دیانت فاؤنڈیشن ترکی
دیانت فاؤنڈیشن ترکی، اسلامی ملک ترکی کا سب سے اہم اور سب سے بڑا سرکاری مذہبی ادارہ ہے۔
قیام کی تاریخ
عثمانی خلافت کے دور میں مذہبی امور ایک ادارے کے سپرد تھے جسے «مشیخت» کہا جاتا تھا۔ اس ادارے کی سربراہی شیخ الاسلام کے پاس ہوتی تھی۔ سنہ 1920 میں یہ امور ایک وزارت کے حوالے کر دیے گئے جس کا نام «وزارتِ مشیخت، شریعت اور اوقاف» تھا۔
3 مارچ 1924 کو مذہبی امور کو سیاست سے جدا کرنے کے مقصد سے مذکورہ وزارت کو ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ دفعہ واحدہ 429 کے مطابق «ریاستِ امورِ دینیہ» کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا گیا۔ یہ ادارہ وزیرِ اعظم کے دفتر سے وابستہ ہے۔ اس ادارے کے پہلے سربراہ محمد رفعت افندی بره چی زادہ تھے اور موجودہ سربراہ محمد نوری ییلماز ہیں۔
سنہ 1924 میں ریاستِ امورِ دینیہ کی ساخت یوں تھی: "صدر، مشاورتی ہیئت اور مرکزی اہلکار"۔ سنہ 1927 میں اس تنظیم میں مزید شعبے شامل کیے گئے، جن میں: مجلسِ تدقیقِ مصاحف (کتب) کی صدارت، ادارۂ مذہبی مؤسسات، عملہ و ریکارڈ کے انتظامی یونٹ، اور شعبۂ دستاویزات و تحریرات شامل تھے۔
20 نیسان 1950 کو قانون نمبر 5634 کی منظوری کے ساتھ ریاستِ امورِ دینیہ کو زمانے کے تقاضوں کے مطابق از سرِ نو منظم کیا گیا۔ آئینی قانون کے مطابق مرکزی تنظیم کے بعض یونٹوں میں تبدیلی کی گئی، ادارے کے نائب صدر کا منصب قائم کیا گیا، اور دو نئے شعبے یعنی «مدیریتِ امورِ خیریہ» اور «مدیریتِ اشاعت» کو تنظیم میں شامل کیا گیا۔ اس کے علاوہ پہلی مرتبہ «واعظینِ سیّار» کا ادارہ قائم کیا گیا اور اس طرح تمام واعظین کو باضابطہ تنخواہ دار عملہ تسلیم کیا گیا۔ سنہ 1951 میں مذہبی اشاعت کے گردشی سرمائے کا شعبۂ حسابداری بھی ادارے کے شعبۂ اشاعت کے تحت قائم کیا گیا۔
1965 میں قانون نمبر 633 (جو ریاستِ امورِ دینیہ کی تنظیم اور فرائض سے متعلق تھا) کے مطابق ادارے کے امور میں مزید اصلاحات کی گئیں۔ اس قانون کے تحت ادارے کے اہلکاروں کو اس عنوان سے متعارف کرایا گیا: "عقیدہ، عبادت اور اخلاق سے متعلق امور کے نفاذ، مذہبی معاملات میں معاشرے کی رہنمائی اور عبادت گاہوں (مساجد) کے انتظام کے ذمہ دار"۔ درحقیقت اس ادارے میں بنیادی تبدیلیاں اسی قانون کی منظوری کے بعد عمل میں آئیں۔
1982 کے آئین کی منظوری کے بعد سے، جیسا کہ متعلقہ اصل میں ذکر کیا گیا ہے، دیانت تنظیم ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اپنے مذہبی فرائض انجام دیتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ ادارہ لائیسیزم (سیکولر نظام) کی پابندی کرتے ہوئے، ریاست کے ساتھ ہم آہنگی میں اور سیاسی امور سے دور رہ کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔
دیانت تنظیم کی ساخت
دیانت تنظیم مرکزی ڈھانچے، اضلاع اور بیرونِ ملک دفاتر پر مشتمل ہے۔
مرکزی تنظیم
