علی الزیدی
| علی الزیدی | |
|---|---|
| پورا نام | علی شاکر محمود الزیدی |
| دوسرے نام | ڈاکٹر علی شاکر محمود الزیدی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1986ء |
| پیدائش کی جگہ | عراق |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | عراقی ایک سرمایہ دار، معاشیات دان اور ایک تکنوکریٹ چہرہ ہے انہیں 27 اپریل 2026ء کو، جو کہ 7 اردیبت ماہ 1405 ش کے برابر ہے، شیعه ہم آہنگی تنظیم نے عراق کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر متعارف کرایا اور عراق کے صدر نزار آمیدی نے انہیں نئے کابینہ کی تشکیل کا حکم دیا۔ |
علی الزیدی، سرمایہ دار، معاشیات دان اور ایک تکنوکریٹ چہرہ ہے جو عراق سے تعلق رکھتا ہے۔ انہیں 27 اپریل 2026ء کو، جو کہ 7 اردیبت ماہ 1405 ش کے برابر ہے، شیعه ہم آہنگی تنظیم نے عراق کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر متعارف کرایا اور عراق کے صدر نزار آمیدی نے انہیں نئے کابینہ کی تشکیل کا حکم دیا۔ الزیدی نے سیاست میں آنے سے قبل نجی شعبے، بینکنگ اور اقتصادی انتظام میں طویل تجربہ حاصل کیا ہے۔ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کی صورت مین عراق کی تاریخ کے سب سے کم عمر وزیر اعظم بنا هے۔
پیدائش اور تعلیم
علی الزیدی کا تعلق عراق کے جنوبی صوبے ذی قار سے ہے اور 1986ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے قانون، مالیات اور بینکنگ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کی اور ان کے پاس قانون میں بیچلر، مالیات اور بینکنگ میں بیچلر اور ماسٹر ڈگریاں ہیں۔ بعض ذرائع یہ بھی اشارہ کرتے ہیں کہ انہوں نے قانون عامه میں پی ایچ ڈی (ڈاکٹریٹ) بھی حاصل کی ہے۔ الزیدی کو بغیر کسی براہ راست سیاسی پس منظر کے ایک تکنوکریٹ چہرے کے طور پر جانا جاتا ہے جنہوں نے نجی شعبے میں وسیع انتظامی اور مدیرانہ تجربہ حاصل کیا ہے۔
خدمات و سرگرمیاں
الزیدی کے پاس معاشی، تعلیمی اور طبی اداروں کے انتظام میں متنوع تجربات موجود ہیں جن میں سے چند درج ذیل ہیں:
- قومی ہولڈنگ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین: وہ ایک بڑی نجی سرمایہ کاری گروپ کی قیادت کر رہے ہیں جو مختلف سرگرمیوں والی متعدد کمپنیوں کا مالک اور منتظم ہے۔
- جنوبی عراق بینک کے چیئرمین: ان کے پاس ملک کے اہم بینکوں میں سے ایک کی قیادت کرنے کا تجربہ ہے۔
- جامعۃ الشعب کے صدر: الزیدی نے بغداد میں ایک نجی یونیورسٹی کی صدارت بھی کی ہے۔
- طبی اداروں کا انتظام: ان کے پاس “عشتر الطبي” انسٹی ٹیوٹ کے انتظام میں بھی تجربہ ہے۔
- قانونی اور مالیاتی تجربات: ان کے پاس قانونی، مالیاتی اور انتظامی شعبوں میں متعدد تجربات موجود ہیں۔
دیگر بہت سے امیدواروں کے برعکس جن کے پاس طویل سیاسی پس منظر تھا، الزیدی نے کبھی بھی کوئی رسمی سیاسی یا حکومتی عہدہ سنبھالا نہیں ہے اور صرف تقریباً ایک ماہ پہلے سے ان کا نام عراق کے سیاسی بحرانوں سے نکلنے کے حل کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا۔
حکومت تشکیل کرنے کا مشن
انتخاب اور مأموریت
