمد شاہ مسعود کی ستمبر 2001 (شهریور 1380 ش) میں موت کے بعد، انہوں نے جانشین محمد قسیم فہیم کے خلاف کوئی مخالفت نہیں کی اور طالبان کے سقوط میں امریکی افواج کے ساتھ عملی تعاون کیا۔
دوستم کے زیرِ فرمان دستوں نے دیگر جہادی گروہوں کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف امریکی کارروائیوں کی کامیابی میں بنیادی کردار ادا کیا۔
طالبان کے سقوط کے بعد
طالبان کے سقوط اور نئی حکومت کے قیام کے بعد، دوستم کو شمال افغانستان میں حامد کرزی کے نمائندے اور شورای عالی نظامی کے رئیس کے طور پر مقرر کیا گیا، بعد ازاں وہ معاون وزارتِ دفاع بنے۔ 1383 ش کے صدارتی انتخابات میں وہ امیدوار بنے اور 10 فیصد ووٹ حاصل کیے۔
لیکن نئی حکومت نے انہیں رئیس ستاد مشترک قوای مسلح افغانستان مقرر کیا، اگرچہ بعد میں اکبر بای (ترکتباران افغانستان کے رئیس) کے اغوا اور تشدد کے الزام کے بعد یہ عہدہ معطل کردیا گیا۔ اس الزام نے ان کے اور حامد کرزی حکومت کے درمیان تعلقات کشیدہ کردیے اور کابل میں ان کے گھر کا پولیس نے محاصرہ کیا۔
صدر کا پہلا معاون
1393 ش کے صدارتی انتخابات میں دوستم، سرور دانش کے ہمراہ محمد اشرف غنی کے نائبین کے طور پر منتخب ہوئے اور انہوں نے اشرف غنی کے حق میں ازبک اور ترکمن ووٹوں کی بڑی تعداد حاصل کی۔
تاہم دولتِ وحدت ملی میں ان کا کردار بہت محدود ہوگیا اور انہوں نے صدرِ جمہور اور رئیسِ اجرائیه (عبدالله عبدالله) دونوں پر شدید تنقید کی۔
الزامات اور حالیہ حالات
قوس 1396 ش میں احمد ایشچی (دوستم کے سیاسی مخالف) نے دعویٰ کیا کہ دوستم اور ان کے محافظوں نے اسے مارپیٹ کا نشانہ بنایا۔ اس الزام پر ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ 29 اردیبهشت 1396 کو وہ بیماری کے بہانے افغانستان چھوڑ کر ترکی چلے گئے۔
14 ماہ بعد 31 تیر 1397 کو وطن واپس آئے اور عطا محمد نور، محمد محقق اور صلاحالدین ربانی کے ساتھ مل کر حکومتِ وحدت ملی کے خلاف "ائتلاف نجات برای افغانستان" تشکیل دیا۔
امام خامنہ ای کی شہادت
جنگِ رمضان اور امام خامنهای کی شہادت کے بعد انہوں نے کہا: حضرت آیتالله العظمی سید علی حسینی خامنهای جیسی عظیم شخصیت کا فقدان عالمی سیاست اور اسلامی مسائل کے لیے نہایت افسوس اور تشویش کا باعث ہے