مرکزی تنظیم میں صدر، نائب صدر اور درج ذیل یونٹ شامل ہیں:
1. بنیادی یونٹ
1ـ1. اعلیٰ مجلسِ امورِ دینیہ
یہ مجلس ادارے کا سب سے اعلیٰ فیصلہ ساز اور مشاورتی مرجع ہے، جو ایک صدر، 15 ارکان اور ضرورت کے مطابق ماہرین پر مشتمل ہوتی ہے۔ ادارے کی پالیسی اسی مجلس کے ذریعے طے کی جاتی ہے۔ مذہبی سوالات کے جوابات دینا بھی اسی مجلس کی ذمہ داری ہے۔ یہ مذہبی امور میں تحقیق و بررسی کرتی ہے اور ادارے کی مطبوعات کی اشاعت بھی اسی کی منظوری سے ہوتی ہے۔
2ـ1. ادارۂ تحقیقِ قرآن
یہ ادارہ قرآن مجید کی اشاعت سے متعلق امور کی نگرانی کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، کسی بھی قسم کے قرآن کی طباعت کے لیے اس کی اجازت ضروری ہوتی ہے، اور اس ادارے کی منظوری کے بغیر قرآن کی اشاعت خواہ ادارے کی طرف سے ہو یا کسی دوسرے ناشر کی طرف سے، ممکن نہیں۔ یہ ادارہ قرآن کے بارے میں علمی تحقیقات بھی انجام دیتا ہے۔
3ـ1. شعبۂ خدماتِ دینیہ
یہ شعبہ مذہبی مسائل کی وضاحت سے متعلق امور انجام دیتا ہے۔ نماز کے اوقات، مذہبی ایام، چاند کے ہلال وغیرہ جیسے امور اسی شعبے کی ذمہ داری ہیں۔
4ـ1. شعبۂ تعلیمِ دینی
یہ شعبہ ادارے میں کام کرنے والے افراد کی دینی تربیت اور تعلیم کا ذمہ دار ہے۔ یہ تعلیم سالانہ بنیادوں پر ہوتی ہے اور تربیت یافتہ افراد پیشہ ورانہ مقصد کے تحت کلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ قرآن کی کلاسوں سے متعلق امور بھی اسی شعبے کے ذمے ہیں۔
5ـ1. شعبۂ حج
بیت اللہ الحرام کے حجاج کے حج اور عمرہ سے متعلق تمام امور کی منصوبہ بندی اور ان کا نفاذ، اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک، اسی شعبے کی ذمہ داری ہے۔ یہ شعبہ اس مقصد کے لیے دیگر اداروں اور تنظیموں کے ساتھ بھی تعاون کرتا ہے۔
6ـ1. شعبۂ مذہبی اشاعت
مذہبی اشاعت سے متعلق تمام امور (بشمول سمعی و بصری مواد، طباعت وغیرہ) اس شعبے کے ذمہ ہیں۔ ادارے کی لائبریری خدمات بھی اسی شعبے کے تحت انجام پاتی ہیں۔
7ـ1. شعبۂ خارجہ تعلقات
ترک باشندوں (چاہے وہ ترکی کے شہری ہوں یا ترک زبان ممالک سے تعلق رکھتے ہوں) کو مذہبی خدمات فراہم کرنا اس شعبے کی ذمہ داری ہے۔ ان خدمات کے نفاذ، سیمیناروں کے انعقاد، بیرونِ ملک بھیجے جانے والے افراد کے لیے تربیتی کلاسوں کے قیام، اور بیرونِ ملک سے آنے والے وفود، گروہوں اور افراد کی رہنمائی جو اس ادارے سے رابطہ کرتے ہیں، سب اسی شعبے کے ذمے ہیں۔
2. مشاورتی اور تفتیشی یونٹ
1ـ2. شعبۂ تفتیش 2ـ2. شعبۂ قانونی مشاورت 3ـ2. شعبۂ تحقیق، منصوبہ بندی اور ہم آہنگی
3. معاونتی یونٹ
1ـ3. شعبۂ امورِ عملہ 2ـ3. شعبۂ انتظامی و مالی امور 3ـ3. گردشی سرمائے کے انتظام کا شعبہ 4ـ3. ماہرِ سماجی دفاع 5ـ3. شعبۂ تعلقاتِ عامہ و مطبوعات 6ـ3. مرکزِ اطلاعات کا انتظام 7ـ3. شعبۂ فنی خدمات
ضلعوں کی تنظیم
دیانت امور کی تنظیم ضلعوں میں درج ذیل پر مشتمل ہوتی ہے: صوبائی اور ضلعی مفتی دفاتر اور تعلیمی مراکز کی انتظامیہ۔