سال ۲۰۲۵ء کی پارلیمانی انتخابات کے بعد عراق میں طویل سیاسی رکاوٹوں کے بعد، اور سابق امیدواروں جیسے کہ نوری المالکی (امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے) اور باسم البدري کی ناکامی کے باوجود، ہم آہنگی فریم ورک (شیعہ ائتلاف) بالآخر اتفاق رائے پر پہنچ گیا۔ نوری المالکی نے تین امیدواروں پر مشتمل ایک فہرست پیش کی، جن میں سے محمد شیاع سودانی کے گروہ نے علی الزیدی کے نام کو قبول کیا۔ 27 اپریل 2026 کو، عراق کے صدر نزار آمیدی نے الزیدی کو اکثریت کی فراکشن کی جانب سے نئی حکومت تشکیل دینے کے لیے مقرر کیا۔ آمیدی نے تمام سیاسی گروہوں سے مطالبہ کیا کہ وہ آئینی ذمہ داریوں کو جلد از جلد پورا کرنے کے لیے الزیدی کی حمایت کریں۔ عراق کے پارلیمنٹ کے سپیکر ہیبت الحلبوسی نے بھی اس مأموریت کا خیرمقدم کیا۔
منصوبے اور نظریات
الزیدی نے مأموریت حاصل کرنے کے بعد اپنے پہلے بیان میں تمام سیاسی گروہوں کے ساتھ تعاون پر زور دیا تاکہ شہریوں کی خواہشات کے مطابق جوابدہ حکومت تشکیل دی جا سکے۔ ان کے منصوبے درج ذیل امور پر مرکوز ہیں:
- ساختی اصلاحات: سرکاری اداروں میں جامع اصلاحات۔
- معاشی ترقی: پائیدار معاشی ترقی اور تیل کی آمدنی کو مستحکم کرنا۔
- جوانوں کی شمولیت: معاشرے میں جوانوں کی فعال کردار ادا کرنا اور تعلیمی نظام اور بازارِ کار کے درمیان مؤثر رابطے قائم کرنا۔
- بین الاقوامی حیثیت: عراق کو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر متوازن اور اثر و رسوخ والا ملک بنانا۔
- الزیدی نے اعلان کیا کہ داخلی اور بیرونی چیلنجوں کا مقابلہ، بشمول علاقائی اختلافات (خاص طور پر امریکہ اور ایران) کی وجہ سے سیکیورٹی کشیدگی، ان کے کام کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے پاس کابینہ تشکیل دینے اور اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے مجلسِ شوریٰ میں پیش کرنے کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔
عراق میں بڑی سیاسی ہلچل: علی الزیدی وزیر اعظم بن گئے
عراق میں علی الزیدی کی بطور وزیر اعظم تقرری کو ایک اہم سیاسی موڑ قرار دیا جا رہا ہے جو ملک کی خودمختاری کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی بین الاقوامی ڈیسک: عراق کے وزیر اعظم کے طور پر علی الزیدی کی تقرری ایک فیصلہ کن سیاسی لمحہ ہے جو روایتی حکومتی تبدیلیوں سے آگے بڑھ کر قومی خودمختاری اور منظم علاقائی تعاون کی بنیاد پر خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرنو ترتیب دینے میں مدد دے سکتی ہے۔
عراق کے امور کے سینئر ماہر سبطین الجبوری نے ایک مضمون میں کہا ہے کہ یہ اقدام اس بات کی علامت ہے کہ عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جہاں وہ بیرونی دباؤ اور مسلط کردہ پالیسیوں سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے، جنہوں نے برسوں تک حکومتی استحکام اور علاقائی تعلقات کو متاثر کیا۔
قومی ارادے کی کامیابی اور خودمختار فیصلوں کا استحکام
علی الزیدی کا اقتدار میں آنا ایسے سیاسی اتفاق رائے کا نتیجہ ہے جس میں وہ قوتیں شامل ہیں جو ایک ایسی حکومت چاہتی ہیں جو بیرونی دباؤ کا مقابلہ کر سکے اور ساتھ ہی گزشتہ برسوں میں عوامی اور قومی قربانیوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کو محفوظ رکھے۔
الزیدی کا انتخاب کوئی عارضی سمجھوتہ نہیں تھا بلکہ اس یقین کے تحت کیا گیا کہ قیادت ایسے فرد کے پاس ہونی چاہیے جو عراق کی تزویراتی اہمیت کو سمجھتا ہو اور علاقائی سلامتی کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھتا ہو۔
