مندرجات کا رخ کریں

ایران کی طاقت دشمنوں کے لیے خوف کا سبب(نوٹس)

ویکی‌وحدت سے

ایران کی طاقت دشمنوں کے لیے خوف کا سبب ایک یادداشت کا عنوان ہے جو ایران، بالخصوص ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تصادم اور جنگ میں داخل ہونے کے خوف کے موضوع پر مرکوز ہے[1]۔ ایران کے ساتھ جنگ کا مسئلہ امریکہ اور غاصب صہیونی حکومت میں ایک مکمل اور ہمہ گیر بحث بن چکا ہے، جس نے حکومت، اشرافیہ اور عام شہریوں سمیت تمام طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔

اسی تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی حالیہ گفتگو کسی واضح فیصلے یا نتیجے کے بغیر ختم ہوئی۔ 15 فروری 2026 کو امریکی سیاسیات کے ممتاز پروفیسر جان مرشائمر نے کہا: «نہ امریکہ اور نہ ہی اسرائیل کے پاس ایران کے خلاف جنگ میں تیز رفتار فتح کے لیے کوئی مؤثر عسکری حکمتِ عملی موجود ہے، اور حقیقت میں جنگ جیتنے کے لیے کوئی حکمتِ عملی ہے ہی نہیں۔ ٹرمپ جانتے ہیں کہ حتیٰ کہ ایک طویل جنگ میں بھی فتح کی کوئی ضمانت نہیں؛ اسی لیے وہ بتدریج عسکری آپشن سے دوری اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔»

اسی وجہ سے حالیہ دنوں میں دیکھا جا رہا ہے کہ ٹرمپ خطے میں تعینات بحری بیڑوں یا جنگی طیاروں کے مقامات بتانے کے بجائے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں، جبکہ مذاکرات میں پیش کی جانے والی باتوں کے عسکری ذریعے سے حاصل ہونے پر وہ خود شدید شکوک کا شکار ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی معاشرے کی تشویش

امریکہ کا معاشرہ ایران کے ساتھ دوبارہ جنگ کے امکان پر شدید تشویش میں مبتلا ہے۔ گزشتہ ایک ماہ (اوائل جنوری 2026 سے اوائل فروری 2026) کے دوران ایران کے خلاف جنگ کے موضوع پر کم از کم تین معتبر امریکی سروے کیے گئے، جن میں تینوں میں جنگ کی سخت مخالفت سامنے آئی۔

یونیورسٹی آف میری لینڈ اور SSRS انسٹی ٹیوٹ کے مشترکہ جامع سروے (5 تا 9 فروری 2026) کے مطابق صرف 21 فیصد امریکی جواب دہندگان نے ایران پر حملے کی حمایت کی۔ The Economist/YouGov کے سروے (30 جنوری تا 2 فروری 2026) کے مطابق امریکی معاشرے کا صرف 28 فیصد ایران کے خلاف عسکری کارروائی کے حق میں ہے۔

اسی طرح کوئنیپیاک یونیورسٹی کے سروے (اوائل جنوری 2026)، جو اس وقت کیا گیا جب ٹرمپ نے امریکہ کے تیار اور مسلح ہونے کا دعویٰ کیا تھا، کے مطابق صرف 18 فیصد شہریوں نے ایران کے معاملات میں مداخلت کی حمایت کی، جبکہ 70 فیصد نے اس کی مخالفت کی۔ یہ صورتِ حال اس کے بالکل برعکس ہے کہ معروف ادارے گیلپ کے 2003 کے سروے میں 72 فیصد امریکیوں نے عراق پر حملے کی حمایت کی تھی۔

امریکی کانگریس میں جنگ مخالف سرگرمیاں

اسی دوران امریکی کانگریس میں بھی جنگ مخالف سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے۔ 19 فروری 2026 کو امریکی کانگریس کے رکن ڈریٹ ایونز نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: «میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی کشیدگی کا مخالف ہوں؛ انہیں جنگ کا اعلان کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں۔»