1. مفتی دفاتر
مفتی دفاتر صوبوں اور ضلعوں میں قائم کیے جاتے ہیں۔
صوبائی مفتی دفاتر میں: صوبائی مفتی، نائب مفتی، شعبہ کے مدیر، واعظ، قرآن کلاس کے مدیر، مفتش، ماہر، متصدی، قرآن کلاس کے استاد، امام خطیب، مؤذن، مسجد کے خادم اور دیگر ضروری عملہ موجود ہوتا ہے۔
ضلعی مفتی دفاتر میں: ضلعی مفتی، واعظ، متصدی، ماہر، قرآن کے استاد، امام خطیب، مؤذن، مسجد کے خادم وغیرہ خدمات انجام دیتے ہیں۔
2. تعلیمی مراکز کی انتظامیہ
دیانت تنظیم کے تعلیمی مراکز ان شہروں میں قائم ہیں: انطالیہ، بولو (Bolu)، الازیغ (Elazig)، ارض روم، کاستامونو، قونیہ، استنبول، مانیسا اور طرابزون۔ ان مراکز میں مرکز کے مدیر، اساتذہ، ماہرین، متصدیان اور دیگر عملہ خدمات انجام دیتے ہیں۔
بیرونِ ملک تنظیم
دیانت تنظیم ان ممالک میں مذہبی سرگرمیاں انجام دیتی ہے جہاں ترکی کے شہریوں کی بڑی تعداد موجود ہے یا جہاں ترک زبان بولی جاتی ہے۔ اس تنظیم کے دفاتر ترکی کے سفارت خانوں میں «مشاورت برائے امورِ دینیہ» اور قونصل خانوں میں «ملحق برائے امورِ دینیہ» کے عنوان سے قائم ہوتے ہیں۔
دیانت تنظیم کی اہم خدمات
اعلیٰ مجلسِ امورِ دینیہ کا قیام
یہ ادارہ دیانت تنظیم کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز اور مشاورتی ادارہ ہے۔ اس کے تحت فتوٰی کمیسیون، مذہبی اشاعت و مطبوعات، دینی خدمات و ارشاد اور دیگر موضوعاتی کمیسیونیں قائم ہیں۔ یہ ادارہ سالانہ تقریباً 1000 مذہبی سوالات کے تحریری جواب دیتا ہے اور زبانی طور پر بھی دینی سوالات (استفتاءات) کے جوابات فراہم کرتا ہے۔
مذہبی مشاورتی اجلاسوں کا انعقاد
دیانت تنظیم نے اپنے قیام سے اب تک دو مرتبہ 1993 اور 1998 میں انقرہ میں مذہبی مشاورتی اجلاس منعقد کیے ہیں۔ حالیہ اجلاس میں آرمینی، رومی، سریانی اور فنری پاتریارک (ان مسیحیوں میں سے جو عثمانی دور میں ترجمہ کا کام انجام دیتے تھے)، ترکی کے ربی اور چند غیر ملکی شخصیات کو بھی شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔
ان اجلاسوں کا مقصد مذہبی مسائل کے بارے میں عوامی افکار کو واضح کرنا تھا۔ 1998 کے اجلاس میں تین کمیسیونیں قائم کی گئیں: ادیان کے درمیان مکالمہ کمیسیون، مختلف مذہبی تفاسیر سے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کی کمیسیون، اور مذہبی تعلیم کی کمیسیون۔ اس اجلاس میں 39 مشاورتی نوعیت کے فیصلے منظور کیے گئے۔
مشترکہ مذہبی اجلاسوں کا انعقاد
ترک زبان ممالک، بلقان اور قفقاز کے ممالک اور ترک و مسلمان برادریوں کے ساتھ مشترکہ اجلاس منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ دینی خدمات کے بارے میں مشاورتی حل تلاش کیے جا سکیں۔
مساجد کی تعمیر ایک مشترکہ نقشہ اور منصوبہ کے مطابق