سیاسی حلقوں میں الزیدی کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے جو عراق کو مغربی پالیسیوں پر دوبارہ انحصار سے روک سکتی ہے۔ ان کا سیاسی اور پیشہ ورانہ پس منظر اس تاثر کو مضبوط کرتا ہے کہ وہ قومی خودمختاری کے استحکام اور علاقائی شراکت داری کے فروغ پر مبنی پالیسی اختیار کریں گے۔
وسیع علاقائی ہم آہنگی؛ نئی حکومت کا وژن
متوقع طور پر الزیدی حکومت کی سیاسی حکمت عملی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کو ترجیح دے گی۔ اس نقطہ نظر کے مطابق عراق کا استحکام براہ راست اس کے علاقائی ماحول کے استحکام سے جڑا ہوا ہے۔
اس وژن کی نمایاں خصوصیات درج ذیل ہیں:
قومی طاقت کے توازن کا استحکام: مستقبل کی عراقی حکومت ان سکیورٹی اور عوامی اداروں کو خاص اہمیت دے گی جو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران تشکیل پائے، اور انہیں قومی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی مداخلت کی روک تھام کا اہم ستون سمجھے گی۔
معاشی ڈھانچے کی تشکیل جس میں بیرونی دباؤ کم ہو: الزیدی حکومت کا معاشی وژن تجارتی شراکت داریوں میں تنوع، علاقائی اقتصادی راہداریوں کے فروغ، اور توانائی کے تبادلے سمیت ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کو بڑھانے پر مرکوز ہوگا تاکہ بین الاقوامی پابندیوں اور اقتصادی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
برابری پر مبنی سفارتکاری: نئی حکومت کے سیاسی بیانیے میں غیر ملکی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو ازسرنو متعین کرنے کی خواہش ظاہر ہوتی ہے، جس میں عراق کی خودمختاری کے احترام پر زور اور کسی بھی غیر ملکی فوجی موجودگی کو مسترد کرنا شامل ہے، جسے کشیدگی اور عدم استحکام کا سبب قرار دیا جاتا ہے۔
داخلی و خارجی چیلنجز
اگرچہ الزیدی کی تقرری نے عراق میں سیاسی جوش و خروش پیدا کیا ہے، تاہم آنے والا مرحلہ چیلنجز سے خالی نہیں ہوگا۔ خاص طور پر وہ داخلی قوتیں جو بیرونی مفادات سے جڑی ہیں، ممکن ہے سیاسی یا معاشی بحران پیدا کریں۔
تاہم بااثر سیاسی و عوامی حلقوں کی حمایت اور علاقائی پشت پناہی الزیدی کے لیے ایک محفوظ دائرہ فراہم کر سکتی ہے، جو حکومت کے استحکام اور اس کے سیاسی پروگرام کے نفاذ میں مددگار ثابت ہوگی۔
حکومت کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ریاستی اداروں کی آزادانہ بنیادوں پر ازسرنو تشکیل، قومی نظم و نسق کو مضبوط بنانا، اور ترقی کے ایسے راستے کھولنا ہے جو علاقائی تعاون سے جڑے ہوں، نہ کہ روایتی بین الاقوامی دباؤ کے تابع ہوں۔
عراق ایک نئے مرحلے کے دہانے پر
مجموعی طور پر علی الزیدی کی تقرری عراق میں ایک گہری سیاسی تبدیلی کی علامت ہے، جس کا مرکز قومی فیصلوں کا استحکام اور علاقائی تعاون پر مبنی ایک نئے منصوبے کی جانب پیش رفت ہے۔
اگر نئی حکومت اس وژن کو عملی پالیسیوں میں ڈھالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ ایک ایسے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے جس میں عراق اپنی سیاسی، جغرافیائی اور تاریخی شناخت کے مطابق خطے میں اپنا مقام دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کرے گا[1]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ عراق میں بڑی سیاسی ہلچل: علی الزیدی وزیر اعظم بن گئے- شائع شدہ از: 5 مئی 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 5 مئی 2026ء