مندرجات کا رخ کریں

جنوبی یمن میں خیانت اور سازش کے آثار (نوٹس)

ویکی‌وحدت سے

جنوبی یمن میں خیانت اور سازش کی تردیدّ ایک یادداشت کا عنوان ہے جو جنوبی یمن کی حالیہ صورتِ حال پر نظر ڈالتی ہے، جہاں خیانت اور سازش کے آثار دکھائی دیتے ہیں[۱]۔ 3 دسمبر 2025ء کو جنوبی یمن کے علاقے میں ہم نے فوجی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا اور سعودی عرب سے وابستہ انتظامی و عسکری عناصر کی جانب سے کسی قابلِ ذکر مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈال دیے گئے۔ بظاہر معاملہ یہ تھا کہ متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ جنوبی کونسل کے عناصر اقتدار کے پھیلاؤ اور جنوب کو یکجا کرنے کے لیے میدان میں آئے ہیں، لیکن جنوبی صوبوں کی گورنریوں اور ضلعی انتظامیہ کی ہمراہی، اور عدن، حضرموت اور المہرہ میں فوجی یونٹوں کا ہتھیار ڈال دینا، اماراتی اور سعودی عناصر—اور خود ان دونوں ممالک—کے درمیان ملی بھگت کی خبر دیتا ہے۔

جنوبی یمن کی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی صورتِ حال

گزشتہ تقریباً دس برسوں کے دوران جنوبی یمن کی حالت ٹکڑوں میں بٹی ہوئی رہی ہے؛ اس کے کچھ حصے متحدہ عرب امارات کے کنٹرول میں، کچھ سعودی عرب کے زیرِ اثر، کچھ سابقہ حکومت کے عناصر کے قبضے میں، کچھ قبائلی سرداروں کے کنٹرول میں، اور کچھ نیم اخوانی جماعت الاصلاح کے زیرِ اثر رہے ہیں۔ اگرچہ شمالی یمن میں قائم حکومت کے حوالے سے ان سب کا مؤقف بظاہر ایک سا اور مخالفانہ تھا، لیکن اپنے اندر یہ شدید اختلافات کا شکار رہے، جو متعدد مرتبہ شدید جھڑپوں اور عدن کی حکومت کے انہدام کا سبب بنے۔

شمالی یمن کی اسرائیل کے ساتھ جھڑپ

غزہ کی جنگ اور شمالی یمن کے حصے کی صہیونی رژیم کے ساتھ درگیری کے باعث، جنگ کے دوران جنوبی عناصر کی جانب سے شمالی حصے پر حملے رک گئے۔ البتہ وقتاً فوقتاً جنوبی حصے سے ایسی خبریں آتی رہیں جو غزہ کی جنگ کے دوران جنوب کے صہیونی رژیم کے ساتھ خفیہ روابط، بلکہ اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی آمادگی کی نشان دہی کرتی تھیں۔ انصاراللہ—یا زیادہ درست تعبیر میں شمالی حکومت—نے 3 اور 4 دسمبر کی پیش رفت کے بعد جاری ایک بیان میں واضح طور پر اعلان کیا کہ وہ اس صورتِ حال کو برداشت نہیں کرے گی۔ اسی بنا پر کہا جاتا ہے کہ بعض خارجی فریقوں، جو ان واقعات میں مؤثر ہیں، کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی عسکری تیاریوں میں بھی اضافہ کیا ہے۔ شمالی حصہ کم از کم دس لاکھ فوجی اہلکار رکھتا ہے اور سازوسامان کے اعتبار سے بھی جنوب کے مقابلے میں برتری رکھتا ہے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اگر شمال–جنوب کی درگیریاں دوبارہ بھڑک اٹھیں تو یمن کے دونوں حصوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔ مزید یہ کہ یہ تصادم صرف یمن کی سرزمین اور پانیوں تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ پورے خطے اور بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک پھیل جائے گا۔ ایسی درگیری کی صورت میں بحیرۂ احمر، بحیرۂ یمن اور بحرِ ہند دنیا کو سنگین مسائل سے دوچار کر دیں گے۔

یمن میں تصادم کو بھڑکانا

اس تناظر میں یمن میں درگیری کو ہوا دینے کی خواہش متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب کے مقابلے میں زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ امارات، جو اس سے ملتے جلتے منصوبے شام، سوڈان اور لیبیا میں نافذ کر چکا ہے اور ان ممالک کے عوام کو بھاری جانی نقصان پہنچا چکا ہے، یہ گمان کرتا ہے کہ سعودی عرب کے مقابلے میں—یمن کے ساتھ کسی زمینی یا بحری سرحد کے نہ ہونے کے باعث—وہ زیادہ محفوظ ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ابو ظبی اور دبئی کسی بھی سعودی شہر کے مقابلے میں زیادہ حساس اور آسیب‌پذیر ہیں۔ جیسا کہ جنگ کے دوران یمن کے بیلسٹک میزائل تقریباً ۱۳۵۰ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے امارات کے ان دونوں اہم شہروں تک پہنچے تھے۔