قانون نمبر 3194 (مساجد کی تعمیر سے متعلق) اور اس کی ضمیمہ دفعہ نمبر 4380 مؤرخہ 1 اگست 1998 اور دفعہ 23479 مؤرخہ 30/9/1998 کے مطابق مساجد کو مقامی ضرورت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا جانا چاہیے اور ان کے نقشے ظاہری لحاظ سے دیگر مساجد کے ساتھ ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔ چھوٹی مساجد کا رقبہ 2500 مربع میٹر، متوسط مساجد (محلہ مساجد) کا رقبہ 5000 مربع میٹر اور بڑی مرکزی مساجد کا رقبہ 10000 مربع میٹر مقرر کیا گیا ہے۔
مساجد کے امور کا انتظام
قانون نمبر 633 کی دفعہ 35 (مصوبہ 1998) کے مطابق مساجد کا قیام دیانت تنظیم کی اجازت سے ممکن ہے اور ان کے انتظامی امور بھی اسی تنظیم کی ذمہ داری ہیں۔ جو مساجد اس تنظیم کی اجازت کے بغیر عبادت کے لیے قائم کی گئی ہوں، انہیں تین ماہ کے اندر اس تنظیم کے حوالے کرنا ہوگا۔
مرکز تحقیق، ترقی اور دستاویزات (AR‑GED) کا انتظام
یہ مرکز دیانت تنظیم کے اعلیٰ ادارہ امورِ دینیہ سے وابستہ ہے۔ یہ 1996 میں قائم ہوا اور انٹرنیٹ سے منسلک ہے۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے تنظیم سے متعلق معلومات، تنظیم کی سرگرمیاں، نماز کے اوقات، تنظیم کی اشاعتیں، حج سے متعلق معلومات، دینی استفتاءات اور تنظیم کے مختلف شعبوں کے درمیان اطلاعات کا تبادلہ ممکن ہے۔
مرکز برائے تحقیق و بین الاقوامی مکالمہ کا انتظام
یہ مرکز "اسلام آور آسیا" اجلاس کی قرارداد کے مطابق دیانت تنظیم کے ذریعے قائم کیا گیا۔ دیگر مذاہب کے ماہرین کے ساتھ مسلسل نشستوں کا انعقاد اس مرکز کی ذمہ داری ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کی مبارکباد کا اظہار بھی اسی مرکز کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ 1999 کی کانگریس میں یہ طے پایا کہ:
1. مسیحی دنیا کی عملی سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے اور مناسب اشاعتوں کے ذریعے ترکی سے متعلق معلومات صوتی و بصری صورت میں ترکی آنے والے غیر ملکی مہمانوں کے لیے فراہم کی جائیں۔
2. تنظیم کے اہلکاروں کے ذریعے مسیحی دنیا کے سیاحوں کو ترکی کی روایتی مہمان نوازی اور دین اسلام کے مثبت اصولوں کے ذریعے آگاہ کیا جائے۔
دینی خدمات
دیانت تنظیم آئین کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے اور کسی بھی سیاسی رجحان سے دور رہ کر دین کے اعلیٰ اصولوں جیسے اتحاد، مساوات، ایثار، تعاون، محبت، احترام، خوش بینی اور باہمی حمایت کو انسانوں کے درمیان فروغ دیتی ہے۔ اسی طرح معاشرتی نظم کو کمزور کرنے والی چیزوں (شراب، جوا، منشیات، غیر اخلاقی تعلقات وغیرہ) کے بارے میں لوگوں کی رہنمائی اور وضاحت بھی تنظیم کی ذمہ داری ہے۔
یہ دینی سرگرمیاں صرف مساجد تک محدود نہیں بلکہ اسکولوں، اسپتالوں، جیلوں، کارخانوں، طلبہ ہاسٹلوں، بزرگوں کے گھروں، نرسریوں وغیرہ میں (درخواست کی صورت میں) بھی انجام دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ خصوصاً ترکی کے مشرقی اور جنوب مشرقی علاقوں میں کانفرنسوں کا انعقاد بھی تنظیم کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ عوام کی رہنمائی کے مقصد سے مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر شرکت بھی کی جاتی ہے۔ ماہ رمضان، مذہبی ایام اور میلاد النبی کے موقع پر وعظ و ارشاد کے پروگرام بھی تنظیم کے مبلغین انجام دیتے ہیں۔