کانگریس کے ایک اور رکن تھامس میسی نے رکنِ کانگریس روخانا کے ساتھ مل کر ایک ایسے بل کی تیاری کا اعلان کیا جس کے تحت جنگ کے اعلان کا اختیار کانگریس کے پاس ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد از جلد ایوانِ نمائندگان میں اس معاملے پر ووٹنگ کروائیں گے اور واضح کیا: «میں ’امریکہ فرسٹ‘ کے حق میں ووٹ دوں گا، جس کا مطلب مشرق وسطی میں مزید جنگ کے خلاف ووٹ دینا ہے۔»

ٹرمپ ٹیم کا خوف

شدید شکوک و شبہات ٹرمپ کی قریبی ٹیم میں بھی سرایت کر چکے ہیں۔ سی این این نے گزشتہ جمعرات کی صبح (20 فروری 2026) رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ وہ بدستور اپنے مشیروں اور اتحادیوں سے ایران کے حوالے سے بہترین حکمتِ عملی پر مشاورت کر رہے ہیں اور نجی اجلاسوں میں مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکی وزارتِ خارجہ کے سابق فارسی بولنے والے ترجمان آلن آئر نے 19 فروری 2026 کو اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا: «دونوں فریق تیار ہیں اور دونوں جانتے ہیں کہ دوسرا فریق بھی جنگ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، لیکن اس کے باوجود کوئی بھی فریق جنگ نہیں چاہتا۔» اسی دوران دونالد ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ ایران کی جانب سے امریکہ کے فوجی اڈوں، افواج اور امریکہ نواز حکومتوں پر شدید حملوں کے امکان سے خوفزدہ ہیں، جو ایران کے گرد ہزاروں کلومیٹر کے دائرے میں واقع ہیں۔

انہوں نے کہا: «اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا جا سکا تو امریکہ جزیرہ ڈیگو گارسیا اور فیئر فورڈ ایئر بیس جیسے اپنے فوجی اڈوں کو استعمال کر سکتا ہے۔» تاہم یہ اقدامات بھی امریکہ کا کوئی بنیادی مسئلہ حل نہیں کرتے، کیونکہ یہ اڈے ایران، بالخصوص اس کی بحریہ کی پہنچ سے باہر نہیں ہیں، اور ایران کے شدید جوابی ردِعمل میں کوئی فرق نہیں ڈال سکتے۔

یہاں تک کہ ٹرمپ اور ان کے گرد موجود ٹیم، بشمول وزیرِ دفاع ہیگست، میں جنگ کے مقابلے میں مذاکرات کے آپشن کو ترجیح دینے پر بحث اس حد تک پہنچی کہ ڈی بی سی نے ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ ایران کے خلاف مالی اور بینکاری پابندیوں اور تیل کی فروخت پر عائد پابندیوں کے خاتمے پر غور کر رہا ہے، حتیٰ کہ ممکنہ طور پر مذاکرات کو ایران کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سروے کے نتائج

اگرچہ ہم حالیہ ایک ماہ کے دوران تین امریکی اداروں کے سروے نتائج اور 70 سے 80 فیصد امریکی عوام کی جنگ سے عدم حمایت کو ٹرمپ کے لیے حتمی رکاوٹ قرار نہ دیں، یا کانگریس کی مخالفت کو فیصلہ کن نہ سمجھیں، تاہم ایران کے ساتھ جنگ کا خوف امریکی طاقت کے مراکز، حتیٰ کہ ٹرمپ کی سخت گیر ٹیم میں بھی واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ اور اس کی ٹیم کے خوف کی وجوہات

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ٹرمپ اور اس کے ساتھی ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے حتمی فیصلے تک پہنچنے میں اتنی مشکل کیوں محسوس کر رہے ہیں؟ اس کا جواب ایران کی روحانی اور مادی طاقت میں مضمر ہے۔ مثال کے طور پر ٹرمپ کے نائب جے ڈی وینس نے بلومبرگ کو بتایا کہ ٹرمپ نے سرخ لکیریں مقرر کر دی ہیں، لیکن ایرانی فریق انہیں قبول کرنے یا ان سے تجاوز کرنے کے لیے تیار نہیں۔

پروفیسر جان مرشائمر نے 15 فروری 2026 کو کہا: «ایران اب ماضی کے مقابلے میں—یعنی اسرائیل کا ایران پر حملہ 2025ء سے پہلے کی نسبت—زیادہ مضبوط پوزیشن میں ہے، اور یہی بات اسرائیل کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔» ان کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ ناقابلِ فتح ہے۔