لبنان کا ماڈل: ایک ناکام نمونہ

ایک اہم نکتہ امریکہ اور غاصب صہیونی رژیم کے کردار سے متعلق ہے۔ اگرچہ لبنان کا ماڈل ایک ناکام ماڈل ثابت ہو چکا ہے، تاہم امریکہ اور صہیونی رژیم نے یمن میں اسی لبنانی نسخے کو نافذ کرنے کی کوشش کی ہے؛ یعنی شدید بیرونی حملوں، اسٹریٹیجک مراکز پر قبضے، اندرونی مخالفین کے استعمال، کرائے کے جنگجوؤں کی بھرتی اور ایک قانونی و سیاسی پردہ فراہم کر کے انصاراللہ کو راستے سے ہٹانا۔ لیکن لبنان کا یہ نسخہ کہیں کامیاب نہیں ہوا؛ حزب‌اللہ اپنی جگہ مضبوطی سے قائم ہے، اور نہ بیرونی جنگ، نہ اسٹریٹیجک مراکز پر حملے، نہ کرائے کے عناصر کی سرگرمیاں اور نہ ہی اندرونی دباؤ لبنان کی مزاحمت کی صورتِ حال میں کوئی تبدیلی لا سکے ہیں۔ یمن کے معاملے میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے کام اس سے بھی زیادہ دشوار ہے، کیونکہ شمالی یمن کی جغرافیائی برتری—جنوب کے مقابلے میں—انصاراللہ کے اختیار میں ہے۔ نیز کوئی بھی جنگ جس میں صہیونی رژیم یا امریکہ کھلے یا پوشیدہ طور پر شامل ہوں، یمن کو ان کے مقابلے میں مزید متحد اور ہمہ جہت مزاحمت کے ساتھ کھڑا کر دے گی۔ البتہ اس تحریر کی پیش گوئی یہ ہے کہ یمن کے خلاف جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی براہِ راست موجودگی سامنے آئے گی، کیونکہ اصولی طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات براہِ راست اور مؤثر بیرونی حمایت کے بغیر انصاراللہ کے ساتھ جنگ میں داخل نہیں ہو سکتے، اور اگر داخل بھی ہو جائیں تو 2015 ءسے 2022ءکے درمیان حاصل ہونے والے نتائج سے زیادہ کچھ بھی حاصل نہیں کر سکیں گے۔

یمن کی وحدت کی بحالی

ان چاروں ریاستوں کا مشترکہ منصوبہ یہ ہے کہ یمن کی یکپارچگی اور وحدت کی بحالی کے نام پر انصاراللہ کی حکومت اور یمنی مزاحمت کو ختم کر دیا جائے، اور اگر ممکن ہو تو بحیرۂ احمر کے مشرقی ساحلوں پر ایک ژاندارم طرز کی حکومت قائم کر دی جائے تاکہ ہمیشہ کے لیے یمنی مزاحمت کی فکر سے نجات حاصل کر لی جائے۔ لیکن یہ ایک ایسی خواہش ہے جس کی عملی امکانیت کے بارے میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔ آٹھ برس تک انہوں نے انصاراللہ کے ساتھ اس وقت جنگ لڑی جب اس کے پاس موجودہ اسلحے کا صرف دسواں حصہ اور موجودہ آبادی کا محض نصف تھا۔ آج وہی انصاراللہ، اسرائیل کے ساتھ جنگ اور غزہ کے مردانہ وار دفاع کے بعد، نہ صرف یمنی عوام بلکہ پوری دنیاۓ اسلام کی نگاہ میں عزت و وقار کی علامت بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ جنگ کرنا انتہائی دشوار ہے، اور ایسی جنگ میں اس کے مخالفین کی فتح تقریباً ناممکن کے قریب پہنچ چکی ہے۔