تنظیم کی خدمات ان امور تک محدود نہیں بلکہ مختلف دینی میدانوں میں اس کی موجودگی محسوس کی جاتی ہے، جیسے جامعات، الہیات کے کالج، امام خطیب مدارس اور نماز جمعہ کے خطبات وغیرہ۔
تعلیمی خدمات
1. مختلف دینی تعلیمی سرگرمیاں
دیانت تنظیم مختلف علاقوں میں دینی تعلیمی خدمات انجام دیتی ہے۔ اس مقصد کے لیے تقریباً 3683 کلاسیں قائم کی گئی ہیں جن میں قرآن کی تعلیم، نماز کی سورتوں اور دعاؤں کا حفظ اور بنیادی دینی معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ تعلیمی سرگرمیاں صوتی و بصری انداز میں بھی انجام دی جاتی ہیں، جیسے قرآن اور وعظ کے کیسٹ، بچوں کے لیے دینی کارٹون فلمیں، ڈرامے اور دستاویزی فلمیں، ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے تیار پروگرام، مذہبی موسیقی کے پروگرام اور نجی و سرکاری ٹی وی چینلز خصوصاً TRT4 پر ہفتہ کے دن 21 سے 23 بجے تک دینی پروگرام نشر کرنا۔
2. تنظیم کے عملے کے لیے خصوصی تربیتی کلاسیں
تنظیم کے 9 تعلیمی مراکز میں مختلف علاقوں میں کام کرنے والے عملے کی تربیت کی جاتی ہے۔ تین سال کے دوران 4648 افراد ان مراکز میں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ استنبول اور قونیہ کے دو مراکز کو خصوصی تربیتی مراکز قرار دیا گیا ہے۔ ان مراکز میں 1976 سے اب تک 531 افراد کو پیشہ ورانہ دینی تعلیم دی جا چکی ہے۔ ان کلاسوں میں الہیات کے فارغ التحصیل طلبہ 2 سے 5 سال تک تخصصی دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور کامیاب افراد کو مفتی یا واعظ کے طور پر مقرر کیا جاتا ہے۔
3. اذان اور خطابت کی کلاسیں
یہ کلاسیں خوش الحانی کے ساتھ اذان دینے اور امام خطیب کے انداز میں خطبہ و تقریر کرنے کی تربیت کے لیے منعقد کی جاتی ہیں۔ اب تک تقریباً 1051 مؤذن اور 5678 امام خطیب ان کلاسوں سے فارغ التحصیل ہو چکے ہیں۔
اشاعتی خدمات
تنظیم دینی موضوعات پر مسلسل اشاعتی، صوتی اور بصری سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ اب تک علمی، ادبی، تعلیمی، مرجعی، عمومی، بچوں کے لیے، ترک شخصیات، اسلام، جیبی کتابوں اور فنون کے شعبوں میں 434 کتابیں شائع کی جا چکی ہیں۔
اس کے علاوہ تنظیم کے شعبۂ اشاعت نے ترک ثقافت کے تحفظ کے مقصد سے تقریباً 30 لاکھ مطبوعات 14 زبانوں (ترکی، عربی، انگریزی، جرمن، فرانسیسی، آذری، قازاقی، ازبکی، قرغیزی، تاتاری، ترکمنی، روسی، البانوی اور جارجیائی) میں شائع کر کے مختلف ممالک کو ارسال کی ہیں۔
1999 کے اختتام تک مزید دس لاکھ مطبوعات کی اشاعت کا پروگرام بھی بنایا گیا۔
اسی طرح 12 صفحات پر مشتمل کیلنڈر تقریباً 25 لاکھ کی تعداد میں شائع کیا جا رہا ہے۔ یہ دیواری کیلنڈر یورپ، امریکہ اور ترکی کے اندر تقسیم کیے جاتے ہیں۔
تنظیم ان مطبوعات کے علاوہ ماہنامہ، بچوں کا رسالہ اور سہ ماہی جریدہ بھی شائع کرتی ہے۔ یہ رسائل باقاعدگی سے شائع اور تقسیم کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ "اسلام راہِ سعادت" کے عنوان سے 600 ہزار اور "ہماری مساجد" کے عنوان سے 245 ہزار نسخوں کے بروشر بھی شائع کیے جاتے ہیں، جو مفت تقسیم کیے جاتے ہیں۔
حج اور عمرہ سے متعلق خدمات
1979 سے حج سے متعلق تمام امور دیانت تنظیم کے سپرد کر دیے گئے ہیں۔ سیاحتی ایجنسیاں بھی وزراء کونسل کے 1988 کے فیصلے کے مطابق دیانت تنظیم کی نگرانی میں حجاج کو سعودی عرب بھیجنے اور متعلقہ امور انجام دینے کی ذمہ داری لے سکتی ہیں۔ یہ تنظیم دیگر ممالک کے حجاج کے بارے میں بھی سعودی حکام کو ضروری سفارشات پیش کرتی ہے۔
حجاج بیت اللہ الحرام کے لیے طبی خدمات فراہم کرنا بھی اس تنظیم کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ مکہ، مدینہ، عرفات اور منیٰ میں تنظیم کے طبی مراکز قائم کیے جاتے ہیں جہاں تمام قسم کے علاج حتیٰ کہ جراحی عملیات بھی انجام دیے جاتے ہیں۔ دیگر ممالک کے حجاج بھی ان طبی خدمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
عمرہ 1984 تک آزادانہ طور پر انجام دیا جاتا تھا، لیکن اسی سال وزراء کونسل کے فیصلے کے بعد عمرہ سے متعلق امور بھی دیانت تنظیم کے سپرد کر دیے گئے۔ عمرہ کسی خاص وقت یا مقام تک محدود نہیں۔
علاقائی نشستیں
دیانت تنظیم اپنی کارکردگی کا جائزہ لینے اور ان مسائل کے حل کے لیے جن کا سامنا خدمات کی انجام دہی کے دوران ہوتا ہے، ترکی کے مختلف علاقوں میں مفتیوں، واعظوں اور دینی اہلکاروں کی شرکت سے علاقائی نشستیں منعقد کرتی ہے۔
الہیات فیکلٹیوں کے سربراہان اور علمی اراکین کے اجتماعات
تنظیم نے الہیات فیکلٹیوں کے سربراہان، علمی بورڈ کے اراکین اور تنظیم کے دینی اعلیٰ مدارس کے مدیران کے درمیان تبادلۂ خیال کے مقصد سے 1996ء اور 1998ء میں مشترکہ نشستوں کا اہتمام کیا۔ یہ نشستیں انقرہ میں منعقد ہوئیں۔
کمپیوٹر خدمات
دیانت تنظیم کے مرکزی اور ضلعی دفاتر امور میں تیزی اور باہمی مربوط رابطے کے مقصد سے کمپیوٹر سہولیات سے آراستہ ہیں۔ اس وقت 80 ضلعوں کے مفتی دفاتر اور 635 تحصیلوں میں کمپیوٹر موجود ہیں، جن میں سے 8 ضلعوں اور 69 تحصیلوں کے کمپیوٹر مرکزی نظام سے منسلک ہیں۔
تحقیقات
دیانت تنظیم اپنی دینی خدمات کے معاشرے پر اثرات کا جائزہ لینے اور اپنی سرگرمیوں و خدمات میں تنوع پیدا کرنے کے لیے مختلف تحقیقات انجام دیتی ہے اور ان کے نتائج کا تجزیہ کرتی ہے۔
قمری مہینوں کے آغاز کے تعین سے متعلق سرگرمیاں
دیانت تنظیم نے 1978 میں استنبول میں ایک کانفرنس منعقد کی جس کا مقصد قمری مہینوں کے آغاز کا تعین تھا۔
