مندرجات کا رخ کریں

حجاز

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 21:34، 15 مئی 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)
حجاز

حجاز جزیرہ نما عرب کا ایک مشہور خطہ ہے جو بحیرہ احمر کے مشرقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ لفظ "حجاز" کا مطلب "رکاوٹ" یا "حائل ہونے والی چیز" ہے۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کیونکہ یہ نجد اور تہامہ کے درمیان واقع ہے اور ان دو خطوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔

جغرافیہ

جغرافیائی اعتبار سے حجاز، جزیرہ نما عرب کے دیگر مقامات کی طرح بہت خشک اور پانی کی کمی کا شکار ہے۔ اسی وجہ سے یہاں مستقل سکونت کے قابل علاقے کم تھے۔ اسلام کے ظہور کے وقت صرف چند شہر جیسے مکہ، مدینہ، طائف اور خیبر حجاز کے آباد اور گنجان مراکز میں شمار ہوتے تھے۔ لیکن اب حجاز سعودی عرب کی بادشاہت کا ایک ترقی یافتہ اور گنجان آباد حصہ ہے۔

حجاز کی تاریخ

خانہ کعبہ، مسجد نبوی (ص)، حضرت محمد (ص)، اہلبیت، خلفاء اور صحابہ کے مزارات کا حجاز میں ہونا اور حج کی سیاسی اہمیت نے ہمیشہ حکومتوں کی توجہ اس خطے اور خاص طور پر حرمین شریفین کی طرف مبذول رکھی ہے۔

کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ مکہ، مدینہ اور حج کے راستوں پر جو تعمیراتی کام کیے جاتے تھے، ان کا مقصد حکمرانوں کی مذہبی ساکھ کو بہتر بنانا تھا [1].

چوتھی صدی ہجری کے نصف آخر میں فاطمیوں کے مصر میں اقتدار میں آنے اور عباسیوں کے ساتھ ان کی سیاسی کشمکش کے بعد، حجاز اور حرمین پر سیادت حاصل کرنے کی کوششیں تیز ہو گئیں۔

فاطمیوں نے جعفر بن محمد بن حسن اور اس کے بعد اس کے بیٹے حسن بن جعفر کو "شریف" کا لقب دے کر مکہ کا امیر مقرر کیا، اور یہی عمل مکہ پر حکمرانی کرنے والے حسینیوں کے بارے میں بھی دہرایا۔ اشراف کی حکومت 358ھ سے 1343ھ تک شاذ و نادر استثناء کے ساتھ حرمین پر قائم رہی [2].

صلاح الدین ایوبی نے مصر پر قبضے اور فاطمیوں کے خاتمے کے بعد حجاز اور حرمین تک اپنا اثر و رسوخ بڑھایا اور حالات کسی حد تک عباسیوں کے حق میں بہتر ہوئے۔ بعض ادوار میں یمن کے حکمران بھی حجاز پر قبضہ کرنے کے خواہشمند رہے اور اس مقصد کے لیے مکہ پر حملے بھی کیے۔

ساتویں صدی ہجری میں عباسیوں کے زوال کے بعد، ممالیک (648-923ھ) کے لیے حجاز پر غلبہ حاصل کرنے کا راستہ ہموار ہوا اور اشراف کی تقرری و معزولی انہی کے ہاتھوں ہوتی تھی [3].

منابع میں حرمین میں ممالیک کے بے شمار اقدامات اور حج کے راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوششوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ سلطان محمد خدابندہ ایلخانی کی حرمین پر قبضے کی کوشش اس کی موت کے ساتھ ہی ناکام ہو گئی [4].

923ھ میں ممالیک سلطان سلیم عثمانی سے شکست کھا گئے اور عثمانیوں کا مصر اور شام پر تسلط قائم ہو گیا۔ مکہ کے حاکم شریف برکات بن محمد نے عثمانیوں کی اطاعت قبول کر لی، انہوں نے بھی مکہ پر اشراف کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا۔ اس کے بعد تقریباً چار صدیوں تک حجاز عثمانیوں کے زیر انتظام رہا[5].

1157ھ میں محمد بن عبدالوہاب نے دینی اصلاحات کے دعوے کے ساتھ ابن تیمیہ کے افکار کو زندہ کرنے کی مہم شروع کی۔ درعیہ کے حاکم محمد بن سعود کی حمایت سے وہ اس نئے مکتب فکر کی تبلیغ کرنے میں کامیاب ہوا جو بعد میں اسی کے نام سے "وہابیت" کے نام سے مشہور ہوا۔

آل سعود کی سیاسی اور عسکری حمایت کے نتیجے میں عثمانیوں اور ان کے درمیان بہت سی جھڑپیں ہوئیں اور آخر کار طویل کشمکش کے بعد 1343ھ میں ایک آزاد ملک "سعودی عرب" تشکیل پایا اور حجاز اس کا ایک اہم حصہ بن گیا[6].

تب سے لے کر اب تک حجاز سعودی عرب کے زیر تسلط ہے اور 1992ء (1412-1413ھ) کی انتظامی تقسیم کے مطابق، سعودی عرب کے 13 خطوں میں سے 5 خطوں پر حجاز کا نام اطلاق ہوتا ہے[7].