خطے میں جنگ کے ایک نئے دور کا آغاز

ایک اور اہم نکتہ یہ ہے کہ یمن کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگ کا مطلب خطے میں جنگ کے ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ یمن کے خلاف جنگ لازماً مزاحمت کے دیگر محاذوں کو بھی جنگی فضا میں داخل کر دے گی، جیسا کہ غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے غزہ پر مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں لبنان، یمن، عراق اور ایران کے محاذ کھل گئے تھے۔ اس وقت مزاحمتی محاذوں—بالخصوص عراقی مزاحمت—کا احساس یہ ہے کہ دشمنوں نے شیعہ مسلمانوں کو بنیادی ضرب لگانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے، لہٰذا اس کے کسی ایک حصے پر حملے کے مقابلے میں خاموش نہیں رہا جا سکتا۔ پس اگر سازش کرنے والوں کے ذہن میں یہ خیال ہے کہ مزاحمتی عناصر کو ٹکڑوں میں نشانہ بنایا جائے اور باقی خاموش رہیں، تو اس سوچ کی غلطی بالکل واضح ہے۔ امارات کی منصوبہ‌بردار حکومت، جو کھلے طور پر جنوبی خلیج فارس اور افریقہ کے بعض علاقوں میں صہیونی مجرم رژیم کے ہاتھ کے طور پر کام کر رہی ہے، ان دنوں اپنے لیے نہایت خطرناک اقدام میں مصروف ہے۔ جنوبی عبوری کونسل کسی بھی صورت انصاراللہ کے خلاف جنگ کی قیادت اور انتظام کی صلاحیت نہیں رکھتی، اور جنوب میں کوئی اور قابلِ اعتماد قوت بھی موجود نہیں۔ وہ درگیریاں جن کا ظاہری ہدف جنوب کی یکپارچگی اور اصل مقصد شمالی حصے کے ساتھ تصادم ہے، جنوبی عوام—بالخصوص قبائل—کو شدید تشویش میں مبتلا کر چکی ہیں۔ امارات سے وابستہ محدود فورسز کی بظاہر آسان پیش قدمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنوب جنگ نہیں چاہتا، جیسا کہ جنوبی عوام بیرونی محرکات سے جنم لینے والی جنگ میں اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف شرکت کے مخالف ہیں۔ لہٰذا امارات نے جن قوتوں پر بھروسا کیا ہے، وہ کسی بھی لحاظ سے مطلوبہ حد تک مؤثر اور کافی نہیں ہیں۔

انصاراللہ کے طرزِ عمل پر قابو پانا

سعودی عرب، جس نے مسقط میں یمن کی حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کو روک دیا ہے، حالیہ دنوں میں شمالی یمن کے بعض حصوں پر محدود حملے کر چکا ہے۔ اس کے جواب میں انصاراللہ نے بھی سرحد کے قریب واقع سعودی علاقوں پر محدود ڈرون حملے کیے ہیں۔ اسی دوران ریاض کی حکومت سفارتی ذرائع کے ذریعے انصاراللہ کے طرزِ عمل کو قابو میں رکھنے کی کوشش بھی کرتی رہی ہے۔ یہ دوہرا رویہ کیا معنی رکھتا ہے؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ کو دوبارہ شروع کرنے کی خواہش متحدہ عرب امارات میں سعودی عرب کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ ریاض کو اس بات کا اطمینان نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے انصاراللہ کو مؤثر نقصان پہنچا سکیں گے، اور وہ یمنی مزاحمت کے مقابلے میں جنوبی عبوری کونسل کی افواج کی کارکردگی کے بارے میں بھی بنیادی شکوک رکھتا ہے۔ ان تمام مباحث کا حاصل یہ ہے کہ امارات کے برعکس، جو کسی حد تک اپنے فیصلے پر پہنچ چکا ہے، سعودی حکومت ابھی فیصلہ سازی کے مرحلے میں ہے، اور اس کے محدود فوجی اقدامات اسی عدمِ قطعیت کی علامت ہیں۔ البتہ یہ بات واضح ہے کہ سعودی عرب، اگرچہ جنگ کی قیادت براہِ راست اپنے ہاتھ میں نہ بھی لے، پھر بھی اس میں شریک ضرور ہوگا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ امارات اور سعودی عرب نے شمال کے خلاف کسی اقدام سے پہلے، جنوبی یمن کے ان وسائل کو—جو پہلے ہی ان کے زیرِ اثر تھے—نیم سرکاری طور پر آپس میں تقسیم کر لیا؛ بندرگاہیں اور ساحلی علاقے امارات کے حصے میں آئے، جبکہ تیل کے وسائل سعودی عرب کے قبضے میں دے دیے گئے۔ اس ضمنی لین دین میں سابقہ فوجی یونٹس، قبائلی اتحاد اور حزبِ اصلاح—جو تینوں سعودی عرب کے زیرِ اثر تھے—قربانی بن گئے اور عملی طور پر منظرنامے سے ہٹا دیے گئے۔ حالانکہ اگر سعودی عرب چاہتا تو یہی قوتیں جنوبی کونسل کی افواج کو پسپا کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں، جیسا کہ ماضی میں وہ کئی مرتبہ ان پر غالب آ چکی تھیں۔ حضرموت قبائلی اتحاد کے سربراہ عمرو بن حبریش کے مطابق، جنوبی کونسل کی افواج کی تعداد تقریباً پانچ فوجی بریگیڈز پر مشتمل تھی۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

faنمایش مبدأ برای رد خیانت و توطئه در جنوب یمن (یادداشت)