اس سلسلے میں قندیلی رصدگاہ (Kandili) کے ساتھ تعاون کیا گیا جس کے نتیجے میں سنہ 2000 تک قمری مہینوں کے آغاز کا تعین ممکن ہوا۔ انہی حسابات کی بنیاد پر نماز کے اوقات کے جدول تیار کر کے اسلامی ممالک کو بھیجے جاتے ہیں۔
اس کے علاوہ حسابی تقاویم اور نقشوں کی تیاری سے متعلق سرگرمیاں بھی جاری ہیں، جو مکمل ہونے کے بعد مذکورہ رصدگاہ کے حوالے کی جائیں گی۔
افطار اور امساک کے اوقات (ماہ رمضان) کا تعین بھی تنظیم کی سرگرمیوں میں شامل ہے، اور یہ اوقات تیار ہونے کے بعد اسلامی ممالک اور ترکی کے مختلف علاقوں کو ارسال کیے جاتے ہیں۔
انٹرنیٹ پر بھی "(Diyanet Web)" کے عنوان سے ایک فائل قائم کی گئی ہے۔ اس فائل میں نماز کے اوقات، قبلہ کی سمت، رمضان اور قربان کی عیدوں کے آغاز کے سو سالہ حسابات، مبارک ایام، 1999ـ2000 کے دینی دن اور راتیں، سرکاری و مذہبی تعطیلات، تقاویم سے متعلق ضوابط وغیرہ شامل ہیں۔
مساجد سے متعلق خدمات
تنظیم یورپی ممالک کی 120 مساجد میں 795 عارضی دینی مبلغین کے ذریعے ترک شہریوں کو دینی خدمات فراہم کرتی ہے۔ نماز کی امامت، وعظ و نصیحت کے علاوہ کانفرنسوں کے انعقاد میں بھی یورپ میں مقیم ترک باشندوں کے ساتھ تعاون کیا جاتا ہے۔
تعلیمی اور سماجی خدمات
تنظیم کے مبلغین دینی تعلیم اور قرآن کی تدریس کے سلسلے میں تقریباً 55 ہزار ترک بچوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں۔ یہ کلاسیں ترک انجمنوں میں منعقد کی جاتی ہیں۔ ان انجمنوں میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ سلائی، کشیدہ کاری، کمپیوٹر، غیر ملکی زبانوں اور ترکی زبان کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
دینی مبلغین مریضوں اور قیدیوں کی عیادت اور گھروں میں ملاقاتیں بھی کرتے ہیں تاکہ ان کی مدد اور مسائل کا حل ممکن بنایا جا سکے۔
جو ترک شہری بیرونِ ملک وفات پاتے ہیں، ان کی تدفین کے امور تنظیم کے نمائندوں کے تعاون سے انجام دیے جاتے ہیں۔ دینی مبلغین نکاح، ختنہ اور دیگر تقریبات میں بھی شریک ہو کر بیرونِ ملک ترک باشندوں کے دینی اور قومی جذبات کو تقویت دیتے ہیں۔
بالکان، قفقاز اور ترک و مسلم معاشروں کے لیے تنظیم کی خدمات
1ـ دینی خدمات
155 دینی نمائندے، 39 دینی اساتذہ، 2 دینی مشیر اور 2 دینی اتاشی دیگر ممالک کے مسلمانوں اور ترک باشندوں کو دینی خدمات فراہم کرتے ہیں۔
2ـ تعلیمی خدمات
سوویت یونین کے انہدام کے بعد تنظیم کی دینی سرگرمیاں بلقان، قفقاز اور وسطی ایشیا کی جمہوریاؤں میں شروع ہوئیں۔ ان اقدامات میں درج ذیل شامل ہیں:
الف ـ: باکو الہیات فیکلٹی کا قیام (1992ـ1993)
اس فیکلٹی میں 280 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور اس کے پہلے فارغ التحصیل طلبہ 1996ـ1997 سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی کے ساتھ ترک ـ باکو اسکول بھی 177 طلبہ کے ساتھ قائم کیا گیا۔
ب ـ: قرغیزستان کے شہر اوش (OSH) میں 1993ـ1994 میں انقرہ یونیورسٹی کے تعاون سے الہیات فیکلٹی کا افتتاح