حجاز اور خلفاء

گیارہویں ہجری کے اوائل میں پیامبر اسلام (ص) کی وفات کے بعد، خلفاء کی توجہ جزیرہ نما عرب اور دیگر علاقوں میں اسلام کی حکمرانی کو وسعت دینے پر مرکوز رہی [8].

35ھ میں عثمان بن عفان کی شہادت اور خلافت کے علی بن ابی طالب (ع) کو منتقل ہونے کے بعد، جنگِ جمل و صفین کے واقعات اور معاویہ کی جانب سے حضرت علی (ع) کی حکومت کے علاقوں پر تجاوز کے بعد، آپ نے دارالخلافت کوفہ منتقل کر دیا۔

اسی عرصے میں قبائل کی بڑی تعداد نے ہجرت کی اور فتح شدہ علاقوں میں نئے شہر آباد کیے گئے۔

حجاز کی اہمیت

حجاز اسلام کی جائے پیدائش اور تاریخی لحاظ سے جزیرۂ عرب کا سب سے اہم حصہ ہے۔ مکہ اور مدینہ کی موجودگی کی وجہ سے اسلامی جغرافیہ اور متعدد جغرافیائی مصادر میں حجاز کو بہت بلند مقام حاصل رہا ہے یہ خطہ دوسرے اقلیم کا حصہ شمار ہوتا تھا اور ابن فقیہ نے اسے دنیا کے معتبر ترین علاقوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

حجاز دورِ جاہلیت میں

دورِ جاہلیت میں حجاز کے عرب معاشرے میں کسی مرکزی حکومت کے نہ ہونے کے باعث جدید معنوں میں کوئی قانون ساز ادارہ بھی موجود نہیں تھا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس زمانے میں قانون سرے سے موجود نہ تھا؛ بلکہ قبائلی زندگی کے مطابق مختلف سماجی قوانین اور روایات نافذ تھیں، جو دراصل جاہلی سنّتیں کہلاتی تھیں اور قبائل انہی پر عمل کرتے تھے۔

تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت، حلف (معاہدۂ اتحاد)، جوار (پناہ دینا) اور خون بہا یا انتقام لینا جیسے اصول دورِ جاہلیت کے اہم قوانین تھے۔ ان کے نفاذ کا نظام قبائلی غیرت، عوامی نگرانی اور سب سے بڑھ کر ’’عہد کی پابندی‘‘ پر قائم تھا، جسے اُس دور میں بہت اہمیت حاصل تھی۔

اسلام سے پہلے کی زندگی

اسلام سے پہلے حجاز میں زندگی دو طرز پر گزرتی تھی:

  • بیابان گردی (بدوی زندگی)
  • شہری زندگی

چونکہ حجاز کا بیشتر حصہ، جزیرۂ عرب کے دیگر علاقوں کی طرح، خشک و صحرائی تھا، اس لیے بدوی طرزِ زندگی زیادہ رائج تھی [9]. زیادہ تر بستیاں اور شہر زرخیز وادیوں، قیام گاہوں یا قافلوں کی گزرگاہوں پر قائم ہوتے تھے۔ حجاز عدنان، قحطان اور قضاعہ جیسے بڑے بدوی قبائل کا مسکن تھا۔

حجاز کے متعلق احکام

مشہور قول کے مطابق — اور بعض کے مطابق اس پر اجماع بھی ہے — کفار کا حجاز میں مستقل سکونت اختیار کرنا ممنوع ہے۔ بعض علماء کے نزدیک حجاز سے مراد صرف مکہ اور مدینہ ہیں۔

کفار کا حجاز میں عبوری طور پر داخل ہونا یا کھانے پینے کا سامان بیچنے کے لیے آنا، اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے [10]۔

بعض فقہاء نے حرمِ مکہ میں کفار کے داخلے کو مطلقاً ناجائز قرار دیا ہے؛ البتہ حرم سے باہر حجاز کے علاقوں میں امام کی اجازت سے ان کے داخلے کو جائز سمجھا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی کافر بغیر اجازتِ امام حجاز میں داخل ہو جائے تو اسے تعزیر دی جائے گی[11]۔

حوالہ جات

  1. دانشنامه حج و حرمین شریفین، ج۶، ص۴۹۷
  2. تاریخ مکه، ص417
  3. اتحاف الوری، ج3، ص34؛ تاریخ مکه، ص231- 233؛ تنضید العقود، ج1، ص50
  4. العقد الثمین، ج4، ص239
  5. حسن الصفاء و الابتهاج، ص150
  6. تاریخ آل‌سعود، ج1، ص34- 35؛ کشتار مکه، ص67
  7. اطلس المملکة العربیة السعودیه، ص14- 15
  8. اصطخری، صور الاقالیم، ج۱، ص۱۴
  9. برهان الدین دلّو، جزیرةالعرب قبل الاسلام: التاریخ الاقتصادی، ج۱، ص۳۹، الاجتماعی، الثقافی و السیاسی، بیروت ۱۹۸۹
  10. جواهر الكلام نویسنده : النجفي الجواهري، الشيخ محمد حسن جلد : 21 صفحه : 289- اخذ شدہ بہ تاریخ: 14 مئی 2026ء
  11. المبسوط في فقه الإمامية نویسنده : الشيخ الطوسي جلد : 2 صفحه : 47- اخذ شدہ بہ تاریخ: 14 مئی 2026ء