ٹرمپ ایک سیاسی و عسکری جال میں پھنس چکے ہیں؛ اگر حملہ کریں تو اندرونی حمایت کھو بیٹھتے ہیں، اور اگر پیچھے ہٹیں تو کمزور دکھائی دیتے ہیں۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے سابق ترجمان آلن مائر نے 19 فروری 2026 کو کہا: «ایران کا ردِعمل قابلِ پیش گوئی نہیں ہوگا۔ ایران اپنی بھرپور طاقت کے ساتھ حملہ کرے گا اور اس کے اہداف کا دائرہ بہت وسیع ہوگا۔ یہ ملک اپنی اسٹریٹجک بازدارندگی کو بحال کرنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں استعمال کرے گا۔»

امریکہ کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ ایران خود کو آخری جنگ کے لیے تیار کر چکا ہے اور اب وہ مطلق فتح کے سوا کسی اور نتیجے پر غور نہیں کرتا، جبکہ ٹرمپ کی نفسیات دھمکانے اور بغیر قیمت کے رعایت لینے پر مبنی ہے۔ مزید برآں، امریکہ کے پاس ایرانی میزائلوں کے یقینی حملوں کا کوئی مؤثر حل موجود نہیں، حالانکہ اس کا عسکری نظریہ تیز رفتار اور کم جانی نقصان والی جنگ پر مبنی ہے۔ یہی تضادات ایران کے بارے میں ٹرمپ کی فیصلہ سازی کو پیچیدہ بنائے ہوئے ہیں۔

امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کی کمزوری

ایک تجربہ کار اور ممتاز عرب عسکری ماہر کے مطابق، امریکی طیارہ بردار بحری جہاز، اپنی جدید تہہ در تہہ دفاعی صلاحیتوں اور جارح ڈسٹرائرز کے باوجود، ایران کے کثیرالجہتی اور متنوع عسکری ڈیزائنوں کے سامنے کمزور ہیں۔ ان کے مطابق ان جہازوں کا فضائی دفاع ایران کے طویل فاصلے کے حملوں اور بالخصوص ایرانی آبدوزوں سے داغے جانے والے زیرِ آب میزائلوں کے مقابلے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا۔

امریکی انٹیلی جنس کے سابق افسر جان کریاکو نے 19 فروری 2026 کو کہا: «ایک طیارہ بردار جہاز ایک شہر کے برابر ہوتا ہے اور اس پر تقریباً 25 ہزار ملاح موجود ہوتے ہیں؛ تصور کریں اگر ان میں سے ایک بھی ڈوب جائے یا شدید نقصان کا شکار ہو جائے تو اس کے کیا نتائج ہوں گے۔» صہیونی ویب سائٹ NZIV نے امام خامنه ای کی حالیہ دھمکی کے تناظر میں ایران کے ٹارپیڈو حوت کی غیر معمولی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:«حوت ایک ایسا ٹارپیڈو ہے جو غیر معمولی رفتار، خصوصی محرک نظام اور مہلک وار ہیڈ رکھتا ہے، اور بڑے بحری جہازوں کے ڈھانچے کو چھیدنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ حوت کی رفتار ایک معیاری ٹارپیڈو سے چار گنا زیادہ ہے۔»

دیگر ذرائع ابلاغ نے بھی ایران کے مختلف جارحانہ میزائلوں کا ذکر کیا ہے جو زمین اور سمندر سے مختلف فاصلوں پر فائر کیے جا سکتے ہیں۔ چونکہ ایران کے پڑوسی ممالک میں موجود امریکی اڈے کم از کم 2000 کلومیٹر کے دائرے میں ایرانی ساحل کی براہِ راست زد میں ہیں، اور ایرانی بحری جہاز ان میں سے اکثر میزائل لے جانے اور گہرے سمندروں تک جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اس لیے امریکہ کے پاس حقیقتاً کوئی محفوظ راستہ موجود نہیں۔

اس صورتحال میں ٹرمپ کھلے عسکری آپشنز کے بجائے پسِ پردہ اور متبادل راستوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں تاکہ اپنے لیے کوئی باعزت راستہ تلاش کر سکیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ جنگ سے بچنے کے نام پر دشمن کو رعایت دینا واحد حل سمجھ لیا جائے۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. تحریر: سعداللہ زارعی۔

ماخذ