اس فیکلٹی کی تیاری جماعت اور پہلی جماعت ترکی میں جبکہ دوسری، تیسری اور چوتھی جماعتیں قرغیزستان کی اوش یونیورسٹی میں منعقد ہوتی ہیں۔ اس میں 220 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
ج ـ: 1994ـ1995 میں ترکمانستان کی مختوم قلی یونیورسٹی میں الہیات فیکلٹی کا افتتاح
یہ فیکلٹی اولوداغ (Uludag) یونیورسٹی کے زیر انتظام ہے۔ اس کی تیاری جماعت اور ابتدائی کلاسیں ترکی میں جبکہ بقیہ کلاسیں عشق آباد میں منعقد ہوتی ہیں۔ اس میں 100 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
فیکلٹی، دینی مدرسے اور طلبہ ہاسٹل کی عمارت ترکی دیانت فاؤنڈیشن کے ذریعے تعمیر کی گئی ہے۔
د ـ: 1994ـ1995ء میں نخجوان میں وسیع دینی پروگراموں کے ساتھ ایک مدرسے کا قیام
یہ مدرسہ ترکی دیانت فاؤنڈیشن کے ذریعے قائم کیا گیا۔
هـ ـ 1996 میں رومانیہ کے شہر کوستنچہ (Kostence) میں کمال اتاترک دینی مدرسے کا افتتاح
اس مدرسے کے اساتذہ اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی دیانت تنظیم کی ذمہ داری ہے۔ ترکی اور رومانیہ کے درمیان معاہدے کے مطابق اس مدرسے کے فارغ التحصیل افراد اس ملک کی ترک ـ مسلم اقلیت کی دینی ضروریات پوری کریں گے۔
و ـ: 1996ـ1997 میں افغانستان اور داغستان میں الہیات فیکلٹیوں کا افتتاح
ان فیکلٹیوں کے طلبہ تیاری کورسز سلیمان دمیرل اور ارجیس یونیورسٹیوں میں مکمل کرتے ہیں۔
ز ـ 1997ـ1998 کے تعلیمی سال میں قرغیزستان میں الہیات فیکلٹی کا افتتاح
یہ فیکلٹی قرغیزستان یونیورسٹی اور ترکی کی سلجوق یونیورسٹی کی الہیات فیکلٹی کے تعاون سے چلائی جاتی ہے۔ تیاری اور پہلی جماعت میں اس کے 56 طلبہ تھے۔
ح ـ: بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں تین امام خطیب مدارس اور ایک اعلیٰ اسلامی انسٹی ٹیوٹ کا قیام
ان مدارس کے تمام وسائل اور عملہ ترکی دیانت فاؤنڈیشن کی طرف سے فراہم کیے گئے ہیں۔ ان کی کتابیں بھی ترکی کے وزیر اعظم اور دیانت فاؤنڈیشن کے تعاون سے شائع کی گئی ہیں۔
3ـ مساجد کی تعمیر
الف ـ: عشق آباد میں قاضی ارطغرل مسجد
اس مسجد کی تعمیر کا منصوبہ 1992 میں سلیمان دمیرل کے ترکمانستان کے دورے کے دوران پیش کیا گیا اور اس کے امور دیانت تنظیم کے سپرد کیے گئے۔ مسجد کی تعمیر 1993 میں 27000 مربع میٹر زمین پر شروع ہوئی۔
اس مسجد، جس میں ایک ثقافتی مرکز بھی شامل ہے، کے زیادہ تر اخراجات دیانت تنظیم نے برداشت کیے۔ اس کی گنجائش تقریباً 5000 افراد ہے۔ مسجد اور ثقافتی مرکز کا افتتاح 1998ء میں ترکی اور ترکمانستان کے صدور کی موجودگی میں ہوا۔ مسجد میں 3 نصف گنبد، 4 مینار اور ایک صحن موجود ہے۔
ب ـ: قبرص میں نورالدین ارسین پاشا مسجد
یہ مسجد شمالی قبرص کے شہر گیرنے (Girne) میں ترک ـ عثمانی طرزِ تعمیر کے مطابق دو میناروں کے ساتھ تعمیر کی گئی اور 1999ء میں افتتاح ہوئی۔ اس کی گنجائش 600 افراد ہے۔[1]