مندرجات کا رخ کریں

جنگ

ویکی‌وحدت سے

جنگ ایک شدید مسلحانہ تصادم ہے جو ریاستوں، حکومتوں، معاشروں یا نیم فوجی گروہوں جیسے کرائے کے سپاہیوں، باغیوں اور ملیشیاؤں کے درمیان ہوتا ہے۔ چونکہ جنگ ایک حقیقی، ارادی اور وسیع پیمانے پر مسلحانہ جھڑپ ہے جو سیاسی برادریوں کے درمیان پیش آتی ہے، اس لیے اسے سیاسی تشدد کی ایک قسم تصور کیا جا سکتا ہے۔ جب جنگ یا دیگر اقسام کے تشدد کا سلسلہ جاری نہ ہو تو امن کی حالت قائم ہوتی ہے۔ بہرحال جنگ کی کوئی واحد اور جامع تعریف موجود نہیں۔ اصولاً انسانی علوم میں متعلقہ اصطلاحات کے لیے یکساں مفہوم نہیں پایا جاتا؛ اسی لیے ہر شخص یا ہر نظریہ جنگ کو اپنے انداز سے بیان کرتا ہے جو دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ جنگ کی تعریفوں میں اس تنوع نے جنگ کی درجہ بندی اور اقسام میں بھی گوناگونی پیدا کی ہے۔ اسی طرح جنگ کے محرکات بھی مختلف ہیں اور جنگ کے جواز پر بھی اتفاق نہیں پایا جاتا۔

جنگ کی تعریف

دیگر مفاہیم کی طرح جنگ کے بارے میں بھی مختلف تعریفیں پیش کی گئی ہیں، جو ہر ایک ایک خاص نقطۂ نظر کی نمائندگی کرتی ہے۔

مثال کے طور پر، ہیڈلی بل کے نزدیک جنگ ایک منظم تشدد ہے جو دو یا زیادہ ممالک ایک دوسرے کے خلاف کرتے ہیں۔ یہ تعریف خانہ جنگیوں کو شامل نہیں کرتی۔ کلاوزویٹس کا خیال ہے کہ جنگ ریاست یا ملک کی خدمت میں انتہائی درجے کے تشدد کے استعمال کا نام ہے۔

تاہم ہر جنگ ریاست یا ملک کی خاطر نہیں لڑی جاتی۔ مجموعی طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئینی کی دی گئی تعریف نسبتاً جامع ہے۔ وہ کہتا ہے: "جنگ مسلح افواج کو اپنے مقصد کے حصول کے لیے منظم کرنے اور استعمال کرنے کا فن ہے۔"

اس مضمون میں جنگ کی جو تعریف اختیار کی گئی ہے وہ اوپر دی گئی تعریفوں کا مجموعہ ہے؛ یعنی اس میں شدید تشدد، مسلح افواج کے استعمال، منظم تشدد اور دو یا زیادہ ممالک کے درمیان اس کے وقوع جیسے عناصر شامل ہیں۔

جنگ کی اقسام اور مسلط کردہ جنگ کی حیثیت

جنگ کو مختلف معیاروں کی بنیاد پر کئی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر:

  • مقصد کے لحاظ سے: عادلانہ اور غیر عادلانہ جنگیں؛
  • جغرافیائی دائرے کے لحاظ سے: مقامی، علاقائی، بین‌الاقوامی اور عالمی (عمومی) جنگیں؛
  • نظم و ضبط اور حربی طریقوں کے اعتبار سے: منظم (کلاسیکی) اور غیر منظم (چریکی) جنگیں؛
  • جغرافیائی سطح کے اعتبار سے: بحری، فضائی اور زمینی جنگیں؛
  • قلمرو کے لحاظ سے: داخلی اور خارجی جنگیں

اسی طرح جنگوں کو استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی نوعیت کی بنیاد پر ہَستۂ (ایٹمی) اور غیر ہَستۂ جنگوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ تقسیم جنگ کی سب سے جامع تقسیمات میں سے ایک مانی جاتی ہے۔ اس تقسیم کی اہمیت دو وجہ سے ہے:

  1. یہ اُن ابہامات سے بڑی حد تک پاک ہے جو دیگر تقسیمات میں پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر جنگ کو عادلانہ اور غیر عادلانہ میں تقسیم کرنے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کون سی جنگ عادلانہ ہے اور کون سی غیر عادلانہ؟
  2. یہ تقسیم جنگ کی زیادہ اقسام کو اپنے دائرے میں شامل کرتی ہے۔

انہی وجوہات کی بنا پر ہم نے اس تقسیم کو اختیار کیا ہے اور اسی کی وضاحت کرتے ہیں۔

ایٹمی جنگ

امریکی مصنفِ کتاب "The Trap of Nuclear Weapons and the Way to Escape from It" کے مطابق امریکی فوجی اور حکومتی اہلکاروں کا خیال تھا کہ سوویت یونین (سابقہ) "ہارٹ لینڈ" (قلبِ زمین) پر قبضہ رکھنے کی وجہ سے بآسانی مغربی یورپ (امریکہ کے اتحادی) پر حملہ کر سکتا ہے۔

اس لیے سوویت یونین کی پیش قدمی روکنے کا واحد راستہ ایٹمی ہتھیاروں کی ترقی تھا؛ کیونکہ سوویت یونین کو اس کے بے شمار سپاہیوں، وسیع اسٹریٹجک عمق اور خاص طور پر بحرِ منجمد شمالی کی دائمی برف باری کی وجہ سے زمین یا سمندر کے راستے شکست دینا ممکن نہ تھا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایٹمی جنگ کے مختلف پہلوؤں پر بات کرنا ذہنی تصورات کی مدد سے ہی ممکن ہے، کیونکہ جاپان پر ایٹمی حملوں کے بعد کسی بھی محاذِ جنگ میں ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کیے گئے۔

اگرچہ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی اور کیفیت کے لحاظ سے ترقی ہوئی، لیکن ان کی تیاری، ذخیرہ اندوزی اور استعمال پر شدید پابندیاں بھی عائد کی گئیں (جیسا کہ فریق مخالف کے ردِعمل کا خوف)۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد بھی ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ کم ہوئی، لیکن زمین اب بھی ایٹمی خطرے کے کنارے کھڑی ہے، کیونکہ دنیا میں اب بھی بڑی تعداد میں ایٹمی ہتھیار موجود ہیں جن کے عدم استعمال کی سو فیصد ضمانت ممکن نہیں۔

اسی لیے ایٹمی جنگ پر گفتگو ابھی بھی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ، امریکہ کی ایٹمی طاقت میں اضافے کی کوشش اور دیگر ممالک کو ایٹمی ہتھیاروں تک رسائی سے روکنے کی پالیسی، ایٹمی جنگ اور اس کے اثرات پر بحث کو اور زیادہ اہم بنا دیتی ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر ایٹمی جنگ چھڑ جائے تو کیا ہوگا؟ جواب یہ ہے کہ اعداد و شمار کے مطابق ایسے جنگ کے تباہ کن اثرات جاپان میں ہونے والی تباہی سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

مثال کے طور پر، ایک ایٹمی جنگ میں لاکھوں لوگ ہلاک ہو جائیں گے، اور لاکھوں دیگر افراد ناقابلِ تلافی نقصانات کا شکار ہوں گے، جیسے سرطان، اعصابی بیماریاں مثلاً یاس، اضطراب، خوف اور دوسروں سے نفرت (گروہ دشمنی)۔

ایٹمی جنگ دو حصوں میں تقسیم کی جاتی ہے: